عید قرباں کا پیغام امت مسلمہ کے نام

(Sajid Husain Nadwi, )
ام حماد
مدراس تمل ناڈو
ما ہ ذی الحجہ اس مبارک د ن کی یاد گار ہے جس دن ار ض و سماء کپکپا رہے تھے ، سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑگئی تھی ،پہاڑو ں کا جگر شق ہوا جا رہا تھا ،عالم کون و مکاں پر سکتہ طاری تھا ،کائنات کا ذرہ ذرہ تصویر حیرت بنا ہوا تھا ، کیوں کہ ایک پیغمبر باپ اپنے مستقبل پیغمبر بیٹے کے حلقوم پر چھری پھیرنے جارہاتھا ۔قربان جائیے اس خلیل اﷲ پر جنکی حیات طیبہ سرفروشانہ ،مجاہدانہ اورجرأت مندانہ واقعات سے پرتھی ،جنکوپروردگار نے قسم قسم کی آزمائشوں میں ڈالا (اور آپ خندہ پیشانی سے تمام آزمائشوں کو سر کرتے چلے گئے )کبھی تو معبو دانِ باطل کے گھر میں پیدا کر کے ،کبھی جلتے ہوئے شعلوں میں ڈال کر ،کبھی وطن سے بے وطن کر کے اور کبھی آل و اولاد کو وادیٔ غیر ذی زرع میں یکا و تنہا چھوڑکر اور جب مرادوں مانگا بیٹاہاتھ بٹانے کے قابل ہوا تو اسے اپنے ممتا بھرے ہاتھوں سے قربان کر نے کا حکم دیکر ۔ماتاریخ کچھ اس طرح بیان کرتی ہے کہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کئی مرتبہ خواب دیکھنے کے بعد یہ یقین کر لیا کہ حکم خدا وندی ہے اور وہ مجھ سے میرے بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے چنانچہ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو بلا کر فرماتے ہیں کہ اے میرے لاڈلے اور پیارے بیٹے آج میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھکو اپنے ہاتھوں ذبح کر رہا ہوں لہٰذا تم غور کر لو تم کیا منا سب سمجھتے ہو ؟ باپ کی اس تجویزپر بیٹا احتجاج کر سکتا تھا اور یہ کہ سکتا تھا کہ اے والد محترم آپ مجنوں اور پا گل تو نہیں ہو گئے ہیں ؟ شیطان آپ کو دھوکہ تو نہیں دے رکھا ہے لیکن خاندان نبوّت کا یہ پروردہ تھا ہاجرہ جیسی نیک خاتون کا تربیت یافتہ تھا ابراہیم جیسے موحّد اور متوکل کا بیٹا تھا وہی شفاف خون اسکے رگ و ریشے میں پیوست تھا وہی جوش و جذبہ اسکے اندر انگڑائیاں لے رہا تھا لہٰذا اسنے فوراً جواب دیا اے والد محترم اگر یہ حکم اﷲ کی طرف سے ہے تو آپ اسکو کر گزرئے انشاء اﷲ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے علا مہ اقبال نے اسی کی کیا ہی خوب ترجمانی کی ہے کہ
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھایا کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی

ناظرین : اس سے مقصود بیٹے کی قربانی نہیں تھی بلکہ قیا مت تک آنے والے لوگوں کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ حکم خداوندی پر محبوب سے محبوب شے اور مطلوب سے مطلو ب شے کو قربان کردینا ہے اپنے پرور دگا ر کی محبت کو ہر مادّی محبت پر غالب رکھنا ہے حتّیٰ کہ اولاد کی محبت بھی اس راہ میں ایک پل کے لئے بھی حائل نہ ہونے پائے ۔قربانی سرف جانور کے حلقوم پر چھری پھیرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے نفس پر چھری پھیرنے سے عبارت ہے اور اپنے آپ کواخدا کا بندہ بنا نے کا نام ہے یہی ہے ـــ ’’عید قرباں کا پیغام امت مسلمہ کے نام ‘‘
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajid Husain Nadwi

Read More Articles by Sajid Husain Nadwi: 11 Articles with 5063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2016 Views: 343

Comments

آپ کی رائے