انٹر نیشنل ختم نبوت مومنٹ کی ایک پُروقار تقریب

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)
یہ تو ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ آقائے نامدار،فخر موجودات،ہادی عالم ،محمد مصطفی،محمدمجتبیٰ،محمد عربیﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے،مگر پھر بھی قادیانی حضرات نے اپنے لیے نہ صرف ایک نبی کا دعویٰ کیا بلکہ اس پر وحی اترنے کے بھی یہ آندھے قائل ہیں،یہاں تک کہ ان کے لیے وحی لانے والے فرشتوں کے نام بھی وضع کئے گئے ہیں،کہ غلام احمد قادیانی نبی ہے اور اس پر وحی اتر رہاتھااور ان کے پاس ارشادات لانے والے معزز فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی ہے،یہ تو صرف اس زمانے کی بات نہیں ہے بلکہ ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں ببھی ایک آدمی جس کو مسیلمہ کذاب کہا جاتا ہے نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ نے مل کر اس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

ہائے افسوس کہ ہم کس زمانے میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں،کیا ہم اپنے آقائے نامدارﷺکی یہ عزت بچا نہیں سکتے ؟کیوں نہیں ،ہمت مرداں مدد خدا!بس چند لوگوں نے مل کر مرزاغلام احمد قادیانی کا مقابلہ کیا اور یوں ان کے مرکز ربوہ پر قابض ہوگئے،وہاں پر اسلام کا علم بلند کیا،تو وہی سے ختم نبوت کی یہ تحریک شروع ہوگئی اور الحمداﷲ آج تک ختم نبوت کے مختلف مومنٹ ابھی تک آقائے نامدارﷺ کی اس عزت کو بچانے میں مصروف عمل ہیں۔

اسی سلسہ کی ایک کڑی انٹر نیشنل ختم نبوت مومنٹ ہے،کہ یہ حضرات ہر قسم کے مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ سہہ لیتے ہیں صرف اسی کی بناء پر کہ ہم آقائے نامدارﷺ کی عزت وناموس کی حفاظت کی جنگ لڑ رہے ہیں،آنکھوں دیکھا حال ہے کہ ہم ایک میڈیا سنٹر ان کو دعوت دینے کے لئے گئے تو انہوں نے ہماری انٹرویوشروع کی رکھی،سوالات کا انبار لگا لیا،کہ دنیا میں تو اور بھی ختم نبوت مومنٹ ہیں آپ انٹر نیشنل کے ساتھ کیوں ہیں؟تو ذہن میں اﷲ تعالیٰ نے بہت ہی اچھے جواب کا القاء کیا کہ ہاں دنیا میں تو اور بھی بہت سارے کام کر رہے ہیں ،ہر ایک نے اپنی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے،فہم ختم نبوت والے ختم نبوت خط وکتابت کورس کرا کر لوگوں کو بنیادی عقائد ختم نبوت سے روشناس کر رہے ہیں،شبان ختم نبوت والے پوسٹر چھاپ چھاپ کر دنیا میں تقسیم کر کے لوگوں کو مرزاغلام احمد قادیانی کے مذموم عقائد سے بچا رہے ہیں،بہت سارے اور بھی ہیں اگر خدانخواستہ حکومت کی طرف سے کسی ایک جماعت پر کام کرنے کی پابندی لگ جائے تو دوسرا تو سرگرم ہوگا نا۔۔۔بس اسی کے ساتھ ہی وہ صاحب خاموش ہو گئے اور ہم نے ان کو 7 اگست کوہونے والے پروگرام کی دعوت دی،اپنے ہی کوریج کو درست بنانے کے لیے میڈیا والوں کو رمضان میں افطار ڈنر کا پروگرام کیا الحمد اﷲ اس کے بہت ہی اچھے ثمرات مرتب ہوگئے۔

الحمد اﷲ ہمارے اس اعلان پر تمام امت مسلمہ نے لبیک کہااور اپنی مصروفیت کو آگے پیچھے کر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کی تشریف آوری نے اس پروگرام کی رونق کو دوبالا کر دیا،پشاوری بھی جب جلسہ گاہ میں داخل ہوا تو بہت سارے علمائے کرام ومشائخ عظام کو سٹیج پر رونق افروز دیکھا،علمائے کرام اور دور دراز سے آئے ہوئے مہمانان گرامی کی یہ کژیر تعداد دیکھ کر دلی خوشی ومسرت ہوئی کہ الحمداﷲ آج بھی مملکت خداداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں آقائے نامدارﷺ سے اتنی عقیدت ومحبت ہے کہ ہمارے ایک ہی آواز پر انہوں نے لبیک کہا اور حاضری کو یقینی بنایا،ظاہر سی بات ہے کہ جب مخلوق خدا کی اتنی کثیر تعداد ہوگی تو صرف علمائے کرام ومشائخ عظام ہی کو وعظ کا موقع ملے گا،واعظین میں سے ایک جو ہمارے لیے قابل صد وافتخار تھے شیخ محی الدین جو کہ مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تھے،ان کے علاوہ الیاس احمد چینوٹی حفظہ اﷲ اور عبد الحفیظ مکی حفظہ اﷲ جو کہ کل پاکستان کے انٹر نیشنل ختم نبوت کے امیر ہیں قابل ذکر ہیں۔دوران دریں حالیکہ ایک صاحب وعظ ہی کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک سفید دیش انسان سٹیج کی طرف آئے اور کہا کہ مجھ میں بھی اسلامی ولولہ اور جوش ہے تو اپنے جوش کو کم کرنے کے لئے چند نعرے لگا کر واپس بیٹھ گئے میں نے اس سفید ریش انسان سے پوچھا کہ باباجی یہ کیا ماجرا تھا کہ آپ اچانک سٹیج کی طرف گئے اور نعرے لگا کے واپس بیٹھ گئے تو اس نے کہا کہ صرف اسی شوق اور ولولہ سے کہ کل بروز قیامت آقائے نامدارﷺ کے ہاں جب حاضری ہوگی تو یہ تو بتا سکوں گا نا کہ میں ختم نبوت کے لیے نعرے بلند کئے تھے،تو پشاور کے رونگٹے کھڑے ہوگئے،کہ اس سفید ریش انسان میں کتنی غیرت ایمانی ہے؟اﷲ تعالیٰ ہم کو بھی اسی غیرت ایمانی سے سرفراز کر لیں،جتنے مہمانان گرامی تشریف لائے تھے اﷲ تعالیٰ ان تمام کی عمروں میں برکت عطا کریں اور ہمیں دین اسلام کی صحیح معنوں میں محافظ بنائے(آمین)
ایں دعا از من واز جانب جہاں امین باد
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 104350 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2016 Views: 349

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ