قبول حج کے لئے = مدینہ کی حاضری ضروری ہے

(Hafiz Hashim, India)
روضہ انور کی زیارت بھی حجِ بیت اﷲ شریف کی تکمیل ہے۔ قبول حج و سعادت دارین کیلئے مدینہ طیّبہ کی حاضری ضروری ہے۔
؂ کعبہ بھی ہے انہیں کی تجلّی کا ایک ظِل ٭ روشن اُنہیں کے عکس سے پتلی حجر کی ہے
؂ ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منٰی ٭ لولاک والے صاحبی سب تیرے در کی ہے

روضہ ٔ اقدس کی زیارت کا شرف خواہ حج سے پہلے یا حج کے بعد کرے روضۂ منوّرہ تطہیر قلب و تنویرِ ایمان کے لیے تِریاق اکبر اور افضل ترین عبادت ہے اور مرقدِپاک (یعنی وہ مکان جو جسدِ اطہر سے مُمَّاس ہے) خانہ کعبہ اور عرش سے افضل جگہ ہے۔

مفسرین کرام ، فقہائے عُظّام لکھتے ہیں کہ زیارت اقدس قریب بہ واجب ہے بلکہ بعض علماء بصورت استطاعت واجب کہتے ہیں۔ قرآن کریم کا ارشاد پاک ہے سورۃ نساء آیت نمبر ۶۴ ترجمہ:۔ اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں پھر اﷲ سے معافی چاہیں اور رسول کریم ان کی شفاعت کریں تو ضرور اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔ اس آیت کریمہ سے اﷲ کے حضور سرکار کی وجاہت اور قبول توبہ کے باب میں انکی شفاعت کی قبولیت معلوم ہوتی ہے۔ شرح المواہب الدنیہ میں علامہ زرقانی علیہ الرّحمہ حدیث زیارت کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ اس سے خصوصی شفاعت مراد ہے یعنی زائرین روضۂ اقدس کے درجات بلند کرانے کے لیے شفاعت فرمانا سرکار کے ذمۂ کرم میں ہے۔؂ جسکے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
٭ اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

کون مسلمان ہے جو یہ نہ چاہے گاکہ قیامت کی ہولناکیوں سے ہم محفوظ رہیں اور اپنے اعمال کے باز پرس سے ہمیں دوچار ہونا نہ پڑے فَلِلّٰہ ِالْحَمْد کہ زیارتِ مدینہ و روضۂ اقدس سے یہ عظیم نعمتیں اور رب کریم کی خصوصی رحمتیں زائرین مکّہ و مدینہ کو حاصل ہوں گی بشرطِ کہ حاضری مدینہ منورہ میں خالص نیت قبرِ انور کی زیارت کی ہو۔

جب مدینہ طیّبہ پہنچ جائے تو نہایت صبر و سکون سے رہے اگر دورانِ قیام کوئی دقّت بھی پہنچے تو دل میں کسی قسم کا خیال، شکایت نہ لائے۔ حدیث شریف میں آیا ہے ترجمہ: جس نے قصداً میری زیارت کی وہ میرے پڑوس میں ہوگا اور جو مدینہ میں رہا اور وہاں کی مصیبتوں پر صبر کیا قیامت کے روز میں اس کے لئے گواہی دونگا اور جو شخص مکہ یا مدینہ میں مر جائے قیامت کے روز اﷲ اسے ایمان کے ساتھ اُٹھائے گا۔

روضۂ انور پر نظر کرنا دیکھنا عبادت ہے جیسے کعبہ معظّمہ یا قرآن مجید کا دیکھنا عبادت ہے تو ادب کے ساتھ خوب خوب روضۂ مقدسہ کو دیکھو اور درود و سلام کی کثرت کرو۔ مدینہ منورہ میں اگرروزہ نصیب ہو جائے تو کیا کہنا اس پر وعدہ شفاعت ہے۔ یہاں ہر نیکی (ایک کی) پچاس ہزار کی لکھی جاتی ہے۔ لہٰذا عبادت میں کوشش کرو خصوصاً اہل حاجت پر تصدق کرو۔ قرآن کریم کا ایک ختم کم از کم کرو اور حطیم کعبہ میں ضرور ایک ختم قرآن کرنا چاہئے۔

روضۂ منوّرہ میں قبر کریم کو ہرگز پیٹھ نہ کرو اور حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑے ہو کہ پیٹھ کرنی پڑے۔ حضور اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں فرمایا تھا۔ ’’لَعَنَ اﷲُ یَھُوْدَ وَنَّصَا ریٰ اِتَّخَذُوْ قَبُوْرَ‘‘ ترجمہ: یعنی اﷲ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاکے قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا (بخاری شریف) میں اس روایت کے بعد یہ بھی ہے یُحَذَّرُلنَّاس یعنی یہ فرمایا اور لوگوں کو وصیت فرماتے تھے کہ میرے ساتھ ایسا نہ کرنا کہ میری قبر کوسجدہ گاہ بنا لو لہذا اس کا اہتمام یہ کیا گیا ہے کہ اس طرف گوشہ والی دیوار کھڑی کر دی گئی تاکہ کوئی وہاں نماز بھی پڑھے تو اس کا رُخ حضرتِ اقدس صلی ﷲ علی وسلم کی طرف نہ ہو یا وہاں سے ہٹ کر نماز ادا کرے یا د رہے محبت اور شریعت دونوں پر قائم رہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آئے گی) لوگ اُسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ لوگوں کو اسطرح پاک و صاف کر دے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔ اﷲ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں مکّہ معظّمہ و مدینہ منوّرہ کے سوا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں دجّال نہ آئے۔ مدینہ کے ہر راستے پر ملائکہ پر باندھے پہرہ دیتے ہیں دجال مدینہ کے قریب آکر رُکے گا اس وقت مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے جن سے ہر کافر و منافق یہاں سے نکل کر دجال کے پاس چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرے گا اﷲ تعالیٰ اسے اس طرح سے پگھلائے گا جیسے سیسہ یا جیسے نمک پانی میں گل جاتا ہے۔

مسلم شریف میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مدینہ لوگوں کے لئے بہتر ہے اگر جانتے مدینہ کو جو شخص بطور اعراض چھوڑے گا اﷲ تعالیٰ اسکے بدلے میں اسے لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا۔ مدینہ کی تکلیف پر جو ثابت قدم رہا اور مشقت پر جو ثابت قدم رہے گا روز قیامت میں اس کا شفیع یا شہید ہونگا۔

برکات الحج فی الزیارت کے اس سفر سے مقصود صرف اﷲ و رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی کا حصول ہو دکھاوے کے لیے حاجی کہلانے کو یا سیرو تفریح کے غرض سے حج نہ کرے کہ وقت و مال دونوں ضائع ہوگا اور سراسر دنیا حاصل کرنے کے سوا دینی حاصل کچھ نہ ہوگا۔ اسلئے سب سے پہلے ہمت کرکے اپنی نیت کو خالص ِلوجہہ اﷲ کریں اور یہ نیک عمل کے لئے ضروری ہے۔

اخیر میں ایک عمل وظیفہ خصوصیت کے ساتھ حُجاج کرام کے لئے لکھ رہا ہوں تاکہ منیٰ میں یا دوران حج لوگ راستہ بھول جاتے ہیں ۔ اسکے پڑھنے سے شیطان اور اسکے لشکروں سے محفوظ رہے گا انشاء اﷲ۔ سیدنا اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضامحدث بریلوی قدس سرہٗ کی مشہور زمانہ کتاب اَلْوَظِیْفَتہُ الْکَرِیْمہ کی شرح وظائف امام احمد رضا شارح مفتی جھارکھنڈ، محمد عابد حسین مصباحی نوری قادری شیخ الحدیث مدرسہ فیض العلوم، جمشیدپورصفحہ نمبر ۲۹ اور صفحہ نمبر ۵۴ میں لکھا ہے ان کلمات کو صبح و شام ایک بار پڑھنے سے شیطان سے محفوظ رہے گا۔ حضرت ابو یوسف خراسانی نے ابو سعید بن ابی رواحا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہامیں ایک رات مکہ شریف کے سفر میں تھا راستہ بھول گیا اچانک میں نے اپنے پیچھے آہٹ سنی تو بہت ڈر گیا اور گھبرایا کہ کون ہے جب میں نے غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ کوئی کلام پاک کی تلاوت کر رہا ہے تھوڑی دیر بعد وہ صاحب میرے پاس آ گئے اور کہنے لگے میرا خیال ہے کہ تم راستہ بھول گئے ہو میں نے کہا جی ہاں ایسا ہی ہے اس پر انہوں نے کہا کہ میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں کہ جب تم راستہ بھولنے کے بعد اس کو پڑھ لو تو تم کو فوراً راستہ مل جائے گا اور اگر ڈر محسوس ہو رہا ہو تو اسکے پڑھنے سے ڈر جاتا رہیگا یا بے خوابی کی شکایت ہے تو دور ہو جائے گی۔ میں نے کہا ضرور بتایئے۔ انہوں نے کہا پڑھو: بَسْمِ اللّٰہِ جَلِیْلِ الشَّان عَظِیْمِ الْبُرْھَان شَدِیْدِ السُّلْطَان مَاشَاءَ اللّٰہُ کَانَ اَعُوْ ذُ بِا للّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم جب میں نے اس دعا کو پڑھا تو اچانک میں نے خود کو اپنے ہم سفروں میں پایا اس وقت میں نے ان صاحب کو تلاش کیا لیکن نہیں ملے۔ ابو ہلال فرماتے ہیں میں منیٰ میں اپنے ہمراہیوں سے بچھڑ گیا اس وقت میں نے یہ دعا پڑھی اچانک میرے ہمراہی مجھے مل گئے۔ (غُنْیَتہُ الطَّالِبِیْن ص ۳۷۵۔ ترجمہ شمس بریلوی) اﷲ سے دعا ہے کہ اﷲ مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرمائے اور اپنے رسول کے شہر میں موت دے آمین۔ اﷲ تمام مسلمانوں کو حج نصیب فرمائے۔ آپ سب میرے لئے دعا فرمائیں کہ باربار حاضری نصیب ہو اور کوئی بے ادبی ، گستاخی نہ ہونے پائے۔ آمین ثم آمین ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Hashim Quadri Misbahi

Read More Articles by Mohammad Hashim Quadri Misbahi: 166 Articles with 113137 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jul, 2016 Views: 860

Comments

آپ کی رائے
دوسری بات یہ کہ آپ نے فرمایا کہ مدینہ جانے کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ ہم قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو جارہے ہیں۔ آپ کی خدمت میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔

آپ نے فرمایا:" زیارت کے لیۓ صرف تین مسجدوں کی طرف ہی سفر کیا جا سکتا ہے: مسجد حرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصی" ابن ماجہ 1409 ا
آپ صلی علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ان تین مساجد کی زیارت کے لیے سفر کیا جا سکتا ہے۔ یعنی نیت ان تین مسجد کی زیارت اور عبادت کی ہو۔ اور پھر یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ ایک مسلمان حج و عمرہ کے نیت سے بھی مسجد حرام مکہ کا سفر اختیار کرتا ہے۔

اس میں کوئ اشکال ہو تو عرض کریں۔ بارک اللہ فیک

By: Baber Tanweer, Karachi on Aug, 11 2016
Reply Reply
1 Like
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، ماشاء اللہ جناب ہاشم صاحب آپ حافظ قرآن ہیں۔ اور یہ ہمیں یقین ہے کہ آپ قران کے ترجمے کا مکمل نہیں تو تھوڑا بہت ادراک رکھتے ہوں۔ آپ کے اس آرٹیکل پر کچھ تبصرہ کرنا چاہوں گا۔ لیکن اس سے پہلے سورہ النساء کی آيت نمبر 64 کے ترجمے کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں: محترم کم ازکم ترجمہ کو اپنے عقیدہ کے مطابق تبدیل نہ کیا ہوتا۔ یہ جو آپ نے ترجمے کا اختتام (گے) کے حرف پر کیا ہے یہ ترجمہ کس مترجم نے کیا ہے۔ اور دوسری بات آپ ذرا اس پچھلی آيات پر بھی غور فرما لیتے تو معلوم ہو جاتا کہ اس آيت میں آپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد کون لوگ ہیں۔ اس سورت کی آيت نمبر 61 سے 64 تک کا ترجمہ پیش خدمت ہے
----------------اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں (61) تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا (62) ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں (63) اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے (64)
--------
یعنی یہاں اشارہ منافقین کی طرف تھا۔ مؤمنین کی طرف نہیں۔ اور اللہ تعالٰی ایمان والوں سے کیا فرماتا ہے اسی سورت کی ایت نمبر 110 پر غور فرما لیں ۔
اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا (110)

اور وہ حدیث تو آپ کی نظروں سے گذری ہوگي جس میں نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاۓ تو وہ دو رکعت نماز پڑھے اور پھر اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایسا شخص میری زندگي میں میرے پاس آۓ اور میری وفات کے بعد میری قبر پر آ کر دعا مانگے۔
میری اس بات پر کوئی اعتراض ہو تو ضرور اس کی نشاندھی فرمائیں، باقی باتیں اگلی پوسٹ میں عرض کرتا ہوں۔ بارک اللہ فیک۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Aug, 07 2016
Reply Reply
1 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ