سچا بادشاہ

(Tanvir Sadiq, Lahore)
سائل پورے جاہ و جلال اور اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔اسے خیال تھا کہ اسے کوئی روک نہیں سکتا مگر دروازے پر کھڑے چند عام سے لوگوں نے اسے گھر کے اندر داخل ہونے سے روک دیاکہ اندر سے اجازت آنے تک اسے انتظار کرنا ہو گا۔ زندگی میں پہلی بار کسی نے اس طرح اسے روکنے کی جرات کی تھی اور اسے انتظار کی زحمت گوارا کرنا پڑی تھی۔اس کے لئے یہ بڑی ہزیمت اور پریشانی کی بات تھی مگر یہاں مجبوری تھی وہ یہاں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ تھوڑی دیر میں اسے اندر آنے کی اجازت مل گئی۔اندر آنے کے بعد درویش کے روبرو بیٹھے وہ اپنی ناراضگی چھپا نہ سکااور بولا، ـــبا در درویش دربان نہ باید (درویش کے دروازے پر پہرے دار نہیں ہوتے)۔ جواب ملا، با باید کہ سگ دنیا نہ آید۔ (ہوتے ہیں اس لئے کہ کہیں دنیا کے طلبگاراندر نہ گھس آئیں)۔سائل سنبھل گیااور با ادب عرض کی کہ اس کی فوجیں دکن میں بر سر پیکار ہیں،ان کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔اسی دوران ایک غریب آدمی وہاں آ گیا اور درویش کی خدمت میں ایک روپیہ نذ ر کرنا چاہا۔ درویش مسکرائے اور کہا، مجھے اس کی ضرورت نہیں، کسی اور سے پوچھ لو اگر اسے ضرورت ہو۔ غریب آدمی محفل میں بیٹھے تمام لوگوں کے پاس گیامگر کسی نے بھی وہ روپیہ لینے پر آمادگی ظاہر نہ کی۔غریب آدمی مایوس واپس آیا اور پوچھا ، اب کسے دوں؟ درویش نے پاس بیٹھ سائل کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں سب سے غریب آدمی یہ ہے اسے دے دو، یہ شخص اتنی بڑی سلطنت پا کر بھی خوش اور مطمن نہیں مزید کا طلب گار ہے۔اس کی بھوک اس آگ کی طرح ہے جو ہر چیز کو جلا دیتی ہے اور یہی بھوک اسے دہلی سے یہاں بھیک مانگنے لائی ہے۔با ادب بیٹھا سائل کوئی عام آدمی نہیں، اس وقت کی مغلیہ سلطنت کا تاجدار نور الدین جہانگیر تھا اور وہ درویش حضرت میاں میر تھے جو دلوں کی سلطنت کے تاجدار تھے شہنشاہوں کے شہنشاہ ، ایک سچے بادشاہ کہ جن کی بادشاہی کو زوال نہیں اور جو آج بھی اسی طرح قائم اور دائم ہے۔

میں بھی درویش کے در پر حاضری دینے گیا ۔ مسجد کے صحن کے درمیان ایک اونچا چبوترہ ہے اور چبوترے کے درمیان مزار۔ چبوترے پر بہت سے لوگ بیٹھ قران حکیم کی تلاوت میں مصروف تھے۔ مزار کے اندر جانے کے لئے دروازہ پچھلی طرف ہے۔ میں گھومتا ہوا دروازے سے مزار کے کمرے میں داخل ہوا۔ اک ہیبت، کیف و مستی اور سرور کی کیفیت تھی۔ بہت سے لوگ کمرے میں موجود تھے۔ ہر موجود شخص دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تھا۔ ایک شخص قبر کے سرہانے بیٹھا زاروقطار رو رہا تھا۔ ایک بیس بائیس سالا نوجوان پاؤں کی طرف بیٹھا تھا اس کی عجیب حالت تھی قبر کو چھوتاپھرکھڑا ہو جاتا، آسمان کی طرف منہ کئے ہاتھ اونچے اٹھائے دعا کرتا پھر بیٹھ کر قبر کو چھونے کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی تھی اور حالت دیدنی۔ باقی سبھی لوگ بھی اسی طرح دعاؤں میں مصروف تھے۔ مجھے لگا جیسے بہت سے جہانگیر اور شاہجہان ذاتی دکھوں کے ازالے کی خاطر آج اس دربار میں اپنے لئے دعا کرانے حاضر ہیں۔وہیں کمرے میں ایک طرف ایک تختے پر حضرت میاں میر کا حسب نسب درج تھا۔

آپ سندھ ،ضلع دادو کے شہر سہون میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام میر محمد تھا۔ ان کے والد قاضی سائیں دتہ علم، تقوی اور زہد کے حوالے سے سندھ کے ایک ممتاز بزرگ تھے ۔آپ فاروقی بھی کہلاتے تھے کیونکہ آپ حضرت عمر فاروق کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب اٹھارویں نسل میں حضرت عمر فاروق سے ملتا ہے۔ ان کی والدہ فاطمہ بی بی قاضی قازن کی صاحب زادی تھیں۔ آپ چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ آپ کی بہن بی بی جمال خاتون سہون میں مدفون ہیں۔ وہ اپنے وقت کی انتہائی پارسا خاتون تھیں۔ مشہور ہے کہ وہ اپنے زمانے کی رابعہ بصری تھیں۔حضرت میاں میر جب بارہ (12) سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔والدہ چونکہ خود بھی عالم فاضل اور پرہیز گار تھیں اس لئے آپ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ ’ حضرت شیخ خضر سیو ستانی‘ جو سلسلہ قادریہ کے مشہور بزرگ تھے، کی خد مت میں حا ضر ہوئے اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پچیس (25) برس کی عمر میں آپ لاہور آ گئے اور پھر باقی زندگی یہیں مقیم رہے۔

بہت سی بیٹیوں کے بعد دارا شکوہ شاہجہان کی پہلی نرینہ اولاد تھی جو اس نے بہت منتوں اور مرادوں کے بعد پائی تھی، اسلئے شاہجہان کو دارا شکوہ سے بہت پیار تھا۔انیس (19) برس کی عمر میں دارا بیمار ہو گیا تو شاہ جہان اسے لے کر حضرت میاں میر کی خدمت میں حاضر ہوا کہ اس کی صحت یابی کی دعا کریں۔صحت یابی کے بعد دارا کی زندگی میں ایک زبردست تغیر آیا۔ اپنی صحت یابی کو حضرت کی کرامت جانتے ہوئے اﷲ کے نیک بندوں سے اس کی عقیدت اور احترام بہت زیادہ ہو گیا۔ تقریباً دس مہینے کے وقفے سے دارا شاہجہان کے ہمراہ جب دوبارہ حضرت میاں میر کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کی عقیدت مندی کا یہ عالم تھا کہ اس مکان کی دوسری منزل تک، جہاں حضرت کی رہائش تھی، ننگے پیر گیا اور جو لونگ وہ چبا چبا کر پھینکتے، انہیں اٹھا اٹھا کر کھا جاتا۔بعد میں وہ آپ کی خدمت میں اکیلا حاضر ہوا اور آپ کے قدموں میں اپنا سر رکھ دیا۔ حضرت میاں میر دیر تک اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے اور اس کے لئے دعا کرتے رہے۔اگلے برس حضرت میاں میر تو فوت ہو گئے مگر دارا کے دل میں جو چنگاری لگا گئے وہ ہمیشہ سلگتی رہی۔ آج بھی تاریخ میں دارا کو ایک درویش شہزادے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سکھوں کے پانچویں گورو ، ارجن دیو، عموماً لاہور آتے کیونکہ لاہور ان کے والد چوتھے گورو ، رام داس کی جائے پیدائش تھی اور ان کے زیادہ تر رشتہ دار لاہور میں مقیم تھے۔ لاہور میں اپنے قیام کے دوران وہ حضرت میاں میر سے لازمی ملاقات کرتے۔حضرت میاں میر بھی گورو ارجن سے ملنے کئی دفعہ امرتسر جاتے رہے ۔گورو ارجن دیو نے اپنے دور میں بہت سی مقدس عمارتیں اور بہت سے مقدس تالاب بنوائے۔1574 میں چوتھے گورو رام داس نے’ تنگ‘ نامی گاؤں میں 700 روپے سے بہت ساری زمین خریدی اور وہاں ایک تالاب کھدوایا جس کو امرتسر نام دیا گیا۔وہیں گورو نے اپنے لئے مکان بنایا اور رہائش اختیار کی۔اس وقت اس جگہ کو لوگ ’ گورو کا چک ‘ کہتے تھے بعد میں یہ جگہ ’ چک رام داس ‘ کے نام سے جانے لگی۔ 1588 میں گورو ارجن نے مقدس تالاب امرتسر میں گوردوارہ ہری مندرتعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ایک ایسا مندر جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے محبت اور اخوت کا سرچشمہ ہو۔چنانچہ اس مندر کے سنگ بنیاد کے لئے گورو ارجن نے حضرت میاں میر کو دعوت دی۔ حضرت میاں میر اپنے درویشانہ حلئیے اورسادہ لباس میں فقیرانہ جاہ و جلال کے ساتھ امرتسر پہنچے۔ گورو ارجن نے اپنے مخصوص انداز میں ان کا والہانہ استقبال کیا اور دونوں نے اس مندر کا افتتاح کیا۔ آج اس تالاب اور مندر کے ارد گرد بسنے والا تمام شہر اس تالاب کے حوالے سے امرتسر کہلاتا ہے اوروہ ہری مندر سکھوں کا مشہور روحانی مرکز گولڈن ٹمپل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضرت میاں میر سکھوں اور مسلمانوں میں ایک صوفی اوردرویش کے طور پر یکساں مقبول تھے۔گورو ارجن کے بعد آنے والے چھٹے گورو ہرگوبند اورساتویں گورو تیغ بہادر سے بھی انکے دوستانہ تعلقات رہے۔

حضرت میاں میر نے 22اگست 1635کو 85 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے۔ ان کا فیض آج بھی جاری ہے اور لاہور کے علاقے دھرم پورہ میں ان کا مزار آج بھی د کھ اور مصیبت کے وقت دعا کے متلاشیوں کے لئے،سکون اور اطمینان کا مرکز ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 220967 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
02 Aug, 2016 Views: 359

Comments

آپ کی رائے