فضائل و مسائل قربانی

(Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ہ اما بعد اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم ہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ہ فصل لربک وانحرہ
ترجمہ: ’’پس اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘

ماہ ذی الحجہ شریف اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ہے۔یہ نہایت ہی خیرو برکت اور عظمت وحرمت والا مہینہ ہے۔

دلیل: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا تمام مہینوں کا سردار ماہ رمضان ہے اور تمام مہینوں میں حرمت والا مہینہ ذی الحجہ ہے۔(غنیۃ الطالبین)

ذی الحجہ کا عشرہ اول
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: والفجر ولیال عشر۔ ’’اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی۔‘‘

لیال عشر میں مفسرین کا اختلاف ہے۔لیکن حضرت عباس وابن عباس وعبد اﷲ بن زبیر وجابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا قول ہے کہ لیال عشر سے ذی الحجہ کے عشرہ اول یعنی اس کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں۔

مزید دلائل
(1) حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ دنیا کے دنوں میں سب سے افضل ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین نے عرض کیایارسول اﷲ ﷺ کیا ان دنوں کے عمل کے برابرراہ خدا میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ فرمایانہیں۔
(2) منقول ہے کہ جو شخص ان دس ایام کی عزت کرتا ہے اﷲ تعالیٰ یہ دس چیزیں اس کوعطافرما کر اس کی عزت افزائی فرماتا ہے:
(۱) عمر میں برکت (۲) مال (۳) ا ہل وعیال کی حفاظت (۴)گناہوں کاکفارہ (۵)نیکیوں میں اضافہ (۶) وقت نزع آسانی(۷) ظلمت میں روشنی(۸) اعمال کا وزنی ہونا(۹) دوزخ کے طبقات سے نجات(۱۰) جنت میں بلند ی درجات۔
(3)مزید منقول ہے کہ جس نے اس عشرہ میں کسی مسکین کو خیرات دی گویا اس نے اپنے پیغمبروں کی سنت پر صدقہ دیا۔جس نے ان دنوں کسی کی عیادت کی اس نے اولیاء اﷲ اور ابدال کی عیادت کی۔جو کسی کے جنازہ کے ساتھ گیاگویااس نے شہیدوں کے جنازے میں شرکت کی۔ جس نے کسی مومن کو اس عشرہ میں لباس پہنایا اﷲ اپنی طرف سے اس کو خلعت پہنائے گا۔جو کسی یتیم پر مہربانی کرے گا اﷲ تعالیٰ اس پر عرش کے نیچے سے مہربانی کرے گا۔ جوشخص کسی عالم کی مجلس میں اس عشرہ میں شریک ہوا گویا وہ انبیاء ومرسلین کی مجلس میں شریک ہوا۔
(4 ) حضرت سیدنا مولاعلی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا: عشرہ ذی الحجہ میں عبادت کی کوشش کرو۔عشرہ ذی الحجہ کو اﷲ تعالیٰ نے بزرگی عطا فرمائی ہے اور اس عشرہ کی راتوں کوبھی وہی عزت دی جو اس کے دنوں کو حاصل ہے۔(غنیۃ الطالبین)

عرفہ کا دن
ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو عرفہ کا دن کہتے ہیں ۔اس دن کی بھی بڑی فضیلت ہے۔اس دن کا روزہ غیر حاجیوں کیلئے سنت اور باعث اجروثواب ہے۔

دلیل
(1) حضرت نافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے سنا کہ! اﷲ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں پر نظر فرماتاہے تو جس کے دل میں ذرا برابربھی ایمان ہوتا ہے بخش دیا جاتا ہے۔میں نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کہ یہ مغفرت تمام لوگوں کیلئے ہے یا اہل عرفات کے لئے خاص ہے؟ انہوں نے فرما یا کہ یہ مغفرت تمام کیلئے ہے۔(غنیۃ الطالبین)
(2) حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : مجھے اﷲ تعالیٰ پر گمان ہے کہ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(صحیح مسلم شریف )

شب عید قرباں
حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو پانچ راتوں میں جاگے (ذکرواذکار تلاوت قرآن ودرود وسلام پڑھے) اس کیلئے جنت واجب ہے۔
( ۱) شب ترویحہ(۲) شب عرفہ(۳)شب عید قرباں(۴) شب عید الفطر(۵) شب برأت۔

نفل: شب عید قرباں میں دو رکعت نمازِ نفل منقول ہیں۔ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص ،سورۃ فلق پندرہ پندرہ مرتبہ بعد سلام تین تین بار آیۃ الکرسی اورپندرہ مرتبہ استغفار پڑھے۔اس کے بعد دُنیا ء آخرت کی بھلائی کیلئے جو دُعا چاہے کرے۔

قربانی: قربانی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اُمت محمدیہ ﷺ کیلئے باقی رکھی گئی ہے اور نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیاہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فصل لربک وانحرہ‘‘ پس اپنے ر ب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو ۔

احادیث سے دلائل
(1) اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا: یوم النحر (دسویں ذی الحجہ ) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور با ل اور کھروں کے ساتھ آئے گااور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک قبولیت کو پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔(ترمذی شریف،ابن ماجہ،سنن ابی داؤد شریف)
(2) حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ محبو ب خد ا ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جس نے خوش دلی سے طلبِ ثواب کیلئے قربانی کی تو وہ قربانی دوزخ کی آگ کے لئے حجاب ہو جائے گی۔(طبرانی)
(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ شفیع المذنبین ﷺ نے فرمایا : جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔(ابن ماجہ)
(4) حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے حکم فرمایاکہ ! سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو ،سیاہی میں بیٹھتا ہو اورسیاہی میں نظر آتا ہو ۔(یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں،پیٹ سیا ہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں)وہ قربانی کیلئے حاضر کیا گیا۔حضور ﷺ نے فرمایا! عائشہ چھری لاؤ ۔پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو۔پھر سرکاردوعالم ﷺ نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور اسے ذبح کیا۔پھر فرمایا: ’’بسم اللّٰہ اللّٰھم تقبل من محمد و آل محمد ومن اُمت محمدا ۔‘‘ ’’ا ے اﷲ تو اس کو محمد ﷺ کی طرف سے اور ان کی آل کی اور اُمت کی طرف سے قبول فرما۔ (مسلم شریف)
(5) روایت ہے کہ نبی کریمﷺ سے صحابہ کرام نے عرض کیا! یارسول اﷲ ﷺ یہ قربانی کیاہے؟ فرمایاتمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔عرض کیا آقا! ہمارے لئے اس میں کیا ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔(کتب احادیث)

قربانی کا جانور
(۱) امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ! افضل ترین قربانی وہ ہے جو بااعتبارقیمت اعلیٰ اور خوب فربہ ہو۔

نوٹ: ہر معاملہ میں نیت بنیادہے ۔اس امر کا خیال رکھناچاہیے کہ کہیں ریاکاری ،دکھلاوانہ آنے پائے۔
(۲) حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اﷲ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : چار قسم کے جانور قربانی کیلئے درست نہیں ہیں :
(۱) کانا: جس کا کانا پن ظاہر ہو۔(۲) بیمار: جس کی بیماری ظاہرہو۔(۳) لنگڑا: جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔(۴) ایسا لاغر وکمزور جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ (ترمذی شریف،ابوداؤد شریف ،نسائی شریف)

گوشت
گوشت کو برابر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ایک حصہ اپنا یعنی گھر والوں کا ۔دوسرا رشتہ داروں کا اور تیسرا حصہ غرباء ومساکین کا۔

قربانی کی کھال
قربانی کی کھا ل کے بہترین مصرف دینی مدرسے ہیں۔جس میں طلباء کے قیام وطعام کا بندوبست بھی ہو تاکہ علوم دینیہ کو عام کرنے میں معاونت ہو سکے اور صدقہ جاریہ
بھی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 85 Articles with 91402 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2016 Views: 531

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ