گھریلو لڑائی جھگڑے،قصور کس کا ۔۔۔۔؟

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
ایک مشہور کہاوت ہے:’’جب بہو تھی ،تو ساس بُری اور جب خودساس بنی، تو پھر بہو بُری‘‘یعنی ہر صورت میں ہم دوسروں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں اور اپنی غلطی کو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہوتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔جب دوافرادیاگروہوں کے درمیان کوئی بھی فسادیا لڑائی جھگڑابرپا ہوتو قصور دونوں کا ہوتاہے ،چاہے تھوڑا ہو یازیادہ۔ بہت کم ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ یکطرفہ فساد برپاہو جائے، ہمارے اندر نفرت،بغض،کینہ،حسداور کئی اخلاقی بُرائیاں اس قدر’’گھر‘‘کر گئیں ہیں کہ ہم کسی کی بات سننا تودرکنار،اس کاوجود بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے:
’’ایک گھر میں اکثرساس بہوکا لڑائی جھگڑالگا رہتا تھاایک دن محلے کی ایک ’’ہمدردعورت ‘‘بہو کے پاس آئی اورکہا کہ میری ساس بھی مجھ سے بہت لڑا کرتی تھی لیکن اب دیکھو نا !میری ساس میرے پیر(مُرشد )کے تعویزوں سے کیسی ’’سیدھی‘‘ہو گئی ہے۔وہ عورت بہو کو اپنے ساتھ لیکر اُسی ’’پیر‘‘کے پاس لے گئی۔پیر صاحب کافی’’سےّانے‘‘ تھے،اُن کی گفتگو سے ’’حقیقت‘‘سمجھ گئے اور بہو سے کہاکہ یہ’’ تعویز ‘‘ لے لو اور جب بھی تمہاری ساس کوئی ’’اُلٹی بات‘‘ کرنے لگے تو تم یہ ’’تعویز‘‘فوراًدانتوں میں لے کر خوب’’چبانا‘‘۔چند دن یہ سلسلہ جاری رہا ، ساس نے سوچا کہ میں ہی بولتی ہوں میری بہو تو کوئی جواب ہی نہیں دیتی چنانچہ اُس کی ساس بھی ’’سیدھی‘‘ہو گئی‘‘۔

مختلف قسم کے گھریلو جھگڑوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے تاہم ان جھگڑوں میں قدرے مشترک بھی ہے ، ان میں میاں ،بیوی کے باہمی جھگڑے قدرے نمایاں ہوتے ہیں تاہم ان کے اسباب و وجوہ تقریاً مشترک ہی ہوتے ہیں،وہ اسباب کیا ہیں ؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں :
ہرعورت اپنے خاوند کی توجہ کی طلبگار ہوتی ہے ،اس سلسلے میں وہ کسی قسم کاسمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتی ہے ۔ زیادہ افراد پر مشتمل جوائنٹ فیملی کی لڑکیا ں،غریب گھرانے کی لڑکیاں یا کسی ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں،شادی کے بعد بہت جلد ایڈجسٹ ہو جاتی ہیں ،کیونکہ ساری زندگی اکیلے یا نظر انداز کئے جانے بدولت ، انہیں تھوڑی سی توجہ یا خیال ہی بہت اچھا لگتا ہے ۔ اکلوتی لڑکیوں کو چونکہ میکے میں بھر پور توجہ حاصل ہوتی ہے ،وہ سسرال میں بھی ایسی ہی توجہ کی توقع رکھتی ہیں ،اگر ان کو تھوڑا سا بھی نظر انداز کیا جائے تو ان کا رویہ اور طرز ِ سلوک تبدیل ہونے لگتا ہے ۔خاندانی اختلافات کی بڑی وجہ خودبینی اورخود پسندی کی بیماری بھی ہے ،اس مرض میں مبتلا انسان کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں ،وہ اپنی خود پسندی کی بدولت ہمیشہ غلط فیصلے کرتا ہے اور ’’میں نہ مانوں ‘‘ کی پالیسی پر گامزن رہتا ہے ۔ خیالات کا نہ ملنا اور پسند و ناپسند میں فرق ،یہ بھی گھریلو جھگڑوں کی ایک بڑی وجہ ہے ،میاں کو باہر گھومنا پھرنا پسند ہے تو بیوی کو گھر میں رہنا ، بیوی کو ایک چیز اچھی لگتی ہے تو خاوند کو اس چیز سے نفرت ہوتی ہے ،ایک کو گوشت پسند ہے تو دوسرے کو سبزیاں ،کوئی فاسٹ فوڈ کا شوقین ہے تو کوئی باربی کیوکایا سادہ خوراک کا، اس وجہ سے بھی شوہر،بیوی میں باہمی چپقلش رہتی ہے ۔شادی سے پہلے ایک لڑکا اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور دیگر گھر کے افراد کو وقت دیتا ہے ، ان کے پاس بیٹھتا ہے ،ان سے گھریلو معاملات پر گفت و شنید کرتا ہے، مگر شادی کے بعد اچانک اس میں تبدیلی آ جاتی ہے اور گھر والوں کے پاس نہیں بیٹھتا اور زیادہ وقت اپنی بیوی کو دیتا ہے تو پھرگھر والے اپنے بیٹے، بھائی کی بجائے، بہو،بھابی کے بارے میں چہ مگوئیاں،حسد ونفرت، طعن و تشنیع ،پھر کھلم کھلا مخالفت کرنے لگ جائیں گے اور نوبت یہاں تک آجائے گی کہ تم کون ہوتی ہو ؟ اپنا سامان اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ،اس عمل سے بھی گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے ، کامیابی یہ نہیں ہوتی کہ ایک کو ناراض کرکے دوسرے کو خوش کیا جائے بلکہ کامیابی یہ ہوتی ہے کہ میانہ روی اختیار کرتے ہوئے گھر میں ہر فرد کو اہمیت اور اس کا مقام دیا جائے ۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی وجہ سے آپس میں نہیں جھگڑتے ، جب بھی جھگڑیں گے کسی تیسرے کی وجہ سے جھگڑیں گے ،یا تووہ ساس ، سسر، نند ،دیور ہونگے یا پھربیوی کے میکے والے، گھریلو جھگڑوں کی ایک بڑی وجہ چغل خوری اورکسی کو نیچاثابت کرنے کیلئے جھوٹ بولنا بھی ہے ۔

یہاں میں مرد حضرات سے کہنا چاہوں گا کہ جیسے ہم اپنے کاروبار ، روزگاریا حصول ِ دولت و معاش پر توجہ دیتے ہیں ،اتنی ہی توجہ اپنے گھر والوں کو دیں تو گھر کا ماحول جنت نما بن جاتا ہے ،بچوں کے سامنے کبھی مت جھگڑیں کیونکہ بچے کی ا ولین درسگاہ اس کے ماں باپ اور گھر ہوتی ہے، لہٰذا اپنے گھر میں اخلاق سے پیش آئیں۔ گھر میں اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے دلائل دینے یا قسم کھانے کی نوبت آ جائے تو سمجھ جائیں آپکا گھر بربادی کی طرف گامزن ہے ، اس مسئلے پر فوری قابو پانے کی کو شش کریں ۔ ہمارے دین نے یہ بات واشگاف الفاظ میں ہم واضح کر دی ہے کہ ہر فرد کے تین والدین ہیں: اپنے ماں باپ،ساس سسر،استاد یا استانی اور تینوں کی خدمت اورعزت و احترام واجب ہے۔ افسوس در افسوس کہ نہ تومرداپنی بیوی کے والدین کو اپنے والدین کا درجہ دیتا ہے اور نہ ہی عورت اپنے خاوند کے والدین کو اپنے والدین سمجھتی ہے ۔ ہمارے ہاں اکثروالدین یہ چاہتے ہیں کہ میکے اور سسرال دونوں جگہ ہماری بیٹیوں کی چودھراہٹ ہو ۔ اگر بہو یہ سمجھ لے کہ جیسے میں پیچھے اپنے ماں باپ اور بہن بھائی چھوڑ کر آئی ہوں، ویسے ہی ساس،سسر اور نند ،دیور میرے ماں باپ اور بہن بھائی ہیں اور ساس،سسر یہ حقیقت جان لیں کہ جیسے ہماری بیٹی کسی کے گھر گئی ہے ،بلکل ایسے ہی کسی کی بیٹی ہما رے گھر آئی ہے اور اصل بیٹی یہی ہے جس نے ہمیشہ ہمارے پاس رہنا ہے اور بہوسیانے ’’پیر‘‘ کے ’’تعویز‘‘ کی طرح اپنی زبان کو قابو کر لے تو سارے جھگڑے خود بخودختم ہو جائیں گے ۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر و بیشتر جھگڑے ، لڑائیاں ،فساد ،انتشار کی جڑ یں عزت و مقام میں مضمر ہیں ،ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے عزت ،مقام،مرتبہ اور اہمیت دی جائے اور بدقسمتی سے جب ایسا ممکن نہیں ہوتا تو پھر دنیا دوزخ اور زندگی جہنم بن کر رہ جاتی ہے ۔

ازدواجی زندگی کی تلخیوں میں سب سے زیادہ جو چیز دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ کہ عموماً(میاں بیوی میں سے) ایک یا دونوں بہت بد مزاج ہوتے ہیں ،اس بد مزاجی کی بدولت اکثر لڑتے رہتے ہیں اور پھر دوسروں کی ہمدردی حاصل کرنے کے خودکو مظلوم پیش کرتے ہیں ۔ اس قسم کا رویہ عام ہوتا جا رہا ہے ،یہ حقیقت ہے کہ قصور کسی کا بھی ہو ،اثرات پورے گھر پر ہو نگے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم کسی کو سیدھا کرنے کی بجائے اپنے اندر قوت ِ برداشت کا مادہ پیدا کریں اور اپنے آپ کو بروقت سدھار لیں ،نہیں تو ساری زندگی کا پچھتاوا ’پلّے ‘پڑ سکتا ہے ۔بقول شاعر:
وقت سب کو ملتا ہے زندگی بدلنے کے لئے
زندگی دوبارہ نہیں ملتی وقت بدلنے کے لئے
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 53497 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jul, 2016 Views: 811

Comments

آپ کی رائے