عید،سری پائے، کھالیں اور صفائی!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)
 ضلعی انتظامی افسر نے عیدالاضحی کے موقع پر ایک حکمنامہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق عید کے موقع شہری علاقوں میں سری پائے جلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، یعنی اب یہ شوق رکھنے والے لوگ اپنے سری پائے اٹھا کر دیہات کا رخ کریں، یا شہر سے باہر کسی کھلے مقام پر اپنے چولہے گرم کریں، وہاں سلنڈر لے جائیں یا لکڑی سے کام چلائیں یہ ان کی مرضی۔ اُدھر قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے بارے میں ہدایات تو ملکی سطح پر جاری ہو چکی ہیں، جن پر ضلعی انتظامیہ بھی عمل کروانے کی پابند ہے کہ کالعدم تنظیمیں یہ کام نہیں کرسکیں گی، جن فلاحی تنظیموں کو اجازت دی گئی ہے وہ بھی مقامی حکومتوں کے منظور کردہ سینٹرز پر ہی کھالیں اکٹھی کرسکتی ہیں۔ تیسری بات یہ جیسا کہ ظاہر ہے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی، اس ضمن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے ہدایات کردی گئی ہیں۔

عید والے دن تو قوم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دسترس سے ذرا محفوظ ہی ہوتی تھی، مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ اب عید پر بھی بہت سے لوگ پریشان ہی رہیں گے، پولیس کا انہیں ڈر رہے گا اور پولیس کو اُن کی تلاش۔ جہاں تک کھالیں جمع کرنے کا تعلق ہے ، یہ معاملہ تو اب بہت اوپر کی سطح تک پہنچ چکا ہے، یہ ایشو نیشنل ایکشن پلان تک جا پہنچا ہے کہ یہ کھالیں دہشت گرد تنظیمیں حاصل کرتی ہیں اور اس کو اپنے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں، لہٰذا حکومت نے ان کے کھالیں اکٹھی کرنے پر پابندی لگا دی ہے، جو کھالیں اکٹھی کرتا یا اُن کو کھالیں دیتا پکڑا جائے گا، وہ اپنے مستقبل پر نظر رکھ کر ایسا کرے، تاہم دیگر تنظیموں یا اداروں کے لئے سینٹرز کی منظوری ہو چکی ہے۔ مگر اپنے ہاں کھالوں کے بارے میں ایک ذہن بنا ہوا ہوتا ہے، سب سے زیادہ کھالیں تو مقامی دینی مدارس کو ہی جاتی ہیں، اس کے علاوہ فلاحی تنظیمیں بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہیں، کچھ تنظیمیں ایسی بھی ہیں، جن کے بارے میں لوگ ڈبل مائنڈ ہوتے ہیں، مگر ہمسائیگی کے ناطے انہیں بھی کھالیں دے دیتے ہیں۔ اس لئے قربانی کی کھال احتیاط اور جانچ پڑتال کے بعد دیں، یہ نہ ہو کہ قربانی کی کھال کی وجہ سے اپنی کھال ہی حکومتی اداروں کی گرفت میں آ جائے اور جان چھڑانی مشکل ہو جائے، یوں عید کا مزہ تو جو کچھ خراب ہوگا، بعد میں بھی نہ جانے کب جان خلاصی ہوگی۔

سری پائے پر شاید پہلی مرتبہ پابندی لگی ہے، امکان ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زیادہ توجہ کھالوں پر ہی ہوگی، اس لئے سری پائے کسی حد تک چل جائیں گے، کون پولیس والے ہونگے جو گلی گلی چکر لگا کر پایوں کے جلنے کی بدبو سونگھیں گے اور اس کی کھوج لگا کر گھر پر دستک دے کر پائے اپنے قبضے میں لیں گے۔ یہ حکم چونکہ ضلعی انتظامی افسر کا دیا ہوا ہے، اس لئے پائے جلانے والے کچھ لوگوں کا پکڑا جانا بہت ضروری ہے، کارکردگی دکھانے کے لئے اور افسر صاحب کو خوش کرنے کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔ سری پائے کے جلانے پر پابندی اگرچہ ایک متنازع حکم ہے، مگر ایک گھر میں یہ جلتے ہیں، ساتھ دس گھر اِس کی بدبو اور گھٹن سے تنگ ہوتے ہیں۔ اس پابندی پر عمل درآمد کرنے کے لئے شہروں میں کمیٹیوں اور صفائی کے عملے کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں، یہ لوگ روک نہیں سکتے مگر پولیس کو اطلاع تو کرسکتے ہیں۔

عید الاضحی کے موقع پر خود لوگوں کا پیدا کردہ بہت بڑا مسئلہ گندگی کا پھیلاؤ ہوتا ہے، ہمارے ہاں ’’بہاول پور ویسٹ منیجمنٹ کمیٹی‘‘ نے گھر گھر دروازوں پر دستک دے کر کنگ سائز کے شاپر دیئے ہیں، ساتھ ہی دو عدد پمفلٹ بھی ، کہ جن پر عید مبارک، صفائی کی اپیل اور کمیٹی کے بہت سے نمبر بھی دیئے ہیں کہ چوبیس گھنٹوں میں جس وقت چاہیں فون کرکے صفائی کے عمل کو جاری کیا جاسکتا ہے، عملہ ویسے بھی عید کے دنوں میں ہمہ وقت صفائی میں مصروف رہے گا، جس کی وجہ سے گندگی پھینکنے اور اٹھانے والوں کا مقابلہ جاری رہے گا، تجربہ یہ بھی ہے کہ اس مقابلے میں کامیابی صفائی والوں کی ہی ہوتی ہے۔ اپنے ہاں کلچر یہ ہے کہ کمیٹی کے دیئے ہوئے بڑے شاپر گھر میں استعمال کے لئے رکھ لئے جاتے ہیں اور قربانی سے برآمد ہونے والا کچرا گلی کے کسی کونے میں پھینک دیا جاتا ہے، اگر ویسٹ منیجمنٹ کمیٹی کی کوششیں جاری رہیں تو کبھی وقت ضرور آئے گا جب ہر طرف صفائی کا راج ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 251320 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2016 Views: 350

Comments

آپ کی رائے
اچھا مضمون لکھا ہے - کچھ نئی باتوں کا علم ہوا - قربانی کی کھال کے بارے میں میں نے بھی ایک مضمون لکھا تھا -اسی ہماری ویب پر ملاحظہ کیجئے
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=80832
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 21 2016
Reply Reply
0 Like