میرا وطن عزیز دشمنوں کے نرغے میں

(M Yaqoub Ghazi, Islamabad)
جب سے اس زمین پر ابنِ آدم آباد ہوا تب سے ایک دوسرے پر غلبہ پانے کےلئے یا پھر دفاع کیلئے جنگیں لڑی گئیں ، اور آپﷺ اور آپﷺ کے رفقاء نے بھی جنگیں لڑیں یا تو غلبہء اسلام کیلئے یا پھر دفاع کیلئے ۔

سیرت کا ایک ادنیٰ قاری بخوبی جانتا ہے آپﷺ اورآپ ﷺ کے رفقاء نے جب بھی کوئی جنگ لڑی مکمل حکمت عملی اور پوری تیاری کے ساتھ لڑی ۔حکمت عملی میں سب سے پہلی حکمت عملی اِن آیٰت کی روشنی میں ہوتی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ () وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ () ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ (سورۃ محمد )اے ایمان والو!اگر تم اللہ کے( دین)کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کریگا اور تمہیں ثابت قد م رکھے گا ۔اور جو لوگ کافرہیں انکےلئے تباہی ہے اور اللہ نے انکے اعمال ضائع کردئیے ۔اور یہ اسلئے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا انہوں نے اسے ناپسند کیا ،تو اُس نے انکے اعمال ضائع کردئیے ۔

تاریخ ِاسلام نے اس کو بھی اپنے اوراق میں محفوظ کیا کہ اہل اسلام تین دن سے ایک جنگ لڑ رہے تھے لیکن فتح نہیں ہورہی تھی مشورۃ کیا گیا آخر کیوں اتنے دن سے فتح نہیں ہورہی ؟توپتہ چلا کہ مسواک کی سنت پہ عمل نہیں ہو رہا مسواک کرنا شروع کیا تب جاکر فتح حاصل ہوئی ۔ مسلمان صرف اللہ کی مدد کے سہارے جنگیں لڑتا ہے چاہے وہ اقدامی ہوں یا دفاعی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے : إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ ()اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔سورۃ آل عمران

آج میرے وطنِ عزیز کو دشمنوں کا سامنا ہے کہیں ہندستان کا سامنا تو کہیں افغانستان کا سامنا تو کہیں قوم پرستوں کا سامنا اور کہیں دہشت گردوں کا سامنا غرض ہر طرف سے میرا وطنِ عزیز اور ایٹم بم جیسی نعمت دشمنوں کو کھٹک رہا ہے ۔سرحدوں پہ اور اندرون خانہ آپریشنز ہو رہے ۔
ہم بحیثیت مسلمان ارباب اقتدار سے سوال کرتےہیں ،
کیا سود ی لین دین کے ہوتے ہوئے ہم اللہ کی مدد حاصل کرسکتےہیں ؟
کیا رشوت کے ہوتے ہوئے اللہ کی مدد کو حاصل کیا جاسکتا ہے ؟
کیا میرٹ کو چھوڑ کر سفارش اور اقرباء پروری کے ذریعے اللہ کی مدد کو حاصل کیا جاسکتا ہے ؟
کیا ناانصافی کے ہوتے ہوئے اللہ کی نصرت کی امید کی جاسکتی ہے؟
کیا اللہ کی حاکمیت کا اقرار صرف آئین کے حد تک کافی ہے یا اُسے نافذ کرنابھی ضروری ہے ؟
کیا فحاشی کے ہوتے ہوئے اللہ کی مدد کی امید کی جاسکتی ہے ؟

اگر نہیں تو خدارا !
ہمارے وطن کو سب سے پہلے اللہ کے ناراضگی والے کاموں سے حتی الامکان پاک کیا جائے
اسلئے کہ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ()اگر وہ (اللہ) تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اسکے بعد تمہاری مدد کرسکے ۔اور چاہئے اللہ پر بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے ۔سورۃ آل عمران
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: yaqoub ghazi

Read More Articles by yaqoub ghazi : 15 Articles with 6174 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 418

Comments

آپ کی رائے