پبلک ٹرانسپورٹ اوربے بس عوام !

(Qadir Khan, Karachi)
سو رے برسو رے میگا رے برسو رے۔۔ ابھی گانے کا مکھڑاہی سن پایا تھا کہ لائٹ چلی گئی ،ویسے لائٹ جانا اچنبھے کی بات نہیں ہے ، لائٹ کا نہ جانا تشویش کا سبب بن جاتا ہے ،کیونکہ بارش کا پہلا قطرہ ہی خطرہ بن جاتا ہے ۔ آلودہ فضاؤں سے کیمکل بھری بارش میں نہانے کے بجائے دور سائے دار پناہ گاہ کی تلاش رہتی ہے۔ بارش کے رکنے کی دعا کرنے کے بجائے بعض من چلے بارش تیز ہونے کی دعا کرتے نظر آتے ہیں ، تھوڑا غور کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ دعائیں زیادہ ترگرلز یونی ورسٹی اور کالجز کے باہر کھڑے مینڈکوں کی ہوتی ہیں۔روڈ کنارے چلتے چلتے کوئی گاڑی اچانک ہولی مناتے ہوئے تمام کیچڑ اچھال کر تمام جسم کو گندے پانی میں نہلا دیتی ہے ، حسرت و یاس کی تصویر بنے ، کچھ کہہ بھی دیں تو کوئی فائدہ نہیں ۔ پبلک ٹرانسپورٹ والے اتنا کرایہ مانگتے ہیں کہ جیسے کراچی ٹو لاہور کا سفر ہو۔ ان کے بہانے بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں ،سی این جی بند ہے ،بھائی رکشہ ٹیکسی تو پٹرول پر چلانے کیلئے ایجاد ہوئی تھی اور سرکاری نرخ بھی اسی پر مقرر ہوتے ہیں۔ سی این جی اگر بند ہوئی ہے تو اس میں میرا کیا قصور ۔ لیکن کوئی مانے بھی تو نا کہ قصور، قصور ہے۔بغیر میٹر لگے رکشے ،ٹیکسی کے من مانے کرائے جات کا ریٹ کم از کم سو روپے سے شروع ہوتا ہے اور ہزار روپے تک پہنچتا ہے ۔ میں ان سے اکثر کہتا ہوں کہ بھائی مجھے واپس بھی آنا ہے ، حیدرآباد نہیں جانا ۔پھر بارش ہوجائے تو یہ ٹرانسپورٹ انتہائی قیمتی ہوجاتی ہے ۔ وہ الگ بات ہے کہ یہ اڑن کھٹولے بارش کے کھڑے پانی میں دو منٹ ہی بند ہوجاتے ہیں ، لیکن یہاں ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت کی رٹ ہی قائم نہیں ہے ۔ دس کلو میٹر فاصلے کا کرایہ پچاس روپے فی کلو میٹر کے حساب سے رکشے والے اور ٹیکسی والے سو روپے فی کلو میٹر کے حسا ب سے وصول کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کو نظر ہی نہیں آتا کہ رکشہ ، ٹیکسی میں میٹر لگا ہوا بھی ہے کہ نہیں ۔ کھلے عام ڈکیتی کی واردات ہوتی ہے لیکن ان عوامی لیٹروں کو روکنے والے کوئی نہیں ۔فنٹس جاری کرنے والوں کو تو اﷲ ہی پوچھے گا، جب ان کی اﷲ میاں کے ملائکہ فٹنس کر رہے ہونگے ۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ وزارت ٹرانسپورٹ کا محکمہ بنا یا کیوں گیا ہے ، پہلے ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھ جاتی تو تین روپے کرایئے کا اضافہ کردیا جاتا ، اب پٹرول ڈیزل کی قیمت کم ہوتی ہے تو ، پبلک ٹرانسپورٹ کے منہ مانگے کرایئے اور بڑھ جاتے ہیں ۔ان اڑن کھٹولوں میں چنگ چی رکشوں نے تباہی مچا دی ، انھیں استثنا مل گیا کہ جب تک حکومت نئی بسیں نہیں لاتی ، جب تک چلاتے رہو ، پرانی بسیں ، دور مغلیہ کی یاد گاریں ہیں ۔ ٹرانسپورٹ مافیا کی آئے روز بلیک میلنگ اور ہڑتال کی کالوں کا خاتمہ تو ہوگیا ہے ، لیکن تین سیٹر رکشے کو دس سیٹر بنا کر لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ شروع ہے ۔ 25 سے10روپے کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ایک جگہ اگر فیملی کو جانا ہو تو عام رکشے کا قانونی کرایہ 70 روپے بنتا ہے ، لیکن پرائیوٹ رکشہ کرنے پر 300روپے اور ٹیکسی کرنے پر 500روپے ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ اگر دس سیٹر رکشے میں پانچ افراد ایک فیملی کے بیٹھ جائیں ۔125روپے ، اور پھر اسٹاپ سے گھر تک پہنچنے کے لئے دوبارہ دس سیٹر یا چنگ چی رکشہ کو 50روپے دینے پڑتے ہیں ، یعنی جہاں 70روپے دس کلو میٹر کا قانونی کرایہ بنتا ہے وہاں آپ کو 300, 500 یا 175 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔وزرات ٹرانسپورٹ کی جانب سے کرایئے کے نرخ اور اس پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا ۔ غیر قانونی روٹس کی بھرمار ہے ۔ بغیر لائینس ڈرائیور موت کے منہ میں دس افراد کو لئے چلتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رکشہ پورا دن میں تین کلو سی این جی یا ایل پی جی استعمال کرتا ہے ۔ جس کی مجموعی لاگت ، انجن آئل کے ساتھ 300روپے سے زیادہ نہیں بنتی ، جبکہ من مانے کرائے کی وصولی کی مجموعی رقم دو ہزار سے ڈھائی ہزار روپے کم ازکم بنتی ہے۔ اسی طرح ٹیکسی کی فیول لاگت کا تخمینہ 600روپے روزانہ ہوتا ہے تو دس کلو سی این اجی یا ایل پی جی پر مجموعی کرائے کی وصولی چار ہزار روپے سے زائد کی جاتی ہے۔ 1972اور1969ماڈل کی ٹیکسیوں کی کل قیمت چالیس ہزار سے نوے ہزار روپے ہے ، جو وہ ایک مہینے میں عوام کی جیب سے120,000روپے وصول کرکے نکال لیتا ہے ۔ نیا سی این رکشہ 190,000روپے کا دستیاب ہے ۔جو مہینے میں من مانے کرایئے وصول کرکے اپنی لاگت تین مہینے میں پوری کرلیتا ہے۔ تین سیٹر رکشے کو دس سیٹر رکشہ کی کل قیمت و لاگت 80,000روپے ہے۔ جو وہ دو مہینے میں پوری کر لیتا ہے۔بسوں کی مجموعی قیمت ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے ہے ، کرایئے جات کی وصولی سے روزانہ کی آمدنی کا تخمینہ 12000روپے سے زائد ہے ۔ منی بس کی مجموعی لاگت8 لاکھ روپے سے 12لاکھ تک ہے ، روزانہ کی مجموعی آمدنی کم ازکم 35ہزار روپے سے چالیس ہزار روپے ہے ، منی بس کا کرایہ کم ازکم 15 روپے سے 25روپے ہے ، اور ایک لانگ ٹرپ میں کم ازکم چار سو مسافر اترتے چڑھتے ہیں۔جس کا کرایہ کم ازکم8 ہزار روپے بنتا ہے ، ایک منی بس کم ازکم تین ٹرپ لگاتی ہے ۔ 35 سے چالیس ہزار روپے کرایہ اور سی این جی 5 ہزار روپے کی ڈالی جاتی ہے ۔اس طرح وہ اپنی منی بس کی مجموعی قیمت ایک ماہ میں ہی پوری کرلیتا ہے۔یہ کم ازکم اندازوں کے ساتھ لگائے گئے تخمینے ہیں۔شہر سے باہر جانے والی ٹرانسپورٹ کا کرایئے جات کا تخمینہ اگر لگایا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا نے غریب عوام سے خون پسینہ کی کمائی لوٹنے میں کوئی کسر نہیں اٹھائی رکھی ۔ مخرب الاخلاق گانے ، اور خواتین کے ساتھ بد تمیزی روز کا معمول ہے۔وزرات ٹرانسپورٹ و ٹریفک پولیس اگر اپنے رشوت کے ریٹ کم کردے ، اور ہر چوکی پر ٹرانسپوٹر کی پرچی والی رشوت ختم کرکے عوام کی غربت پر رحم کرے ، تو ان کی اولادوں کے پیٹ میں حلال رزق جائے گا ۔ وزرات ٹرانسپورٹ کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔ کسی رکشہ ، ٹیکسی اور بسوں کے نرخ نامے میسر نہیں ہیں ، قانون پر بالکل عمل درآمد نہیں کیا جارہا ۔ عوام سے ہر منٹ اسٹریٹ کرائم کی طرح رکشہ ٹیکسی ، منی بس اور بسیں لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں ، لیکن محکمہ خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے ، گاڑیوں کی حالت زار انتہائی خراب و ناگفتہ ہے۔ بیٹھنے کیلئے سیٹ نہیں ، کھڑے ہونے والوں کے لئے سیفٹی بیلٹ نہیں ، ہنگامی حالت یا حادثہ ہونے پر فرسٹ ایڈ نہیں ۔بسوں اور منی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے والوں کو موت کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان نے اپنے پیسوں کی ہوس کو کتنا بڑھا لیا ہے۔ٹرانسپورٹ مافیا میں اڑن کھٹولے ، رکشہ ، ٹیکسی ، منی بس اور بسیں شامل ہیں ، جن کی سرپرستی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کرتی ہے ، ٹریفک پولیس کرتی ہے ، علاقہ پولیس کرتی ہے۔ ٹریفک کے قوانین سے ناواقف ڈرائیور ، ہزاروں ، لاکھوں انسانوں کی جانوں سے ہر وقت کھیلتے ہیں ، لیکن سفید پوشوں نے رشوت کی کالک اپنے چہرے پر مل رکھی ہے انھیں سوائے رشوت کے کچھ نظر نہیں آتا ۔میں تو سوچا تو یہی تھا کہ بارش کے موضوع پر کراچی کی حالت زار پر اپنے دل کے زخم کریدوں ، لیکن پھر یہی خیال آیا کہ وزیر بلدیات سندھ کو کراچی کی بالکل پرواہ نہیں ، وہ ایک ایسے ضدی بچے کی طرح ہوگئے ہیں کہ روز اسکول جانے کیلئے گھر سے ڈانٹ کھاتے ہیں اور پھر بستہ اٹھا کر اسکول سے باہر بھاگ جاتے ہیں کہ ڈانٹ تو روز ہی پڑنی ہے ، اپنی تفریح کیوں خراب کروں ، یہی حال ٹرانسپورٹ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا ہے ، جو گاڑیوں کو پرمٹ ، فٹنس جاری کرتی ہے ، بھاری رشوت لیتی ہے ، لیکن قانون پر عمل نہیں کرواتی کیونکہ وہ خودقانون پر عمل نہیں کرتی۔میرے دیئے گئے اعداد و شمار کو کار کے مالکان نہیں سمجھیں گے اور ایسے مبالغہ آرائی سمجھیں گے ، لیکن جو رکشوں ، ٹیکسیوں اور منی بسوں میں سفر کرتے ہیں ، ان سے ان کا حال اور دل کا حال پوچھئے تو کلیجہ حلق پر آجاتا ہے۔میری رکشہ ، ٹیکسی ، منی بس اور بس مالکان سے گزارش ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں غریب عوام پر رحم کریں ۔عوام غربت کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں ، آپ تو ذرا خوفِ خدا کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 295678 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2016 Views: 326

Comments

آپ کی رائے