ننھے پھولوں کی فریاد

(Pakiza Yousuf Zai, Sawat)
سوات اور خیبر پختوانخوا کی دیگر آپر یشن زدہ علاقوں کے ننھے پھولوں کی جنرل راحیل شریف کو فریاد ۔
ہم سوات اور خیبرپختونخواں کے دیگر آپریشن زدہ علاقوں کے ننھے پھول محترم جنرل راحیل شریف کو فریاد سناتے ہیں اور پو چھتے ہیں کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی جاتی ہے کہ ہم پہ گولی اور بم برساکر شہید کراتے ہیں یا زخمی کرکے زندگی کا مقصد ختم کر دیتے ہیں چونکہ ہم تو ابھی ابھی کلیاں کھل کر پھول بنے ہیں ۔
ہم و ہی پھول جس پہ نازاں ہے چمن
کاش کہ بہار کے ہواؤں سے بکھر جاتے ہیں

اگر آپ لو گوں کی نظرِ خزاں مسلسل رہی تو یہ گلستان ختم ہو جائے گا کیو نکہ ہم سے ہے اس گلستان کا دم ۔
جنرل راحیل شریف ہمیں ہمارا قصور بتا دیں ۔کیا ہم فلسطینی ہیں اور آپ اسرائیل ہیں کہ ہم پر بم برساتے ہیں ؟
کیا ہم پاکستانی اور آپ انڈین ہیں کہ ہمیں دشمن سمجھ کر ختم کرنے پے تلے ہو ؟
کیا ہم عراق اور آپ امر یکا ہیں کہ ہماری قوم کو تہس نہس کرتے ہو؟
کیا ہم افغانی اور آپ نیٹو ہیں کہ سارے اغیار اکٹھے ہو کر ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں ؟
کیا ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہیں ؟
کیا اسلامی ریاست کی فوج کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ اپنی ملک و قوم،دھرتی اور عوام کا دفاع کریں یا گولی اور بم برسا کر بہت سے لوگ جو کہ مرد ،خواتین،بوڑھے اور بچوں کو شہید اور زخمی کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے؟

اور جو شہید ہو جائے وہ تو اﷲ کو پیارے ہو کر جنت میں مزے اڑا ینگے لیکن جو لوگ زخمی ہو تے ہیں ان کی تو زندگی کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔
کیا ہمار اقصور یہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں؟
کیا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو کہ ہمارے بڑوں نے بے بہا قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے؟
وہی اسلامی ریاست جو کلمے کے نام پر بنا تھا؟
کیا پاکستانی افواج وہی افواج ہے جو کہ اسلامی ریاست کی افواج ہوتی ہے اور جو اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنے فرائض سر انجام دے کر اسلام کی بقا کیلئے شہادت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں؟

محترم جنرل راحیل شریف آپ ہمارے معصوم پھولوں کی فریاد سن کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر ہمارے حال پر رحم کریں تاکہ ہمارا اور آپ کا رب بھی آپ پر رحم کرکے آپ کے منصب کو منصب اعلیٰ پر پہنچائے کیونکہ اﷲ کا فرمان ہے آپ خلق خداپر رحم کرو تاکہ تم پر بھی رحم کیا جائے کیونکہ سوات اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں افواج پاکستانی کی کارکردگی ایک اسلامی ریاست کے برعکس ہے۔
فوج کا تو کام ہے قوم کی دفاع کی
لیکن یہاں ہوتا ہے قوم کی تباہی

خدرا کہ اسی دیش کا منفرد ہے سسٹم
جو فوج خود عوا م پر کرتا ہے بمباری

یہاں تو اکثریت عام جگہوں اور عام لوگوں پر بم برسائے جاتے ہیں جن میں99%بے گناہ جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں جو کہ بہت سے مرد ،خواتین،بوڑھے اور بچے شہید اور زخمی ہوتے ہیں اور زخمی تو معاشرے پر بوجھ بن کر زندگی کا مقصد ختم ہو جاتا ہے جن کا نہ تو گورنمنٹ پر سان ِحال ہو تی ہے اور نہ ہی افواج پاکستان ۔

جو خواتین بیوہ ہو جاتی ہے اور جو بچے یتیم۔ ان کی کوئی خبر نہیں لیتا۔ جو کہ اکیسوی صدی میں بد ترین زندگی گزارنے پرمجبور ہیں سوچنے کا مقام ہے کہ جن گھر کا سربراہ نہ ہو تو بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کا سہارا نہیں ہوتا۔اس لئے بہت سے مرد شورش سوات کی نذر ہو گئے ہیں ان کے گھرانے بے بسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں ۔

علاقے کے ایم پی ایز اور ایم این ایز ان لوگوں کے نام سے بھی بے خبر ہیں اگر متاثرین کے نام پر کچھ فنڈ یا ضرورت کی اشیاء آتی ہیں تو جن لوگوں کے ہاتھ بھیجی جاتی ہے وہ خود لوٹ لیتے ہیں اور اصل حقداران کو کچھ نہیں ملتا ۔اسی طرح سوات کے علاوہ خیبر پختوانخوا کے دیگر علاقوں میں بھی جو آپریشن ہوئے ہیں ان متاثرین کی بھی یہی حالت زار ہے۔

اقوام عالم میں اکثریت کا دستوار یہی ہے کہ جنگ کے بعد متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ کویت اور عراق کی جنگ کی مثال موجود ہے جن کے درمیان جنگ ہوئی تھی تو متاثرین کا ازالہ دونوں طرف سے کیا گیا تھا ۔

اور سوات میں تو آرمی کی اکثریت فوجی افسران نے سوات کے سرفہرست طبقے سے تعلق استوار کئے ہیں یہ سرفہرست طبقہ آرمی والوں کی دعوتیں کرتے ہیں تحفے تحائف سے نوازتے ہیں اسی لئے پھر آرمی والے غیر جانبدار کاروائی نہیں کرتے ہیں لیکن سرفہرست طبقہ کی نظر کرم پہ ہوتے ہیں ۔ چونکہ اب دہشت گردی ،پولیس گردی اور آرمی گردی میں فرق نظر نہیں آتا ہے کیونکہ پولیس رشوت لے کر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے تھے اب آرمی والے تعلقات استوار کر کے ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

اسی لئے جنرل راحیل شریف سے استدعا ہے کہ ہمارے ننھے پھولوں کی فریاد سن کر سوات میں آرمی کے جو دستے بھیجے جاتے ہیں ان کاوقتاً فوقتاً نوٹس لے کر یہ احساس دلاتے رہنا کہ سوات میں آپ لوگ غیر جانبدار کاروائی کرتے ہیں ؟یا سرفہرست طبقات سے تعلقات استوار کر کے ان کے رحم و کرم پہ رہتے ہو کیونکہ اس وقت ساری قوم کی نظریں آپ پہ ہیں اور پہلی دفعہ ہم کو ایسا سربراہ ملا ہے کہ فوج میں کرپشن میں ملوث لوگوں کی خبر لے رہا ہے اسی لئے آپ سے پرزور مطالبہ ہے کہ سوات اور خیبر پختوانخوا کے دیگر علاقوں میں فوج کے جو بھی اہلکار ڈیوٹیاں سر انجام دیں رہے ہیں ان کے چھان بین کر کے کرپشن میں ملوث آفیسرز کی چھٹی کرائے تاکہ افواج پاکستان کی ساکھ متاثر نہ ہو ں۔

اور یہ بھی نوٹس لے کہ سوات اور خبیر پختونخوا کے دیگر آپریشن زدہ علاقوں میں جو نقصانات ہوئے ہیں ان کی ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ خیبر پختونخواں میں جو حالات گزرے ہیں اور گزرتے ہیں وہ بڑی دکھ بری داستان ہے ساری قلم بند کرنا میری بس کی بات نہیں لیکن کچھ روداد سناتی ہوں ۔

داستان یہ ہے کہ کئی عشروں سے غیر اقوام کی جنگ ہماری سرزمین پہ لڑی جارہی ہیں اس غیر اقوام کی جنگ نے ہمیں انتہائی بربادی کی طرف لے چلے ہیں ۔جوکہ یہ دشمن کی بڑی چال ہے کہ فوج کے جوان بھی پاکستانی شہید ہو رہے ہیں ۔پولیس بھی ۔طالب بھی ۔عوام بھی ۔چونکہ دشمن ہمارے ہر طبقے کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں ۔

اور پختونخواں کے بہت سارے علاقے اس جنگ سے ہر سطح پہ متاثر ہوئے ہیں ۔جن کی داد رسی کرنے والے کوئی نہیں ۔ کچھ افراد NGOکے طور پر کوئی ایک یا دو کام کرکے ان کو میڈیا پہ دیکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرتے ہیں۔ لیکن ازالہ کرنا آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔

جو کہ راحیل شریف کو آرٹیکل کی شکل میں خط لکھا گیا ہے اور خط کی شکل میں ہم ننھے پھول فریاد سناتے ہیں اور یہ خط تاریخ کے اوراق پہ قلم بند ہونا ہے ۔اب راحیل شریف پہ منحصر ہے کہ تاریخ کے اوراق پہ اپنا نام کسی زاوئے سے قلم بند کرتا ہے اور مجھے خدا پہ پورا یقین ہے کہ محترم راحیل شریف ننھے پھولوں کی فریاد سن کر 100%ہمارا ساتھ دے کر اپنا نام تاریخ کے اوراق پہ سنہری الفاظ میں قلم بند کریگا ۔ انشاء اﷲ۔ اور یہ بھی یقین ہے کہ راحیل شریف محمد بن قاسم کا تاریخ دُہرا کر قوم کی بیٹی کی فریاد پر لبیک کہے گا ۔ انشاء اﷲ۔

نوٹ : اگر راحیل شریف نے ہماری فریاد کا نوٹس نہ لیا تو عالم کے منصف خانوں پر دستک دیں گے ۔

شورش سوات اور دیگر علاقوں کا ریکارڈ نیشنل اور انٹر نیشنل میڈیا کو دیا جائے گا تاکہ دنیا پہ واضح ہو جائے کہ آپریشن میں جو لوگ متاثر ہوئے ہے وہ کن حالات میں زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔جو کہ اس طرح مسلسل استحصالی سے پاکستان دو لخت ہوا ہے اور بنگلادیش وجود میں آیا ہے اور خود ہی پاکستان کی نااہل سرکردوں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ۔
کھلونے بن کر غیروں کی ، ہے یہ نادانی
دشمن کی عزائم کی بھی ، کھلی کامرانی

مرواتے ہیں سبھی کو دشمن کی بڑی چال
فوج بھی ، پولیس بھی ، طالب بھی پاکستانی

خدار ا کہ اسی قوم کا کیا ہو گا مستقبل
یہ دست وگریباں ، تباہی کی نشانی

جو گرم ہر طبقے میں ہے ظلم کا بازار
واﷲ کہ لرزتی ہے تاریخ انسانی

مہنگائی لگاتی ہے آسمان کے قلافے
ایک چیز جو سستی ہے وہ خون کے ارزانی

یہ پھول ننھے پھول ، انگشت ِ بدنداں
جو قوم کی حالت ہے بڑی ہے پریشانی

شاعرہ ، ادیبہ ، کالم نگار ، انٹرنیشنل رائٹر، صحافی ، سماجی کارکن پاکیزہ یوسف زئی
[email protected]
Cell: 0333-9059189
0344-5273099
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pakiza Yousuf Zai

Read More Articles by Pakiza Yousuf Zai: 21 Articles with 40983 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jul, 2016 Views: 659

Comments

آپ کی رائے