وِگ اور نماز!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)
وِگ کا رواج کب سے ہے، اور اس کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے، یقینا یہ پرانی کہانی ہے، مگر بھارت میں دارالعلوم دیوبند نے ایک تازہ فتویٰ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے وگ لگا کر نماز پڑھنے سے نماز مکمل نہیں ہوتی اس لئے اس کام سے گریز کیا جائے۔ کچھ لوگ سر کے بالوں سے محروم ہو تے ہیں، جوانی تک تو بال ساتھ نبھاتے ہیں، مگر بعض لوگوں کے جلد یا بدیر بال ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان گنجا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا، مگر یار لوگ اس صورتِ حال میں بالوں سے محروم افراد کو مذاق کانشانہ بناتے اور بعض اوقات ان کی تضحیک پر اتر آتے ہیں۔ یہ بھی نہیں کہ گنجا ہونے والے صاحب کی شخصیت پر کوئی دھبا لگ جاتا ہے، بلکہ گنجا پن سے شخصیت میں نکھار آجاتا ہے، انفرادیت پیدا ہو جاتی ہے، کسی بھی طرح ایسے لوگوں کی شخصیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ اس مسئلے کو ایک بڑی خامی (یا کمی) تصور کرتے ہیں، جس کی بنا پر انہیں اس کمی کو راز رکھنے کے لئے بہت سے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ہم مستقل ہی سر پر کسی نہ کسی طرح کی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھتے ہیں، ٹوپی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے، جس کے بغیر وہ ادھورے سے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے، جو اپنی اس ’خامی‘ کو چھپانے کے لئے ٹوپی کا تکلف کرتے ہیں۔ عمر کچھ زیادہ ہو جائے تو جناح کیپ کو اپنے لباس کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ بالوں سے محروم لوگوں کے بہت سے لطیفے بھی موجود ہیں، ہمارے ہاں یہ ایک المیہ ہے کہ لطیفے اکثر دوسروں کی تضحیک پر مشتمل ہوتے ہیں۔

ٹوپی اور پگڑی وغیرہ تو عام دیکھنے میں آتی ہے، جس کی اوٹ سے کسی کو اندر کی کہانی کا علم نہیں ہوتا، اس کے علاوہ بھی ایک طریقہ اس کمی پر پردہ ڈالنے کا ہے، وہ ہے وِگ۔ یہ اگرچہ بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں، ایسے حساس لوگوں نے اپنی محرومی پر وگ کا پردہ ڈال لیا تو گویا ایک مستقل مسئلے کو اپنے گلے ڈال لیا۔ اس راز کو راز رکھنے کا تقاضا ہے کہ احتیاط کا دامن سختی سے تھاما جائے، ایمرجنسی یا جلدی بھی ہو تو یہ سجاوٹ سر پر سجا کر ہی باہر نکلنا پڑتا ہے۔ دیگر چیزوں کی طرح وگ کی بھی بہت سی قسمیں ہوتی ہونگی، اس لئے ذرا سستی قسم کی وگ سے دوسروں کو کسی حد تک اندازہ ہو جاتا ہے، کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ اگر یہ کسی اچھے برانڈ کی درآمد ہو تو پردہ رہ سکتا ہے۔ وگ اچھی ہو یا بری، اس کو مستقل سر پر چپکائے رکھنے کے لئے بہت سے مسائل کا مستقل سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وگ پوش حضرات ہر میدان میں ہوتے ہیں، مگر زیادہ شہرت سیاستدانوں کو ہی ملتی ہے، کیونکہ وہ ٹی وی چینلز پر بھی نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو وگ کے نام پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ یہ راز کبھی فاش نہیں ہوا، اور کوئی سیاستدان ایسا سامنے نہیں آیا جو اچھے بھلے بالوں والا تھا اور قوم نے دیکھا کہ وہ یکایک گنجا ہوگیا۔

اب آئیے ذرا مذکورہ بالا فتوے کا جائزہ لیا جائے، وگ چونکہ مکمل راز ہے، اور بعض اوقات تو وگ لگانے والوں کے گھر والوں کے علاوہ کسی کو اس کا علم نہیں ہوتا ، اس لئے جب یہ لوگ مسجد میں نماز ادا کریں گے تو وگ کا کیا کریں گے؟ اگر نماز کے وقت وگ اتار کے رکھتے ہیں، تو عجیب محسوس ہوتا ہے، وگ لگانے والے فرد کو مزید تنقید اور مذاق کا نشانہ بننا پڑے گا۔ اور اگر وہ نماز سے قبل وگ نہیں اتاریں گے تو پھر ان کے دل میں عجیب وسوسے آتے رہیں گے، آیا ان کی نماز کسی منزل کو پہنچی بھی سہی یا بس یہ پریکٹس خالی اٹھک بیٹھک اور چند ٹکروں تک ہی محدود ہے؟ جب دل میں طرح طرح کے وسوسے ہوں تو نماز کی حالت کیا ہوگی؟ اگر دارالعلوم کے مفتی حضرات کچھ گنجائش نکال لیتے تو وگ کو ٹوپی بھی قرار دے سکتے تھے، آخر سر پر کوئی ٹوپی، رومال یا کپڑا وغیرہ رکھنے کا بھی یہ لوگ سخت حکم جاری کرتے ہیں۔ دیکھیں اب اس دارالعلوم کے پیرو کار کیا راستہ اختیار کرتے ہیں، فتوے پر عمل کرتے ہیں یا اس پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہیں،کیونکہ دیگر مسالک کے ماننے والے تو اس فتوے کے پابند نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 598 Articles with 248863 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 485

Comments

آپ کی رائے