بقرعید اور حقدار

(Shahzad Saleem Abbasi, )
خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ دینا ہمیشہ سے انسانی فطرت کا مدار رہا ہے ۔ حضرت آد م ؑ اور انکے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصہ روشن مثال ہے اورابراہیم ؑ کا اپنے لخت جگر کو قربان ہونے کے لیے کہنا اور حضرت اسماعیل ؑ کا خدا کی خوشنودی میں دنبے کہ جگہ خود لیٹ کر خدا سے محبت و عقیدت کی مثا ل قائم کرنا یقینا وہ سبق تھا جو انہیں حضرت ابراہیم ؑ نے سکھایا تھا۔ اﷲ کی باپاں رحمت اور پرجوش رحمانیت کے نتیجے میں ہم ایک بار پھر قربا نی کرنے کی سعادت سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔قربانی سنت مطہرہ اور رسول محمد مصطفیﷺ کے امتیوں کے لیے مشروع عمل ہے۔نبی مہربانؑ کی لاحقہ دو احادیث قربانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے لیے کافی ہیں کہ’’ جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز پڑھنے تک قربانی نہیں کی تو وہ اﷲ کے نام کیساتھ قربانی کا فریضہ سرانجام دے۔ دوسرے بات یہ ارشاد فرمائی کہ ’’جس کے پاس وسعت و طاقت ہو پھر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے ‘‘۔یہ حکم خاص ہے جو کہ صاحب استطاعت اور صاحب ثروت افراد پر ہی دلالت کرتا ہے اسی لیے جن لوگوں کے پاس مال خیر کی فراوانی نہیں ہے اور جانورنہیں خرید سکے تو قرآن کی اس آیت ’’اﷲ تعالی کسی شخص کو مکلف نہیں بتاتا مگر اسی کا جو اس کی طاقت میں ہو‘‘ پر یہ حکم صادر نہیں ہوتا۔قربانی مالی عبادت کے ساتھ ساتھ شعائر اسلام میں سے ہے۔ہر وہ مسلمان جو صا حب استطاعت یعنی صاحب نصاب ہو چاہے دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو اس پر قربانی فرض ہے۔ قربانی کا تصور عبادت بھی ہے اور تقرب الہی کے حصول کا ذریعہ بھی۔اسلام دین فطرت ہے اور اس نے ’’قربانی‘‘ کو انسانی فطرت کے لیے سکون اور توحید کے تقاضوں کا مظہر بنایا ہے۔یعنی سنت ابراہیمی کی ادائیگی صرف اور صرف رضائے الہی کے حصول کی خواہش پر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیم کی یاد میں قربانی کو مشروع قرار دیا ہے اورامت دیگر عبادات کی طرح قربانی کرنے کا طریقہ کاربھی بنی عرب و عجم کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کے مطابق اختیار کرتی ہے۔اس عظیم فریضے کوبارگاہ ر بانی میں شرف قبولیت بخشوانے کے لیے دینی احکامات کی پابندی ضروری ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ریا کاری (شرک اصغر) آجائے تو پھر سب رائیگاں چلاجائے گا۔

تنزلی و ترقی کے درو میں انسانیت کا فلاح وبہبود کے کاموں میں دلچسپی لینا مثبت اور حوصلہ افزاء پیشرفت ہے۔ بہت ساری قابل قدر تنظیموں اور این جی اورز نے ملکر غربت و جہالت اور بھوک افلاس کے خاتمے کا بیڑا اٹھا یا ہے اورملکی حالات کے پیش نظر ایجوکیشن، کمیونٹی سروسز، رفاہ ِ عامہ، ہیلتھ سمیت دیگر فلاح وبہبود کے شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو کہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ رول ماڈل ہے۔ یہ ادارے ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک پاکستان کا گروتھ ریٹ بڑھانے ، کسی حد تک غربت کرنے ،لوگوں کو ان کے پاؤں پر کھڑے کرنے اور لیٹریسی ریٹ بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ چند فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن ، ایس کے ٹرسٹ، سویٹ ہومز، ایدھی ہومز،شوکت خانم، صراط الجنہ ٹرسٹ، ایس اور ایس ویلج اور وزڈم ٹرسٹ، چلڈرن ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فنڈ، سیو دی چلڈرن، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن، عرفا کریم ٹرسٹ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ،کڈنی سینٹر ، آغا خان وغیرہ شامل ہیں۔

غو ر طلب نقطہ یہ ہے کہ جب آپ عید قربان کا گوشت، پیسے یا کھال غرباء کو جیب سے دے رہے ہیں تو مکمل چھان بین کریں کہ کیا وہ ادار ہ یا فرد آپکی رقم کا صحیح حقدار ہے ؟ اور آپکا پیسہ کہیں ملک سا لمیت اور مفاد کے خلاف تو نہیں استعمال ہو رہا؟آپ کا پیسہ کسی دہشت گرد جماعت اور سیاسی ومذہبی عسکری ونگ کو نہیں جا رہا؟کیا آپ کا پیسہ کسی ایسے سکول یا مدرسے میں تو نہیں جا رہا جہاں تعصب کی آگ بڑھکائی جاتی ہو؟ کیا آپکا پیسہ کسی ایسی تنظیم کو تو نہیں جا رہاجو آپکے دیے ہوئے صدقے، زکوٰۃ ، فطرات کواپنے اللے تللوں میں اڑا رہا ہے؟کیا آپکی دی گئی کھال کا مصرف صحیح ہے۔ میری ناقص دانست کے مطابق حکومت اور عوام الناس کو حقیقی معنوں میں خدمتِ خلق کا کام کرنے والی این جی اوز کو ضرور سپورٹ کرنا چاہیے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مختلف الخیال موضوعات، مختلف النوع مسائل اور فلاح وبہبود کے کاموں میں ہم آہنگی کی فضاء بھی پیدا ہو اور مسائل کا حل بھی جلد از ممکن ہو۔ عید قربان پر ان ادراوں کو بھی یاد رکھیں جو مسلسل خدمت انسانی کے جذبے سے سرشارہر موقع پر غریبوں، بے روزگاروں، بے آسروں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں ۔تاکہ آپکا دیا ہوا مال خدمت گزاروں کے حوصلہ اور ہمت کو مزید تقویت اور دوام بخشے۔

آئیے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ معاشرے کا وہ حصہ جو مجبوری ، مفلسی اور فاقے کی زندگی گزار رہاہے اسکو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کی جائے۔اورفلاح وبہبود کے رضاروں اور کارکنوں کاکا دست بازو بن کر ایک مستحکم اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ڈالیں گئے۔ مل جل کے ارض پاک کو رشک ارم کریں ، کچھ کام آپ کیجئے کچھ کام ہم کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Saleem Abbasi

Read More Articles by Shahzad Saleem Abbasi: 141 Articles with 54335 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2016 Views: 259

Comments

آپ کی رائے