زندگی گلزار نہیں

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)
تقریباً تین ماہ قبل سوشل میڈیا پر " ہمیشہ صرف شوہر ہی غلط نہیں ہؤا کرتے " کے عنوان سے ایک تحریر بمع ایک وڈیو کے پوسٹ کی گئی تھی شاید آپکی بھی نظر سے گذری ہو ۔ جس میں ایک خوب بنی ٹھنی نوجوان خاتون نہایت ہی خوشگوار موڈ میں اپنی شادی اور طلاق کا احوال پلے کارڈز کے ذریعے بیان کر رہی ہے ۔ جس پر ر بی بی کا یہ کمنٹس ٹاپ پہ رہا ۔

" طلاق تو مجھے بھی ھوئ تھی ڈئیر سدرہ مگر میری شادی چودہ سال کی عمر میں ہوئ تھی میری ماں بیوہ تھی میرے سر پر باپ نہیں تھا میرا شوہر کوئ کام نہیں کرتا تھا مگر مجھے ایک عزت کی چادر ضرور دے رکھی تھی اس میں کام میری طلاق کی وجہ میری اپنی غلطی تھی شوہر نے کہا تم نہیں کرو گی اگر تمہیں زندگی میں سب کچھ چاہیے تو تم طلاق لے لو اسی بات پر روز لڑائ ھوتی تھی میں ان سے کہتی تھی اگر آپ کام کریں تو میں کام چھوڑدیتی ھوں وہ بولے میں دوسروں کی غلامی نہیں کرتا ہوں. یہی تنازعہ شدت اختیار کرگیا اور طلاق کی صورت میں نکلا میرے رشتے میں چھان بین کرنے والا کوئ نہیں تھا ماں کو کینسر تھا وہ اپنی زندگی میں ہی بیٹی آباد کرجانا چاہتی تھیں مگر قسمت میں کچھ اور ھی لکھا تھا ماں مرگئی تین سال کا بیٹا گود میں لے کر لوگوں کےگھروں میں کام کرتی پھری طلاق کے کچھ دن بعد ھی شوہر کا ایک حادثے میں انتقال ھوگیا تھا آج ماشااللہ سے بیٹا بائیس سال کا ہے اور ایم بی اے ۔ ایک بنک جاب ہے اس کی میں آج تک طلاق کی ذمےدار خود کو مانتی ھوں پتہ نہیں میری ماں نے تربیت میں کمی چھوڑی تھی جو شوہر کی اطاعت نہ کرسکی. اللہ مجھے معاف کرے آمین "

اس پر ہمارا ریپلائی ملاحظہ فرمائیے ۔
" آپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر شوہر کام نہیں کرتا تھا تو گھر کیسے چلتا تھا ۔ اور اگر تنگی کی وجہ سے آپ کام کرنا چاہتی تھیں تو اس میں غلط کیا تھا ۔ بےغیرت مرد ہی ہڈ حرام ہوتے ہیں اس نے آپ کو عزت کی چادر کیسے دے رکھی تھی یہ صرف آپکی خوش فہمی ہے ۔ آپ آج تک اپنی طلاق کا خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں یہ آپکی بزدلی ہے ۔ خود کو مجرم سمجھنا چھوڑ دیں ۔ آپکی غلطی بہت کم ہے اصل ذمہ دار آپکا شوہر ہی ہے ۔ خدا اسے معاف کرے اور آپکو صبر و حوصلہ دے "

اور ہمارے ان کمنٹس کے بعد ع م نامی نوجوان سے جو گفتگو ہوئی وہ پیش خدمت ہے ۔
" اوئے زیادہ غالب بننے کی ضرورت نہیں انسان کا ضمیر اس کو بولتا ہے اگر آنٹی کو غلطی کا احساس ہے تو تجھے کیا تکلیف ہے نا ہر عورت غلط ہوتی ہے نا ہر مرد اس لئیے گالی سوچ کے دیا کرو "

" میں نے کب کہا کہ ہر عورت غلط ہوتی ہے یا ہر مرد غلط ہوتا ہے ۔ آنٹی کا شوہر کام نہیں کرتا تھا نوکری کو غلامی کہتا تھا اس نے طلاق دینا گوارا کر لیا مگر بیوی بچے کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہ ہؤا جو کہ اسکا فرض تھا ۔ پھر بھی وہی تم کو صحیح اور آنٹی کی غلطی نظر آ رہی ہے ۔ کچھ خدا کا خوف کرو نکلو اس سوچ سے باہر ۔ عورت کے اپنے ناکارہ غیرذمہ دار شوہر کے ساتھ فاقے کرنے کو یا ساری زندگی اسکے جوتے لاتیں ہنسی خوشی کھاتے رہنے کو اطاعت کا نام مت دو "

" بھائی میرے میں خود طلاق دے چکا ہوں اک لڑکی کو میں اس تکلیف سے گزر چکا ہوں اللہ تعالٰی کسی کو اس موڑ پر نا لائے یہاں سب اپنے اپنے کمنٹس کے چکر میں رہتے ہیں حقیقت وہی جان سکتا ہے جس کے ساتھ بیتی ہو جس دن میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اس دن ہمارے گھر میں ماتم کا سماں تھا ہم پوری فیملی نے جیسے وہ وقت گزارہ ہم جانتے ہیں لیکن اس کی فیملی نے فیس بک پر پوسٹ کی کہ کچھ رشتے چھینک کی طرح ہوتے ہیں ختم ہوتے ہی الحمداللہ کہنے کو دل کرتا ہے۔ اس نے بلا شرعی عذر کے طلاق لی میں اپنی اوقات سے زیادہ کماتا ہوں جدہ میں رہتا ہوں اللہ بار بار اپنے گھر کی زیارت کی توفیق دیتا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ وہ لڑکی ایک فیصد بھی میرا کہا مانتی تو طلاق نا ہوتی۔ بھائی لڑکیاں ہو یا لڑکے طلاق بری چیز ہے اللہ کو حلال چیزوں میں سب سے نا پسند ہے۔ اس سے دو شخص نہیں دو خاندان بکھرتے ہیں اگر لڑکی اتنا سوچ لے کہ میرا اب جینا مرنا شوہر کے ساتھ ہے اگر وہ بھوکا رہے گا تو میں بھی رہ لوں گی اگر وہ کھائے گا تو میں بھی کھا لوں گی تو خدا کی قسام پچاس فیصد طلاق میں کمی ہو جائے میں مانتا ہوں آج کل کے لڑکے بھی دودھ کے دھلے نہیں لڑکے بھی سوچ لیں کہ اگر کسی کی زندگی خراب کروں گا تو میری بہن بھی کسی کی بیوی بنے گی اس کی زندگی بھی خراب ہو سکتی ہے۔ بس معاملہ ہی سلجھ جائے اللہ ہم سب کو ہدایت دے "

" بھائی آپ یقین کیجئے کہ میں نے ان آنٹی کو اپنی بہن کی جگہ رکھ کر سوچا تھا ۔ جو کچھ انہوں نے لکھا اسکے مطابق تو انکی غلطی بہت کم اور انکے شوہر کی زیادہ تھی ۔ پھر بھی بےچاری ایک مثالی مشرقی عورت کی طرح سارا الزام اپنے سر لے رہی ہیں ۔ بالکل اس سے ملتے جلتے کیس میرے رشتہ داروں اورجاننے والوں میں ہو چکے ہیں کہ لڑکی کی طرف سے نبھاؤ کی ہر صورت ناکام ہو گئی انکے نکھٹو یا اپنی ماں بہنوں کے پٹھو شوہر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر راضی نہ تھے سلوک زرخرید کنیزوں والا اور مار پیٹ سو الگ ۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے کہ مردوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی ۔ ایسے کیس بھی ہوتے ہیں جہاں سارا قصور لڑکی اور اسکے گھر والوں کی سکھائی پڑھائی کا ہوتا ہے ۔ آپ نے جو کچھ اپنے بارے میں لکھا وہ واقعی افسوسناک ہے ۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھا ہؤا تھا یا گھر والوں کے ساتھ؟ اگر وہ آپکے ساتھ رہنا چاہتی تھی اور آپ اس بات پر راضی نہ تھے تو پھر بالآخر یہ طلاق ہونی ہی تھی ۔ بہت بڑا ظلم ہوتا ہے شادی کے بعد میاں بیوی کا ایکدوسرے سے دور اور الگ رہنا اور اس میں اکثر ہی قسمت کے ساتھ ساتھ گھر والوں کا بھی برابر کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ایسی بات نہیں تھی اور آپ حق پر تھے تو خدا ضرور آپکے لئے کوئی بہتر صورت پیدا کر دے گا ۔ باقی آپ سے اتفاق ہے ۔ میری جس بات سے بھی آپکی دلآزاری ہوئی ہو اسکے لئے بہت معذرت "

" بھائی میرے میں نے بس اتنا سیکھا ہے زندگی سے کہ اگر لڑکی غیرت والی ہو ماں باپ کی عزت کو سمجھے تو طلاق تک نوبت نا آئے اور اگر لڑکا عزت والا ہو غیرت والا تو کبھی بنا شرعی عذر طلاق نا دے یہ حلال چیزوں میں سب سے بری چیز ہے اب یہ لڑکی جو فرما رہی ہے اس کی ویڈیو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون غلط کون صحیح ہے کوئی بھی لڑکی ماں باپ یا شوہر کی عزت کا خیال کرے تو اس طرح غیر مردوں کے سامنے سوشل میڈیا پر دکھڑے نہیں سناتی اب جب اس کے شوہر نے دیکھا ہو گا تو یقین مانیے وہ سوچتا ہو گا کہ اس کا فیصلہ صحیح تھا اور اگر یہ عورت صحیح تھی تو اللہ ہی پوچھے گا کہ وہ کس منہ سے ہزاروں غیر محرم مردوں کے سامنے اس طرح پیش ہوئی کہاں ہے اس کی اجازت اللہ میرے اور آپ سب کے گناہ معاف فرمائے ۔ میری بہن اللہ آپ کو خوشیاں دے اور آپ کے گناہ معاف فرمائے اللہ معاف کرنے والا ہے "

" ع م! ہمارے درمیان جو بھی گفتگو ہوئی تھی وہ اس پوسٹ یا وڈیو کے حوالے سے نہیں اس پر دیئے گئے ر بی بی کے کمنٹس کے حوالے سے ہوئی تھی ۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا مردوں کے ساتھ بھی زیادتی ہوتی ہے بعض موقعوں پر وہ بھی مظلوم ہوتے ہیں زیادہ قصور عورت کا ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمارے برصغیری معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے نوے فیصد جھگڑوں میں مرد کی ماں بہنوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ انہیں اپنے بیٹے یا بھائی کا اپنی بیوی سے پیار اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا دونوں کو آپس میں لڑتا جھگڑتا دیکھ کر پتہ نہیں ان جاہل اور خوف خدا سے عاری عورتوں کو کیا سکون ملتا ہے ۔ اور ایک مرد کو شادی اسی وقت کرنی چاہیئے جب وہ بیوی کے بنیادی حقوق ادا کرنے کا قابل ہو جائے ۔ کفالت اور رہائش کے ساتھ ساتھ رفاقت ایک شادی شدہ عورت کا حق ہے ۔ اب ایسے والدین کو قصوروار ٹھہرایا جائے یا مجبور ، جو ایک ایسے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کرتے ہیں جس کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ایک یا دو سال بعد ایک ڈیڑھ ماہ کی چھٹی پر وطن لوٹے گا ۔ جو واقعی مجبور ہوتے ہیں وہ اپنی بیٹی کی ایسی پرورش اور تربیت کرتے ہیں کہ وہ شوہر کی زندگی میں ہی کسی بیوہ کی طرح جینا سیکھ جاتی ہے ۔ مگر شادی کے بعد شوہر کے بغیر سسرال والوں کے ساتھ رہنا ہر لڑکی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ کتنے مسائل اورقباحتیں ہوتی ہیں خود مرد پردیس میں کس اذیت سے گذرتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات تو نہیں ۔ لیکن مڈل کلاس اور لوئر کلاس میں اپنے مفادات کی بقا کے لئے میاں بیوی کی راہ میں وہاں بھی روڑے اٹکائے جاتے ہیں جہاں ان کا ایک ہو کر رہنا یا جلد ملنا ممکن ہوتا ہے مگر انہیں ایک دوسرے سے دور اور جدا رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی ۔ اور بعض اوقات صرف پردیس کی کمائی کے لالچ میں لوگ اپنے بیٹے کا گھر اجاڑ دیتے ہیں ۔ کسی کی بیٹی کی زندگی برباد کر دیتے ہیں ۔ پردیس میں بیوی کے بغیر بسنے والے ہر شادی شدہ مرد کو اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی عقیدت اور اندھی محبت کی پٹی کو اتار کر خواہ وہ اپنے گھر والوں سے ہو یا بیوی سے ، مگر غیرجانبدار ہو کر خود اپنے ذہن سے سوچنا اور سمجھنا چاہیئے ۔ والدین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے یا بیوی کی حق تلفی اسے دور کرنا مرد ہی کا فرض ہے ۔ پھر بھی اگر گھر نہیں بچتا تو جو بھی اس سانحے کا اصل ذمہ دار ہو گا خدا اسے معاف نہیں کرے گا وہ دنیا و آخرت میں ضرور اپنے کئے کی سزا پائے گا "

اس کے بعد ع م کا کوئی جواب نہیں آیا اس طرح یہ بحث اپنے اختتام کو پہنچی ۔ چلتے چلتے ایک قصہ اور سن لیں ۔

یہاں امریکا میں ایک شناسا نوجوان نے پاکستان جا کر اپنے گھر والوں کی پسند سے انکی منتخب کردہ لڑکی سے شادی کی جبکہ اسکی چھٹی ختم ہونے میں صرف پندرہ دن باقی رہ گئے تھے ۔ اور صرف پانچ مہینے بعد ان کے درمیان طلاق ہو گئی کیونکہ اسکی بیوی اور گھر والوں کی ایکدوسرے کے خلاف شکایتیں سن سن کر اس کا ناک میں دم آ گیا تھا ۔ لڑکی شوہر کے بغیر سسرال میں رہنے پر تیار نہیں تھی اور انکا اصرار تھا کہ گھر کے فرد کی طرح ہمارے ساتھ مل کر رہو اور ہماری خدمت کرو ۔ اور صرف پندرہ روزہ رفاقت کے بعد ایک جوڑا صرف گھر والوں کی ناسمجھی اور خودغرضی کے باعث ہمیشہ کے لئے ایکدوسرے سے جدا ہو گیا ۔ کچھ عرصہ پہلے اس نوجوان نے ایک دوسری سٹیٹ میں ایک مقامی لڑکی سے شادی کر لی ہے ۔ اسکے گھروالوں نے اسے اپنے قابو میں رکھنے کے لئے جو بھی چال چلی اب پوری امید ہے کہ یہ لڑکا اب واقعی ہمیشہ کے لئے ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ پوری کے پیچھے بھاگ رہے تھے آدھی سے بھی گئے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1050182 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2016 Views: 8435

Comments

آپ کی رائے