ماں پیٹ دیکھتی ہے دنیا جیب دیکھتی ہے

(Shahid Raza, )
ایک دفعہ کا ذکر ہے یمن میں ایک بادشاہ تھا جو بہت طاقتور تھا اُس نے ایک دن سوچا کیوں نہ اپنی طاقت کا استعمال کیا جائے بس یہ سوچ کر اُس نے اپنی فوج کو تیار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ،اب طاقت بھی تھی پیسہ بھی تھا اور جی حضوری کے لئے لوگ بھی تھے اُس نے سوچا واہ کیا قسمت ہے ایک دن اُس نے معزز شخصیات کو دعوت دی اور اعلان کیا ،کوئی نہیں ملے گا آپ کو میرے جیسا میرے پاس دنیا کی طاقت موجود ہے ،آپ کو پتا ہے کہ اﷲ کو غرور پسند نہیں ہے ،اس بات کو چند دن گذرے تھے کہ ایک دن وہ شکار پر گیا وہاں اُس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی بادشاہ نے پوچھا تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو ،اُس شخص نے کہا میں موت کا فرشتہ ہوں اور تمہاری روح قبض کرنے آیا ہوں بادشاہ نے یہ سُنا تو معافی تلافی شروع کی اور کہا مجھ کو معاف کر دو مجھ کو مہلت دو فرشتے نے کہا ایک شرط پر تم کو مہلت مل سکتی ہے کہ کوئی ہنسی خوشی تمہاری جگہ پر مرنے کے لئے تیار ہو جائے بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے،واپس آیا اپنے وزیروں کو جن کو خوب کھلایا پلایا تھا اُن کو کہا تم میں سے کوئی مرنے کے لئے راضی ہو جائے تو میری جان بچ جائے گی سب نے کہا ہم کیوں مریں آپ کی جگہ، آپ تو اتنے جاقتور ہیں بچا لیں اپنے آپ کو،اُس نے اپنے غلاموں کو کہا تم میں سے کوئی میری جگہ مرنے کے لئے تیار ہو جائے سب نے کہا ہم کیوں مریں تم نے جو ہم پر ظلم کئے ہیں اُس کا بدلہ موت ہے،اُس نے کہا میں اپنی بیوی سے ملتا ہوں میں نے ہمیشہ اُس کا خیال رکھا آج وہ میرا خیال رکھے گی ُاس نے جب بیوی سے بات کی تو بیوی نے کہا کیا ہمارے نکاح نامے میں ایسی کوئی شرط تھی کہ آپ کی جگہ پر میں مروں گی،اور اگر آپ نے میرا خیال رکھا ہے تو یہ آپ کا فرض تھا جو آپ کو کرنا تھا سو آپ نے کیا ،وہ اپنے باپ کے پاس گیا اور کہا آپ میری جگہ مرنے کے لئے تیار ہو جائیں میری جان بچ جائے گی باپ نے کہا بیٹا ابھی مجھ کو نہیں لگتا کہ میں نے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ لی ہے اس لئے ابھی میں معافی مانگ لوں اﷲ سے تب سوچوں گا کہ مروں یا نہیں،اُس نے اپنی اولاد کو بلایا کہ تم قربان ہو جاؤ میں بچ جاؤں گا بچوں نے کہا ابا حضور آپ نے تو اپنی زندگی گذار لی ہے اگر آپ مر بھی گئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا جبکہ ابھی ہم چھوٹے ہیں آپ نے سب دیکھ لیا ہے ہم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے اس لئے مرنے والا کام آپ خود کریں ہمیں معاف فرمائیں ،ہر جگہ سے مایوس ہو کر وہ مرنے کے لئے راضی ہو گیا پھر اچانک اُس کو اپنی ماں یاد آئی،اپنی حکومت اور غرور کے چکر میں وہ اپنی ماں کو بھول گیا تھا اُس نے کہا میں اپنی ماں کو آخری سلام کر لوں بس ماں کے پاس پہونچا ماں کو کہا میرا آخری سلام قبول کریں ماں نے کہا بیٹا کیا بات ہے اتنا پریشان کیوں ہو بادشاہ نے اپنی ماں کو پوری تفصیل بتائی ماں نے کہا بیٹا بس اتنی سی بات،بیٹا جب تو پیدا ہوا میں نے دودھ پلایا،جب تو بیمار ہوا میں نے رات دن تیری خدمت کی،تو گرا میں نے تھاما،تو بڑا ہوا تیری شادی کی،ہمیشہ ماں قربانی دیتی ہے تو کیا آج میں قربانی نہیں دوں گی بیٹا تیری جگہ میں مرنے کے لئے تیار ہوں بادشاہ اپنی ماں کے قدموں میں گر گیا کہ مجھ کو معاف کر دیں ،ماں میں تجھ کو مرتے نہیں دیکھ سکتا اﷲ کو یہ بات اچھی لگی اور بادشاہ کو معاف کر دیا،ویسے تو یہ ایک کہانی تھی لیکن فرض کریں ایساحقیقت میں ہو جائے تو سوچیں کون ہے آپ کا چاہنے والا جو آپ کی جگہ پر مرنے کے لئے تیار ہو گایہ سوچنے کا مقام ہے میرے خیال سے وہ ماں ہے جو اپنے بیٹے کو اپنے سامنے مرتا نہیں دیکھ سکتی ،یہ دولت ،رشتہ دار،اولاد ،مقام ،حیثیت ،طاقت کا اُسی وقت پتہ چلتا ہے جب مصیبت آتی ہے ابھی وقت ہے سوچ لیں بے شک یہ دنیا فانی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 149505 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 468

Comments

آپ کی رائے