گھر کا حصول بھی اب خواب بن گیا

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
رہائش بنیادی انسانی ضرورت اور حق ہے،جس کا مناسب بندو بست کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،ہمارے معاشرے میں خاص طور پہ کم آمدنی والے طبقات کے لئے گھر ایک خواب سے کم نہیں،وہ باوجود سخت محنت و مشقت کے فقط دو وقت کی روٹی کما سکتے ہیں، لہذا ان کے لئے اپنی زمین پہ اپنا گھر بنانا ناممکن ہوتا ہے ،اس کے لئے ریاست اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان طبقات کے لئے ایسی رہائشی منصوبہ بندی کریں کہ ان کے گھر کا خواب حقیقت میں بدل سکے۔اور یہ اپنے خاندانوں کی بہتر انداز سے کفالت کرنے کے قابل ہو سکیں۔
انسان نے جب سے اس کرہ ارض پہ رہنا شروع کیا ہے۔اس وقت سے ایک محفوظ پناہ گاہ کا تصور اس کے ہاں موجو رہا ہے۔شکاریاتی دور میں جب انسان جنگلوں میں زندگی گذار رہا تھا اس وقت بھی غار کو یا درختوں کے اوپر اس نے اپنا مسکن بنایا۔در اصل گھر انسان کو ایک محفوظ پناہ گاہ کا احساس دلاتا ہے۔جب وہ اپنی سارے دن کی مصروفیات،مہمات سے تھکا ہارا واپس لوٹتا ہے تو اسے آرام اور سکون جہاں میسر آتا ہے وہ اس کا گھر ہے۔جہاں وہ گرمی سردی،بارش،طوفان اور ہر طرح کی مضرات سے محفوظ رہتا ہے۔گھر جہاں ایک محفوظ پناہ گاہ ہے وہاں ایک معاشرے کی تشکیل کا مرکز بھی ہے۔جہاں ایک نسل پروان چڑھتی ہے۔اس کی تربیت ہوتی ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے چلنا پھرنا، بولنا سیکھتا ہے۔اور پھر معاشرے میں ایک کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اگرچہ کہ گھر کی تعریف شاہ ولی اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ ایک مکان میں رہنے والے افراد کے درمیان جو ربط وتعلق ہوتا ہے در اصل وہ’’ گھر‘‘ کہلاتا ہے‘‘اگر ایک مکان میں رہنے والوں کا آپس میں ربط و مضبوط تعلق نہ ہو تو وہ صرف مکان کہلاتا ہے ۔لیکن گھر کے اس حقیقی مفہوم کے لئے مکان کا ہونا ضروری ہے۔مکان ایک بنیادی انسانی ضرورت اور حق ہے۔اس کے بغیر تمدنی زندگی میں ارتقاء کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔

مکان کی اہمیت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ہمارے معاشرے میں کم آمدنی والے طبقات میں نئی نسل کی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے والدین اس کے لئے گھر ضرور بنائیں تاکہ وراثت میں انہیں گھر مل سکے اور انہیں اس کے لئے تگ ودو نہ کرنی پڑے۔والدین کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم وتربیت و شادی بیاہ سے جو بچ جائے اس سے ان کے لئے گھر بنا لیں۔اور اسے وہ اپنے اولین فرائض میں سے ایک سمجھتے ہیں۔لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے انہیں ساری زندگی محنت کرنی پڑتی ہے ۔اس کے لئے وہ مختلف طریقوں سے بچت کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن مہنگائی کے اس دور میں ایک طرف تعلیم،خوراک،صحت کے حوالے سے اٹھنے والے اخراجات اتنے زیادہ ہوتے ہیں اور دوسری طرف مکانات بنانے کے لئے زمین ،تعمیراتی سازو سامان،میٹریل،اور تعمیراتی اجرتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ گھر کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پاتا۔لہذا بے شمار خاندان نسل در نسل کرایہ کے مکان میں زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں مکانات کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ ’’پورے ملک میں تقریباً پانچ ملین مکانات کی کمی ہے،اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید بڑھ رہا ہے۔خاص طور پہ بڑے شہروں میں یہ مسائل گھمبیر صورت اختیار کر رہے ہیں۔حکومتی ادارے اس مسئلے پہ قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

1998ء کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک گھر میں اوسطاً 6.6فیصد افراد اور ایک کمرے میں 3.3افراد رہائش پذیر تھے۔2006-07 کے ایک سروے کے مطابق ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے 25فیصد گھروں کو پانی میسر ہے۔شہروں میں یہ تناسب 53فیصد ہے ،باتھ روم ٹوائلٹ کی سہولت بھی اکثر گھروں کو حاصل نہیں بہت سی جگہوں پر دو تین گھروں کے لئے ایک ٹائلٹ ہے۔اس کے علاوہ سینی ٹیشن کا غیر مناسب نظام موجود ہے۔جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی رہتی ہیں۔ایک کمرے کے مکانات مختلف مارکیٹوں میں دو کانوں کے اوپر،کچی آبادیوں یا پرانی بستیوں میں قائم ہیں،گیس میسر نہ ہونے کے باعث کوئلے کے دھویں سے ان گھروں میں بچوں اور بڑوں کو کھانسی ،گندے پانی کے باعث یرقان یا ہیپا ٹائٹس جیسی بیماریاں عام ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں ہاؤسنگ کے مسائل متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ان کے خیال میں ملک کے بڑے شہروں مثلاً کراچی،لاہور،راولپنڈی،فیصل آباد،گوجرانوالہ،پشاور،ملتان اور حیدر آباد کی صورتحال زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اس وقت پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر کے شہروں میں رہنے والے افراد کا تناسب 30 فیصد ہے مگر شہروں میں اپنے گھروں میں رہنے والوں کا تناسب بہت کم ہے،کراچی،لاہور،اسلام آباد اور ملک کے کئی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد کرایہ پہ رہتی ہے۔حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 2.6ملین گھروں کی فوری ضرورت ہے۔

اس مہنگائی کے دور میں غریب طبقہ کے لئے دیگر اخراجات کے ساتھ کرایہ کی ادائیگی ایک بہت ہی بڑا مسئلہ ہے۔اکثر اوقات مالکان کرایہ میں اضافہ کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے مزید کرایہ داروں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔بعض اوقات مکانات بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں لیکن ان کا کرایہ زیادہ لیا جاتا ہے،اس حوالے سے کوئی معیار مقرر نہیں ہوتا۔بس کرایہ دار مالک مکان کے رحم و کرم پہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں انتہائی غربت کا شکار بے شمار خاندان کرایے کے مکان کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے اس کی وجہ آئے دن مکانات کے کرایوں میں اضافہ بھی ہے۔لہذا وہ سر کاری زمینوںیا ویران علاقوں میں جھونپڑیاں اور ٹینٹ لگا کر اپنی زندگی کے دن گزارتے ہیں جہاں وہ ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں جب انہیں ان زمینوں سے بے دخل کیا جاتا ہے تو وہ کسی دوسرے شہر کا رخ کرتے ہیں اور وہاں اپنا بسیرا ڈال لیتے ہیں۔

یہ خانہ بدوش بستیاں سر کاری اعداد وشمار میں شامل نہیں ہیں اور جنہیں حکومتی کھاتوں میں کبھی پاکستان کے شہری کے طور پہ شمار نہیں کیا گیا؟حالانکہ غیر سر کاری اعداد وشمار کے مطابق ان کی تعداد اب 80لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور یہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔آپ کے ذہن میں فوراً وہ تارکین وطن آئے ہوں گے جو بنگلہ دیش ،نیپال ،افغانستان ،بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں آباد ہیں۔

انہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے پکھی واس،خانہ بدوش وغیرہ ۔حکومت پاکستان انہیں اپنا شہری نہیں مانتی۔انہیں شناختی کارڈ جاری نہیں کئے جاتے اور اسی مناسبت سے یہ ان تمام حقوق اور سہولتوں سے محروم ہیں جو ایک شہری ہونے کے ناطے کوئی فرد حاصل کر سکتا ہے ۔خانہ بدوشوں نے شناختی کارڈ کا متبادل ڈھونڈتے ہوئے اپنی یونین بنا لی ہے۔اس یونین کے کارڈ ان کے لئے شناختی علامت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انتظامیہ ایسے خانہ بدوشوں کو اراضی سے بے دخل کرتی رہتی ہے جو عارضی طور پہ کہیں اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں چاہے یہ علاقہ ویران اور جنگلوں سے بھی متصل کیوں نہ ہو۔رہائش کے حوالے سے ان کی حالت زار نہایت دگر گوں ہے گندگی سے بھرے ہوئے علاقوں میں رہائش رکھنے پہ مجبور ہوتے ہیں صحت وصفائی کی اس خراب صورتحال اور ماحول کی وجہ سے ان کے بچے زیادہ تر بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اکثر اوقات پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ اس طرح کی خانہ بدوش جھگیاں ہر شہرمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح کم آمدنی والے افرادیا بے گھر افراد مکان کے حصول کے لئے کچی آبادیاں بنانے پہ مجبور ہیں۔کم آمدن والے اور انتہائی پسماندہ افراد کے لئے مکان کے حصول کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔اس حوالے سے حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں اس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ جو سکیمیں حکومت نے متعارف کروائیں ہیں ان میں سرکاری کالونیوں سے لے کر ہاؤسنگ سکیموں تک کا جو سلسلہ نظر آ رہا ہے اس میں کم آمدنی والے یا پسماندہ بے گھر افراد کے لئے کوئی سہولت موجود نہیں کہ وہ اسے اپنی استطاعت کے مطابق خرید سکیں چاہے وہ نقد کی صورت میں ہو یا اقساط کی صورت میں ہو۔یہ سکیمیں اتنی مہنگی ہیں کہ عام کم آمدنی والا خاندان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔پھر سر کاری سطح پہ جومکانات بنائے جاتے ہیں وہ سر کاری ملازمین اور وہ بھی سیاسی تعلقات کی بنیاد پہ مخصوص افراد میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح پرائیویٹ سکیمیں بھی کم آمدنی والے افراد کو مد نظر رکھ کر نہیں بنائی جاتیں۔لہذا مڈل یا ا پر کلاس کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔کم آمدنی والا طبقہ صرف اچھے گھر کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں ایسی اسکیموں کا آغاز کیا جائے جو کہ کم آمدنی والے افراد کے حالات کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہوں۔نیز وہ مناسب بنیادی سہولیات سے لیس ہوں۔اس کے لئے ایسے اداروں اور انسانیت کا درد رکھنے والے افراد کو بے گھر لوگوں کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت سکیمیں بنانی چاہئیں، تاکہ اس بنیادی مسئلہ کو حل کیا جا سکے۔اس سلسلے میں سائبان نامی ادارہ نے ’’خدا کی بستی ‘‘کا ماڈل متعارف کروایا ہے۔جس کا تجربہ اندرون سندھ، کراچی ، لاہور میں ہو چکا ہے۔اس سکیم کی خصوصیت یہ ہے کہ کم آمدنی والے خاندان با آسانی اپنے گھر کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔یہ سکیم اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی ہے اور انتہائی کم اقساط پہ فوری طور پہ گھر کی جگہ کا قبضہ غریب خاندان کو دے دیا جاتا ہے اوروہ اپنی مدد آپ کے تحت آہستہ آہستہ اپنا چھوٹا سا گھر بنا لیتا ہے۔یہ ایک قابل تحسین کوشش ہے۔اگر مالی استطاعت رکھنے والے اس ماڈل کو اپنا کر ہر شہر میں یہ سکیمیں شروع کریں تو یقیناً انتہائی غریب طبقہ بھی اپنے گھر کے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68658 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
08 Sep, 2016 Views: 707

Comments

آپ کی رائے