شہر تالاب ۔۔۔کراچی

(Hafeez Khattak, Karachi)
ملک بھر ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی خبریں ذرائع ابلاغ کے ذریعے مرکزی اور صوبائی حکمرانوں کے ایوانوں میں پہنچتی رہیں ، دوکڑور سے زائد آبادی کے اس شہر قائد سمیت پورے صوبے بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کیلئے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کیا گیا۔ صوبے کی ذکر کو ایک جانب رکھ کر اس لمحے شہر قائد کی بات کی جائے تو صورتحال یہ رہی کہ عدلیہ کے احکامات پر بڑے بڑے ساین بورڈز اتارے جاتے رہے۔ اس کام کے دوران بھی کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی اختیار نہیں کی گئی بلکہ صرف حکم کی بجاآوری کو مقدمرکھا گیا۔ شاہراہ فیصل پر متعدد مقامات پر پیدل چلنے والوں کیلئے قائم پلوں پر سے سائن بورڈز اتارے جاتے رہے لیکن بورڈز کو اتارے جانے کا کام بھی غلط انداز میں کیا جاتا رہا ،ٹریفک کی روانی کے دوران پل کے اوپر سے بجلی کے ذریعے جڑے ہوئے سائن بورڈ کو اتاراجاتا جس سے پل کے نیچے گذرنے والے اور عوامی ٹریفک کسی بھی حادثے کی زد میں آسکتے تھے لیکن عملے کی اس جانب توجہ دلائے جانے کے باوجود بھی یہ اقدام جاری رہا۔ عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے بیشتر بوڑد زکو تو اتار لیا گیا ہے تاہم اب بھی شہر کے متعدد حصوں میں بورڈز آویزاں ہیں۔یہ اقدامات کب تک جاری رہیں گے اس سے قطع نظر ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی بارشوں اور اس ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد شہر قائد کو نقصانات سے بچانے کیلئے سندھ حکوت نے بھی اقدامات کئے ۔ کہیں پر نالوں کی صفائیاں کی گئیں تو جگر نالے سمیت دیگر نالوں پر بنے ہوئے پکے گھروں کو مسمار کر کے ہٹائے جانے کا کام شروع کیا گیا۔ جس سے ہزاروں مکینوں کو شدید پریشانیوں کا تاحال کرنا پڑ رہا ہے۔ شاہراہیں جو بعض کچی تھیں اور وہ بھی جو کچی پکی بن گئیں تھیں ان کے ساتھ وہ سڑکوں بھی جنہیں سڑک کہنا نامناسب ہے ان کی بھی تعمیر شروع کر دی گئی۔ یہ حکومتی اقدام بھی سائن بورڈز کو ہٹائے جانے والے اقدام کی طرح تاحال جاری ہے۔

شہر قائد میں ہونے والی بارشوں کے متعلق متعدد بار محکمہ موسمیات نے اپنی پیشن گوئیاں کیں جو کہ پوری نہیں ہو پائیں تاہم جمعے کے دن شام کے روز سہ پہر ہونے والی بوندا باندی جو بعدازاں تیز بارش میں بدل گئیں ،سے شہر قائد میں بارش کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو کہ ملک کے دیگر علاقوں میں جاری تھا ۔ 12گھنٹوں سے زائد وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں سے شہر قائد میں جانی اور مالی نقصان ہوا ، 5سے زائد افراد بجلی کے جھٹکوں سے جاں بحق ہوگئے ، عمارتوں کے کچھ حصے ، بورڈز گرنے سمیت دیگر حادثات کے نتیجے میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ حکومت سندھ کے بننے والے نئے وزیر اعلی نے اپنے طور پر ان حالات کا مقابلہ کرنے کی کوششیں کیں ، کئی مقامات پر وزیر اعلی صاحب ہنگامی بنیادوں پر ہونے والے کاموں کے معائنے کیلئے خود گئے تاہم سابق وزیر اعلی حالات کے ذمہ دار تھے یا موجودہ وزیراعلی ان حالات کے ذمہ دار ہیں اس سے قطع نظر نقصان عوام کو پہنچا ہے۔ بارشوں کے پانی سے دودرجن سے زائد آبادیاں کسی حد تک زیر آب آگئیں ۔ جونیجو ٹاؤن، بھنگوریہ گوٹھ ، صفورا ، بنارس ، بکر گوٹھ اور دیگر درجن سے زائد آبادیوں میں پانی گلیوں ، گھروں اور دکانوں میں آتا چلا گیا ۔ خواتیں، بچے، بوڑھے سبھی اس مشکل صورتحال سے پریشان ہوکر افراتفری میں دیگر مقامات پر مقیم اپنے عزیزواقارم کے پاس منتقل ہوئے۔ بجلی کی آنکھ مچولی عروج پر رہی 600سے زائد فیڈر ٹرپ ہونے کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہی۔ شب بھر شہر قائد کے بیشتر حصوں میں بجلی نہ رہی ۔ ندی نالے جوچند روز قبل تک صفائی ستھرائی کے محور بنے رہے اس کے حال بھی نہایت پریشان کن رہے ۔ ان میں جمع ہونے والا پانی اور اس پانی سے پہنچنے والے نقصانات بہت رہے۔ انڈر پاسس کسی سوئمنگ پول کا مظر پیش کرتے رہے۔ مجموعی طور پر شہر قائد اک متاثرہ شہر چند گھنٹوں کی بارش کے بعد بن گیا تھا ، سائن بورڈز اتارنے والے ، ندی نالوں کی صفائی کرنے والے ، ناجائز قبضہ کرنے والوں کی آبادیاں مسمار کرنے والے اور ان سب سے یہ کام کرنے والوں کا بارش شروع ہونے کے متعدد گھنٹوں تک کوئی اتہ پتہ نہیں رہا ۔ بجلی کی بلز ہزاروں اور لاکھوں میں بھیج کر اور وصول نہ کرنے والوں کو ذہنی اذہت دینے والے ان حالات میں بجلی کو غائب کر خود بھی غائب ہوگئے ۔ عوام کی حالت دیدنی رہی کھلے آسمان کے نیچے انہیں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ جیسے وہ شہر قائد میں نہیں بلکہ دور افتادہ کے کسی ویراں و سنسان علاقے کے مکین ہوں جہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ان حالات میں بھی سماجی تنظیموں نے اپنے طور پر عوامی خدمات سرانجام دینے کی بھر کوشش کی ۔ تاہم ان کے ساتھ بھی حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کا رویہ غیر مناسب رہا ۔ ہسپتالوں میں بجلیل کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کی تکالیف بھی دگنی رہیں۔ مریض جو کسی مرض کے خلاف ہسپتال میں زیر علاج ہوا لیکن بجلی کی بندش کے سبب وہ بیک وقت ایک نہیں بلکہ دو بیماریوں سے مقابلے میں رہا۔

رات بھر کی بارش سے ہفتے کے روز دفاترو تعلیم گاہوں میں بھی حاضری برائے نام رہی ۔ وہ تعلیمی ادارے جن کی بروز ہفتے تعطیل نہیں ہوتی وہاں طلبہ مشکل سے ہی درسگاہ تک پہنچ پائے۔اس محنت کے باوجود انہیں جلد ہی گھر اسکول کی بندش کے اعلان ے بعد جا نا پڑ ا۔ اندرون پاکستان سے آنے والے مسافروں کو بھی شہر قائد میں اچھے استقبال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث بیشتر کو اپنی منازل کی جانب پیدل ہی کوچ کرنا پڑا۔شہر کی ہر بڑی اور اہم شاہراہوں سمیت عام اور کم اہمیت کی سڑکوں پر بھی دن بھر پانی جمع رہا ۔ پانی نکالنے کیلئے موٹریں بھی غائب ہوگئیں جو دستیاب تھیں ان کے کرائے ان کی قیمتوں سے تجاوز کر گئیں۔ اس صورتحال میں بھی حکومت سندھ کا نام رہا عمل کہیں نظر نہ آیا ۔ کے الیکٹرک کی جانب سے بھی سابقہ کارکردگی کا مظاہرہ برقرا ر رکھا گیا ۔انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے ہی عوام کو مطلع کر دیا کہ اب انہیں کس طرح کی صورتحال کا سامنا کرپڑے گا لہذا اس کیلئے انہیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے ۔ شہر قائدمیں پینے کے پانی کی پہلے ہی کمی پائی جارہی تھی اس صورتحال میں یہ کمی اور بھی بڑھ گئی ۔ دھابیجی سے ملنے والے 72انچ کی پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی جس سے شہریوں کو مزید مشکلات ہوئیں۔

شہر قائد کی اس صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ اس شہر میں کوئی حکومت نہیں ہے،کوئی سیاسی ،مذہبی اور سماجی تنظیم نہیں ہے۔ عوام زمین پر ہیں اور پریشان ہیں تواس صورتحال میں انہیں آسمان پر نظر رکھنی چاہئے بارش کو برکت اور رحمت قرار دینے والوں کی زبانوں پر ان قلمات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ بارش ، حیقیقت میں باراں رحمت ہے لیکن عوام نمائندوں کے باعث اور عوامی حکومتوں کے اقدامات کے باعث یہ باراں رحمت عوام کیلئے باراں زحمت بن گئی ہے۔ اﷲ رب العزت بہرحال رحمن و رحیم ہے اس زمین کے حاص طور اس شہر قائد کے مکینوں کو یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ اﷲ کے نام اس کے دین پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی گذارنے کیلئے حاصل کئے گئے اس ملک میں ان کا کیا کردار ہے۔ وہ کس قدر ان قربانیوں کا احساس رکھتے ہیں جو کہ اس ملک کو بنانے کیلئے دی گئیں۔ ان کے فیصلے ان کے چناؤ کے وقت اور عملی زندگی میں ہر قدم انہیں کس جانب لے جارہے ہیں جب تک عوام بذات خود اپنا احتساب نہیں کرئے گی اپنا خیال خودنہیں رکھے گی ، اپنے فیصلے اور وہ بھی مثبت فیصلے خود نہیں کرئے گی ، جب تک یہ بارش ، باران رحمت نہیں باران زحمت ہی ان کے لئے بنے گی، 8برسوں سے حکومت کرنے والے قائم علی شاہ کے بعد نئے مراد علی شاہ کے آنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب سندھ کی سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی، سماجی ہوں یا کچھ بھی اور کوئی بھی جماعت نہ ہوتب بھی عوام کو ، دیگر عوام کی آسانیوں کیلئے خود سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک عبد الستار ایدھی کے جانے کے بعد اور ان کی طرح کام کرنے والوں کی جانب بڑھنا ہوگا۔ یہ سب کرنے سے اور اسی راستے پر آگے بڑھنے سے وہ وقت جلد آجائیگا جب عوام باراں رحمت کو محسوس کرئے گی اور باراں رحمت کے دوران اپنے لئے ، اس شہر کیلئے اس ملک کیلئے اور اس سے بھی بڑھ کر پوری امت کیلئے دعائیں کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 101844 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
10 Aug, 2016 Views: 391

Comments

آپ کی رائے