قانون شکنی کا مرض اور ہمارا معاشرہ

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
قوانین کا احترام معاشرے کے ہر فرد کی اولین ذمہ داری ہے، چاہے فرد کا تعلق حکمران طبقے سے ہو یا عام شہری ہو۔عدل و انصاف پہ مبنی معاشرے میں کوئی بھی فرد یا گروہ قانون سے بالا تر نہیں ہوتا۔اگر معاشرے میں قانون کی عمل داری نہیں ہو گی، قانون کا احترام مفقود ہو گا تو ایسا معاشرہ کبھی بھی انسانی قدروں کا حامل نہیں بن سکتا۔لاقا نونیت کے نتیجے میں انارکی، تشدد، کمزروروں کاا ستحصال اور ظلم وبر بریت معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں۔قوانین کے بارے میں آگہی ہر شہری کی ذمہ داری ہے کوئی قانون کی خلاف ورزی کا یہ جواز نہیں دے سکتا کہ وہ اس سے بے خبر تھا۔لہذا قانون سے آگہی رکھئے اور ان پہ عمل در آمد اور احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے اسی میں پورے معاشرے کی بھلائی اور استحکام پوشیدہ ہے۔
انسانوں کو باہمی مل جل، امن و خوشحالی سے زندگی گذارنے کے لئے قوانین کی ضرورت پڑتی ہے، قانون کا دائرہ انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک پھیلا ہوتا ہے،انسانی زندگی کی تمام ضروریات کا تحفظ قانون کرتا ہے، مثلا تعلیم، صحت، رہائش، خوراک، ماحولیات، عزت نفس کا تحفظ، جان ومال کا تحفظ ۔ان تمام بنیادی حقوق کا تحفظ قانون کی موجودگی اور اس کے عمل در آمد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ قانون کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے جہاں امن وامان ہو اور مسائل کا انسداد کیا جائے۔قانون چونکہ انسانوں کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں لہذا ان پہ عمل کرنا یا نہ کرنا انسانوں پہ منحصر ہوتا ہے۔اگر ان پہ عمل ہو تا ہے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں اور اگر عمل نہ کیا جائے تو اس کے برے نتائج معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

اگر کسی معاشرے میں لوگوں کی زندگی کو چلانے کے لئے کوئی باقاعدہ نظام قانون موجود نہیں ہو گا تو پھر اس معاشرے میں انسانوں کا اپنی زندگی کو جاری رکھنا محال ہو جاتا ہے۔اگرمعاشرے میں لا قانونیت ہے توہر فرد معاشرہ اپنی مرضی اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گذارنے کی کوشش کرے گا، وہ اپنے مفادات کے لئے، چوری، ڈاکہ، قتل، زنا، کرپشن، وغیر کرنے میں آزاد ہو گا، اپنی مرضی کے اصول اور اپنی مرضی کا انصاف معاشرے میں لاگو کرے گا، اپنے خلاف ہونے والے مظالم کا خود بدلہ لے گا۔اگر معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی تو معمولی سی بات ایک بڑے جھگڑے اور فساد کا باعث ہو گی، اور رفتہ رفتہ یہ ایک بیماری کا طرح پوری سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ہر شخص اپنے نظریات اور اپنے اصول دوسروں پہ مسلط کرے گا اور، ہر شخص اپنے طریقے پہ زندگی گذارنے کی کوشش کرے گا، معاشرے کی کیفیت ایک جنگی میدان کی طرح ہو جائے گی جہاں ہر فرد دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائے گا۔
معاشرے کو پر امن، اور آپس میں شیر وشکر رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس میں ایسے قوانین کا نفاذ ہو جس سے سب کے حقوق کا تحفظ ہو، کوئی بھی فرد دوسرے کو کسی بھی طرح کا نقصان نہ پہنچا سکے۔اسی انسانی ضرورت کے تحت روز اول ہی سے انسان نے سماجی زندگی کی تشکیل کے لئے اور اسے ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لئے قوانین تشکیل دئیے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیاں لاتے چلے گئے۔ان قوانین کا دائرہ زندگی کے ہر شعبے تک پھیلتا چلا گیا، شعبہ قوانین و انصاف وجود میں آگئے، جمہوریت نے اس کو مزید وسعت دی اور لوگ اپنے نمائندے قانون ساز اداروں میں منتخب کر کے بھیجنے لگے اس سے زیادہ سے زیادہ ایسے قوانین بننے لگے جو لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے لگے۔

اب قانون کی اہمیت اور اس کا عصری تقاضوں کے مطابق ہونا اور پھر اس پہ معاشرے میں عمل در آمد ہونا انتہائی اہم ہوتا ہے۔کوئی بھی قانون اس وقت ہی نتائج پیدا کر سکتا ہے جب اسے بلا امتیاز سو فیصد معاشرے میں لاگو کیا جائے، اور افراد معاشرہ اس کا احترام کریں اور اس کے آگے سر تسلیم خم کریں۔کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ ہو، سب قانون کی نظر میں برابر ہوں۔قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے اور عوام دونوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کو یقینی بنائیں۔اگر معاشرے میں قوانین موجود ہیں لیکن وہ کسی خاص طبقے کا تحفظ کرتے ہیں، اور قانون کے رکھوالے خود قانون شکنی کریں، اور معاشرے میں کمزور افراد انصاف کے لئے ترسیں تو ایسا معاشرہ لا قانیت پہ مبنی معاشرہ کہلائے گا۔

اس تناظر میں آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں ہمارے ہاں بہت سارے قوانین موجود ہیں جن کے تحت پورے معاشرے کو عدل و انصاف کا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے، عدالتیں موجود ہیں، قانون ساز ادارے موجود ہیں، قانون پہ عمل در آمد کروانے والے ادارے بھی موجود ہیں، لیکن اگر کسی عمل کی کمی ہے تو وہ ہے قانون پہ عمل در آمد اور قانون کا خوف اور قانون کا احترام۔

سب سے پہلے معاشرے میں قانون سازی اور اس قانون پہ سو فیصد عمل در آمد کو یقینی بنانے کی اہم اور بنیادی ذمہ داری حکمران طبقے اور ریاستی اداروں کی ہے۔اس وقت تباہ کن صورتحال یہ ہے حکمران طبقات میں سیاستدان ہوں یا بیورو کریٹس، کسی سر کاری ادارے کا ادنیٰ و اعلیٰ افسر ہو یاتھانے کا سپاہی یاانچارج ہو یا کچہری میں انصاف دلانے کے لئے مقرر کیا گیا ذمہ دار ہو، سب اگر ایک پہلو پہ باہم متفق اورمشترک نظر آتے ہیں کہ اس ملک میں موجود تمام قوانین کو کس طرح وہ اپنے مخصوص مفادات کے لئے استعمال کریں۔معاشرے میں اس قدر عدم تحفظ کی فضا موجود ہے کہ قانون کو اس فرد یا گروہ کا ساتھی و معاون سمجھا جاتا ہے جس کا تعلق با ثر اور مالدار طبقے سے ہے۔تھانہ، کچہری، ایوان اس کا ہے، انصاف کے تمام تقاضے اس کے لئے ہیں جس کے پاس مالی یا ریاستی طاقت ہے۔جاگیرداروں، سرمایہ داروں، کے گٹھ جوڑ سے ملک کی افسر شاہی، اور قانون کے رکھوالے قانون کی کھلے عام دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں،ان کا بڑے سے بڑا جرم قانون کی دسترس سے باہر ہوتا ہے اور ایک عام آدمی کا چھوٹے سے چھوٹا جرم قابل تعزیر ٹھہرتا ہے۔آئے دن لاقانونیت کے واقعات اس افسوسناک حقیقت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں، جاگیردار، سیاستدان، بیورو کریٹس نے یا ان کے رشتہ دار نے یا ان کی اولاد نے سر عام قانون کو توڑا ،کسی کی جان لی، کسی عام شہری کی تذلیل کی، تشدد کیا، حبس بے جا میں رکھا، اس پہ کوئی گرفت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ تھانہ، کچہری، جیلیں اور معاشی وسائل کی طاقت سے انہوں نے قوانین کو اپنے گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے۔جب چاہتے ہیں اور جس کے خلاف چاہتے ہیں اس کو بھر پور استعمال میں لاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں سب سا بڑا ناسور’’ وی آئی پی کلچر‘‘ ہے، ہمارے ہاں اس کلچر کی حقیقی روح یہ ہے کہ کسی قانون کی ایک وی آئی کے سامنے کوئی اہمیت نہیں، وہ جس طرح چاہے، ٹریفک قوانین کوتوڑ سکتاہے، وہ جس طرح چاہے، کسی تھانے، عدالت، کسی ادارے کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ سکتا ہے۔کسی گیٹ، کسی چوراہے، کسی خلاف ورزی کی بنا پر کوئی پولیس کا یا سیکورٹی کا فرد اس سے باز پرس کی ہمت نہیں کر سکتا۔اور یہ وی آئی کلچر صرف بالا دست طبقات تک محدود نہیں ہے، اس کا دائرہ ہر اس عہدیدار تک پھیلا ہوا ہے جو کسی نہ کسی اہم ادارے میں چاہے اس کی حیثیت ایک کم درجے کے افسر کی ہی ہے وہ اپنے آپ کو قانون سے بالکل بالا تر سمجھتا ہے۔ عام عوام الناس کو تو وہ کسی خاطر میں نہیں لاتا، کسی قطار میں کھڑا ہونا اس کی شان کے خلاف ہوتا ہے، کسی ٹول پلازے، کسی سیکورٹی گیٹ پہ اس کو کھڑا کرنا اور اس کی شناخت پوچھنا ایک بڑا جرم کہلاتا ہے،اس کلچر نے اس قدر اخلاقی گراوٹوں کو جنم دے دیا ہے کہ معاشرے میں اب صرف طاقتور اور کمزور کی ہی جنگ نظر آتی ہے۔

ائرپورٹس، سڑکوں، شاہراہوں، اداروں میں آئے دن یہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے یہ حکمران اور عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والے بیورو کریٹس وی آئی پی کلچر کو اس طرح سے معاشرے میں فروغ دے چکے ہیں کہ کسی قانون اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔ لوگ وی آئی کے گذرنے کی وجہ سے گھنٹوں سڑکوں پہ خوار ہوتے ہیں، بیمار لوگ سڑکوں پہ دم توڑتے ہیں،جب چاہیں یہ وی آئی پیز کسی ایماندار پولیس والے کو با زپرس کرنے پہ نوکری سے فارغ کر دیں، اس وی آئی پیز کلچر نے جس طرح قانون کو اور انسانوں کے حقوق کو ہمارے معاشرے میں مذاق بنا رکھا ہے شاید ہی کسی اور ملک میں ہو۔وہ طبقات جو قانون سازی کے ذمہ دار ہیں، خود قانون پاس کرتے ہیں اور خود ہی اس کی دھجیاں اڑاتے ہیں، قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جن کی ذمہ داری ہے کہ قانون کسی کو ہاتھ میں نہ لینے دیں خود اسی قانون کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔اب ایک عام شہری کیا کرے؟ کہاں جائے؟اس کے پاس ایک ہی چارہ ہے کہ اسے اگر انصاف چاہئے تو یا تو کسی ’’بڑے‘‘ کی منت سماجت کرے یا رشوت کا بندو بست کرے۔اگر یہ دونوں انتظامات نہیں ہو سکتے تو پھر یا تو عدالتوں کے چکر لگاگا کر ذلت سے ہمکنار ہو اور یا جیل میں پڑا سڑتا رہے۔اور اگر ان دونوں کی سکت نہیں تو اپنی ذلت پہ قناعت کر کے، اپنے حقوق اور عزت نفس کو قربان کر دے اور خاموشی سے سب کچھ سہتا رہے۔
اب حکمران طبقات کی اس قانون شکنی اور عدم احترام کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا معاشرہ قانون شکنی کی لت کا شکار ہو گیا، ہر آدمی نے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کو سعادت سمجھ رکھا ہے، اس کے مظاہر آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں جب چاہیں کسی کو آگ لگا دیں، جب چاہیں کسی بہو ، بیٹی، بہن کی عزت تار تار کر دیں، جب چاہیں کسی کو بھرے بازار میں قتل کر دیں،ذرا سی تو تکرار ہوتی ہے تو ایک دوسرے پہ تشدد عام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون کا ذرا بھر بھی خوف نہیں، عام شہری کو اس بات کا اطمینان ہے کہ وہ جب چاہے کسی کے ساتھ کچھ بھی کر لے، قانون اس کا اس وقت تک کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک اس کے پاس کسی ’’بڑے ‘‘کی طاقت ہے اور ’’مال‘‘ موجود ہے، وہ اپنے اثر رسوخ اور اپنے مال سے سب کو خریدنے کا اطمینان لے کر پورے اعتماد سے دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے اور بلا تردد دوسروں کی عزت کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔

عام زندگی میں دیکھئے سڑکوں پہ لال بتی پہ نہ رکنا، بلکہ اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دینا ، موٹر سائیکل سے ون ویلنگ کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنا،ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا، ماحولیات کے قوانین کو توڑنا۔اس طرح قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات ہر گلی، سڑک اور چوراہے پہ نظر�آتے ہیں، بس صرف آپ کو یہ حوصلہ رہنا چاہئے کہ پولیس میں، حکومتی اداروں میں، یا کوئی سرمایہ دار جاگیردار، سیاستدان سے آپکا کوئی براہ ارست یا با لواسطہ کوئی تعلق ہونا چاہئے تو بس پھر کسی کی پرواہ نہیں، جس کا چاہے گھر اجاڑ دیں جس کی چاہے عزت نیلام کر دیں۔جس کو چاہیں زندگی سے محروم کر دیں۔

مزیدافسوس کا مقام یہ ہے کہ معاشرے کی اکثریت ملک میں موجود قوانین کی آگہی نہیں رکھتی،اس کی ایک وجہ ہمارے ہاں اکثریت کا ان پڑھ ہونا ہے،اس آگہی کے نہ ہونے کی وجہ سے اکثریتی طبقہ قانون نافذ کرنے والے زمہ داروں کی قانون شکنی کا بھی احتساب نہیں کر سکتا، اگر قانون کا علم ہے تو پھرجہالت کی وجہ سے اس کا احترام اور اہمیت نہیں ہے۔اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا خوف موجود ہے،لہذا آئے دن کے ملک گیر سطح پہ ہونے والے انسانیت سوز واقعات اور جیلوں میں موجود ایک بہت بڑی مجرموں کی تعداد اس امر کی گواہی دیتی ہے۔بچیوں کو زندہ جلانے یا انہیں بے دردی سے قتل کرنے کے واقعات ہوں یاان کی عزتوں کو تار تار کرنے کے افسوسناک اور دردنگی کے واقعات ہوں یا اس ملک کے شہزادوں یعنی وی آئی پیز کی اولادوں کی طرف سے سر عام لوگوں پہ گولیاں چلانے کے واقعات ہوں یا ان کی کھلے عام غنڈہ گردی کے واقعات ہوں، یہ سب اس بد ترین حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے فکر پہ اگر کوئی معاشرہ اس وقت موجود ہے تو وہ ہمارا معاشرہ ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ سب سے پہلے اس ملک میں مسلط اس استحصالی طبقے کو جو اس ساری قانون شکنی اور قانون کے عمل در آمد میں رکاوٹ کا باعث ہے کو جمہوری طاقت سے اس ملک کی قیادت سے ہٹایا جائے، اور ان کی جگہ قومی حب الوطنی اور اعلیٰ کردار کی ھامل قیادت کو لایا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی اس طرح سے تربیت کریں کہ وہ قانون کا احترام کرنے والے ہوں، عام زندگی میں وہ ہمیشہ قانون پہ عملد رآمد کر کے فخر محسوس کریں اس کے لئے تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم قوانین کی آگہی رکھیں گے تو اس پہ عمل در آمد کے لئے متعلقہ اداروں پہ دباؤ بھی بڑھا سکتے ہیں، اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہئے اگر وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں میں قانون کا احترام پیدا ہو تو وہ خود بھی اس پہ عمل کر کے دکھائیں۔اور لوگوں میں اس کا شعور پیدا کرنے کے لئے تربیتی حکمت عملی اپنائیں۔

یقیناً ایسے افراد بھی اس وقت مختلف شعبوں اور اداروں میں ضرور موجود ہیں جن کی وجہ سے کسی قدر معاشرے میں زندگی کی رمق موجود ہے وہ ایماندار لوگ ہیں، جو پولیس ، عدلیہ و دیگر سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، ہمیں ایسے ایماندار افسران اور افراد کی قدر کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے، اور ان کی سپورٹ کرنا چاہئے۔قوانین کے بارے میں آگہی ہر شہری کی ذمہ داری ہے کوئی قانون کی خلاف ورزی کا یہ جواز نہیں دے سکتا کہ وہ اس سے بے خبر تھا۔لہذا قانون سے آگہی رکھئے اور ان پہ عمل در آمد اور احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے اسی میں پورے معاشرے کی بھلائی اور استحکام پوشیدہ ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68838 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
20 Aug, 2016 Views: 1490

Comments

آپ کی رائے