ریڈکریسنٹ کا ڈیسنٹ ویژن

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)
ہلال احمر(ریڈکریسنٹ)کانام اورکام پاکستانیوں کیلئے انتہائی مانوس اورمحبوب ہے،ہلال احمر کواس کی گرانقدرخدمات پر ملنے والے چارانٹرنیشنل ایوارڈ اس کی پرعزم قیادت کے ویژن ، ٹیم ورک ،ان کی کمٹمنٹ اوراعلیٰ کارکردگی کے غماز ہیں۔ریڈکریسنٹ کاڈیسنٹ ویژن ڈاکٹرسعیدالٰہی کی کرشماتی قیادت کاثمر ہے۔دنیا بھر سے ہلال احمر کوملنے والے عطیات میں سے سات فیصدحصہ پاکستانیوں کا جبکہ ترانوے فیصد دوسری قوموں کا ہوتاہے ،اوورسیزمیں مقیم ہمارے دردمندہم وطنوں سمیت پاکستانیوں کواپنے عطیات اورصدقات کارخ ہلال احمراورالخیرفاؤنڈیشن کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔دوسروں کی زبانیں اوردکانیں چلتی جبکہ ہلال احمراورالخیرفاؤنڈیشن کاکام بولتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس کی راہ میں عطیات دینے اورسخاوت کرنے کے معاملے میں پاکستان کے لوگ دنیا میں نمبرون کی پوزیشن پر ہیں توپھرکیوں ہمارے لوگ ہلال احمر سے چشم پوشی کررہے ہیں۔شایدیہ پاکستان کا واحدقومی ادارہ ہے جس میں ابھی تک سیاست نہیں گھسی اسلئے لوگ اس سے محبت اوراس پراعتمادکرتے ہیں لیکن اس کی خدمات کی پبلسٹی نہیں ہوتی،سیاست نے کسی آدم خور شیر کی طرح پی آئی اے اورواپڈاسمیت ہمارے کئی قومی اداروں کوہڑپ کرلیا اورنہ جانے ہماری ''سیاہ ست'' ابھی مزید کس کس ادارے کونگل جائے گی ۔ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں رونماہونیوالے مختلف سانحات وآفات جبکہ شہریوں کوپیش آنیوالے حادثات میں ہلال احمر کی گرانقدرخدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہلال احمرکے انتھک رضاکارانتہائی منظم اورپروفیشنل اندازمیں کام کرتے ہیں۔اس قومی ادارے میں تنخواہ نہیں بلکہ ایک کاز کے تحت کام کیا جاتا ہے،ان کے کام میں بہت رسک ہے مگراس کے باوجودانہیں وہ مراعات نہیں دی جاتیں جس کے یہ بجاطورپرمستحق ہیں۔اگروفاقی حکومت ہلال احمر کی مزید سرپرستی کرے تواس کی کارکردگی اورخدمات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ہماراملک ہربرس زمینی وآسمانی آفات وسانحات کاسامنا کرتا ہے لہٰذاء متاثرہ خاندانوں کی بروقت بحالی اورآبادکاری کیلئے ریڈکریسنٹ سمیت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کیلئے مخصوص اداروں کوجدید خطوط پراستوارکرناہوگا ۔اگرہمارے پاس مخصوص حد سے زیادہ اونچائی پرآگ بجھانے کانظام اورانتظام نہیں توپھراس حد سے زیادہ بلندعمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اہلکاروں کی دوران آپریشن زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے جدید حفاظتی سامان سے آراستہ کیا جائے اورانہیں خطرات کامقابلہ کرنے پرشاندارتنخواہیں دی جائیں۔

ہلال احمر کے مرکزی چیئرمین کامنصب ڈاکٹر سعیدالٰہی کوملنا اس قومی ادارے کیلئے انتہائی نیک فال رہاکیونکہ ان کے ہاتھوں میں کمانڈاینڈکنٹرول آنے سے ہلال احمر دن بدن فعال ہورہاہے ۔پچھلے دنوں ڈاکٹر سعید الٰہی نے ہلال احمر کے ہیڈکوارٹراسلام آباد میں ورلڈکالمسٹ کلب کے عہدیداروں کے اعزازمیں ایک پروقارظہرانہ دیااور اورسینئر کالم نگاروں کوبھی مدعوکیا ۔ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین حافظ شفیق الرحمن ،مرکزی آرگنائزرجبارمرزا،صدراسلام آباد ملک فداء الرحمن،جنرل سیکرٹر ی اسلام آبادبیگ راج ،قلم قبیلے کے سرخیل سعودساحر ،افواج پاکستان کے ترجمان ''ہلال''کے ایڈیٹراورکالم نگاریوسف عالمگیرین،مظہربرلاس،نسیم سحر ،ساجدحسین ملک ،آفتاب ضیاء ،ڈاکٹرمرتضیٰ مغل ،افتخارمغل ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض احمداحسان ،صدرسیالکوٹ عمرنوازسرویا،صدرفیصل آبادرانازاہد،محمدکونین ابراہیم خان اورراقم سمیت متعدد کالم نگار شریک ہوئے۔حافظ شفیق الرحمن کوان کی شاندارقلمی خدمات پرہلال احمر کے نشان سے نوازاگیا۔اس خوبصورت ضیافت کے اہتمام اوراہل صحافت کے نمائندہ اجتماع کاکریڈٹ بیگ راج کوجاتا ہے ،انہوں نے اس تقریب میں ڈاکٹرسعیدالٰہی کے ویژن جبکہ ہلال احمر کی دوررس اصلاحات پرروشنی ڈالی ۔بیگ راج سے مخلص ومدبر ساتھیوں کاساتھ ملنا ڈاکٹرسعید الٰہی کی خوش قسمتی ہے ۔ڈاکٹر سعیدالٰہی نے زمانہ طالبعلمی ،طب، سیاست اورصحافت میں بڑی منظم اورمتحرک زندگی گزاری ہے اورانہوں نے ہرشعبہ میں اپنی خدادادصلاحیتوں کالوہامنوایا ۔ان کاتجربہ اورجواں جذبہ ان کی کامیابیوں کی ضمانت ہے ۔وہ ہلال احمر کومزید موثراورمنظم ادارہ بنانے کیلئے شب وروزکوشاں ہیں۔اسلام آباد میں ہلال احمر نے مفت ایمبولینس سروس شروع کی ہے جوخوش آئند ہے مگرمیں سمجھتاہوں اس کادائرہ کار لاہور،کراچی،کوئٹہ اورپشاورتک پھیلاناچاہئے ۔چیئرمین ڈاکٹرسعیدالٰہی کی قیادت میں ہلال احمربلاشبہ ایک نئے دورمیں داخل ہوگیا ہے،پرانے شعبہ جات کواپ گریڈکرنے کے ساتھ ساتھ نئے شعبہ جات بھی شروع کئے جارہے ہیں ۔گمشدہ یعنی لاپتہ افرادکی بازیابی اوران کے بارے میں بروقت اوردرست معلومات کیلئے ہلال احمرنے 1030 مفت سروس شروع کی ہے ۔اگرکسی شہری کاکوئی عزیز لاپتہ ہوجائے تووہ اس کے بارے میں بنیادی اورضروری معلومات 1030پر لکھوادے کیونکہ ہلال احمر مادروطن کے طول وارض میں ہرسرکاری ہسپتال سے منسلک ہے اورانہیں حادثات کی معلومات بروقت پہنچادی جاتی ہیں اوران کے نیٹ ورک سے شہریوں کواپنے گمشدہ پیاروں کی اطلاع باآسانی مل سکتی ہے۔حالیہ دنوں میں لاہورشہرمیں جس پراسراراندازسے معصوم بچے اغواء ہوئے ہیں وہ انتظامی اداروں کی اہلیت کارکردگی پرایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔مغوی بچوں سے انتہائی شرمناک اورخطرناک کام لیا جاتا ہے،ا نہیں زبردستی بھکاری بنایا اور جنسی تشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے۔ہلال احمر معصوم مغوی بچوں کی بحفاظت برآمدگی اوران کے گھروں تک محفوظ واپسی کیلئے بھی اپناکرداراداکرے ۔بھیک مانگنے والے معصوم اورمعذور بچوں جبکہ انہیں مختلف شاہراہوں اورچوراہوں پر کھڑاکرنے اوررات کووہاں سے واپس لے جانیوالے عناصر کومانیٹر کیا جائے ،ان میں سے زیادہ تر بچوں کواغواء کے بعد اس گھناؤنے دھندے پرلگایاجاتا ہے ۔ریاست ''چائلڈ لیبر'' کی طرح ''چائلڈ بیگر''کابھی سدباب یقینی بنائے،اگر بچوں کے بھیک مانگنے اورکوڑااٹھانے پرپابندی لگادی جائے توبچوں کے اغواء میں خاصی کمی آجائے گی۔بچوں کااغواء روکنے کیلئے شہری بھی اداروں کے ساتھ بھرپورتعاون کریں اورمشکوک عناصر کی سرگرمیوں پرنگاہ رکھیں ۔بچے ہمارابیش قیمت اثاثہ اور پاکستان کاروشن مستقبل ہیں۔کوڑاکرکٹ اٹھانے والے بچوں کی حالت زاربھی قابل رحم ہے ،جس طرح بھٹہ خشت پرمشقت کرنیوالے بچوں کے نازک ہاتھوں میں کتابیں تھمائی جارہی ہیں اس طرح بھکاری اورکوڑااٹھانے والے بچوں کی پرورش اورتعلیم وتربیت بھی ریاست کافرض ہے جس کوہم ماں مانتے ہیں۔منشیات فروشی اورمنشیات کااستعمال قانوناً جرم ہے مگرمنشیات کے عادی ''جہاز'' سرعام شاہراہوں پرگروہوں کی صورت میں بیٹھے ایک دوسرے کو''ٹیکے''لگارہے ہوتے ہیں ،اس طرح ان میں ایک دوسرے سے خطرناک بیماریاں بھی منتقل ہوتی ہیں ،کیا انہیں موت کی آغوش میں جانے سے روکنا ماں یعنی ریاست کافرض نہیں ۔ہلال احمر کی ٹیم منشیات کے عادی افراد کیلئے بھی نجات دہندہ بنے ،بھکاری بچے بھی ہلال احمر کے حکام کی مسیحائی کے مستحق اورمنتظر ہیں ۔

ہلال احمرکے زیرک چیئرمین ڈاکٹر سعیدالٰہی نے ریڈکریسنٹ کے پلیٹ فارم سے شہریوں کی صحت وتندرستی کیلئے مادروطن کے طول وارض میں انتہائی منظم اورموثراندازسے صفائی مہم شروع کرنے کافیصلہ کیا ہے ،شہریوں میں صفائی کے سلسلہ میں شعوربیدارکیاجائے گا۔بلاشبہ صفائی نصف ایمان ہے اور صفائی میں غفلت کامظاہرہ کرنیوالے لوگ درحقیقت بیماریوں کودعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ جوماں باپ خودصفائی کی اہمیت نہیں سمجھتے وہ اپنے بچوں کوکس طرح اس کاعادی بناسکتے ہیں ۔ریڈکریسنٹ کے پاس ٹرینڈ رضاکاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ان دنوں ہلال احمر طلبہ وطالبات کو فرسٹ ایڈ کی مفت تربیت دے رہا ہے ۔خدانخواستہ زمینی وآسمانی آفات اور پاکستان وبھارت کے درمیان جنگ کی صورت میں ہرگھر میں ایک دو افراد کافرسٹ ایڈ کی تربیت حاصل کرنا ازبس ضروری ہے۔شہریوں کوفرسٹ ایڈ کے ساتھ حالت جنگ میں بچاؤ یعنی سول ڈیفنس کی بھی تعلیم وتربیت کیلئے بھی تعلیمی نصاب اورتعلیمی نظام سے بھرپورمددلی جائے ۔ سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں ''این سی سی ''کی سرگرمیاں بحال کی جائیں ۔ 1122کے بانی اوراس ادارے کی ''نانی'' ڈاکٹررضوان نصیر بھی ان دنوں ہلال احمر میں ہیں جبکہ 1122کی حالت زار اس یتیم کی مانند ہے جواپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوجائے۔گذشتہ روز1122 کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں راقم کی نگاہیں اس کے بانی اورمعمار ڈاکٹررضوان نصیر کوڈھونڈتی رہیں مگروہ وہاں مدعونہیں تھے جوانتہائی شرم کامقام ہے ۔ہلال احمر کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹررضوان نصیرایک باصلاحیت انسان ہیں اورظاہر ہے جس ادارے میں بھی جائیں گے وہ یقینا ٹیک آف کی پوزیشن میں آجائے گامگرمیں سمجھتا ہوں ان سے 1122میں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے ۔
ہلال احمر کی فلاحی سرگرمیوں بارے سن کرمجھے الخیرفاؤنڈیشن کے بانی اور چیئرمین امام قاسم رشیداحمدبھی بہت یادآئے جومسلسل کئی برسوں سے پاکستان سمیت تقریباً چھبیس ملکوں میں انسانیت کی خدمت کیلئے سرگرم ہیں۔2005ء سے اب تک پاکستان میں آنیوالی زمینی وآسمانی آفات کے متاثرین کی بحالی وآبادکاری کیلئے الخیرفاؤنڈیشن کے چیئرمین امام قاسم کی قیادت میں ان کے انتھک رضاکاروں نے بھی بہت کام کیا ہے۔سیلاب یازلزلے کے نتیجہ میں ہزاروں بے گھرمصیبت زدگان کوٹینٹ ،خوراک،میڈیکل چیک اپ کی سہولت اورادویات کی فراہمی الخیرفاؤنڈیشن کاکریڈٹ ہے ۔احسان پورکوٹ ادومیں چارسوپختہ گھروں کاایک جدید گاؤں الخیرفاؤنڈیشن کے چیئرمین امام قاسم رشیداحمدکی انسانیت سے کمٹمنٹ کاآئینہ دار ہے۔الخیرفاؤنڈیشن کے دستکاری اداروں میں مفلس اورمستحق بیوہ عورتیں اورہماری بیٹیاں مختلف ہنرسیکھتی ہیں اورجواپنے اہل خانہ کے نزدیک ایک بوجھ تھیں انہیں اپنے گھروالوں کابوجھ اٹھانے کے قابل بنایا جارہا ہے۔ تھر ،بدین اورمٹھی سمیت شہرقائدؒ میں الخیرفاؤنڈیشن کے واٹرپراجیکٹ سے ہزاروں خاندان مستفیدہورہے ہیں۔کوٹ ادومیں الخیرفاؤنڈیشن کے آرفن ہاؤس کی عنقریب تکمیل ہوجائے گی جہاں سینکڑوں یتیم بچوں کی تعلیم وتربیت ،قیام وطعام کابھرپوربندوبست ہوگا۔ ہلال احمرسے الخیرفاؤنڈیشن تک پاکستان میں سرگرم فلاحی اداروں کا وجودجبکہ امام قاسم اور ڈاکٹرسعیدالٰہی جیسی شخصیات کادم غنیمت ہے ۔عبدالستار ایدھی چلے گئے مگراپنامشن امام قاسم رشیداحمداورڈاکٹر سعیدالٰہی کے ہاتھوں میں دے گئے،ان سے دردمندانسان انسانیت کی شان ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 80319 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2016 Views: 325

Comments

آپ کی رائے