عید قرباں اور کانگو وائرس کا چرچا

(M.Jehan Yaqoob, Karachi)
عید قرباں قریب ہے۔مسلمان ہوش ربا مہنگائی کے باوجوداﷲ تعالیٰ کی توفیق سے جانوروں کی خریداری کررہے ہیں۔بعض لوگ ہر معاشرے میں ایسے پائے جاتے ہیں جواپنے مخصوص مفادات کے اسیر ہوتے ہیں۔انھیں کسی کی جان،ایمان،عقیدہ،نظریہ ،دین ،دھرم غرض کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔انھیں صرف اپنے مفادات عزیزہوتے ہیں۔ایسے لوگ اکثر کسی قوت کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں ،سو انھیں اپنی تنخواہ ’’حلال‘‘کرنے سے غرض ہوتی ہے۔یہ کسی کے غلام ہوتے ہیں اور ان کا مطمح نظر صرف اپنے مائی باپ اور آقاولی نعمت کی خوش نودی ہوتاہے۔یہ مجبور ہوتے ہیں۔سوان مجبوروں کو معذور ہی جاننا چاہیے۔عید قرباں کے نام سے ہی مترشح ہے کہ مسلمان اس عید میں ایک عظیم فریضہ ادا کرتے ہیں،جسے قربانی کہا جاتاہے۔یہ قربانی کیاہے؟یہ ہمیں کسی لبرل اور سیکولر سے پوچھنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ آج سے سواچودی سو سال قبل صحابہ کرام رضی اﷲ عنھم یہ سوال حبیب کبریا ﷺ سے کرچکے اور جواب آچکا:یہ تمھارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔گویا،اس کوسمجھنے کے لیے کسی طویل عقلی فلسفے کی ضرورت نہیں ۔کسی حیل وحجت کی مجال بھی نہیں ،کہ یہ سنت ابراہیمی ہے اور تمھارے دین کا ایک نام ملت ابراہیمی بھی ہے،سوتم اس پر عمل کرو۔اس کے بدلے کیاملے گا؟اس کا جواب بھی آگیا:جانور کے ہر بال اور اون والے جانور کی اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔یہ جانور ہل صراط پر تمھاری سواری کاکام دیں گے۔جانور کا خون زمین پر گرتے ہی تمھارے صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔اب ایک سوال رہ جاتاتھا،کہ کیا ہم اس خطیر رقم سے اﷲ تعالیٰ کی خوش نودی کا کوئی اور کام ان دنوں میں ،قربانی کے بجائے کرسکتے ہیں،مثلاً:خدمت خلق،غریب بچیوں کی شادیاں،رفاہ عامہ کے کام ،کہ یہ سب بھی ثواب کے کام ہیں اور اﷲ کی رضاوخوش نودی کا حصول ان کے بدلے بھی ہوسکتاہے۔اس کا بھی آقائے نامدارﷺ نے دوٹوک جواب ارشاد فرمادیا:ان دنوں میں قربانی کے جانور کاخون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کے ہاں محبوب ہی نہیں۔لیجیے!اب معاملہ صاف ہوگیاکہ قربانی ہی کرنی ہوگی،اس کاکوئی نعم البدل نہیں ،اس کے برابر ایااس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو امت مسلمہ ،اپنی تمام تر دینی پستی کے باوجود اچھی طرح سمجھتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہر سال قربانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی نوٹ کیا گیاہے۔حالاں کہ قربانی کے خلاف دلائل کے نئے نئے رخ ہر سال سامنے لائے جاتے ہیں۔نئے نئے حربے،نت نئے حیلے،شیطان اپنے دوستوں کو نئی سے نئی باتیں سجھاتارہتاہے،سودھول اڑائی جارہی ہے ،اڑائی جاتی رہے گی اورسوباتوں کی ایک بات مسلمان ایک ہی جواب دیں گے ،اپنے عمل سے بھی اور زبان حال سے بھی
تجھے خودی پسندمجھے خداپسند
تیری جداپسند میری جداپسند
ہم کانگووائرس پر بات کریں گے۔

آج کل قربانی کے جانوروں سے لگنے والی ایک بیماری کا کافی چرچاہے ،جسے کانگووائرس کا نام دیا جاتاہے۔یہ ایک بخار ہے جس کے بارے میں ماہرین کا یہ کہناہے کہ :کانگو بخاریعنی ’کریمین کانگو ہیمرجک فیور‘ جان لیوا بخار ہے جو مویشیوں کی جلد میں موجود ٹکس (پسو)کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر یہ ٹکس کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے،اس کے جراثیم ایک متاثرہ شخص سے دوسرے صحت مند شخص کو فوری طور پر لگ جاتے ہیں، یہ ایک متعدی بیماری ہے، جس میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ فوری علاج پر توجہ نہ دی جائے تو جگر اور تلی بڑھ جاتی ہے، ناک، کان، آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہوجاتا ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مریض اس بیماری کے دوسرے ہفتے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب تک اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں۔

یہ بیماری وطن عزیزمیں کب آئی،اس کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ :اس وائرس کی پہلی شکار آزاد کشمیر کے علاقے باغ کی ایک خاتون تھی، ڈاکٹروں کے مطابق یہ مریضہ کانگو وائرس کا شکار ہو کر زرد بخار میں مبتلا ہوئی جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکی۔اب تک اس بخار سے ہونے والی اموات کی تعداددس بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چیک پوسٹیں قائم کی جارہی ہیں ،جوباہر سے شہر میں آنے والے ہر جانور کا طبی معاینہ کرکے اس میں گانگووائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کرے گا۔لیکن پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈرڈاکٹرسیدوسیم اخترکایہ سوال وزن رکھتاہے کہ قربانی کے جانوروں میں کانگووائرس ہونے یانہ ہونے کی تصدیق کون کرے گا؟ یہ ضمانت کون دے گا کہ ہسپتالوں یالیبارٹریوں میں کانگووائرس کی تشخیص کیلئے کٹ دستیاب ہے؟عید الاضحی پرجانوروں کی چیکنگ کاکیاطریقہ ہوگا؟یقیناان سوالات کا جواب ضروری ہے اور اس سلسلے میں جو اقدمات اب تک بروئے کار لائے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔طبی ماہرین کایہ کہنابھی وزن رکھتاہے کہ اس وائرس کے ٹیسٹ انتہائی اہم ہیں اور ہر لیباریٹری میں ان کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔پاکستان،جہاں کی نصف آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے ہر مجبور ہے،جہاں شرح خواندگی بھی حوصلہ افزانہیں،وہاں اس وائرس کی تشخیص جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔غریب جسے دووقت نان جویں میسر نہیں،وہ ان مہنگے ٹیسٹوں کا تحمل کیسے کرے گا؟حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ ان مسائل کوحل کرے ،صرف ڈراورخوف کی فضاپیداکرنایاقراردادیں منظور کرنا کافی نہیں۔مویشی منڈیوں میں صرف ویٹرنری ڈاکٹرز اور اسٹاف کی ہی ضرورت نہیں،وہاں آنے والوں کوفوری طبی امداددینے کا بھی خاطرخواہ انتظام ہونا چاہیے۔اب تک مویشی منڈیوں کی صورت حال تواسی بات کی غمازی کررہی ہے کہ سارازورجانوروں پر ہے۔

اگر یہ قربانی سے روکنے ہی کی کوئی سازش ہے تو مسلمان ایسی سازشوں کا شکار نہ کبھی پہلے ہوئے ہیں اور نہ ہی آیندہ ہوں گے۔ان شاء اﷲ!
اﷲ ہم سب کو سنت ابراہیمی پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

مولانامحمد جہان یعقوب،انچارج شعبہ تخصص فی التفسیر،جامعہ بنوریہ عالمیہ،سائٹ ،کراچی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Jehan Yaqoob

Read More Articles by M Jehan Yaqoob: 247 Articles with 169285 views »
Researrch scholar
Author Of Logic Books
Column Writer Of Daily,Weekly News Papers and Karachiupdates,Pakistanupdates Etc
.. View More
05 Sep, 2016 Views: 278

Comments

آپ کی رائے