شہیدوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے کیونکہ

(Aslam Lodhi, Lahore)
 مسجد نبوی میں ایک عظیم الشان مجلس برپا تھی ۔نبی کریم ﷺ منصب صدارت پر تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام اور اولیاء اﷲ سے مسجد نبوی بھری ہوئی تھی ۔میں بھی ایک کونے میں بیٹھا یہ پرکیف روحانی منظر دیکھ رہا تھا۔ سب کے سروں پر سفید رنگ جبکہ نبی کریم ﷺ کے سر مبارک پر سبز رنگ کی دستا ر تھی ۔اچانک ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔قاضی ریاض تم بھی اپنے سر پر دستار باندھ لو ۔ پھر سرخ رنگ کی ایک دستا ر مجھے عالم غیب سے دی گئی ۔جونہی میں نے دستار پہنی تو میں سب میں نمایاں ہوگیا ۔ میری آنکھوں سے خوشی کے آنسوبہہ ہی رہے تھے کہ خواب کا منظر ختم ہوگیا ۔ یہ بات کیپٹن قاضی جواد شہید کے والد قاضی ریاض نے مجھے اس وقت سنائی جب میں بیٹے کی شہادت پر اظہار تعزیت کے لیے انکے گھر پہنچا ۔ایک ہجوم بیکراں گھر میں موجود تھا۔ کیپٹن قاضی جواد کی والدہ ثمینہ ریاض کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی وہ بار بار شہیدبیٹے کے میڈل اور کیپ پکڑ کر سینے سے لگاتی اور بے ساختہ چومنے لگتی ۔ان کا دل ٗ زبان اور جسم سب بیٹے کی جدائی میں نڈھال تھے ۔لوگ انہیں حوصلہ دے رہے تھے وہ کہتی میرا تو حوصلہ ہی جواد تھا۔ نہ جانے اس کے بغیر میں زندہ کیسے رہوں گی۔ ابھی دو دن پہلے کی بات تھی کہ ہم سب ٹی وی پر کارگل کے شہیدوں کا پروگرام دیکھ رہے تھے تو اسی شام بیٹے جواد کا فون آیا اور کہا امی جان آپ پریشان مت ہونا ہم توشہادت کے لیے ہی آرمی میں شامل ہیں ۔نوکریاں تو اور بھی بہت ہیں لیکن جو مزا اور اعزاز وطن عزیز پر قربان ہونے کا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں ہے۔ جواد نے پھر کہا امی جان وہ شخص اپنی قسمت پر ناز کرتا ہے جس کو شہادت ملتی ہے ۔ میں خواب میں خود کو کئی مرتبہ شہید ہوتا دیکھ چکا ہوں میری منزل بھی شہادت ہی ہے ۔ ماں سے کیپٹن جواد کی یہ آخری ملاقات تھی ۔ 26جولائی 1999ء کا سورج طلوع ہوا تو وادی کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر ایک عجیب روحانی منظر طاری تھا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے کیپٹن جواد اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن سے برسرپیکار تھے ۔ دشمن اندھادھند گولہ باری گرتا ہوا آگے بڑھتا پھر کیپٹن جواد اور پاک فوج کے فولادی جذبوں سے ٹکرا کر واپس بھاگ جاتا۔ اس پوسٹ کے کچھ ہی فاصلے پر واقع ارشد نامی پوسٹ پر لیفٹیننٹ فیصل ضیاگھمن اور ان کے ساتھی دشمن کی گولہ باری کی زد میں آکر شہید ہوچکے توموقعہ غنیمت جان کر بھارتی فوج نے اس پر قبضہ کرلیا ۔ جونہی ہائی کمان تک ارشد پوسٹ پر بھارتی قبضے کی خبر پہنچی تو کیپٹن جواد کو ارشد پوسٹ واپس حاصل کرنے کا ٹاسک ملا ۔ بے شک یہ بہت مشکل اور دشوار معرکہ تھا لیکن کیپٹن جواد اوران کے ساتھیوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شدید ترین اور دست بدست جنگ کے بعد ارشد پوسٹ پر قبضہ کرکے سبز ہلالی پرچم لہرا دیا ۔ابھی اس کامیابی کی خوشی کم نہ ہوئی تھی کہ ہائی کمان کی جانب سے کارگل کی ان پوسٹوں کو خالی کرکے واپس آنے کا حکم مل گیا جن پرپاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے سخت ترین موسم اور بدترین دشمن سے لڑتے ہوئے قبضہ کیاتھا ۔ایک جانب دشمن کی مسلسل فائرنگ تو دوسری جانب بلند و بالا اور خطرناک پہاڑی چوٹیوں سے ہتھیاروں سمیت نیچے اترنامشکل ترین مرحلہ تھا ۔ جونہی پسپائی کا یہ عمل مکمل ہوا تو سبز ہلالی پرچم پوسٹ پرہی لہراتا رہ گیا۔ قومی پرچم کو اتارنے کا ٹاسک ایک بار پھر کیپٹن جواد کے سپرد کیا گیا ۔ کیپٹن جواد دو ساتھیوں کے ہمراہ ایک بار پھر برستی گولیوں میں برفانی چوٹی پر چڑھنے لگے ۔ انہوں نے پرچم کو سلیوٹ کرکے اتارا اور جونہی اپنے دامن سے پرچم کو لپیٹ کر نیچے اترنے لگے تو بھارتی توپ کاایک گولہ ان کے قریب آگر ا جس کے ٹکڑے کیپٹن جواد کے جسم میں پیوست ہوگئے ۔جسم سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے ٗ ساتھیوں نے سہارا دے کر پہاڑی سے نیچے تو اتار لیا لیکن زیادہ خون بہنے کی وجہ سے وہ جام شہادت نوش کرگئے ۔ جونہی جی ایچ کیو سے کرنل سجاد کا فون قاضی ریاض کو موصول ہوا تو انہیں چند دن پہلے دیکھا ہوا مسجد نبوی کا وہ خواب یاد آگیا جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ قاضی ریاض تم بھی دستار پہن لو اور انہیں سرخ رنگ کی دستار پہننے کے لیے دی گئی تھی ۔ بے شک شہادت ایک عظیم انعام ہے لیکن بحیثیت انسان بیٹے کی شہادت کا غم قاضی ریاض کو دیمک کی طرح چاٹنے لگا۔ وہ بظاہر تو مسکراتے ہوئے شہید بیٹے کی داستان شجاعت سناتے لیکن دل ہی دل میں نہ جانے کب تک روتے رہتے ۔ وہ ہر سال 26 جولائی کو بیٹے کی شہادت کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ختم پاک کا اہتمام کرتے ۔ اسی دوران قاضی ریاض کے داماد کیپٹن ساجد سے ملاقات ہوئی جو بہت باوقار ٗ پر جوش اور محبت کرنے والا فوجی افسر تھا ۔ کیپٹن ساجد ترقی کرکے پہلے میجر پھر لیفٹیننٹ کرنل بنا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کو یونٹ سمیت جنوبی وزیر ستان میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے بھیج دیاگیا ہے جہاں کرنل ساجد کی قیادت میں کئی مشکل ترین مہمات کو سرکیا ۔ پھر 12 جون 2013ء کو ایک اور اہم مشن کی تکمیل کے لیے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہشت گردوں کا تعاقب کررہے تھے کہ بارودی سرنگ پھٹنے سے کرنل ساجد موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔ بیٹے اور داماد کی پے درپے شہادتوں کے بعد قاضی ریا ض ریت کی دیوار بنتے گئے ۔انہیں پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا جس انہیں نے نڈھال کردیا پھر 29اگست 2013 کی شام قاضی ریا ض بھی اس جہان میں جا پہنچے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ 26 جولائی کا دن شہیدوں کے اس خاندان کی یاد مجھے ہمیشہ دلاتا ہے کیونکہ جس طرح شہیدوں کے زخم نہیں بھرتے اسی طرح شہیدوں کے لواحقین کے زخم بھی ہمیشہ تازہ ہی رہتے ہیں ۔کیپٹن جواد کی عظیم ماں( ثمینہ ریاض) آج بھی اپنے دل پر دوبیٹوں کی شہادت کے زخموں لیے زندہ اور ہم سب کے لیے عظمت کی مثال ہیں اﷲ انہیں اجرعظیم اور صحت کاملہ سے نوازے ۔بے شک ایسی ہی عظیم ماؤں کی عظمت پر پوری قوم فخر کرتی ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 573 Articles with 290629 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2016 Views: 728

Comments

آپ کی رائے
Salute to the Family and all shaheed families...
By: zai,, karachi. on Aug, 10 2016
Reply Reply
0 Like
Aslam Lodhi your article شہیدوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے کیونکہ July 22, 2016 is factual and inspiring. Many Pakistanis have laid their lives for Pakistan; some before its emergence in a period extended over tens of decades, many during migration to the newly born Islamic State, the creation of which was regarded as Partition of the Motherland by the cunning Hindus dreaming of ruling the Muslims after departure of the Britishers from the Sub continent, and thereafter thousands for the defence of the beloved Islamic State, These sacrifices have not been valued properly by the Pakistanis. The efforts of those endangering their lives in various operations conducted against decoits, various gangs and terrorist groups in various parts of the country, are also not comprehended in a befitting manner. Those deployed in hard areas like Siachen are fighting against two kinds of enemies: severity of weather - the highest battlefield on the Globe, and the cunning enemy i.e, Bharat - having expansionist designs and undermining the freedom of her neighbouring states (Sikkim and Bhutan have lost their entity as independent states, Nepal has almost been neutralized, Bangla Desh is at the brim of losing her sovereign posture. Sri Lanka is a peripherial tiny state – not of much danger to Bharat. Pakistan is considered to be a potent obstacle in the establishment of Akhand Bharat – the long cherished dream, yet to be materialized. The Armed forces are fighting at many fronts; some visible some invisible. Their efforts are commendable. But the nation on the whole, has not condemned the evil efforts of some elements and pseudo politicians / think tanks, who always remain at the outlook to talk against the Armed Forces. These elements do not feel shy in criticizing the Armed Forces on one pretext or the other. This attitude should be discouraged by us all. The nation should also know there is a long list of our enemies; some open, some hidden.
By: sarwar, lahore on Jul, 28 2016
Reply Reply
0 Like