ہواہے شہ کامصاحب پھرے ہے اِتراتا

(محمدشارب ضیاء رحمانی, New Delhi)
ظاہرہے کہ قومی کونسل، اردوزبان کے فروغ کیلئے ہے،انگریزی کے فرو غ کیلئے نہیں۔ میگزین میں صرف جزوی طورپرچارپانچ صفحات اردوکے ہیں،چنانچہ اسی پرانہیں گرانٹ مل جاناچاہئے تھا،اردوکی ساری بقااوراس کی فلاح انہی چارپانچ صفحات پرمنحصرہیں۔جب کونسل نے درخواست نامنظورکردی توڈائریکٹراورقومی کونسل میں بدعنوانی نظرآنے لگی۔ اگراصول کونظراندازکرکے گرانٹ مل جاتاتواب جنہیں وہ خائن کہہ رہے ہیں وہ خادم ہوجاتے۔یہ ساراڈراماانتقاماََاوراپنی ذاتی اناکی تسکین کیلئے ہے،ذاتی اناکوٹھیس پہونچنے پریہ سب ڈھکوسلہ کیاجارہاہے اوربس۔
خبرآئی ہے کہ ان دنوں ڈاکٹرجسیم محمدصاحب اردوکی بہی خواہی میں دبلے ہوتے جارہے ہیں۔ان کے مطابق قومی کونسل کے ڈائریکٹرانتہائی بدعنوان ہیں،اردوزبان، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کی بدعنوانی کی وجہ سے سخت چیلنجزکاسامناکررہی ہے۔واضح ہوکہ ڈاکٹرجسیم محمدفی الحال اپنی قربت وزیراعظم نریندرمودی سے ثابت کرنے کی ان تھک کوشش میں مصروف عمل ہیں۔اسی سعی میں انہوں نے وزیراعظم کی سوانح تک لکھ ڈالی ۔ساتھ ہی مستقل بی جے پی نوازی پرمبنی ان کے بیانات ومضامین اخبارات پڑھنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہیں۔انہوں نے ایک موقعہ پرمسلم نوجوانوں پراشاروں میں ہی دہشت گردی کاالزام بھی لگایاہے۔تعجب اس پرہے کہ ایسی عظیم خدمات انجام دینے کے بعدمزیدمقبولیت حاصل کرنے کیلئے کسی احتجاج کی کیوں ضرورت پڑگئی؟۔یہ یقین ہی نہیں ہورہاتھاکہ یہ واویلاڈاکٹرصاحب کی طر ف سے ہے کیونکہ اس سے قبل اپنے مفصل مضمون میں این سی پی یوایل کے ڈائریکٹرپروفیسرارتضیٰ کریم کی وہ خوب قصیدہ کرچکے ہیں۔ان کی صالحیت وصلاحیت کی تعریف کے ساتھ ساتھ انہیں قومی کونسل کے لائق ترین ڈائریکٹربھی بتایاہے ۔پھرایساکیسے ہوگیاکہ اچانک کونسل،اردوکی دشمن ہوگئی،ڈائریکٹرصاحب بدعنوان ہوگئے جس سے اردوکوزبردست خطرہ لاحق ہوگیا۔ذیل کی سطروں میں ہم اسی کاجائزہ لیں گے۔ساتھ ہی ڈاکٹرجسیم محمدکی خدمات پربھی روشنی ڈالی جائے گی جس سے ابتدائیہ کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے ۔اس کے بعدقارئین کوفیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے۔موضوع غیرجانبداری اورصحافتی تجزیہ کے ساتھ ساتھ سنجیدگی کامتقاضی ہے۔

سب سے پہلے ہم ان کی کتاب ’’فرش سے عرش تک‘‘کاجائزہ لیتے ہیں۔8مارچ کی پریس ریلیزکے مطابق ’’فرش سے عرش تک‘‘نامی وزیراعظم نریندمودی کی سوانح کی رسم اجراء، خودپی ایم نے نئی دہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں کی۔(کتاب کے نام سے ان کی بدعقیدگی کااندازہ لگایاجاسکتاہے)کتاب کے مصنف ڈاکٹرجسیم محمدنے بتایاکہ وہ ووزیراعظم مسٹرنریندرمودی کی زندگی اوران کی’’ خدمات‘‘سے حددرجہ ’’متاثر‘‘رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے متاثرہوکرہی فرش سے عرش تک لکھی جس کی پہلی جلدعلیشاپبلیکشنرپرائیوٹ لمیٹیڈعلی گڑھ نے شائع کی ہے۔وزیراعظم نے بھی ڈاکٹرجسیم محمدکی ’’کاوشوں کودل کھول کرسراہا‘‘۔(ملاحظہ ہوں9مارچ2016کے اخبارات)۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی جلدمیں نریندرمودی کی مکمل حیات اوران کی حصولیابیوں پرتفصیل سے گفتگوکی گئی ہے۔البتہ دوسری جلدکاموضو ع اورپھرہدف معلوم نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ متعددبارڈاکٹرصاحب مسلمانوں کوپیغام دینے کی کوشش کرتے رہے کہ مودی حکومت بہت بہترکام کررہی ہے ۔انہوں نے اشاروں اشاروں میں مسلم نوجوانوں کودہشت گردی سے بازرہنے کی تلقین کرتے ہوئے گویایہ بتانے کی کوشش کی یہ ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہیں جن کی وجہ سے دیش کی ترقی کونقصان پہونچ رہاہے،کم وبیش وہی زبان جوآرایس ایس اوراس کے ہم نوااستعمال کرتے رہے ہیں۔چنانچہ12فروری2016کے ان کے مضمون بعنوان ’’قول کی نہیں عمل کی راہ اختیار کی جائے‘‘، میں اس کی واضح جھلک نظرآتی ہے۔ان کے مضمون کااقتباس پیش کرتاہوں۔

’’اگر ملک کو دہشت گردی کے خطرات لاحق ہیں تو مرکزی حکومت کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف کئے جا رہے اقدامات کو مسلم تنظیموں کا اسلام اورمسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا جانا نہ صرف ملک میں فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنا ہے بلکہ ملک کے تحفظ کے لئے بھی مضر ہے۔ان مطالبات سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت بغیر کسی سبب کے مسلم نوجوانوں کو اپنا ہدف بنا رہی ہے۔یہ سچ ہے کہ حکومت کے ہر اقدام میں شفافیت کا ہونا لازم ہے لیکن اس طرح دہشت گردی کے خلاف کئے جا رہے اقدامات کو سازش قرار دیاجانابھی ملک کے تحفظ اور مسلم نوجوانوں کے مستقبل دونوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہونے امکان ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے شہروں و قصبات میں مسلم نوجوانوں کے درمیان جاکر ان کے مسائل کو حل کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے تعلق سے بیدارکرنا چاہئے۔یاد رکھیں نریندر مودی کسی ایک قوم یا طبقہ کے نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیرِ اعظم ہیں اور پھر وہ انتخابات کے دور سے ہی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرے دیتے چلے آرہے ہیں اور اس پر کاربند بھی ہیں‘‘۔

بے سرپیرکے الزامات کے بعدان کی یہ اپیل ملاحظہ فرمائیں۔’’میری مسلم نوجوانوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے دوررہیں۔وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کے درمیان اسلام کے حب الوطنی، حصولِ علم، امن و آشتی اوربھائی چارے کے پیغام کو عام کیاجائے۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی ہند، جمیعۃ علمائے ہند اور مسلم مجلس مشاورت سمیت متعدد مسلم تنظیمیں آج کل پریس کانفرنسوں اور بیانات کے توسط سے یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ ملک کے مسلم نوجوانوں کا مستقبل از حد خطرے میں ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں پرجب بھی ہندوستان میں کوئی آزمائش کی گھڑی گزری ہے ملک میں موجود مسلم تنظیموں اور مسلم لیڈران سے زیادہ ہمدرد ملک کا سیکولر طبقہ ثابت ہوا ہے جس نے قدم قدم پرمسلمانوں کی حمایت کی ہے، مسلم نوجوانوں کے تحفظ کے لئے وہ وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں جن کا تصور بھی مسلم تنظیمیں نہیں کرسکتیں‘‘۔

قربان جائیے ایک ایک لفظ پر،پڑھئے اورسردھنئے،کیااب یہ بتاناہوگاکہ یہ ساراڈرامہ کیوں اورکس لئے برپاکیاجارہاہے۔ دال میں کالاہی نہیں پوری دال کالی ہے۔دورِحاضرمیں بھی میرجعفروصادق تلاش کرنے سے نہیں، تھوک کے بھاؤمیں مل جاتے ہیں۔بہرحال جس موضوع پرہنگامہ بپاہے ، اس کے حقائق سے قبل ایک بارپھرڈاکٹرجسیم محمدکی یہ تحریربھی نظرنوازہوجس میں موجودہ ڈائریکٹرکی جم کرقصیدہ خوانی کی گئی تھی۔ ’’کونسل کوسربراہ ایک سے بڑھ کر ایک بہترملے لیکن کونسل کے قیام کے مقاصد کی روح جس سربراہی کی خواہاں تھی وہ اب جاکرپروفیسر سید علی کریم (ارتضیٰ کریم) کی صورت میں ملی جس نے نہ صرف قومی کونسل کی روح کو سمجھا بلکہ اس کو اس کے قیام کے مقاصد کے پیش نظررفتار دینے میں سرگرم عمل بھی ہوگیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم جیسا با علم اورباصلاحیت انسان جس ادارہ کا ڈائرکٹر ہو اس کو ترقی و کامرانی کے آفاق تک پہنچنے سے کون روک سکتا ہے لہٰذا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) نے ان کی سربراہی میں ترقی کے منازل طے کرنا شروع کردیے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اپنے قیام کے مقاصد کی جانب برق رفتاری سے بڑھ ہی نہیں رہی بلکہ ان کو نہایت فعال طور پر پورا بھی کر رہی ہے جس کی اب تک کمی محسوس کی جا رہی تھی‘‘۔

لیکن اب ڈاکٹر جسیم محمد کو تمام محبان اردو سے اپیل کرنی پڑی ’’ اردو اور این سی پی یو ایل کی فلاح و بقاکے لیے بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کریں۔ان کاالزام ہے کہ پروفیسرارتضیٰ کریم کے ڈائریکٹر بننے کے بعدسے این سی پی یو ایل میں بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں ۔ ‘‘(پریس ریلیز27مئی2016) ۔ اس معاملہ پرکی گئی تحقیق اورمعروف صحافی جناب عابدانورکے مطابق’’ ڈاکٹرجسیم محمدنے قومی اردوکونسل برائے فروغ اردوزبان میں’’ بلک پرچیزاسکیم‘‘ کے تحت اپنی ’’انگریزی میگزین‘‘داعلی گڑھ مومنٹ خریداری کیلئے جمع کرایاتھا۔انگریزی میگزین ہونے کی وجہ سے نامنظورکردیاگیا۔کونسل کافیصلہ ایماندارانہ ،منصفانہ اورضابطہ کے تحت تھا۔اس پرمحمدجسیم صاحب کوغصہ آگیاہے۔اورانہیں نہ صرف اردوزبان بلکہ قومی اردوکونسل برائے فروغ اردوزبان بھی خطرے میں آنے لگی ہے۔ان کاپرچہ منظورنہیں ہواتواب اردوزبان ہی ڈوبنے لگی‘‘۔

ظاہرہے کہ قومی کونسل، اردوزبان کے فروغ کیلئے ہے،انگریزی کے فرو غ کیلئے نہیں۔ میگزین میں صرف جزوی طورپرچارپانچ صفحات اردوکے ہیں،چنانچہ اسی پرانہیں گرانٹ مل جاناچاہئے تھا،اردوکی ساری بقااوراس کی فلاح انہی چارپانچ صفحات پرمنحصرہیں۔جب کونسل نے درخواست نامنظورکردی توڈائریکٹراورقومی کونسل میں بدعنوانی نظرآنے لگی۔ اگراصول کونظراندازکرکے گرانٹ مل جاتاتواب جنہیں وہ خائن کہہ رہے ہیں وہ خادم ہوجاتے۔یہ ساراڈراماانتقاماََاوراپنی ذاتی اناکی تسکین کیلئے ہے،ذاتی اناکوٹھیس پہونچنے پریہ سب ڈھکوسلہ کیاجارہاہے اوربس۔عابدانورنے یہ بھی درست سوال اٹھایاہے کہ اترپردیش میں اردوکی بدحالی پروہ کیوں خاموش ہیں؟۔وہاں اردوسے محبت کہاں چلی گئی؟۔دہلی کے ایک اورمعروف صحافی جناب ڈاکٹرزین شمسی نے بھی جسیم محمدکی بدعنوانیوں اوراس معاملے کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے ان کی جعلسازی کی تفصیل بیان کی ہے۔واضح رہے کہ اس تحریرکامقصدکسی کی حمایت یاوکالت ہرگزنہیں ہے ،بلکہ یہ وضاحت ہے کہ ان ڈھکوسلوں کے پیچھے کیامقاصدکارفرماہیں۔مسلمانوں کاصرف اب مصرف یہی رہ گیاہے کہ وہ اپنوں کے خلاف استعمال ہوں،تعمیری ذہن وفکرکافقدان ہے ،تخریبی امورمیں مہارت ہے۔مسلم ریزرویشن اوراے ایم یوکے اقلیتی کردارسمیت کئی اہم ایشوزتھے جن پرتعمیری کوشش کی جاسکتی تھی ۔ غیروں پربھروسہ اوراپنوں پرشک کا ہمارامزاج بن گیاہے ۔بہرحال ادارہ اہم ہے ،کسی سے کسی کوذاتی اختلاف ہوسکتاہے لیکن اس کے لئے ادارہ کونشانہ پرلینامخلصانہ طرزِعمل نہیں کہاجاسکتا۔ ادارہ کامفاداس میں نہیں ہے کہ اسے بدنام کیاجائے۔بلیک میلنگ کے اس دھندھے کواہل نظر سمجھتے ہیں۔اس معاملہ کافروغ اردویازبان کی بھلائی سے کوئی لینادینانہیں ہے ۔یہ اس قوم کاالمیہ ہے کہ لوگ ذاتی مفاداورذاتی معاملہ کوقومی رنگ دے بیٹھتے ہیں۔بسااوقات مفادپرست عناصر جب کسی سے قربت حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو الزامات گڑھ کربلیک میلنگ کاسہارالیتے ہیں تاکہ اگلاشخص اس کے شرسے بچنے کیلئے اسے اپنے قریب کرلے۔اس طرح کی بلیک میلنگ کیلئے وہ علی گڑھ میں کافی معروف ہیں۔ایسے ڈھکوسلے بازوں سے ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے ۔اپنی اناکی تسکین کیلئے قومی اورلسانی ہمدردی کاراگ الاپنااوراپنے مفادکیلئے ادارہ کوبدنام کرناسراسراردودشمنی ہے،بلیک میلنگ ا ورگمراہ کن اقدام ہے جوسوانح نگارِمودی سے بعیدازقیاس نہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Md Sharib Zia Rahmani

Read More Articles by Md Sharib Zia Rahmani: 43 Articles with 22144 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Aug, 2016 Views: 303

Comments

آپ کی رائے