میں بھی پاکستان ہوں

(Saghir Qamar, )
میں ایک مقہور، مجبور اور معتوب کشمیری مسلمان ہوں ۔ میں ایک اجنبی ، ناماموس اور غیر معروف پاکستانی ہوں ۔ میں نسل درنسل غلام ہوں ۔ میں شاکی ضرور ہوں لیکن مجھے اس دنیا سے کوئی شکورہ ہر گز نہیں جو اپنی دلسوزی کا ڈھونگ رچانے کے لیے افریقہ کے کالے ہاتھیوں اور ایشیا کے سبز کچھوؤں کی نسل بچانے کی خاطر اربوں ڈالر لٹا رہی ہے ، جو پانچ ہزار سالہ پرانے کھنڈر بچانے کے لیے جستجو کر رہی ہے اور دوسری جانب کشمیر کو صفحہ ہستی سے مٹتے دیکھ کر انکھیں چرا لیتی ہے۔مجھے اس دنیا سے شکوہ اس لیے بھی نہیں ہے کہ ہاتھی کے دانتوں کی طرح ان کی آنکھیں بھی دو طرح کی ہیں دیکھنے کی اور دکھانے کی ۔وہ دیکھنے آئیں وہ دیکھنا چاہیں تو سمندر کی تہہ میں چھپے دشمن کو تلاش کرلیں ، نہ دیکھنا چاہیں تو اپنی ناک کے نیچے لٹتے پٹتے بوسنیا کو نہ دیکھ سکیں ۔ ارض فلسطین میں اقصیٰ کے گرد پروانوں کی طرح کٹتے مٹتے انسان انہیں نظر نہ آئیں ۔ دیکھنا چاہیں تو صومالیہ میں کسی امریکی فوجی کے پاؤں میں چبھنے والا کاٹا دیکھ لیں نہ دیکھنا چاہیں تو عراق ، شام ، کشمیر اور افغانستان کے لاکھوں لاشے انہیں نظر نہ آئیں ۔ ہاں مجھے شکوہ ہے تو اہل ایمان سے اہل پاکستان سے ہے ۔ اپنے بھائیوں سے جو مجھے اپنی شہ رگ کہتے نہیں تھکتے ۔

میری کوئی صبح ایسی طلوع نہیں ہوتی جب میرے جگر کا درد سوا نہیں ہوتا، میرے آنگن میں کوئی دوپہر اپنے جوبن کے ساتھ جلوہ گر نہیں ہوتی ۔میرے پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایسی کوئی شام نہیں آتی میری کوئی ماں ایسی نہیں جس کی آنکھیں لہو نہ روتی ہوں ،میری کوئی بہن ایسی نہیں جس کے سر کی ردا سلامت ہو ، میرا کوئی بوڑھا ایسا نہیں جس کے بڑھاپے کا سہارا چھن نہ گیا ہو ۔ ہر کہیں ظلم ہے ، ستم ہے اور ہر کوئی ظالم سے نفرت کرتا ہے اس سے لڑنے کو بے تاب ہے ، مجھے معلوم ہے میرا دشمن وحشی اور پاگل ہے ، لیکن وہ ہزاروں کے سینوں میں گولیاں اتار کر ، خنجر بھونک کر بھی کامران نہیں ہو سکا۔
پھر اے جان سے عزیز لوگو!
میرا قصور کیا ہے ، صرف یہ کہ آپ کی شہ رگ ہوں ، آپ کے جسم کا حصہ ہوں ۔ پاکستان سے محبت اور عشق کا انجام آپ دیکھ رہے ہیں؟ کبھی اس محبت کا صلہ آپ کو بھی ملنا شروع ہو گیا تو کیا کرو گے ؟ کیا اس محبت کی سزا کا حق دار صرف میں ہوں ؟
کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ میرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والوں میں ڈگمگا یا تو کیا کرو گے ؟
کیا آگ و خون کے دریا عبور کرنا میرا نصیب اور رنگ و نور کی بارات آپ کا مقدر ہے ۔ گولیوں کی گونج میرے لیے اورجشن طرب آپ کے لیے ؟زخموں کے ہار میرے لیے اور پھولوں کی مالائیں آپ کے لیے ۔
ہجرت میرا سفر
سکینت آپ کا مستقر
ظلم میرے میرے لیے ، امن آپ کے لیے
جسم آپ اور شہ رگ میں
میں پاکستانی نہیں ہوں تو کیا ہوں ؟
مجھے غلامی کے بیابان میں تن تنہا چھوڑ کر آزادی کی بہاریں دیکھنے والے بیس کروڑ انسانو! کبھی سوچا آپ نے میرے اوپر کیا بیت رہی ہے ؟ اﷲ آپ کے آنگن خوشیوں سے بھردے ، اپنی خوشیوں میں مجھے بلانا نہیں ۔
ہم بھی بیٹھے ہیں سر راہ سجائے ہوئے زخم
ہو جو ممکن تو ادھر سے بھی ذرا ہو جانا

میں جانتا ہوں پاکستان اس کا ہے جو اﷲ کا بندہ ہے ۔ یہ دیس محمد رسول اﷲ کی امت کا ہے ، یہ کشمیریوں کا وطن ہے ، اسلام کا قلعہ اسلام کی تاریخ اور تاریخی حقیقت ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کامیابی حوصلے کا نام ہے حوصلے بڑھیں گے ثابت قدمی آئے گی ۔ میرے حوصلے کوئی نہیں بڑھاتا ۔شاید اس لیے کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں اس دھرتی سے محبت کرتا ہوں جس کو اﷲ اور اس کے رسول ؐ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ مجھے اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ میں زمانے کے ہزار زخم سہہ کر بھی ’’ پاکستان زندہ باد ‘‘ کہتا ہوں۔ میں اس لیے مجرم ہوں کہ میں نے نصف صدی سے استعمار کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا ۔ میں صرف اور صرف آزادی چاہتا ہوں بھارت سے ،بھارتی استعماریت سے ، میں اس لیے کسی یوم آزادی کا حق دار نہیں ہوں کہ میں ابھی تک غلام ہوں ، استعمار کے پنجہ استبداد تلے کراہ رہا ہوں ۔ مجھے آزادی کے وہ بے باک لمحے میسر نہیں ہے جو خیبر سے کراچی تک بیس کروڑ انسانوں کو حاصل ہیں ۔ مجھے اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے نہ مرنے کا ۔میں سات دہائیوں سے جیلوں اور تعذیب خانو ں میں جی جی کر مرتااور مر مر کر جی رہا ہوں ۔کھانے کو پسی ہوئی اینیٹیں اور سونے کو ننگے کھردے فرش کے سوا کچھ میسر نہیں ، میرا گھر سلامت ہے نہ گھر والے ۔ میرے شہروں میں موت کے سائے لہراتے ہیں ، میرے دیہاتوں میں آگ و خون کا کھیل جاری ہے ، میرے بھائیوں کو ہر روز تہہ خاک سلایا جاتا ہے ، میرے بوڑھوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی عزت و عظمت پاما ل کی جاتی ہے ۔ میرے ہر گھر میں کوئی شہید ہے ، زخمی ہے ،معذور ہے ، مجروح ہے ، مجبور ہے ، بے بس اور بے کس ہے ۔ میری تین نسلیں ہجرت کے سفر پر ہیں ۔ میرا ہر جوان میرا ہر ساتھی راہ خدا میں سب کچھ لٹا کر اس ظالم سے بر سر پیکار ہے ، جس نے ظلم کی رسم کو پروان چڑھایا، بھائی اور بھائی کے درمیان دیوار کھڑی کر دی اور مہذب دنیا کو خبر تک نہ ہوئی کہ میرے اوپر کیا بیت چلی ہے۔

میرے جوان اسلام کی خاطر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے کوہ و دمن میں لہو سے دیے جارہے ہیں۔ غلام محمد بلہ سے برہان مظفر وانی تک ہزاروں جوان آزادی کی صبح روشن کی تلاش میں رب کی جنتوں میں جا بسے۔ یہ سب ملت اسلامیہ کے وہ چراغ ہیں ، جو میری دھرتی پر اندھیری رات کے مقابل کھڑے ہو گئے جنہوں نے رنگ و نسل کے فرق کو مٹا کر صدیوں کی مسافت پاٹ دی ہے ۔ ان جوانوں نے اپنے بدن میری دھرتی میں بو دیے ۔ کپواڑہ ، بڈگام ، سرینگر ، بارہ مولہ ، سوپور، پانپور ، ڈوڈہ ، راجوری اور پونچھ کو اونچی اونچی وادیوں اور پہاڑی ڈھلانوں پر ہزار ہار نوجوانوں نے کشمیر کے سبزہ زاروں کو مہکا دیا۔

ایک جانب خون کا دریا موجزن ہے اور دوسری جانب آزادی کی بہاریں …… ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا میں آپ سے بڑا پاکستانی نہیں ہوں ؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saghir Qamar

Read More Articles by Saghir Qamar: 51 Articles with 21533 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2016 Views: 505

Comments

آپ کی رائے