دوغلا پن ۔۔۔۔۔۔۔؟

(Dur Re Sadaf Eemaan, )
سنو بیٹا ۔ یہ آواز مجھے اپنے عقب سے آ ئی ۔ پلٹ کے دیکھا تو ایک بڑ ی عمر کی خاتو ن تھیں جی آنٹی میں نے انہیں جواب دیا ۔بیٹا تمہارے تو بہت سے جاننے والے ہوں گے نہ ؟

جی آنٹی بیٹا ایک کام کہوں کردو گی ؟ خاتون نے امید بھری نظروں سے دیکھتے ہے پوچھا جی آنٹی کہیں بیٹا تم نے میری بیٹی ستارہ کو دیکھا ہے نہ ؟ جی آنٹی

بیٹا اس کے لیے کوئی رشتہ ہو تو بتانا بہت پرشان ہوں ۔ اور یہی جواب میں صرف جی آنٹی کہہ کر رہ گئی ،وہ خاتون مجھے دعا ئیں دیتی رخصت ہو گئی ،یہ وہ مکا لمہ تھا ۔ جو کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ مجھے پیش آتا تھا

اب چاہے لکھا ر ی ہوں یا تقر یر کرنے والے ،میلا د کی سجا و ٹ پر انگلیا ں اٹھا نے والے ھوں یا مزارات پر چادر یں چڑ ھا نے والو ں کے خلا ف بولنے والے ۔غریب کی بیٹی ۔ غریب کی بیٹی کا چر چا کرنے والے ہوں ،یا پھر بھڑ تی عمر کو دیکھ کے تاسف سے نگا ہ اٹھا نے والے ۔

کبھی کسی میی حقیقت سے آشنا ئی کا حوصلہ آیا نہ ہی حقیقت سے نظر ملانیکا کے وہی خاتون جو ابھی بیٹی کے لیے پریشان تھیں بہو پسند کرنے کی باری آتی ہے تو فرمان مبارک ہوتا ہے کے چاند سی بہو لا ئوں گی تا کہ پوتے چاند سے ہوں ،چاہیے پھر پوتے ہونے سے پہلے بہو بیٹے کو لے کے الگ ہوجاے ،بہو تو چاندسی آگئی نہ ،یا وہ لڑکی جو خود انتظار کی صلیب پر ہو ،بھائی کی شادی کی باری آتی ہے تو فرمان ذی شان ہوتا ہے کے ہمارے بارے بھائی کی شادی ہے ،لڑ کی خوبصورت ہونی چاہے،اب ڈھو نڈ نے میں ہر لڑکی مل جائے گی نہیں ملے گی تو بس خوبصورتی کے معیا ر پر اترنے والی نہیں ملے گی ۔ یا وہ لڑکا جو اپنی بہن کیلئے برسرروزگار خوبصورت خوبرو نیک عادت کے حامل لڑکا ڈھونڈ جارہا ہوتا ہے خو د چاہے گٹکا کھاتا ہو یا گلی کی نکڑ پر بیٹھ کر انجوائے کرتا ہو ، یا پھر پان کے کیبن پر کھڑے ہو کر سگریٹ کی شاپنگ کرتا ہو ، بہن کیلئے پرفیکٹ چاہیے خود کسی کی بہن کیلئے پرافیکٹ نہیں بننا اور ایک اور بات یہ ہمارے معاشرے کے مردوں کی خود چاہے26سے 36اور 36سے 46کا ہندسہ عبور کرچکے ہوں لڑکی 19سے23کے درمیان کی ہی چاہیے ،عمر جیسے تھم سی جائے کی گھڑی پہنی ہوئی ہو، جو اس کی عمر روک دے۔ خود کیوں نہیں پہن لی ایسی گھڑی ؟ساتھ ساتھ ایک اور المیہ بھی ہے بے چارے مردوں کا اور ساتھ ساتھ بے چاری عورتوں کا بھی مرد شادی ایک کرے،چھپ کر چار گرل فریند رکھ لے کوئی مسئلہ نہیں بنتا ، بتا کر ے شادی کرے وہ ہنگامہ کے ا لامان اور شادی نہ کرے سنت پر عمل کرتے ہوئے گناہ سے نہ بچے، چھپن چھپائی کھلتا رہے کوئی ایشو نہیں۔

اور اگر بالفرض بیوی کو معلوم بھی ہو جائے، پہلے دن سخت جھگڑا دوسرے دن بیوی میکے روانہ تیسرے دن خاندانی پنچائیت منعقد ،چوتھے دن صلح صفائی ، پانچویں دن شوہر کے گھر واپسی ، چھٹے دن شوہر کی اپنی گرل فرینڈ رکھنے والی حرکت پر ندامت ،پیشمانی، ساتویں دن اپنی وفائوں کا یقین، اعتبار، وفا سدھرنے کی سند، آٹھویں دن امن و امان کے بادل ،اور نویں دن موبائل ری چار ج، ری لوڈ، پاس ورڈ اگین سیٹ ،پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بار بار کے دھوکے پر مجبور کون کررہا ہے ؟خود بیوی اب چاہے میاں بیوی میں کمی ہو، اسکی ناعاقبت اندیشی ہو یا مرد کی فطرت کا قصورہو، مرد کو شریعت نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے، یہ بات پر عورت کہہ دے گی قرآن کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں پر نہ جانے اس حکم کی حکمت سمجھ سے بالاتر کیوں ہے ہر بیوی کیلئے؟اب یہاں خواتین میرے خلاف بولنے سو چنے لگ جانا ہے صرف ایک نکتہ ہے اور برحق نکتہ ہے قرآن میں ہی بیان ہے کہ قرآن سے زیادہ کس کی بات سچی اور قرآن میں ہی بیان ہے کہ جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح اور یہ بھی قرآن کا حکم ہے ۔

اور مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں کچھ نیچی رکھیں تو جو بیوی اپنے شوہر کو گرل فرینڈ سے تعلق نہیں رکھنا پسند کرتی ہو وہ عورت یہ کیوں پسند کررہی ہے کہ اسکا شوہر خفیہ اور گناہ والے تعلق رکھ کر جہنم میں جائے تو ایک اچھی شریک سفر ہونے کے ناطے اپنے شوہر کو ڈرا دھمکا کر نہیں پاک صاف جائز اور سنت طریقے کے ذریعے رشتے کو بچایا جائے تو زیادہ بہتررہے گا ۔ ورنہ معاشرے میں جوبرائیاں پھیل گئیں ہیں اور جو پھیلناشروع ہو گئی ہیں وہ میرے قلم کی محتاج نہیں کہ بیان کروں اور آخر میں صفر اتنا کہ ذات پات رنگ و نسل دولت نہیں اسلام اور اسلامی اوصاف دیکھ کر بیٹے اور بیٹیوں کے بر قبول کریں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 49 Articles with 26855 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 588

Comments

آپ کی رائے
Acha likha he aapne... Facts byan krnay ki had tak aapki batain bilkul theek hain yahi hota hey jo aapney likha he...

Lekin main ye sochta hon k agar koi banda khud acha nahi he tu kia apni behan k liye achi soch na rakhay? Agar khud gutka khata he tu kia behan k liye bhi gutka khanay wala and awara nikamma he chose karay? Ye tu koi asool nahi he na...

Doosra, Allah Paak ne shadi k liye umar per koi pabandi nahi lagai he k mard aur aurat k beech bus itnay saal se ziada farq nahi hosakta n aapne khud ilkha k Allah Paak ne Farmaya hey k jo aurtain tumko pasan hon un se nikah karo, tu agar kisi 40-45 sal k banday koi 18-20 saal ki larki he pasand he tu usmain kia harj he...

Suppose aapka bhai agar ziada nahi kamata he, parh likh nahi saka n shakl bhi wajbi c hey tu kia uska kisi khoobsoorat n achi larki se shadi krnay ka right khatam hogay? Ya phir aap ki ye liability ban jati he he k because aapka bhai kisi larki ko achi financial life nahi de sakta tu aap khod bhi kisi kam aamdani walay se he shadi karain....

Khair chorain,,. Yeh aik ajeeb o ghareeb c debate he jiska koi result nahi nikal skta he...
By: Shahid, Lahore on Oct, 03 2016
Reply Reply
0 Like