داستان الف لیلیٰ سے ب بھیانک تک قسط 2

 میرے علاوہ سائلہ کو بھی کولڈ ڈرنک اور بعد ازاں کھانے تک کی پیش کش کی گئی جسے اس نے بڑی سہولت سے ٹھکرا دیا ۔۔۔۔ ایس ایچ او نے ’’صلح ‘‘ کی ذمہ داری اسی اے ایس آئی کے ذمہ لگا دی جو سائلہ کے درخواست میں تفتیشی تھا۔۔۔۔سائلہ بضد رہی کہ وہ کل سی پی او کے پاس ضرور جائے گی ۔۔۔۔میں نے اسے صبر کی تلقین کرتے ہوئے سمجھایا کہ پولیس سے بے عزتی کرواناہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے ۔۔۔سو اپنی عزت نفس مجروح کرانے سے بچنا ہو تو کبھی بھول کر بھی عدل و انصاف کی خاطر شریف شہری کو تھانے کا رخ نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی پولیس سے اس قسم کی توقع رکھنی چاہئے جو وہ پوری کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔۔۔۔میرے لاکھ سمجھانے بجھانے اور اس سعی ء لاحاصل سے بچنے کا مشورہ دینے کے باوجود سائلہ اگلے دن سی پی او گوجرانوالہ کو ایس ایچ کی دھمکیوں کے خلاف درخواست دینے جا پہنچی ۔۔انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اسے ڈی ایس پی وزیر آباد کے پاس بھیج دیا گیا جہاں ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کے خلاف درخواست کی سماعت میں ایس ایچ او کے رویئے کا تذکرہ تک نہیں کیا ۔۔۔مجھے توقع بھی یہی تھی ۔۔۔سائلہ کا البتہ اصرار تھا کہ وہ ضرور ڈی ایس پی کو ساری صورت حال سے آگاہ کرے گی
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں !

میں جانتا تھا کہ پولیس والے کے خلاف ایک عام شہری کو بھلا پولیس کیا انصاف دے گی ،جتنا بڑا افسر ہو اتنا بڑا ہی ’’پلسیا ‘‘ہوگا ہمارے ملک میں تو پولیس ایک سوچ کا نام ہے ،دھونس ،جبر، دبانے اور پیسے کھا کر لو گوں کوذلیل کرنے والی ایسی فورس جسے سرکاری وردی کا تحفظ حاصل ہوتا ہے،نہ کسی کا ڈر نہ خوف، سائل جائے تو کہاں۔۔۔گھوم پھر کے پھر پیٹی بھائیوں کے پاس ہی جانا پڑتا ہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ ہر شعبے کے لوگوں میں آپکوافسران مہتمم کی شرافت کی قسمیں کھانے والے ’ ایسے ’دلال ‘‘بھی مل جائیں گے جن کا سارا دن حرام کے مال کے لئے تگ و دو میں گزرتا ہے اور سودے کرانے والے ان ٹاؤٹوں کو تھانوں میں خوب عزت سے نوازا جاتا ہے جبکہ عام شہری ڈرا سہما اول تو لٹ جانے پر بھی تھانے نہ جانے کا درست فیصلہ کرتا ہے لیکن اگر ایسی غلطی کر بھی لے تو اسے شناخت کے نام پر ایسے لوگوں کو پہچاننے کے لئے کہا جاتا ہے جو اسکے ملزم ہی نہیں ہوتے ۔ تماش بینی کے شوقین پولیس افسران کی تھانوں میں مجرے دیکھنے کی خواہش بھی بڑی شدید ہے۔۔۔ قبل ازیں سول لائن تھانہ میں ’’منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے‘‘ پر رقص دیکھنے کا واقعہ منظر عام پر آچکاہے ۔۔ ۔۔۔ مظفر گڑھ کی نینا اور زویہ سب انسپکٹرسبط الحسن کی تمنا پوری کرنے پر آمادہ ہو جاتیں توآپ تصورکریں کہ تھانے میں مجرے کا منظر کیا ہوتا،ڈھولک کی تھاپ پر افسر مہتمم ٹھمکے لگاتے ہوئے کیا خوب ڈیوٹی انجام دے رہے ہوتے ۔تھانوں میں مجرے کرانے کی تجویز ویسے بری نہیں۔۔۔۔ یوں بھی برائی کے لئے تھانے سے زیادہ محفوظ اور موزوں جگہ شاید کوئی ہو بھی نہیں سکتی، جہاں انسان اور ایمان سمیت سب کچھ بکتا ہے ۔۔۔راقم خادم پنجاب کو انہی سطور میں پہلے بھی تجویز دے چکا ہے کہ نہ صرف مجرے بلکہ پولیس کی سرپرستی میں دھندہ چلانے والی ساری آنٹیوں کو تھانوں میں جسم فروشی کے لئے کمرے الاٹ کر دینے چاہئیں۔منشیات کی فروخت تھانوں کی مدد کے بغیر ہو نہیں ہو سکتی لیکن لوگ خوامخواہ ہی اسکی دستیابی کے لئے پریشان رہتے ہیں چنانچہ منشیات کی سیل بڑھانے کے لئے بہتر ہے کہ تھانوں میں آج کل کے پولیس کے شوشے فرنٹ ڈیسک پر بورڈ آویزاں ہو جس پر واضح حروف میں درج ہو-

’’یہاں ہر قسم کا نشہ ہول سیل ریٹ پر دستیاب ہے ‘‘۔’’ نئی تتلیوں کے مجرے کی ٹکٹیں رعائتی نرخوں پر حاصل کریں ‘‘’’یہاں چوبیس گھنٹے جوا کھیلنے کی سہولت موجود ہے ‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔آلتو فالتو سائیلین سے جان چھڑانے کے لئے مندرجہ ذیل جملے بھی لکھے جاسکتے ہیں

سایئلین واردات ہو جانے سے پہلے تھانے آنے کی زحمت نہ کریں ۔

تھانے میں’’ داد رسی ‘‘کے لئے خالی جیب آنے والوں کو حوالات میں بند کر دیا جائے گا۔

بحکم ایس ایچ او صلح کے لئے راضی نہ ہونے والوں کے خلاف ’’کچھ اور ‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ٓ یہاں رشوت نہیں لی جاتی تاہم آپ مدعی ہوں یا ملزم بغیر’’ فیس‘‘ کے کوئی کام نہیں ہو گا۔

کوئی اہلکار بغیر ایڈوانس کے مطلوبہ بندہ اٹھانے نہیں جائے گا۔

فرمائشی ایف آئی آر کے چارجز الگ ہوں گے ۔

موٹر سائیکل چھڑانے کے لئے سفارش نہ کرائیں ورنہ ٹائروں سے فوری ہوا نکال دی جائیگی ۔

مخالف کی چھترول کے لئے نرخ چھتر کے سائز کے حساب سے چارج کئے جائیں گے۔(جاری ہے)
 
Faisal Farooq
About the Author: Faisal Farooq Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.