یاد ہو کہ نہ یاد ہو

(Zulqarnain Hundal, Gujranwala)
ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں
ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس
ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں
آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ ہے یاد مگر خدا نہیں
علامہ محمد اقبال کے یہ اشعار ہماری اور ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔چودہ اگست یوم آزادی کے دن کا سورج بھی غروب ہو چکا ہے۔یہ آزادی کا دن تھا ۔دن کچھ مصروف گزرا مصروفیت ایسی کہ سوسائیٹی میں چھوٹے بچوں سے ملا جو کہ پاکستانی جھنڈوں والے بہترین کپڑوں میں ملبوس تھے۔جنکے چہروں پر پاکستانی جھنڈوں کی پینٹنگ بنی ہوئی تھی ہاتھوں میں جھنڈ اور کپڑوں پر اسٹیکرز لگے ہوئے تھے۔بچوں سے کچھ سوالات کئے مگر مایوسی ملی کیونکہ بچوں کو پاکستان کی تاریخ بارے کچھ علم نہیں تھا سوائے کچھ رٹے ہوئے جوابات کے۔کچھ عرصہ و سال پہلے بچے بزرگوں سے پاکستان کی تاریخ پر کہانیاں سنا کرتے تھے جو برسوں یاد رہتیں اور زہن میں حقیقی نقشہ کھینچتیں۔نہ تو وہ پرانے بزرگ رہے اور نہ ہی ویسے بچے ۔وقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا روایات رسم و رواج بدل گئے بلکہ دوسر ے طاقتور ملک اپنی روایات کو ترقی پذیر ممالک میں بھی رائج کر چکے۔خیر چھوڑئیے بچے تو بچے ہوتے ہیں۔بڑوں کی محفل میں بیٹھا اور ما یوس ہوا ۔آزادی کے متعلق کوئی لفظ نہ سنا پلاٹس کے ریٹ اور گاڑیوں کی قیمت کے بارے سنا۔اچانک سوچتے سوچتے مجھے ایک دوست کی باتیں یاد آگئیں۔موصوف خود کو کافی لبرل و آزاد خیال اور دانشور سمجھتے ہیں۔ایک سیاسی لیڈر پر بحث تھی جناب کو وہ لیڈر بہت پسند ہیں ۔میں نے بات کاٹ کر قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ایسے ہوتے ہیں لیڈر۔جناب نے میری ساری دلیلوں کو رد کر کے کہہ دیا کہ جناح انگریزوں کا ہم خیال تھا۔جناح نے ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہم ہندوستان میں ہوتے تو آج دنیا میں زیادہ مقام ہوتا۔یقین مانئے دل تو چاہا کہ اس شخص کو زناٹے دار دو چار تھپڑ رسید کروں مگر ایسا کر نہ پایا۔دل میں غصہ لئے میں نے اس شخص کو آزادی کتنی بڑی نعمت ہے کی دلیلیں دیں مگر وہ جنونی و پاگل شخص قائداعظم کو لیڈر ماننے کو تیار نہ تھا پاکستان کی عزت کو پامال کرتا جا رہا تھا۔میرا غصہ بھانپ کر یہ کہہ کر رخصت ہوگیا کہ یہ ہے پاکستان جہاں تم خود محفوظ نہیں جہاں تمہارا جان و مال خطرے میں ہے۔میرا بس چلتا تو اسے اسی وقت پاکستان سے چلتا کرتا۔مگر پاکستان ایک آزاد ریاست ہے میں ایسا نہ کر سکا۔ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہمارے معاشرے میں موجود ہے جو کرتے کچھ ہیں ان کی زبان کچھ کہتی ہے۔رہتے پاکستان میں ہیں لیکن سوچ کسی اور وطن کی عکاسی کر رہی ہوتی ہے۔یہ لوگ پاکستان کا کھاتے ہیں پاکستان کا پیتے ہیں اور پاکستان کا ہی پہنتے ہیں مگر زبان دوسروں کی بولتے ہیں۔انہیں غدار کہنا مناسب ہوگا۔اب ہم سب کو بھانپنا ہوگا کہ کون غدار اور کون پاکستانی۔ایسے لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں کہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔واقعی تمہیں کچھ علم نہیں ۔تمہیں سبز ہلالی پرچم کی پہچان نہیں ۔تم نہیں جانتے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔تم نہیں جانتے کہ کیوں پاکستان آزاد ہوا۔ہر گز نہیں تم کچھ نہیں جانتے تمہیں تاریخ کی حقیقت کا کوئی علم نہیں۔تم بنی بنائی سازشی کتابوں کی زد میں ہو۔تمہاری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔اﷲ سے دعا کرو کے سیدھا رستہ دکھائے۔تم لفظ آزادی سے آشنا نہیں کہ آزادی کیا ہے۔کیونکہ تمہیں کبھی کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے شاید میں بھی بیان نہ کر سکوں۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کو جھٹلانا بھی کفر سمجھتا ہوں۔آج ہم پاکستان میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔مگر یاد نہیں علم نہیں کہ اس آزادی کے حصول کے لئے کتنی قربانیاں دینا پڑیں۔لاکھوں لوگوں(اپنوں) کا خون ہے اس آزادی کے پیچھے۔یوں آسانی سے یہ وطن حاصل نہیں ہوا۔بڑی تحریکیں چلانا پڑیں۔دن رات ایک کرنا پڑا۔متعدد سالوں کی سخت محنت سے حاصل ہوا یہ وطن۔ہمیں کیا علم آزادی کیا ہے۔ہم گھروں میں بیٹھے صرف ٹیلی ویژن پر ہی آزادی کو بھانپ سکتے ہیں۔آزادی کا تو فلسطین والوں سے پوچھئے آزادی کا مفہوم کشمیریوں سے دریافت کیجئے۔وہ بتائیں آپکو کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔آج ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں ہمیں کوئی روکنے والا نہیں کیوں کہ ہم آزاد ہیں۔مگر افسوس کہ جس شخص قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی بیماری کو پس پشت رکھ کر دن رات وطن عزیز پاکستان کے لئے محنت کی جس کی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں اور منہ بڑھا کر جو مرضی بول دیتے ہیں اسے ہی برا بھلا کہتے ہیں کیوں کہ اس نے ہمیں آزادی دلائی۔علامہ محمد اقبال جس نے دو قومی نظریہ پیش کیا جس نے پاکستان ایک آزاد ریاست کا خواب دیکھا اس کو بھی برا بھلا کہتے ہیں اور اپنے اندر جھانکتے ہی نہیں کہ جن کے بار ے ہم باتیں کر رہے ہیں کیا ہم ان کے متعلق کچھ کہنے کے لائق بھی ہیں کہ نہیں۔ہمیں اپنے محسنوں کی پہچان نہیں رہی۔سن لو آزاد خیال لوگو تمہارے سامنے تمہارے خاندان کے کوئی ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تم کچھ نہ کر سکو تو تم جانو کہ آزادی کس نعمت کا نام ہے۔ہمارے بزرگوں نے اپنے خاندان گھر بار زمین و جائیداد سب کچھ آزادی کی خاطر قربان کر دیامگر غلامی کو تسلیم نہ کیا تاکہ ان کی آنے والی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں۔ہندوستان میں رہتے تو غلامی ہی تمہارا مقدر ٹھہرتی۔آزادی کتنی عظیم نعمت ہے ہندوستان میں مقیم مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں سے دریافت کرو ۔ کس طرح ظالم انتہا پسند ہندو انہیں ذلیل کر رہے ہیں انکی عزتیں اچھال رہے ہیں اور ان ظالموں کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ان سے پوچھو تو تمہیں بتائیں کہ آج انہیں ایک اور جناح کی کتنی ضرورت ہے۔آج وہ آزادی کے لئے کتنا ترستے ہیں۔اے نام نہاد پاکستانیو نہیں تمہیں کچھ یاد نہیں۔تم اپنا مذہب اپنی روایات اپنا مان اپنی عزت سب بھول چکے ہو۔تم احسان فراموش ہو چکے ہو۔تم باتوں میں ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہو اور حقیقت میں زمین پر قدم رکھنے کے لائق بھی نہیں۔تمہیں یاد نہیں علم نہیں کہ گاندھی اور نہرو نے مسلمانوں کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔عورتوں کی عزتیں اچھالیں بچوں کو تلوارں پر سسکایا مردوں کو زندہ جلایا۔ظلم کی انتہا کر دی انتہا پسندوں نے۔آسانی سے وطن حاصل نہیں ہوا ۔بزرگوں بڑوں عورتوں اور بچوں کی قربانیوں نے اس آزادی کی دیوار کو قائم کیا ہے۔تم لوگ بلکہ ہم سب جن کے ہم خیال بننا چاہتے ہیں۔وہ تو ابھی بھی پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں شاید ہمیں یاد نہیں وہ ازل سے ہی ہمارے دشمن ہیں۔وہ اپنے میڈیا کے زریعے ہم جیسے احسان فراموش لوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں۔اور ہمیں غدار بنانا چاہتے ہیں۔آج ہمارا وطن مشکلات سے دو چار ہے صرف ان ملک دشمنوں اور ان کے ہم خیالوں کی وجہ سے۔ہم اپنے انٹیلی جنس اداروں اپنے محافظوں کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں مگر اپنے ارد گرد غداروں کو نہیں پہنچانتے۔اپنے اندر نہیں جھانکتے کہ آیا ہم کس سمت میں چل رہے ہیں؟ ہمارا فرض بحثیت پاکستانی کیا ہے؟۔ہمیں کس سمت چلنا چاہیے؟۔آج ہم نام کے مسلمان کیوں ہیں؟۔ ہم اسلام سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟۔افسوس کہ ہم احتساب کا نام تو لیتے ہیں مگر کبھی اپنا اپنی ذات کا احتساب نہیں کرتے؟۔ہمیں خود کے اندر جھانکنا ہوگا سب سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ آیا ہم محب وطن پاکستانی ہیں؟۔کیا ہم سچے مسلمان ہیں؟یا ہمارے اندر کوئی خامی ہے؟ اسے دور کرنا ہوگا۔ہمیں اپنی حالت خود بدلنی ہوگی آسمان سے کوئی فرشتہ اتر کر ہماری حالت نہیں بدلے گا۔اﷲ رب العزت بھی انکی مدد کرتا ہے جو قومیں اپنی مدد آپ کریں۔ہمیں اپنی تاریخ کا کوئی بھی حصہ بلکہ کچھ بھی یاد نہیں۔ہمیں یاد کرنا ہوگا اور اپنی نسل تک منتقل کرنا ہوگا۔یوں قومیں اپنی تاریخ و روایات نہیں بھولتیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ch Zulqarnain Hundal

Read More Articles by Ch Zulqarnain Hundal: 122 Articles with 65566 views »
A Young Pakistani Columnist, Blogger, Poet, And Engineer
Member Pakistan Engineering Council
C. E. O Voice Of Society
Contact Number 03424652269
.. View More
16 Aug, 2016 Views: 377

Comments

آپ کی رائے
bohat khob
By: hina majid, Karachi on Aug, 16 2016
Reply Reply
0 Like