اجتماعیت کی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
جب انفرادیت کی سوچ معاشرے کی رگ وجاں میں سرایت کر جاتی ہے،معاشرے میں خصوصاً نوجوان نسل کا یہ سلوگن ہو تا ہے میرا کیریر،میرا مستقبل،میرا گھر،میری زندگی یقیناً معاشرے میں ’’ہم‘‘ کی بجائے’’میں یا میرا‘‘کی فضائیں بلند رہتیں ہیں۔ اس حوالے سے فرسودہ نظام کے اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ مذہب قانون،فلسفہ،ادب،سب اسی فکری فرسودگی کا شکار ہو کر معاشرے کو اجتماعیت کی روح سے محروم کرتے جاتے ہیں ۔ اجتماعی خرابی معاشرے کے اجتماعی اداروں کی کرپشن اور فرسودگی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔لہذا اس کیفیت سے نجات کا راستہ یہی ہے کہ ہمیں انفرادیت کی بجائے اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لئے سوچیں، صرف اپنے گھر کے لئے، اپنے نفع کے کے لئے، صرف اپنی صحت کے لئے نہ سوچیں ، بلکہ اپنے گردو پیش بسنے والے تمام انسانوں کے لئے سوچنے کا مادہ پیدا کریں، اپنی نسلوں کو اجتماعی انسان دوستی کی سوچ میں پروان چڑھائیں، تو یقیناً ایک اجتماعی سوچ ہی معاشرے کے اندر مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔
اجتماع انسانی کا دارو مدار فطرت کے بنائے ہوئے اصولوں پر ہے خالق کائنات نے انسا ن کو محبت کے ایسے خمیر سے پیدا کیا جس کی اساس پر وہ رشتوں ،ناطوں کے ایسے سلسلے استوار کرتا ہے جو خوشیوں ،مسرتوں کا باعث بنتے ہیں یہ کیفیات اس کے اندر جستجو،عزم،حوصلہ اور زندہ رہنے کا احساس پیدا کرتی ہیں۔خالق نے اس انسان کے اندر دوسرے انسانوں سے محبت و الفت کا ایسا گہرا رشتہ استوار کیا ہے کہ کرہ ارض پہ رہنے والا کوئی بھی انسان اس سے اپنے آپ کو خالی یا آزاد نہیں کہہ سکتا ۔محبت و الفت کا یہ رشتہ ہی انسانوں کے اجتماع میں اخوت اور تعاون باہمی پیدا کرتے ہیں ۔

مفکرین کے مطابق’’دنیا میں جب مادہ ترقی کرتے کرتے شعور کا تھوڑا اظہار کرنے لگتا ہے تو اس میں زندگی کی کھینچا تانی یا کشمکشStruggle for existenceشروع ہو جاتی ہے ، جوں جوں جسمانی بناوٹ کی پیچیدگی بڑھتی جاتی ہے خوراک کی ضرورت بھی بڑھتی جاتی ہے اور زندگی کی کشمکش زیادہ شدید ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ شیر بڑے بڑے جانوروں کو پھاڑ کھانے کو اور وہیل مچھلی بڑی بڑی مچھلیوں کو نگل جانے کے لئے لپکتی ہے،ان حیوانوں میں جہاں تک حیوانی ضروریات حاصل کرنے کے لئے لڑنے اور مرنے کا تعلق ہے رحم یانصاف کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ فطرت نے انہیں ان باتوں کو سوچنے کے لئے پیدا نہیں کیا لیکن جوں جوں حیات حیوانیت سے ذرا اوپر اٹھتی ہے اور اس میں تعقل کا نور روشن ہوتا ہے تو زندگی کی کھینچا تانی صرف حیوانی اصول پر کام کرنے کی بجائے عقل کے نیچے آ جاتی ہے اور اب انصاف و رحم کاتصورر پیدا ہو جاتا ہے اگر بے عقل حیوانی طبقے میں بقاء اصلح یعنی Survival for the fittestکا قانون جاری ہو جاتا ہے تو حیوانوں کے عقلمند طبقے یعنی انسانوں میں بقاء اتقیٰ یا انفع Survival of the bestکا قانون اس کی جگہ لے لیتا ہے۔‘‘ Survival of the best کے قانون ہی کے تحت آج ماحولیات کی بہتری، عدل و انصاف، انسانی حقوق، حیوانی حقوق وغیرہ کی جدو جہد کے مظاہر نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے اگر غور و فکر کیا جائے تو انسان اس حیوانی دنیا سے ممتاز ٹھہرتا ہے کیونکہ بعض اوقات یہ اپنے وقتی فائدے کو دوسروں کے حال ومستقبل کے فائدے پہ قربان کر دیتا ہے۔اس تناظر میں آج ہم اپنے معاشروں کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں کہ ہم حیوانیت کے اس درجے سے بلند ہو کر انسانیت کے اس مقام سے کس حد تک قربت رکھتے ہیں۔ہم کس قدر دوسرے انسانوں اور دوسری مخلوق کی بہتری کے لئے سوچتے ہیں، ان کے لئے اپنے وقتی مفادات قربان کرتے ہیں۔اس حوالے سے غور و فکر سے ہمیں اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ انسانی اصولوں پہ زندہ رہ رہا ہے یا حیوانی اصولوں پہ ۔

گویاانسان اور جانور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان دوسروں کی خدمت اور محبت کے جذبہ اور عمل سے لبریز ہوتا ہے اور جانور اس صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔اگر انسانی معاشرے میں انسان اپنے شب وروز کا اگر مشاہدہ کریں کہ ان کی زندگی کا محور فقط ان کی ذات ہے ،فقط اپنے بچوں اور اپنی ذات کی کفالت کرنا اور ان کی حفاظت کرنا اور ان کو گھر بنا کر دینا ہے(جو کہ ایک جانور بھی باقاعدگی سے کرتا ہے) تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ ایک جانور کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔کیوں کہ وہ اس بنیادی خصلت سے محروم نظر آتے ہیں جو انہیں جانور کی زندگی سے ممتاز کرتی ہے۔اور وہ خصلت ہے دوسروں کے کام آنا ،دوسرے انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونا ،دوسرے انسان اگر کسی ظلم اور استحصال میں گرفتار ہیں ان کی مدد کرنا انسانی معاشرے میں اجتماعی عدل اور انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنا،معا شرے میں مفلوک الحال افراد کی مدد کرنا اور ان کی مستقل خوشحالی کا بندوبست کرنا۔یعنی انفرادی زندگی کے دائرے سے لیکر اجتماعی معاشرے تک تعاون باہمی، خدمت اورمحبت کے زریعے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا۔جب معاشرے کا ہر انسان جذبہ اجتماعیت سے سرشار مصروف عمل ہو گا تو وہ معاشرہ انسانی معاشرہ کہلانے کے لائق ہو گا ۔اور ایسا معاشرہ جہاں ہر انسان دوسرے کے استحصال،لوٹ کھسوٹ ،اور نقصان پہنچانے ،تکلیف پہنچانے،ذلت و رسوائی سے ہمکنار کرنے،حقوق پہ ڈاکہ ڈالنے ، پر ہمہ وقت تیار بیٹھا ہو، جس معاشرے میں انسان دوسروں کی اذیتوں اور تکالیف پہ اپنی مسرتوں اور شادمانیوں کے محل تعمیر کریں اور دوسروں کو طاقت اور اقتدار کے ذریعے محکوم اور مقہور بنا کر ان کی زندگیوں کو جہنم میں تبدیل کر دیں،اور ہمہ وقت ہر فرد معاشرہ اپنی ذاتی ضرورت اور فائدے کے لئے دوسرے کی حق تلفی کے لئے تیار بیٹھاہو۔تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا معاشرہ انسانوں کا معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔بلکہ جانوروں کا سماج کہلانے کا زیادہ مستحق ہو گا۔
شیخ سعدی اسی حقیقت کو اس طرح بیان کرتے ہیں
بنی آدم اعضاء یک دیگر اند
کہ در آفرینش زیک جواہر اند
چوں عضوے بدرد آورد روزگار
اگر عضو ہا را نماند قرار
توز محنت رہگراں بے غمی
نشاید کہ نا مت نہند آدمی
(آدم کی اولاد ایک دوسرے کے عضو ہیں کیونکہ پیدائش میں ایک اصل (آدم)سے ہیں سب ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضاء بے چین ہو جاتے ہیں اے انسان!جب تو دوسروں کی تکلیف سے بے فکر ہے تو تیرا نام آدمی نہیں رکھنا چاہئے یعنی تو آدمی نہیں جانور ہے۔)

معاشرے کی یہ کیفیت آج ہم اپنے گرد وپیش میں محسوس کرتے ہیں، اگرچہ کہ اس کے اسباب موجود ہیں، کیونکہ ایک استحصالی اور طبقاتی نظام میں جب انسان بنیادی ضروریات کے لئے ترستے ہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں تو انفرادیت کی سوچ معاشرے کی رگ وجاں میں سرایت کر جاتی ہے،معاشرے میں خصوصاً نوجوان نسل کا یہ سلوگن ہو تا ہے میرا کیریر،میرا مستقبل،میرا گھر،میری زندگی یقیناً معاشرے میں ’’ہم‘‘ کی بجائے’’میں یا میرا‘‘کی فضائیں بلند رہتیں ہیں۔ اس حوالے سے فرسودہ نظام کے اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ مذہب قانون،فلسفہ،ادب،سب اسی فکری فرسودگی کا شکار ہو کر معاشرے کو اجتماعیت کی روح سے محروم کرتے جاتے ہیں ۔اسی انفرادیت کی وجہ سے گروہیت اور فرقہ وارانہ نسلی ،مذہبی ،قومی تعصبات کو ہوا دی جاتی ہے۔معاشرہ ٹکڑوں میں بٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ہر فرد اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے دوسرے کا گلہ کاٹنے کے لئے اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔یقیناً یہ اجتماعی خرابی معاشرے کے اجتماعی اداروں کی کرپشن اور فرسودگی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اب اس کا حل کیا ہو گا ۔؟کیا اجتماعی خرابی کو انفرادی طور پر حل کیا جا سکتا ہے ؟کیا کوئی فرد واحد اس خرابی کو حل کر سکتا ہے؟یقیناً تاریخی مطالعہ اس کو رد کرتا ہے ۔ ہمیشہ قوموں کا اجتماعی زوال، اجتماعی جدو جہد ہی سے ختم ہوتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں انفرادیت کی بجائے اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لئے سوچیں، صرف اپنے گھر کے لئے، اپنے نفع کے کے لئے، صرف اپنی صحت کے لئے نہ سوچیں ، بلکہ اپنے گردو پیش بسنے والے تمام انسانوں کے لئے سوچنے کا مادہ پیدا کریں، اپنی نسلوں کو اجتماعی انسان دوستی کی سوچ میں پروان چڑھائیں، تو یقیناً ایک اجتماعی سوچ ہی معاشرے کے اندر مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70340 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
02 Aug, 2016 Views: 784

Comments

آپ کی رائے