ذہنی انتشار کا شکار ہمارا معاشرہ

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
اگر ہم نے ذہنی انتشار اور فرسودگی سے نکلنا ہے تو ہمیں اپنی سوچ و فکر کے زاویوں کو بدلنا پڑے گا،ہم نے الگ الگ شکلوں اور نظریات کے جو بت اپنے دماغوں میں بنا رکھے ہیں انہیں توڑنا پڑے گا ،ہمارے دماغوں میں متشکل یہ تنگ نظری، عدم برداشت اور متشددنظریات کے بت اور مفاد پرستی کے چشمے جب تک نہیں ہٹیں گے اس وقت تک ہمارے گردو وپیش کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی، انفرادیت کے ان خولوں سے نکل کر اجتماعیت کی طرف آنا پڑے گا، ہمیں ذاتی مفاد کی بجائے قومی و ملکی مفاد کے لئے قربان ہونا پڑے گا،
کسی عقل مندکا قول ہے’’نئی عمارت وہی تعمیر کر سکتے ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ پرانی بنیادیں کیوں بیٹھ گئی تھیں‘‘تاریخ گواہ ہے کہ زوال پذیر معاشروں میں تبدیلیاں ہمیشہ نئے تقاضوں کو سمجھے اور پرانی فرسودگی کا درست ادراک کئے بغیر نہیں آتیں،معاشرے کو اگر انسانی جسم سے تشبیہہ دی جائے،تو اس میں وقوع پذیر ہونے والے حالات کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے،مثلاً جسم میں خون کومعاشی دولت تصور کریں، گوشت پوست ہڈیاں اس کا سیاسی ڈھانچہ کہلائے،اور اس جسم کے اندر روح اس قوم کا نظریہ اور سوچ ہو‘‘ اب اگر اسی تناظرمیں ہم اپنے معاشرے کا تجزیہ کریں تو یہ جسم بیماریوں کا شکار ہو کر موت کی طرف گامزن ہے، معاشی دولت طبقاتی معاشی نظام کی وجہ سے جسم کے صرف ایک فیصد حصے میں جمع ہو کر اسے تباہ کر رہی ہے اور بقیہ نوے فیصد جسم تک نہ پہنچنے سے تمام جسم مفلوج ہو رہا ہے،اسی طرح سیاسی ڈھانچہ کرپٹ و طبقاتی معاشی نظام کی بدولت مفاد پرست گروہوں کے غلبے میں ہے، اور رہ گیا روح کا تعلق ، یعنی نظریہ اور فکر تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے، فکری انتشار کی یہ حالت ہے کہ گوناں گوں بولیاں بولی جا رہی ہیں، نہ اپنی تاریخ کا درست شعور موجود ہے، نہ مذہبی حوالے سے کوئی اجتماعیت کی سوچ موجود ہے، ہر طرف اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نظر آ رہی ہے، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے،تشدد، متشدد نظریات کو مذہبی غیرت اور حمیت کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ لوگ بچوں کو مذہبی تعلیم دلانے سے کتراتے ہیں، کبھی نظریہ پاکستان کی رٹ لگائی جاتی ہے اور اسلامی نظام کے غلبے کی بات کر کے اپنے مفادات کی تکمیل کی جاتی ہے، تو کبھی علاقائیت اورقوم پرستی کے نعرے لگا کر علیحدگی کی تحریکوں کا تاثر دیا جاتا ہے اور اپنے ذاتی، گروہی مذموم مقاصد کے لئے عالمی خفیہ ایجنسیوں کی آلہ کاری کی جاتی ہے ، کہیں لبرل ازم اور سیکولر ازم، حقوق انسانی اور جمہوریت کے نام پہ عالمی سامراجی سازشوں کاحصہ بننے کے لئے نئے نئے جال بنے جاتے ہیں، لیکن دوسری طرف سیاست، معیشت اور ریاستی ادارے سرمایہ پرست نظرئیے پہ چل رہے ہیں، عوام کو کبھی، مذہبی، کبھی لسانی، کبھی علاقائی متعصبات میں الجھا کر ایک ایسے فکری انتشار کا شکار کیا جارہا ہے کہ کسی اجتماعی سوچ کی طرف جانا مشکل ہو رہا ہے۔

فکری اور نظریاتی پسماندگی کی حالت یہ ہے کہ علم اور جہالت میں فرق ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ عصری تقاضے تو دور کی بات ہے اپنی مذہبی، علاقائی یا سیاسی تاریخ میں ہی اتنے تضادات بنا لئے گئے ہیں کہ دماغ سوائے انتشار اور فرسٹریشن کے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دے پاتے۔اگر کوئی اخلاص سے کچھ کرنا چاہتا ہے تو اسے مفاد پرستوں اور انتشار ذہنی میں مبتلا گروہ گھیر لیتے ہیں، اور اس کا وہ حشر کرتے ہیں کہ اللہ کی امان ، اسے تب چھوڑتے ہیں جب وہ اپنے اچھے کام سے دستبردار نہ ہو جائے۔

کسی کو اپنے روحانی حلقوں اور مریدوں کی تعداد بڑھانے اور بچانے کی فکر ہے کہ کہیں ان میں کمی واقع نہ ہو جائے، تو کسی کو اپنے سیاسی جلسوں میں نعرے لگانے والوں کی تعداد بڑھانے کی فکر کھائے جاتی ہے ، کسی کو اپنے فرقے کی بقاء کا خوف کھائے جا رہا ہے، نام نہاد لبرل ازم اور سیکولر ازم کا ڈھول پیٹنے والے مذہب کو دن رات کوس کوس کہ خود ایک انتہا پسند فرقہ کا روپ دھا رچکے ہیں۔ ترقی پسندوں کی بھی خوب جمتی ہے، بڑے بڑے ہوٹلوں، کیفے ٹیریوں میں رات رات بھر خوب محفلیں سجتی ہیں، دنیا جہاں کے فلسفوں پہ طبع آزمائی ہوتی ہے، چائے، کافی اور۔۔۔۔کے کئی دور چلتے ہیں، دن کی روشنی نکلنے تک وہ خوب ذہنی مشقیں کرتے ہیں اور پھر دن بھر غفلت کی نیند سونے کے لئے چل پڑتے ہیں۔یہ ایک فیشن بن چکا ہے، ہاں کبھی کبھی سول سوسائٹی کے نام پہ بینر اٹھا کر کچھ اپنے ہونے کا بھی احساس دلاتے رہتے ہیں۔کچھ گروہ انقلاب اور تبدیلی کا ڈھول پیٹے نظر آتے ہیں، ان کا انقلاب اور تبدیلی تو ان کے مفادات اپنے خاص حلقوں، خاص مذہبی پہچان، خاص خاندانی پہچان تک پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے لیکن وہ نوجوان جن کو وہ اپنے مقاصد کے لئے شب وروز استعمال کرتے ہیں وہ مایوس ہو کر مزید ذہنی انتشار کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ایسے دیومالائی انقلابی خواب نوجوانوں کو دیکھائے جاتے ہیں جن کا کہیں وجود نہیں ہوتا، مذہب، قوم، اور ازم، فلسفوں کے نام پہ انہیں اس طرح سے گھیرا جاتا ہے کہ وہ بیچارے اس وقت ہوش میں آتے ہیں جب پانی سر سے گذر چکا ہوتا ہے۔لہذا ایسی کئی دوکانیں کامیابی سے چل رہی ہیں جن کے نعرے تو عالمی انقلاب کے ہیں اور عملی طور پہ اپنے مفادات کی تکمیل ہے۔ ان کے لیڈر غریبوں کا نام لیتے ہیں، انسان دوستی کی باتیں کرتے ہیں،لیکن خود ملک کے پوش علاقوں میں پر تعیش زندگی گزارتے ہیں۔ان کا غریبوں کی گلیوں میں کبھی کبھار آنا ہوتا ہے۔

اب نوجوان نسل مایوسیوں، عدم تحفظ اور ذہنی انتشار کو لئے ایک انجانی منزل کی طرف بھاگ رہی ہے، نظریاتی انتشارکی وجہ سے معاشرے میں بے عملی کاراج ہے۔تعلیمی نظام شل ہو چکے ہیں، تعلیمی دارے جمود زدہ اور منتشر الخیال دماغوں کی پرورش کر رہے ہیں،ہاں اگر کوئی ایک فکر اور نظریہ اس معاشرے میں متحرک ہے،اس کی جڑیں پھیلتی جا رہی ہیں، اس کی طاقت نے سب کو گھیر رکھا ہے، تمام ادارے، سیاستدان، بیورو کریٹس، صحافی،تاجر، پڑھے لکھے، ان پڑھ سب اس کا شکار ہیں وہ نظریہ ہے سرمایہ پرستی کا۔اس نظرئیے کومذہب، اخلاق، قوم، انسانیت، امن و سلامتی ، بھوک ا فلاس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس نظریہ کا مطمع نظر صرف مال بنانا ہے، مال کمانا ہے، مال چھپانا ہے،استحصال کی نئی نئی شکلوں پہ تحقیق کرنی ہے، انسانوں کی محنت کو لوٹنا ہے، انسانوں کو بھیڑ بکروں کی طرح استعمال میں لانے کے لئے نئے سے نئے ہتھکنڈے استعمال میں لانے ہیں۔اب اس نظریہ سرمایہ پرستی کے پنڈتوں اور کرتا دھرتاؤں نے کچھ ایسے جال معاشر ے میں پھیلا رکھے ہیں کہ ان کا ادراک کرنا مشکل ہو جاتا ہے، انہوں نے سرمائے کی طاقت سے معاشرے کے تمام عناصر کو خریدنا ہوتا ہے، اور پھر انتہائی چالاکی سے انہیں اپنے اقتدار اور لوٹ کھسوٹ کے تحفظ کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے۔سب سے زیادہ استعمال ہونے والا وہ طبقہ ہوتا ہے جس کا تعلق مڈل کلاس سے ہے ،جو اپنی صلاحیتوں کو ان سرمایہ پرستوں کے نظام اور میکنزم کو تحفظ دینے کے لئے بیچ ڈالتا ہے۔

اب اس استحصالی نظرئیے کے داؤ پیچ یہ بھی ہوتے ہیں کہ معاشرے میں کوئی بھی ان کے استحصالی نیٹ ورک کو نہ سمجھ سکے، اور نہ ہی کوئی ایسی اجتماعیت وجود میں آ سکے جو ان کے اقتدار اور اثر رسوخ کے لئے خطرہ ہو ، لہذا وہ معاشرے کے اندر تفرقے اور تقسیم پیدا کرنے والے مکاتب فکر کو مضبوط کرتا ہے، وہ لسانیت کی بنیاد پہ تعصبات کو ہوا دینے والے عناصر کو استحکام بخشتا ہے، وہ معاشرے کو ہر سطح پہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گذار کر چوں چوں کا مربہ بنا دیتاہے۔

معاشرے کی حالت یہ ہو گئی کہ طبقاتی نظام کے کرتا دھرتا قوم کا خون چوسنے میں لگے ہیں، لوگ بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں، ذہنی انتشار اور اوپر سے غربت و افلاس کی وجہ سے انتشار نے قوم کو نیم پاگل بنا دیا ہے، اس کے مظاہر ے ہمیں مظاہروں اور جلوسوں میں نظر آتے ہیں۔ کہ کس طرح لوگ اپنا غصہ اپنے ملک کی املاک کو توڑ کر، اور آپس میں خون خرابہ کر کے نکال رہے ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں اپنے پاؤں پہ خود ہی کلہاڑیاں مار رہے ہوتے ہیں۔اقتدار میں بیٹھے حکمران طبقے اس پاگل پن کا لطف اٹھاتے ہیں، پھر سے نئے نئے جال بنتے ہیں، اور اس طرح سے یہ سلسلہ چلتا ہی جا رہا ہے۔

اگر ہم نے ذہنی انتشار اور اس فرسودگی سے نکلنا ہے تو ہمیں اپنی سوچ و فکر کے زاویوں کو بدلنا پڑے گا،ہم نے الگ الگ شکلوں اور نظریات کے جو بت اپنے دماغوں میں بنا رکھے ہیں انہیں توڑنا پڑے گا ،ہمارے دماغوں میں متشکل یہ تنگ نظری، عدم برداشت اور متشددنظریات کے بت اور مفاد پرستی کے چشمے جب تک نہیں ہٹیں گے اس وقت تک ہمارے گردو وپیش کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی، انفرادیت کے ان خولوں سے نکل کر اجتماعیت کی طرف آنا پڑے گا، ہمیں ذاتی مفاد کی بجائے قومی و ملکی مفاد کے لئے قربان ہونا پڑے گا،ہمیں اپنے مرکزی دشمن کو پہچاننا پڑے گا، ہمیں اس پہ غور کرنا پڑے گاکہ کون ہمیں لوٹ رہا ہے؟کون ہمارے ملک کا ستحصال کر رہا ہے؟ کون ہمیں آپس میں لڑا رہا ہے؟کون ہمیں انسان دوستی کی بجائے فرقہ دوستی، گروہ دوستی، جماعت دوستی، تنظیم دوستی تک محدود کرتا ہے؟ضروری ہے کہ’’ ہم سب ایک ہیں‘‘ کا نعرہ لگائیں کہ ہم سب مل کر اس ملک اور قوم کے لئے کام کریں گے، ہم سب اپنی ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کریں گے، ہم سب پوری ایمانداری اور دیانتداری سے منظم ہو کر اپنے اور اپنی قوم کے دشمنوں کے سامنے صف آرا ء ہوں گے۔کیونکہ تنظیم کی طاقت ہی سے تبدیلیاں آتی ہیں، ایک ہمہ گیر انسان دوست نظرےئے کی بنیاد پہ جو عصری تقاضوں کا لحاظ رکھتا ہو،پہ نوجوانوں کو منظم ہو کر، ڈسپلن کے ساتھ اپنے اور اپنی قوم کے دشمن کے خلاف شعوری جدو جہد کر نا وقت کی پکار ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68343 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
09 Aug, 2016 Views: 442

Comments

آپ کی رائے