اجڑ گئے ہیں پرانی محبتوں کے مزار

(Sami Ullah Malik, )
خواب دیکھنے والوں اورمسکراہٹوں،پھولوں کے ہاروں اور ہزاروں سال پرانی موسیقی کی تانوں پرجھومنے والے اس مختصرہجوم کو جوآج کل میرے ملک کے اخبارات اورٹیلی ویژن اسکرین پرچھایا ہوا ہے ،میں صرف چند لمحوں کیلئے حقیقت کی دنیا کے ایک جہنم میں لیجاناچاہتا ہوں۔یہ وہ عبرت کدہ ہے جو اس برصغیر کی تاریخ ہے ۔ یہ وہ زخم ہے جو کئی سالوں سے رس رہا ہے، یہ وہ چیخ ہے جومسلسل گونج رہی ہے ۔یہ منظر نہ تواگست۱۹۴۷ء کاہے جب ملک کے طول وعرض میں لاشوں سے بھری ٹرینیں وصول ہورہی تھیں اورکوئی اجڑاہواگھر ایسا نہیں تھاجو اپنے عزیزوں پیاروں کے تڑپتے لاشے چھوڑکر نہ آیا ہوبلکہ ہم نے تواس دن اپنی غیرت کو ایسی نیند سلادیا کہ اب تک آنکھ نہیں کھل رہی۔ ہماری سوالاکھ سے زائد بچیاں آج بھی آسمانوں کی طرف اشکبار آنکھوں سے اپنے ر ب سے ضروررازونیازکرتی ہونگی کہ کہاں ہیں ہمارے والی وارث جوہمارے سروں کو گھروں میں بھی ننگا نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی یہ منظر اس دور کاہے کہ جب ہمارے اوربھارت کے درمیان نفرتیں عروج پر تھیں،یہ آج کے شب وروز کاچیختا چلاتامنظر ہے۔
یہ جو ہاپورہ کی کچی آبادی ہے جسے بھارت میں رہنے والے جھونپڑ ی کانام دیتے ہیں،یہ جوہاپورآج سے چودہ سال پہلے آباد نہیں تھا۔فروری۲۰۰۲ء سے پہلے یہاں کسی بستی کانام ونشان نہ تھا ۔یہ بے خانماں اجڑے ،لٹے پٹے مسلمانوں کی بستی ہے جو احمد آباد سے صرف ۵کلومیٹر دور خوف کے عالم میں آباد ہو گئی تھی۔اس بستی میں زمینوں پر بچھانے والے بستر بیچنے والا ایک انیس سالہ نوجوان تیمور علی ایک انگریز صحافی ''رچرڈ برنز''کے سامنے صرف چند دن پہلے ہچکیوں سے رونے لگ گیا ۔اس نے کہا کہ میں گجرات کے پچاس لاکھ مسلمانوں میں سے ایک ہوں ۔میرے پچیس رشہ دار بلوائیوں نے قتل کر دیئے، میری ستر سالہ دادی کو زندہ جلادیااور یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوا ،میں زخمی حالت میں بچ کر اس متعفن علاقے میں آگیا ہوں لیکن آج بھی رات کو آگ میں پھینکے ہوئے بچوں اور عورتوں کی وہ دردناک چیخیں ہم سب کاتعاقب کررہی ہیں جو وہ بارباراللہ کے نام پرمدد کیلئے پکار رہی تھیں۔

تیمورعلی صرف ایک نہیں اس جیسے ہزاروں لٹے پٹے لوگ یہاں آکر آبادہو گئے ہیں۔ان مسلمانوں میں ڈاکٹر بھی ہیں انجینئر بھی اورسرکاری ملازم بھی۔یہ سب اسی کچی آبادی سے روزانہ اسی احمد آبادشہرمیں جاکرملازمت کرتے ہیں جہاں اب مسلمانوں کا ٹھکانہ تک نظر نہیں آتاہے البتہ مسلمانوں کے کچھ جلے ہوئے گھراوردوکانیں آج بھی عبرت کے طورپرموجود ہیں جبکہ مسلمانوں کے مکانوں کی ایک کثیرتعدادپرہندوؤں نے قبضہ جمالیاہے۔گلبرگ کے علاقے میں مسلمان ممبراسمبلی احسان جعفری کا گھروہ تماشہ گاہ ہے جس کی خاکسترعمارت سے اس کے خاندان کے۳۸مردوزن کی لاشیں نکلی تھیں۔ اس گھرکے دروازےاور کھڑکیاں آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے اورعین اس گھر کے سامنے ہندوؤں کی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی دکانیں ہیں جہاں دن رات وہ گیت اونچی آواز میں بلند ہوتے رہتے ہیں جن سے اب میرے ملک کاہرکوچہ اورہرمحلہ بھی آشنا ہوچکاہے اورایک خاص چینل چندبرس پہلے توہرچند منٹ کے بعدانتہائی بے شرمی و بے حیائی کے ساتھ''امن کی آشا'' کے عنوان سے ایک خاص گیت نشر کرتارہا ہے۔
جوہاپورہ کی بدبوداراورناقابل رہائشی آبادی کے بالکل ساتھ ساتھ ہندوؤں کے مکانات کی ایک لمبی قطار ہے جس کے اردگرد خاردارتار کی باڑہے،اونچی اونچی دیواریں ہیں اوران دیواروں پر سیمنٹ میں شیشے کے ٹکڑے کاٹ کر لگائے گئے ہیں ۔احمدآباد شہر کے وہ مکانات جوجلادیئے گئے ہیں جن کے کھلے دریچوں اورصحنوں میں خزاں کے گرتے پتوں اورپھینکے جانے والے کوڑاکرکٹ کے سوااب کچھ نظر نہیں آتا،ہاں اگرکوئی جوہاپورہ کامسلمان وہاں آنکلتا ہے تو اسے دلدوز چیخوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ہندوغنڈوں کے ہاتھوں لٹتی ہوئی مسلمان عورتوں کی آہ وبکا سے اس کے کان پھٹتے ہیں،جلتے ہوئے معصوم بچوں کے چہرے اسے یادآجاتے ہیں اوروہ اس منظر سے بھاگ کراس بستی میں جاچھپتاہے جسے مسلمانوں کی بستی کہنے میں اورجس کے چہرے پربے خانماں اوربے یارو مدد گارہونے کادکھ لکھا ہوا ہے۔

یہ وہ دوقومی نظریہ ہے جو آج احمدآبادکی سرزمین پرتحریرہواہے لیکن اس سارے المیے میں ایک واقعہ مجھے خوف کے ایک عجیب عالم میں لے جاتا ہے ۔احمدآباد سے تھوڑی دور مسلمانوں کی ایک بستی نارودہ پاتیہ ہے،اسی چھوٹی سی بستی میں۹۱ مسلمان بچے اورعورتیں قتل کردیئے گئے تھے،اس بستی میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ یہ معصوم بچے اوربچیاں احمدآبادکے علاقے میں پڑھنے جاتے تھے۔اس حادثے کے چنددن بعد اس بستی کے مسلمان اینٹ اور گارے میں لت پت کھڑے تھے اوراس بستی کے بالکل مرکز میں اپنے بچوں کیلئے اسکول تعمیر کر رہے تھے۔ایک سماجی کارکن عبدالستارجواس اسکول کی تعمیر میں پیش پیش تھا، جب اس سے انگریز صحافی ''رچرڈ برنز'' نے پوچھا کہ صرف چندسوگز پر اسکول واقع ہے توایساکیوں کر رہے ہیں؟اس نے تڑپ کر سہمے ہوئے جواب دیا کہ دنیا کی کوئی تسلی کوئی وعدہ مسلمانوں کے دلوں سے یہ خوف نہیں نکال سکتا کہ ان کے بچے اوربچیاں اگر ہندوؤں کے علاقے میں پڑھنے جائیں توشام کو زندہ گھر واپس آئیں گے بھی یانہیں،ان کی عزتیں بھی محفوظ ہونگی یانہیں!

اس انگریز صحافی نے مضمون کے آخرمیں ایک چونکادینے والاواقعہ بھی تحریرکیا ہے کہ میں نے جب تیموریااس جیسے دوسرے غمزدہ افراد کی مالی مددکرنا چاہی توانہوں نے بڑی محبت سے میری اس مددکویہ کہہ کرٹھکرادیا کہ اگر بھیک مانگنا ہی مقصودہوتاتوآج ہم اقتدار کے ایوانوںمیں ہوتے،اعلیٰ مناصب کے مزے لوٹ رہے ہوتے۔ان مسلمانوں کو تواس بات کی سزا ملی ہے کہ انہوں نے باوجود استحقاق کے ملازمتیں نہ ملنے پر اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کر لئے،ترقی کرتے کرتے دنیا کے کاروباری اداروں کواپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے دوسرے کاروبارکے ساتھ ساتھ ''ڈائمنڈ''کی تراش خراش جیسے کام پر بھی اپنا سکہ جمالیا توان متعصب ہندوؤں نے اس ترقی سے خوفزدہ ہوکریہ فیصلہ کرلیا کل کلاں یہ مضبوط اورطاقتورمسلمان بھارت کی سیاست پرقبضہ نہ کرلیں،جس کی بناء پربھارت کے مسلمانوں کواس عذاب سے دوچارکردیا گیا۔

مجھے معلوم ہے کہ میرے ملک کے بہت سے صاحبان جاہ وحشم کو،نوجوانوں کی ٹولیوں کو،دانشوروں کے گروہوں کو ایشوریا رائے کی مسکراہٹ اچھی لگتی ہے،ارمیلا کی آمد پران کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔بھارتی درندے مظلوم کشمیریوں پرپیلٹ گن کابے دریغ استعمال کرکے انہیں شہیدکررہے ہیں اور ہمارے یہ شوقین سلمان خان کی سلطان فلم سے لطف اندازہورہے ہیں،سونونگم اوردلیرمہدی کے گانوں پران کابے اختیاررقص کرنے کوجی چاہتا ہے مگر میں اپنی اس بے خوابی کاکیا کروں جو صرف اس لئے میرے گھر میں بسیرا کرلیتی ہے کہ عین ان مسکراہٹوں،گیتوں اوررقص کرتی خوبصورتیوں کے ساتھ ساتھ وہ جھونپڑپٹی ہے جس میں پچھلے آٹھ سالوں سے ایک لٹی پٹی قوم آباد ہے،خوف زدہ ہے ،مجبور ہے،تعفن زدہ علاقے میں رہتی ہے ۔بس میرا اور ان کا ایک ہی رشتہ ہے کہ وہ اسی اللہ پر ایمان رکھتی ہے ،اسی رسول اکرمۖ کا کلمہ پڑھتی ہے ،اسی دین سے وابستہ ہے جس سے میں ہوں ۔پتا نہیں کیوں میرے آنسو نکل آتے ہیں جب میں صرف یہ سوچتا ہوں کہ ارمیلا ،میرا،ریشم،اوم پوری اوراس قبیل کے دوسرے لوگوں کیلئے واہگہ عبورکرناکتناآسان ہے لیکن جوہاپورہ،نارودہ پاتیہ کامسلمان احمدآباد کے ہندوعلاقے میں جاتے ہوئے خوف سے کانپ اٹھتاہے ۔گھروالے اس کی واپسی تک دستِ بدعارہتے ہیں۔ دو قومی نظریے کی جولکیرہم پھولوں کے ہاروں سے مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اسے بھارت کے تنگ نظر ہندومسلمانوں کے خون سے پھر کھینچ دیتے ہیں۔

پاکستانی چینل جودن رات بھارت کی دوستی کامحبت بھراترانہ دہرانے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کررہاہے اوراس ترانے کے آخر میں ہمیں یہ تلقین کی جا رہی ہے کہ ان لکیروں کوزمین پرہی رہنے دو،دلوں میں نہ رہنے دو،اب اس واقعے کے بعدبھلا آپ ہی مجھ کم عقل کوبتائیں کہ کیاواقعی اس قوم سے دوستی ممکن ہے جہاں ریاست اترپردیش میں سوامی ویویکنادس بھارتی یونیورسٹی ٦٠کشمیری طلبہ کومحض اس لئے معطل کرکے ان پربغاوت کامقدمہ دائرکروا دے کہ انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پرتالیاں بجانے کاعظیم جرم کیاتھا۔ اورکیالکھوں کہ آن کی آن میں کوئٹہ کے ہسپتال میں خودکش حملے میں بلوچستان کے پڑھی لکھی قیمتی جوانیوں کے٨٠کے قریب چراغ گل کردیئے اوربلوچستان کاوزیراعلیٰ چیخ چیخ کردہائی دے رہاہے کہ اس کے پاس ٹھوس ثبوت موجودہیں کہ یہ دہماکہ ''را''نے کروایاہے لیکن محموداچکزئی اپنی ہی ایجنسیوں کوکوس رہے ہیں جبکہ انہی موصوف نے قائدکی زیارت میں رہائش گاہ پر''را''کے ایجنٹوں کے حملے کوبھی معمولی واقعہ قراردیکراس پراحتجاج کرنے سے انکارکردیاتھااورپچھلے دنوں صوبہ خیبرپختونخواہ کوافغانستان کاحصہ قرار دیکرخوب بدنامی کماچکے ہیں۔اب ان تمام بھارت نواز دانشوروں کوبھی ہوش اور عقل کے ناخن لینے چاہئیں کہ جو اندرونِ خانہ بھارت کوپسندیدہ ملک دینے کے سازشیں کررہے ہیں جبکہ بھارتی برہمن جہاں آپ کے پانی پرقبضہ کرنے کیلئے تیزی سے ڈیم تعمیر کررہاہے اوردوسری طرف پاک چین اقتصادی پروگرام کو سبوتاژکرنے کیلئے شب وروزدہشتگردکاروائیاں کررہاہے۔
چلوکہ چل کے چراغاں کریں دیارِحبیب
اجڑ گئے ہیں پرانی محبتوں کے مزار
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 233573 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے