عکاشہ عاتکہ(لغات واصطلاحات)

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
عکاشہ اور عاتکہ
سوال :شیخ ہمارے بچوں کے نام عکاشہ اور عاتکہ ہیں،فتاوائے دارالعلوم دیوبند میں ایک سائل نے عکاشہ کالغوی معنی دریافت کیاہے،سوال دیکھ کر مجھے بھی اشتیاق ہواکہ چلیں آج عکاشہ کے معنی کی تِہ تک رسائی ہوگی،لیکن اتفاق سے وہاں جواب میں صرف اتنا کہاگیاہے کہ ‘‘عُکاشہ ایک جلیل القدر صحابی کا نام ہے،بس یہی نسبت اس کی صحت کے لئے کافی ہے’’۔اب آپ سے التماس ہے کہ عکاشہ اور عاتکہ دونوں ناموں کی مکمل تحقیق فرمادیجیئے،شکریہ۔(علامہ طلحہ لدھیانوی نبیرۂ حضرت لدھیانوی شہید)۔

جواب:(عُکاَشہ،عُکاَّشہ،عُکاَش):مکھڑی،عنکبوت۔عین پر پیش،کاف پر تشدید اور تخفیف دونوں طرح۔خیال رہے یہ مکھڑیوں میں صرٖ ف مذکر کے لئے استعمال ہوتاہے،قرآن ِکریم میں جس مکھڑی(عنکبوت) کا ذکر ہے،وہ مؤنث یعنی مادہ ہے،آج سے 1400سو سال قبل قرآن نےیہاں معجزاتی طورپر (اِتَّخَذَ کے بجائےاِتَّخَذَت بَیتًا)مؤنث کا صیغہ استعمال کیاتھا،دور جدید کی سائنسی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ جالا یعنی مکھڑی کا گھر بنانے کا کام مؤنث عنکبوت کاہے،مذکر کا جالا بنانے اور دھاگہ نکالنے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور عکاشہ اسی مذکر کو کہتے ہیں۔(عَکِشَ):سر یاڈاڑھی وغیرہ کےبالوں،درختوں، پودوں اور گھاس وچارے کا گھنا ہونا،گھنگریالے ہونا،کسی چیز کا گچھ پچھ ہوجانا،منقبض ہوجانا،تہ بتہ ہوجانا،کثیر ہوجانا،کنجوس ہوجانا،مائل ہوجانا،مشکل ہوجانا،باہم مل جانا،سمٹ جانا،عنکبوت کا اپنے پیر سمیٹ لینا۔(عَکَشَ یَعکُشُ ): باب نصر سے مکھڑی کا جالا بُننا،جمع کرنا،باندھنا،سبقت کرجانا،سمیٹنا،رجوع کرنا۔بابِ تفعّل سے(تَعَکّشَ):بھی اسی معنی میں ہے،بابِ تفعیل سے (تعکیش): روٹی کا خراب ہوجانا،باسی ہوجانا،جب اس کے اوپر ہرا قسم کا رنگ چڑھ جائے۔
پورا تعارف یہ ہے:عکاشہ بن محصن بن حرثان بن قیس بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی۔
مکہ میں قبل ہجرت مشرف بإِسلام ہوئے، آپﷺنے جب مدینے کا رخ کیا تو یہ بھی مدینہ پہنچے۔( اسد الغابہ:۴/۱۲)۔
غزوۂ بدر میں غیر معمولی جانبازی وشجاعت کے ساتھ سرگرم تھے، ان کی تلوار ریزے ریزے ہوکر اُڑگئی ،تو آنحضرتﷺنے ان کو کھجور کی ایک چھڑی مرحمت فرمائی، جس نے تلواربن کے دشمن کا صفایا کردیا، وہ اسی تلوار سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ حق نے فتح پائی اورباطل مغلوب ہوا،یہ تلوار جو (عون ) کے نام مشہور ہوئی،شہادت تک حضرتِ عکاشہ اسی کو تمام جنگوں میں استعمال کرتے رہے۔(استیعاب تذکرۂ عکاشہ)۔
اس کے علاوہ تمام دوسری مشہور جنگوں میں جوش و پامردی کے ساتھ نبرد آزما تھے، ماہ ربیع الاول ۶ھ میں چالیس آدمیوں کی ایک جمعیت کے ساتھ بنواسد کی سرکوبی پر مامور ہوئے جو مدینہ کی راہ میں چشمہ غمر پر خیمہ لگائےہوئے تھے، حضرت عکاشہ نہایت تیزی کے ساتھ یلغار کرتے ہوئے موقع پر جا پہنچے؛ لیکن وہ خائف ہوکر پہلے ہی بھاگ گئے تھے، اس لیے کوئی جنگ پیش نہ آئی، صرف دوسو اونٹ اوربھیڑ بکریاں پکڑکے لے آئے۔(طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۱)۔
۱۲ھ میں خلیفہ اول ؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو طلیحہ کذاب کی بیخ کنی پر مامور فرمایا جس نے آنحضرتﷺکے بعد نبوۃ کا دعویٰ کیا تھا، حضرت عکاشہؓ اورحضرت ثابت بن اقرمؓ اس فوج کے آگے آگے مقدمۃ الجیش کی خدمت انجام دے رہے تھے، اتفاقاً راہ میں غنیم کے سواروں سے مڈبھیڑ ہوگئی، جس میں خود طلیحہ اوراس کا بھائی سلمہ بن خویلد شامل تھا،دونوں نے اس شیر کو نرغہ میں لے کر شہید کردیا۔(طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۲)۔
اسلامی فوج جب ان دونوں شہیدان ملت کے قریب پہنچی، تو ایسے جواہر پاروں کے فقدان کا سب کو نہایت شدید قلق ہوا، حضرت عکاشہ ؓ کے جسم پر نہایت خوفناک زخم تھے اور تمام بدن چھلنی ہوگیا تھا، حضرت خالدؓ بن ولیدؓ امیر عسکر گھوڑے سے اتر پڑے اورتمام فوج کو روک کر اسی خون آلودہ پیراہن کے ساتھ انہیں دفن کرادیا۔(طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۲)۔
فضل و منقبت کے لحاظ سے اکابرِصحابہؓ میں شمار تھا۔(اسدالغابہ :۴/۳)۔
ہندوستان کے صوبہ کیرالا کے شہر اریٹو پٹا (Erattupetta) میں رہنے والے لبی (Lebbas) مسلمان اپنے آپ کو حضرت عکاشہ بن محصن کی اولاد بتاتے ہیں۔ حضرت عکاشہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے (سعید باوا) ان کے جدامجد تھے۔شاید سہیل باوا لندن والے بھی اسی خاندان کے ہیں،انیسویں صدی عیسوی میں اسرائیل کے شہر یروشلم (بیت المقدس) میں ایک مسجد تعمیر کی گئی، جسے حضرت عکاشہ بن محصن سے منسوب کیا گیا۔ مسجد کے قریب بارہویں صدی کا تعمیر کردہ ایک مقبرہ ہے جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاہی مدفون ہیں۔اس مقبرے کو مقبرۂ بنی عکاشہ بن محصن کہاجاتا ہے۔(ویکیپیڈیا)۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیث بیان فرمائی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
میرے سامنے امتیں لائی گئیں
تو میں نے کسی نبی کے ساتھ دس سے بھی کم دیکھے
اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی اور دو آدمی دیکھے
اور ایسا نبی بھی دیکھا کہ جن کے ساتھ کوئی بھی نہیں
پھر میرے سامنے ایک بڑی جماعت لائی گئی
تو میں نے انہیں اپنا امتی خیال کیا تو مجھے کہا گیا کہ
یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے
لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان کے
کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا
تو بہت بڑی جماعت نظر آئی
پھر مجھ سے کہا گیا کہ آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں
میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی
تو مجھے کہا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے
اور ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہوں گے
جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے
پھر اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے
تو صحابی نے کہا کہ شاید ان سے مراد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں
اور کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید ان سے مراد وہ لوگ ہیں
جو پیدائشی مسلمان ہیں اور
انہوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا
اور بعض لوگوں نے کچھ اور کہا
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے
اور پوچھا کہ تم لوگ کس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں
جودم نہیں کرواتے اور نہ علاج کی
غرض سے اپنے جسم کو داغتے ہیں( یہ کامل ایمان وکامل توکل کی بات ہورہی ہے،ویسے اجازت ہے دم کروانے اور ضرورت شدیدہ میں داغ لگانے کی)
اور نہ فال نکالتے ہیں اور
اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں،
سیدناعکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے
اور انہوں نے عرض کیا کہ دعا فرمائیں
کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو انہی میں سے ہے
پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیں
کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
عکاشہ (رضی اللہ عنہ) تم پر سبقت لے گیا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 527 .
(عاتکہ):خوشبو لگائی ہوئی،معطَّرہ،جس کے چہرے پر خوشبو سے سرخی نظر آرہی ہو،حسینہ وجمیلہ،شریفہ،اصیلہ،لڑاکو،کوئی بھی خالص رنگ ،خوبصورت،ج : عواتک۔(عَتِیک):شدید گرمی والا دن۔ باب ضرب سے (عَتَکَ یَعتِکُ):اقدام کرنا، حملہ کرنا،گھوڑے کا کسی کو کاٹنا،نافرمان ہونا،مائل ہونا،خوشبو کے ساتھ چمٹے رہنا، کسی کے ساتھ ساتھ رہنا۔آپ ﷺ کی ایک شاعرہ پھوپھی کا نام: عاتکہ بنت عبد المطلب انکی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو بن عائذ تھا ان کے اسلام لانے مین اختلاف ہے زیادہ قریب روایات اسلام نہ لانے کی ہیں۔انکا نکاح أبو أميہ بن المغيرة المخزومي سے ہوا،انہوں نے غزوہ بدر سے چند دن پہلے خواب دیکھاتھا،جب کافروں نے یہ خواب سنا تو خوب مذاق اڑایا کہ اب تو بنی ہاشم کی عورتیں بھی نبوت کرنے لگیں، لیکن نتیجہ وہی نکلا جو خواب میں دکھایا گیا تھا ،خواب تھا کہ ایک سوار ہےجس نے کوہ "ابوقبیس" سے ایک پتھر اٹھایا اوررکنکعبہ پر کھینچ مارا ہے وہ پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا اور ہر ریزہ قریش کے تمام گھروں میں جا گرا البتہ بنوزہرہ بچے رہے۔حضرتِ عمرؓ کی بیگم کا نام بھی عاتکہ بنت زیدؓتھا جو ایک جلیل القدر صحابیہ تھی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 488325 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
11 Aug, 2016 Views: 5712

Comments

آپ کی رائے