لغت اور اصطلاح کا تعارف

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
سوال:ڈاکٹر صاحب إقرأ صفحہ پر لغات واصطلاحات کا گوشہ بہت پہلے سے ہونا چاہیئے تھا،لیکن چلیں ،آہی گیا تو غنیمت ہے،یہ سلسلہ مفید تو بہت ہے،مگر بامشقت بھی ہے، کیونکہ اردو لغت واصطلاح کاتعلق کئی زبانوں سے ہے،بالخصوص عربی،ترکی،فارسی اور ہندی سےبہت ہے، ہمارے یہاں مشکل یہ رہی ہے کہ اردو زبان کی لغات،اصطلاحات اور ادبیات کےماہرین میں عربی کی کماحقہ مہارت نہ ہونے کی وجہ سے بعض مواقع تشنہ رہ جاتے ہیں،اللہ کا شکر ہے ان شاء اللہ اب آپ کایہ سلسلہ روزنامۂ جنگ کی وجہ سے خوب ثمرات دے گا،مجھے امید ہے کہ مناسب وقت پر آپ لفظ لغت ولفظ اصطلا ح کا تعارف بھی پیش کرکے ممنون فرمائینگے۔( ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی،اسلام آباد)۔
جواب:رحمانی صاب ،آپ نے بہترین سوال کیاہے،مجھے خوشی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں،جواس کام کی اہمیت ومعنویت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔(لغت) :قوموں کی زبان ،نطق،لسان،بولی،لفظ،علمِِ لغت،ڈکشنری،قاموس ،ج:لغات۔یہ مجرد میں بابِ نصر سے مستعمل ہے،لغَوی:ماہرِ لغت۔لغَویات:لسانیات،لغت کے متعلق مباحث و تحقیقات۔کسی بھی زبان کے الفاظ کے مادّے اور اصل پر جب باعتبار تلفظ ومأخذ بات ہوتی ہے،تویہی حقیقت میں فنّ لغت یا علم اللغات ہے، جب زبان کے ارتقائی وتاریخی تناظر پر گفتگو ہو،یہ علم اللسانیات ہے،جب زبان کے ترجمے اور متعلقات پر ہو،تو یہ علم الترجمہ ہے،اور جب کسی بھی زبان میں مستعمل اشیاء واَعلام کے ناموں او ر اصطلاحات کا تفصیل تعارف ہو،تو علم الاَعلام اور فنِّ اصطلاحات کہلاتاہے،واضح ہو یہاں بابائے اردو کے ارشاد کے مطابق ان تینوں علوم کو یکجا کرکے گفتگو کرتے ہیں،کیونکہ جدید ماہرین نے ا سے زیادہ مفید قرار دیا ہے،چنانچہ لغت نویسی اور فن لغت نویسی کے بارے میں بابائے اردو کے خیالات کا اندازہ اس اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
‘‘ ایک بحث آکسفورڈ ڈکشنری والوں نے یہ پیش کی ہے کہ ڈکشنری انسائیکلو پیڈیا نہیں ہونی چاہیے۔انسائیکلو پیڈیا میں اشیاء کا بیان ہوتا ہے،ڈکشنری الفاظ کی تشریح ہے۔انسائیکلو پیدیا میں اس سے بحث نہیں ہوتی کہ اشیاء کے الفاظ کس زبا ن کے ہیں ،ان کی اصل کیا ہے اور اس کے مختلف استعمال کیا ہیں ۔ڈکشنری میں لفظ کی ا صل ،اس کے مفہوم،مختلف استعمالات اور اس کے تمام اجزا سے بحث ہوتی ہے مثلاًٍ،انسائیکلوپیڈیا کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ فوج ،گھاٹ ،البتہ جیسے الفاظ کا ذکر کرے یا ان کی تاریخ و تشریح بیان کرے۔اسی طرح لغت میں جلد سازی کی معلومات یا ہوائی جہاز کی ساخت و تاریخ کا بیان بے محل ہو گا۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مرتب کرنے والوں نے اس اصول کی بڑی سختی سے پابندی کی ہے۔انھوں نے تمام اعلام کوخواہ وہ تاریخی ہوں یا جغرافیائی ،بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔اصل یہ ہے کہ اس اصول کی پابندی اس سختی کے ساتھ لغت میں مضر اور نقصان دہ ہوتی ہے۔انسائیکلو پیڈیا اور لغت میں حدود قائم کرنا بہت دشوار ہے۔بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی تشریح کا مل طور پر اس وقت تک نہیں ہو سکتی، جب تک ان اشیا ء کا ،جن کا وہ مفہوم ادا کرتے ہیں ،کچھ نہ کچھ ذکر کیا جائے۔علاوہ اس کے اشیاء کا بیان ،اسماء کی تعریف میں مضمر ہے۔اسی لیے ڈکشنری کو صحیح طور پر مرتب کرنے کے لیے ان دونوں طریقوں کا امتزاج خاص طور پر اردو لغت میں ضروری ہے کیونکہ ہماری زبان میں نہ تو انسائیکلو پیڈیائیں ہیں اور نہ خاص قسم کی لغات ۔اگر اس کام کو احتیاط اور صحیح طریقے سے انجام دیا جائے تو ڈکشنری ،ڈکشنری ہی رہے گی، انسائیکلو پیڈیا نہیں ہو سکتی۔البتہ اس کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ معروف اور ادبی اعلام کا،تاریخی ہوں یا جغرافیائی ،وہیں تک ذکر کیا جائے جو ضروری عام معلومات کی حد تک ہوں۔ان کے کارناموں ،سیرت اورجزئیات وغیرہ کے بیان کی کوشش نہ کی جائے۔’’ (بابائے اردو،حیات وخدمات:ص،74-75)۔
اسی طرح ڈاکٹر رؤف پاریکھ مقتدرہ کی زیر نگرانی اردو لغت کی تیاری کے مراحل واہمیت پر یوں رقم طراز ہیں:‘‘اردو لغت( تاریخی اصول پر) کی تیاری کے تمام مراحل میں بہت تحقیق اور محنت سے کام لیا گیا۔ اس کی تیاری میں بورڈ کے ایک ایک کارکن کی محنت شامل ہے۔ لغت کی تدوین و اشاعت اتنا آسان کام نہیں ہوتا۔ یہ کام مسلسل تحقیق اور جستجوکا متقاضی ہوتا ہے۔اور یہی چیز اس لغت کی تیاری میں دکھائی دیتی ہے۔اس کی تیاری کے دوران تیار مسودات کو سب سے پہلے ملک کے بڑے بڑے اسکالروں کی طرف اصلاح کی غرض سے بھیجا جاتا تھا،جو اصلاحی نقطہ نظر سے ان مسودات کے ایک ایک لفظ کو دیکھتے تھے۔بڑی ردّ وقدح اور خوب جانچ پرکھ کے بعد جب یہ مسودے بہم حتمی شکل اختیار کر لیتے تھے ،تو ان مسودات کے ٹائپ شدہ مبّیضے ایک بار پھر اردو زبان و ادب کے نامور علماء کی طرف نظر ثانی کے لیے بھیجے جاتے تھے۔یہ ماہرین ان کا اچھی طرح مطالعہ کرنے کے بعد ضروری اصلاح اور رائے کے بعد بورڈ کو واپس بھیج دیتے تھے۔ ’’(رؤف پاریکھ،ڈاکٹر،روزنامہ ڈان23 مئے ،2010)۔
عرب دنیا میں اس کام کے لئے عربک لیگویج بورڈ ہوتے ہیں،وہ مستقل لغات کی وضع ،تشریح وتدقیق کرتے رہتے ہیں۔(اگلی قسط میں ان شاء اللہ لفظِ اصطلاح کی بحث ہوگی)۔
(اصطلاح)
(اصطلاح یااصطلاحات) یہ عربی لفظ ہے، اس کا مادّہ ص ل ح ہے،مجرد میں بابِ نصَر سے ٹھیک کرنا،بابِ کرُم سے ٹھیک ہونا،(صُلح) اختلاف یا جھگڑا ختم کرنے کے بعد جس بات پر اتفاق ہوجائے،اسے صلح کہتے ہیں،باب افعال وتفعیل سے : غلطیاں نکالنا،ٹھیک کرنا،فساد ختم کرنا،بابِ مفاعلہ و تفاعل اور اِفّاعل سے :دو آدمیوں یا فریقوں کا باہم صلح واتفاق کرنا،بابِ افتعال سے اصطلاح،ج اصطلاحات:کسی قوم یا طائفہ کا اپنے عُرف کے مطابق کسی شے یاعمل کے لئے کوئی لفظ وضع کرنا،یا ازخود ان کے یہاں متعارف ہوجانا۔اردو اصطلاحات پر ڈاکٹر جالبی نے جامع گفتگو اس طرح کی ہے:ہر زندہ زبان میں ، علوم و فنون کی سطح پر ، اصطلاحات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔ اگر مروج معنی کے علاوہ کسی لفظ کے کوئی اور معنی صلاح و مشورہ سے مقرر کر لیے جائیں ،تو معنی کی اس صورت کو اصطلاح کہتے ہیں ۔ اس طرح کئی تصورات یا خیالات اس لفظ سے ادا ہو جاتے ہیں ۔ پروفیسر وحید الدین سلیم نے اسی لئے کہا تھا کہ ”اصطلاحیں دراصل اشارے ہیں جو خیالات کے مجموعوں کی طرف ذہن کو منتقل کر دیتی ہیں ۔“
اُردو زبان میں اصطلاحات کا سرمایہ تو اسی وقت سے پیدا ہونے لگا تھا جب یہ زبان علوم و فنون کے اظہار کا وسیلہ بنی تھی ۔ اس دور میں اصطلاحات عربی ، فارسی ، ترکی اور سنسکرت وغیرہ سے لی یا وضع کی جاتی تھیں، لیکن اٹھارویں صدی عیسوی میں جب برِ صغیر میں مسلم سلطنت کا سورج غروب ہونے لگا اور انگریزی تسلط رفتہ رفتہ قائم ہو کر انیسویں صدی میں پوری طرح مستحکم ہو گیا ،تو ایک نیا مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب جدید مغربی علوم کو اردو زبان کے ذریعے حاصل کرنے کا عمل شروع ہوا ۔ اس دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ اصطلاحات اور وضع اصطلاحات کے مسئلے نے ایک نئی اہمیت اختیار کر لی ہے ۔ دہلی کالج 1825ء میں قائم ہوا اور اسی کے ساتھ وہاں ”دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی“ قائم ہوئی اور درسی کتب کی ضرورت کے لئے کیمیا ، نباتیات ، معدنیات ، ریاضی ، طب ، علم ہندسہ اور دوسرے علوم کی اصطلاحات وضع ہوئیں ۔ حیدر آباد میں شمس الامراء نے انگریزی و فرانسیسی سے اہم کتابوں کے اردو تراجم میں گہری دلچسپی لی اور 1834 - 1850ء کے درمیان بیس سے زیادہ سائنسی کتابیں اردو میں منتقل ہوئیں ۔ سر سید احمد خان نے 1863ء میں ”سائنٹفک سوسائتی“ قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ جدید سائنسی کتابوں اور امہات الکتب کو اردو میں ترجمہ کرایا جائے ۔ وضع اصطلاحات کی کمیٹی بھی اسی زمانے میں سر سید احمد خان نے قائم کی ۔ رڑکی انجینئرنگ کالج میں 1856ء سے 1888ء تک ایک ذریعۂ تعلیم اردو زبان تھی ۔ درسی ضروریات کے پیش نظر وہاں بھی متعدد کتابیں اُردو میں لکھیں اور اصطلاحات وضع کی گئیں - اسی طرح آگرہ میڈیکل کالج میں بھی ایک ذریعۂ تعلیم اُردو تھی۔ وہاں بھی طلبہ کی درسی ضرورت کے لئے کتابیں لکھیں اور جدید طبی اصطلاحات اردو میں وضع کی گئیں ۔ یہ ذخیرہ آج بھی پاکستان کے بعض کتب خانوں میں محفوظ ہے ۔ سائنٹفک سوسائٹی مظفر پور (1868ء) نے بھی فلکیات ، معدنیات ، طبیعات ، جغرافیہ اور فنِ تعمیر وغیرہ پر بہت سی کتابیں نہ صرف ترجمہ کرائیں یا لکھوائیں بلکہ وضع اصطلاحات کے کام کو بھی آگے بڑھایا ۔ شاہان اودھ غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے دورِ حکومت میں بہت سی علمی و سائنسی کتابیں اُردو میں ترجمہ ہوئیں اور بہت سی نئی اصطلاحات وجود میں آئیں ۔
بیسویں صدی کے اوائل میں یہ روایت اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی جب 26 اپریل 1917ء کو نظام دکن نے یہ فرمان جاری کیا کہ ”اپنی تخت نشینی کی یادگار میں سلطنت آصفیہ میں ایک جامعہ کے قیام کا حکم دیتا ہوں جس کا نام جامعہ عثمانیہ ہو گا“ ۔ اس فرمان کے چار مہینے کے اندر اندر 14 اگست 1917ء کو شعبہ تالیف و ترجمہ کا قیام عمل میں آ گیا جس کے سربراہ مولوی عبدالحق مقرر کیے گئے ۔ اس شعبے کا مقصد یہ تھا کہ جامعہ عثمانیہ کے لئے ضروری کتب لکھوائی اور ترجمہ کرائی جائیں تاکہ یہ کتابیں جامعہ عثمانیہ میں درسی کتب کے طور پر استعمال کی جا سکیں ۔ جامعہ عثمانیہ کا آغاز 1919ء میں ہوا ۔ جامعہ عثمانیہ میں ذریعۂ تعلیم چونکہ اُردو زبان تھی ، اس لیے وہاں اصطلاح سازی کے کام میں بھی غیر معمولی اور مفیدِ پیش رفت ہوئی ۔ دارالترجمہ کے صاحبان علم نے ، جیسا کہ مولوی وحید الدین سلیم نے لکھا ہے ، وضع اصطلاحات کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر اور بحث و مباحثہ کر کے کثرت رائے سے طے کیا کہ ”انگریزی زبان کی اصطلاحیں بجنسہٖ یا کسی تغیر و تبدل کے ساتھ اُردو زبان میں نہ لی جائیں بلکہ علمی اصطلاحات کے مقابلے میں اُردو علمی اصطلاحات وضع کی جائیں ۔ اس مرحلے پر پہنچ کر اصطلاح سازوں کے دو گروہ ہو گئے ۔ ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ تمام اصطلاحی الفاظ عربی زبان سے بنائے جائیں ۔ دوسرے گروہ کی رائے یہ تھی کہ اصطلاحات کے وضع کرنے میں ان تمام زبانوں کے لفظوں سے کام لینا چاہیے جو اُردو زبان میں بطور عنصر کے شامل ہیں ، جامعہ عثمانیہ کی وضع اصطلاحات کمیٹی نے دونوں نقطۂ نظر پر غور کر کے یہ منظور کر دیا کہ اردو زبان میں جو علمی اصطلاحیں وضع کی جائیں ان کے لئے الفاظ عربی ، فارسی اور ہندی سے بے تکلف لیے جائیں۔
اصطلاحات بنانے کے چند اصول:
(1) اصطلاحات وضع کرنے کے لئے ماہرینِ زبان اور ماہرینِ فن دونوں کا ایک جا ہونا ضروری ہے ۔یا ایسی شخصیت بیک وقت جو ماہرِ زبان وفن ہو، اصطلاحات کے بنانے میں دونوں پہلوؤں کا خیال رکھنا لازم ہے تاکہ جو اصطلاح بنائی جائے وہ زبان کے سانچے میں بھی ڈھلی ہو اور فن کے اعتبار سے بھی ناموزوں نہ ہو ۔
(2) اردو زبان چونکہ کئی زبانوں سے مرکب ہے اس لیے اصطلاحات علمیہ کے لئے اُن سب زبانوں سے الفاظ وضع کر سکتے ہیں جن سے اُردو زبان مرکب ہے یعنی عربی ، فارسی ، ہندی ، ترکی سے بلا تکلف مدد لی جا سکتی ہے ۔
(3) جو الفاظ مستعمل ہیں اُن کی مثال کا لحاظ رکھا جائے اور جو لفظ زیادہ موزوں معلوم ہو اسے اختیار کیا جائے لیکن ان الفاظ سے ، اشتقاق یا ترکیب کے ذریعے سے جو الفاظ بنائے جائیں گے وہ قاعدے کے بموجب ہوں گے۔
(4) حتی الامکان مختصر الفاظ وضع کیے جائیں جو اصل مفہوم یا اس کے قریبی معنوں کو ادا کر سکیں ۔
(5) جس طرح اگلے زمانے میں اپنی زبان یا غیر زبانوں کے اسما ءسے مصادر بنائے جاتے تھے مثلاً بدلنا ، قبولنا ، بخشنا وغیرہ اسی طرح اب بھی ضرورت کے وقت اسماء سے افعال بنا لینا جائز ہے چنانچہ اسی اصول کے مطابق برق سے برقانا وغیرہ بنا لیے گئے ۔
(6) جو اصطلاحات قدیم سے رائج ہیں انھیں برقرار رکھا جائے ۔
(7) ایسے انگریزی اصطلاحی الفاظ جو عام طور پر رائج ہو گئے ہیں یا ایسے الفاظ جن کے اشتقاق مشکوک ہیں یا ایسی اصطلاحیں جو موجدوں یا تحقیق کر نے والوں کے نام پر رکھی گئی ہیں انھیں بدستور رہنے دیا جائے کیونکہ ان کا ترجمہ ہو سکتا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے ۔
( 8 ) اصطلاحیں آسان اور عام فہم بنائی جائیں اور ایسے مادّوں سے وضع کی جائیں جو زبان میں عام طور سے رائج ہیں ۔ (مقدمۂ فرہنگِ اسطلاحاتِ جامعہ عثمانیہ،ازڈاکٹر جمیل جالبی،باختصار واضافات)۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 488479 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
01 Sep, 2016 Views: 3288

Comments

آپ کی رائے