شراب پر مکمل پابندی کیسے ؟

(Falah Uddin Falahi, India)
شراب پر مکمل پابندی والے ریاستوں میں اب بہار کا نام بھی شامل ہو گیا ہے ۔جس کی کامیابی پر وزیر اعلی سے لیکرعوام تک بہت خوش ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلی نتیش کمار بنارس کے دورہ پر آئے تھے اور انہوں اکھلیش حکومت سے بھی یو پی میں شراب پر مکمل پابندی کی بات کی ۔یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اپیل کی ہے کہ جب وہ گجرات کے وزیر اعلی تھے تب انہوں نے ریاست میں شراب پر مکمل پابندی لگایا تھا اس لئے اب وہ وزیر اعظم ہیں ۔ضروری ہے کہ پورے ملک میں شراب پر پابندی عائد کی جائے اس سے ہونے والے سرکاری خزانے کی تلافی کیلئے اور صورت نکالی جائے ۔اب تو ہر ہندوستانی کی خواہش ہے کہ شراب پر مکمل پابندی لگنی چاہئے لیکن جہاں پابندی ہے وہاں کی حالت کیا ہے وہ بی بی سی کی رپورٹ سے واضح ہے جس کے چند نکات کا ذکر ہم کر رہے ہیں۔انڈیا کی جنوبی ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو کی سرحد پر آباد قبائلی علاقے اٹٹاپاڑہ میں ایک عرصے سے مے نوشی پر پابندی ہے۔یہاں کی خواتین کی درخواست پر کیرالہ حکومت نے اٹٹاپاڑہ میں سنہ 1995 میں شراب پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ اس کے باوجود علاقے میں شراب نوشی کی وبا ایسی پھیلی ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں یہاں ڈی ایڈکشن سنٹر یعنی نشہ سے نجات کے مراکز کھولنے پڑے۔اب یہاں کی عورتیں ناراض ہیں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا امیدوار ان کے مردوں میں بیماری کی طرح پھیلی ہوئی شراب کی لت سے نجات دلانے میں ان کی مدد نہیں کر رہا۔اس مسئلے کی جڑ دراصل تمل ناڈو میں ہے۔ یہاں کے مرد وہاں کی دکانوں سے شراب خریدنے جاتے ہیں۔شراب پر پابندی کی مہم چلانے والی تنظیم ’تھائی یلم سنگم‘ کی بانی اور ادارے کی موجودہ سیکریٹری ماروتھی ایم بتاتی ہیں: ’ہمارے مردوں کو شراب کی ایسی لت ہے کہ یہاں عائد پابندی سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا، سرحد پار کی شراب کی دکانیں بغیر سیاستدانوں کے دباؤ کے کس طرح بند ہوں گی؟‘قانون کے خوف سے مرد اپنا چہرہ تو نہیں دکھانا چاہتے لیکن شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر اپنی روداد بتانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ویجو بتاتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ وہ پینے لگے۔ پابندی کبھی آڑے نہیں آئی، سب ساتھ سرحد پار کر کے تمل ناڈو میں شراب کی دکان پر جاتے اور شراب خرید لاتے۔ لت ایسی لگی کہ ترک کرنے میں دس سال لگ گئے۔وہ کہتے ہیں: ’میں روزانہ چار کوارٹر پی جاتا تھا، طبیعت بھی خراب نہیں ہوتی تھی، چھٹی کے موقعے سے تو شراب پہلے سے جمع کر لیتا تھا، اگر 400 روپے کماتا تھا تو 300 روپے شراب کی نذر تھا۔‘ویجو کے مطابق شراب کی عادت ایسی تھی کہ کچھ ہوش نہیں رہتا تھا، گھر میں بیوی کو مارنا معمول تھا۔ بچے، ان کی ذمہ داری، یا ان کی تعلیم اور کھانے پینے کسی بات کا احساس نہیں تھا۔ان کے دوست پرشانت کو بھی گھر کے بکھرنے پر سب سے زیادہ ملال ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’سب نے مجھے چھوڑ دیا، تمام نفرت کرنے لگے تھے، گھر میں سب کو میں بہت برا بھلا کہتا تھا، یہ بھی نہیں سوچتا تھا کہ میرے تین بیٹے مجھے دیکھ کر کیا سیکھیں گے۔‘ریاست میں شراب پر جزوی پابندی ہے تو اس علاقے میں مکمل پابندی کس طرح؟ماروتھی بتاتی ہیں کہ ’پابندی کے باوجود ایک بار شراب کی بوتل کے لیے ایسی لڑائی ہوئی کہ لوگوں نے ایک لڑکے پر وہی شراب انڈیل کر اسے زندہ جلا دیا۔ اس کے بعد ہی خواتین نے ایک تنظیم بنا کر شراب پر پابندی کی مہم چلائی۔یہ سنہ 2002 کی بات ہے۔ ماروتھی کہتی ہیں: ’گھر میں تو ہم تنہا اور کمزور تھے۔کبھی مار پیٹ زیادہ ہو تو پولیس کو فون کرتی تھی، لیکن شوہر کے تشدد اور دھمکیوں سے لڑنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ سب مل کر ساتھ آواز اٹھائیں۔ان کی تنظیم کی کوششوں کی بدولت سنہ 2005 میں اس وقت کے صدر جمہوریہ عبدالکلام نے یہاں آ کر اعلان کیا کہ علاقے میں پابندی پوری طرح کامیاب رہی۔لیکن تمل ناڈو کی دکانوں کی شہ پر شراب پینے والے نہیں بدلے اور اب شراب پر پابندی والے علاقے اٹٹاپاڑہ میں دو ڈی ایڈکشن سنٹر کھولنے پڑ گئے ہیں۔وویکانند مشن کی جانب سے چلائے جانے والے ایک ڈی ایڈکشن سنٹر پہنچے تو پتہ چلا کہ وہاں روزانہ چار نئے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ہر شخص کو تین ہفتوں کے لیے وہاں رکھا جاتا ہے جس میں پہلے ہفتے اچانک شراب چھوڑنے کے سائڈ افیکٹس کے لیے دوا دی جاتی ہے۔اس کے بعد دو ہفتے تک کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔ ایک ٹرینر وجے کمار بتاتے ہیں: ’ہم مرد اور عورت دونوں کو بلاتے ہیں اور ان کی فکر تبدیل کرنے کے لیے خاندانی ذمہ داریوں کے بارے میں بات چیت، شراب سے نجات کے لیے عبادت وغیرہ کا مشورہ دیتے ہیں۔‘لیکن پروگرام کے بعد مردوں کا پھر سے شراب کی جانب مائل ہونا عام ہے۔ نسل در نسل کی اس لت کا اثر نوزائیدہ بچے کی صحت پر بھی نظر آنے لگا ہے، علاقے میں بچوں کی شرح اموات ریاست کی اوسط سے تین گنا ہے۔اسی لیے کیرالہ حکومت کی جانب سے قبائلی فلاح و بہبود کے لیے سنہ 2015 میں جب یہاں نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا تو تمام تر توجہ کا مرکز مئے نوشی تھی۔دسمبر سنہ 2015 میں ریاست میں شراب پر جزوی پابندی لگا دی گئی۔اس سب کے باوجود اٹٹاپاڑہ میں کچھ نہیں بدلا۔ پرشانت کے مطابق اب بھی شام ڈھلنے کے بعد کسی گھر میں داخل ہوں تو دس میں سے سات نشے کی حالت میں نظر آئیں گے۔تمل ناڈو حکومت، کیرالہ حکومت اور مرکزی حکومت کو خط لکھنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔آخر کار ’تھائی یلم سنگم‘ نے ہڑتال کی، راستہ روکو مہم چلائی اور آخر کار اپریل سنہ 2016 میں تمل ناڈو کے ضلعے کے مجسٹریٹ نے وہاں چلنے والی شراب کی وہ سرکاری دکان بند کیں جہاں سے اٹٹاپاڑہ کے لوگ شراب خریدتے تھے۔لیکن پھر مئے نوشوں نے نیا راستہ ڈھونڈ لیا۔ اور اب وہ 15 کلومیٹر کے بجائے 40 کلومیٹر دور تمل ناڈو میں موجود ایک دوسری دکان سے شراب خریدنے لگے۔کیرالہ کی موجودہ حکومت جو آئندہ دس برسوں میں ریاست میں مکمل شراب بند کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، شاید اٹٹاپاڑہ کی عورتوں سے بات کر لے تو اچھا ہو۔چونکہ مسئلہ بیٹی بچاؤ کا ہے اور شراب نے بہت خواتین کی زندگی برباد کر دی ہے اس لئے اس مسئلہ پر غوروفکر انتہائی ضروری ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Falah Uddin Falahi

Read More Articles by Falah Uddin Falahi: 135 Articles with 62673 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2016 Views: 425

Comments

آپ کی رائے