وادیٔ کیلاش……پس منظر اور پیش منظر - دوسری قسط:

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )
کیلاش قوم کے یہاں شادی کی رسم اس طرح اداء کی جاتی ہے کہ مرد جس عورت کو پسند کرتا ہو ٗ ایک بوڑھی عورت ان دونوں دیکھ لیتی ہے کہ مطلوبہ جوڑا ایک دوسرے کے لئے مناسب ہے یا نہیں؟ پھر مرد اس عورت کے گھر ایک چولہا ، ایک ہانڈی ، ایک بندوق اور ایک عدد گائے یا بیل یا بکری لے کر پہنچ جاتا ہے اور اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کی رفیقۂ حیات بن جائے ۔ اس رسم کو ان کی زبان میں ’’اشپیری‘‘کہا جاتا ہے ، اگر عورت راضی ہو تو وہ یہ تمام چیزیں قبول کرلیتی ہے اور مرد واپس چلا جاتا ہے اور پھر اپنے دوستوں کے ہمراہ دوبارہ اس عورت کے گھر آتا ہے اور اس کے مکان کے سامنے اپنا ڈیرہ ڈال لیتا ہے ۔ شام کے وقت وہ عورت اپنی ہم جولیوں کے ہمراہ گھر سے باہر نکلتی ہے اور پھر دونوں (مرد عورت) ایک دوسرے کے سامنے زمین پر دو زانو ہوکر بیٹھ جاتے ہیں جو ان کی باہمی رضامندی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ان کا مذہبی پیشوا جسے وہ لوگ ’’تولک‘‘ کہتے ہیں آکر انہیں دعائیں دیتا ہے تو ان کے لواحقین اور عزیزو اقارب ان کے اردگرد رقص کرنے لگتے ہیں ۔ دولہا کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے ، پھر یہ تمام لوگ کھاتے پیتے ہیں ، آپس میں ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے ہیں اور شراب نوشی سے اپنی مجلس کو مزید گرماتے ہیں، یہاں تک کہ شادی کا ایک اچھا خاصا ہنگاما برپا ہوجاتا ہے اور اس کے بعد شادی کی اس رسم کا سب سے زیادہ عجیب و غریب اور ہوشربا پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ ایک بکرا سامنے لایا جاتا ہے جس کی گردن پرسات سال کا بچہ چھری کا ایک وار کرتا ہے اور اس ایک ہی وار سے اس کا سر تن سے جدا کردیتا ہے اور اس کے دھڑ سے اُبلتے ہوئے خون میں اپنے دونوں ہاتھ لتھڑ کر دولہا ، دلہن کے منہ پر پھر دیتا ہے، جس کے بعد تمام حاضرین مجلس خوب خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔

وادیٔ کیلاش میں ایک بہت بڑی عمارت ہے جو ان کی مذہبی رقص گاہ ہے ، اوررقص ان کی عبادت کا جزو لاینفک ہے ،وہاں جاکر یہ لوگ اپنی مختلف قسم کی رسومات کی ادائیگی کرتے ہیں ،اس رقص گاہ کو ان کی زبان میں ’’چشتگان‘‘ کہا جاتا ہے ۔یہ جگہ ان کے نزدیک بہت مبارک تسلیم کی جاتی ہے ۔ اس جگہ ایک بہت بڑا کمرہے جہاں گھوڑے کے سر کا مجسمہ کا نصب کیا ہواہے ، جسے یہ لوگ اپنا معبود کہتے ہیں ۔

اس کے بعد یہ تمام لوگ ایک جلوس کی شکل میں ’’چشتگان‘‘ کی طرف چل دیتے ہیں اور تمام راستہ میں ناچتے اور گاتے ہوئے جاتے ہیں اور ’’چشتگان‘‘ پہنچ کر تمام رات کھاتے پیتے رہتے ہیں ، جام لٹاتے رہتے ہیں اور رقص و سرور میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں ۔ یہ محفل گویا ان کی شادی کا ایک جشن ہوتا ہے ، جس کے توسط سے یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ:’’اب یہ دونوں مرد و عورت آپس میں میاں بیوی بن گئے ہیں، اور زندگی عیش و نشاط کا نام ہے جس میں غم و فکر کی کسی بات کا کوئی تصور نہیں۔ اس طرح اس محفل سے دولہا دلہن اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں ۔

سہاگ رات (یعنی شادی کی پہلی رات) کو دولہا دلہن گھر کے تمام افراد کے ساتھ اپنے فطری لباس میں ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک یا شرم محسوس نہیں کرتے ، اس کی ایک وجہ تو ان کی غریبی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ چوں کہ ان لوگوں کے گھر وں میں دوسرا کمرہ نہیں ہوتا اس لئے گھر کے تمام افراد ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ان کے یہاں جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس وقت سے لے کر بچے کی پیدائش تک خاوند اپنی بیوی کے قریب نہیں جاتا، تاہم اس دوران اسے ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچاتا رہتاہے اور جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو بھی ایک سال تک خاوند اپنی بیوی سے دوری برتتا رہتا ہے ، کیوں کہ ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جب تک بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا رہتا ہے اس وقت تک میاں بیوی کا جسمانی رشتہ باہم استوار نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ س سے بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور بچہ صحیح طرح سے اپنی صحت نہیں پکڑ سکتا۔

ان کے یہاں ہر عورت اپنے بچے کو پورے دو سال تک دودھ پلاتی ہے ، کسی دوسری عورت کا دودھ بچے کو نہیں دیا جاتا ، بلکہ اس بات کو ان کے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے ، اور اس بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچے کے خون میں اگر کسی دوسری عورت کا دودھ شامل ہوگیا تو پھر یہ بچہ خالصتاً اپنی ماں کے خون کا متماثل نہ ہوگا ، حالاں کہ اس کے خون کا ایک ایک قطرہ اس کی ماں کے خون کی پیدا وار ہونا چاہیے ۔

ان کے مذہب میں اگر کوئی حاملہ عورت گاؤں کے مذہبی پیشوا کے پاس جاکر اسے یہ بتلادے کہ وہ حاملہ ہے اور فلاں شخص اس کا ذمہ دار ہے تو وہ شخص خواہ کنوارہ ہو یا شادی شدہ بہرحال اس عورت سے اس کو شادی کرنی پڑتی ہے ، اور عورت کے لئے ضروری نہیں رہتا کہ وہ اپنے دعوے پر کوئی ثبوت پیش کرے ، بلکہ اس کا صرف مرد لے خلاف دعویٰ کرنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے، اس لئے کہ ان کے مذہب میں عورت کی بات کو مقدم رکھا جاتا ہے۔

کیلاش قوم میں یہ دستور ہے کہ اگر ان کے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہوجائے تو وہ لوگ بہت زیادہ خوشی مناتے ہیں اور اگر لڑکی پیدا ہوجائے تو خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔

ان کے مذہب میں بچوں کے ختنے نہیں کرائے جاتے اور بچہ جب تین سال کا ہوجاتا ہے تو اس کے نام رکھنے کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔ بچوں کے نام عموماً یہ لوگ جانوروں کے نام پر رکھتے ہیں ، بطور نمونہ بچوں کے چند نام یہ ہیں : ’’ ازدر ، کاسم کان ، گل بج ، اپی جائے، رینگور ، ہاپوپ ، لاوی ، جومن ، شیاطان ، اور میموں وغیرہ ۔‘‘ جب کہ بچیوں کے چند نام یہ ہیں : ’’شنگل ، الامن ، جوزی ، لکشمن ، چورین گاہ ، کرک بیگم ، شریں گل ، اور قد شیریں وغیرہ ۔

کیلاش مذہب میں اگر کسی شخص کی بیوی مر جائے تو وہ ایک سال تک انتظار کرتا رہتا ہے اور دوسری شادی نہیں کرتا اور اگر کسی عورت کا خاوند مرجائے تو وہ بھی ایک سال تک انتظار کرتی رہتی ہے اور دوسری شادی نہیں کرتی ، اور جب سال پورا ہوجاتا تو پھر جہاں ان کا دل کرے وہاں شادی کرلیتے ہیں۔ تاہم جنسی معاملات میں وہاں کا مادر پدر معاشرہ خوب آزاد معاشرہ ہے ، جہاں مرد وعورت بلا کسی روک ٹوک کے ایک دوسرے کے ساتھ ہر قسم کے جنسی تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔

یہاں بیوی کو طلاق دینا سب سے آسان فعل ہے ، چنانچہ کیلاش قوم کا مرد اور اس کی عورت ( میاں بیوی ) کسی بھی وقت ایک دوسرے کو طلاق دے سکتے ہیں ، جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ میاں بیوی دونوں سب لوگوں کے سامنے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔
( جاری ہے……)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 132419 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2016 Views: 643

Comments

آپ کی رائے