سردارمحمداسماعیل کاگھرانہ اور حضرت مولاناعبدالقیوم حقانی ؔ کایارانہ

(Qazi Muhammad Israil, )
عالم ِ اسلام کے نامورعالمِ دین شیخ الحدیث حضرت مولاناعبدالقیوم حقانی ؔ صاحب دام مجدھم جب والدمحترم وصال فرماگئے تورابطہ کیااورحضرت نے فرمایاکہ میں روضہ رسول ﷺ پہ اس وقت ہوں میں نے جب اس حادثہ کی خبر دی توحضرت نے فرمایاکہ ابھی ان کی طرف سے درودوسلام کاتحفہ دربارِرسالت ﷺ میں پیش کیاجارہاہے اورآج ایک قرآن پاک جومیں نے تکمیل کیاہے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پیش کر دیاہے۔بعدازاں حضرت نے شفقت فرمائی اوریہ یادگارتحریرارسال فرمائی جوحاضرِ خدمت ہے
الحمد لحضرۃ الجلالۃ والصلٰوۃ والسلام علٰی خاتم الرسالۃ ۔

عجز و انکسار‘ ادب و احترام‘ علم پروری واصاغرنوازی اور بلندیٔ اخلاق کے جس دروازے پر دستک دیے بغیر آگے نہیں بڑھتے، خیال و تصور، شفقت و محبت، تربیتِ اولاد کے اطوار اور نورِ علم کی بہار جس کی دہلیز کو چوم کر اپنا سفر شروع کرتے ہیں، فقر و استغناء، دین سے محبت، عبادت و صالحیت اور دینداری و خودداری نے جس کے مختصر سے گھر میں پرورش پائی ہے، تواضع و عبدیت، رفاقت وخدمت اور ہنس مکھ طبیعت نے جس کی ذات کو اپنا محور بنا یا ہے وہ جناب حضرت مولانا محمد اسرائیل گڑنگی کے والدگرامی سردار محمد اسماعیل صاحب ہیں۔

سردار صاحب کو خالقِ لم یزل نے مختلف سانچوں میں ڈھالا تھا جو شرافت انسانیت، آدمیت، خدمت، انفرادیت و اجتماعیت اور وضعداریاں نبھانے کے لئے نمونہ تھے، اُصولوں، وسعتِ ظرف، ضمیر کی بیداری اور اسلامی روایات کی پاسداری نے ان کا دامن نہیں چھوڑا۔ معاشی ناہمواری، غربت و ناداری، تنگدستی اور زندگی کی ہمہ جہتی ضروریات کی فراہمی کے لئے وہ مانسہرہ جیسے وسائل سے مالامال علاقہ میں تادمِ آخر نووارد رہے۔ زندگی کے پچاسی سال ہزارہ میں گذارنے کے باوجود ان کی محنت، جدوجہد اور شب و روز کی بھاگ دوڑ کا سلسلہ تادمِ آخر ختم نہ ہوسکا اور حیاتِ مستعار کے آخری لمحات میں زندگی کی تپتی دھوپ میں تنہا کھڑے رہے، اس پورے عرصے میں ان کے تجربات، فکر وفن، زیرکی ودانائی، عقلمندی اوربزرگی نے کئی لباس بدلے، کئی پیرہن اُتار پھینکے، مگر یہ قدرت کا عطیہ اور فیاضِ ازل کی بخشش تھی کہ ہر پوشاک ان پر خوب جمی اور دیدہ زیب نظر آئی، کئی منزلیں طے کیں مگر سردار صاحب کے آزمائشوں کے سفر میں ٹھہراؤ بہت کم آیا۔

خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان اور خطیب ہزارہ جناب مولانامحمداسحق کے ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے سردار محمد اسماعیل صاحب نے بھی ہزارہ ہی میں مانسہرہ کو اپنا ٹھکانا بنایا صلاحیت کے جوہر اُن میں کم نہ تھے، کچھ کر دکھانے کی دُھن، کچھ پانے کا سودا، آگے بڑھنے کا جنون سب کچھ ان کے پاس تھا مگر وہ ’’شئے ارزاں‘‘ کی طرح اپنے دام وصول کرنے کے فن سے بھی ناآشنا تھا اس لئے مجبوریوں کا ان سے رشتہ بہت گہرا اور مضبوط رہا۔

ضمیر اور غیرت سے جو ایک پاسبان کی صورت میں ان کے آگے آگے چلتی رہی ان کو اپنی بندشوں میں مزید جکڑتی رہی، ان کی گفتگو، ان کے نجی مجالس، اولاد کو نصائح اور وصایا اگرچہ اپنی ذات سے شروع ہوتے تھے اور آہستہ آہستہ وہ ایک عام آدمی کے درد و کرب اور اضطراب کی آواز بن جاتی تھی۔ سماج اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی بے چینی، رشتوں، قرابتوں کی تلخیاں، مفاد پرستی، ہنگامے، شور، ناہمواری، اخلاقی گراؤٹ، من و توکا المیہ، انسانیت کی کراہیں، مایوسی کے اندھیرے، مستقبل کے اندیشوں کے ساتھ ہی اُمید کی آس اور پرمسرت زندگی کی چاہ، سب کچھ ان کی مجلسی گفتگو کے وہ عنوانات تھے جس نے سردار صاحب کی برموقع گفتگو کو بلندی، عزائم کی رفعت، اور انفرادیت کی دولت سے نوازا تھا، وہ سماجی اور معاشرتی زندگی کے تقاضوں اور احوال، تاریخ اور روایات، حقائق اور واقعات کو اپنا موضوعِ سخن بناتے اور آسان اسلوب میں اپنی اولاد کو گھول کر پلاتے تھے، فکر کی گہرائی، خیال کی وسعت، لب و لہجہ کی مٹھاس، زبان کی شیرنی اور تہہ در تہہ چھپی ہوئی سچائیوں کو جس خوبصورتی اور دلآوازی کے ساتھ برتتے اپنی اولاد کو آگاہ فرماتے وہ ان کی تربیتی اعمال کی روشنی ہے جوپھیلتی بڑھتی اور ہر دم اپنا دائرہ وسیع کرتے چلی جارہی ہے۔

محترم سردار صاحب مرحوم سنجیدہ، متین، بردبار اور کم گو تھے مگر جب کبھی دعوتی، تبلیغی، تربیتی اور خانگی وحدت کے اُمور پر گوہرافشانی کرتے تو کم گو سردار صاحب کہیں دور جا بیٹھتے، ایک واعظ، وناصح و حکیم اور دانا سردار صاحب سے یہ ملاقات بڑی خوشگوار رہتی، ان کی باتیں سن کر اور معاملات دیکھ کر یہ احساس گہرا ہوجاتا کہ سردار صاحب مرحوم نے زندگی کو اپنے قابو میں لے رکھا ہے، خود کو زندگی کے حوالے نہیں کیا جو زندگی وہ جی رہے ہیں وہ پتھروں میں بھی شگاف ڈال دے مگر سردار صاحب مرحوم کے عزائم اور متعین راستے پتھروں پر چل کر ہی طے ہورہے ہیں۔ سردار صاحب مرحوم ہمدرد، غمگسار، خلیق، ملنسار اور منکسر المزاج انسان تھے دانائی و حکمت اور دینداری کا وافر حصہ انہیں ملاتھا، شگفتگی اور خندہ پیشانی سے ملا کرتے تھے۔لکھنے کو تو ان پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، بس اتنا کہہ کر بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلوں کی روایت‘ لحاظ‘ مروّت‘ ہمدردی‘ ملنساری‘ انسان دوستی کی تمام ادائیں ان کے وجود میں سما گئی تھیں۔ بلند اخلاقی‘ بلند کرداری اور بلند حوصلگی سے ان کے گھر میں ان کی اولاد کے گھروں میں اور ان کی برادری میں اُجالا ہے، علم کی بہار ہے، دین کی روشنی ہے ، اﷲ اسے قیامت تک باقی رکھے۔(آمین)
عبدالقیوم حقانی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Muhammad Israil

Read More Articles by Qazi Muhammad Israil: 38 Articles with 20001 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Sep, 2016 Views: 350

Comments

آپ کی رائے