پاکستان میں پھیلتا ہوا منشیات کا زہر

(Nouman Wadera, )
زندگی قدرت کا سب سے قیمتی اور نایاب تحفہ ہے۔ زمین پر زندگی کا وجود ہی اسے باقی کائنات سے ممتاز کرتا ہے۔اپنی اور دوسروں کی زندگی کی قدر کرنا اوراس کی حفاظت کرنا انسانیت کا پہلا درس ہے۔ لیکن آج کا انسان اسی زندگی کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔دنیا کو اجاڑنے کے لئے اس نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے، تباہ کن مزائل اور آلات ایجاد کر لئے۔ طرح طرح کے منصوبے اور پروگرام بنا لئے۔دوسروں کی زندگی تو ایک طرف، آج کے دور میں کچھ انسان اپنے ہاتھوں سے اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جن کو آپ روزانہ اپنے گلی محلوں، بازاروں، مارکیٹوں، پارکوں اور مختلف جگہوں پر نشہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو اس کی حواسِ خمسہ سے بے پروا کر دیتا ہے۔ دین و دنیا سے بے خبر کر دیتا ہے۔ انسانی صحت پر جان لیوا اثرات چھوڑتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان موت کی طرف سرکتا چلا جاتا ہے۔ منشیات تقریباً تمام ممالک کا ہی مسئلہ ہے اور اس کے سدِباب کے لئے مختلف ممالک میں سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں۔ سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں منشیات سمگل کرنے کی سزا موت ہے۔ لیکن اس کے باوجود منشیات کا کاروبار کرنے والا مافیہ پوری دنیا کی طرح ان ممالک میں بھی موجود ہے۔ منشیات پاکستان جیسے غریب ممالک کے نوجوانوں کی زندگی اور قوم کے مستقبل کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں ۔

پاکستان میں منشیات کے استعمال بارے ہوشربا اعدادو شمار ہیں لیکن پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ منشیات آخر کس بلا کا نام ہے؟منشیات سے مراد وہ اشیاء یا ادویات ہیں جو انسان کی ذہنی کیفیات اور رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ ان کے استعمال سے ذہنی و جسمانی تکالیف اپنی شدت کھو دیتی ہیں۔ ہر نشہ اپنا مخصوص رویہ رکھتا ہے ۔ کوئی نشہ دماغ کو سکون اور کوئی تحریک دیتا ہے ۔ بعض نشے درد ختم کرنے والے اور بعض خیالات کو توڑنے مروڑنے والے ہوتے ہیں۔ روایتی طور پر برصغیر میں بھنگ، چرس، شراب اور افیون کا نشہ عام ہو رہا ہے ۔ کھانسی کے شربتوں، خواب آور گولیوں اور نارکوٹکس کے ٹیکوں کا استعمال پچھلے چند سالوں میں خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے ۔ 1980ء کے بعد تیزی کے ساتھ ہیروئن کی وباء پھیلی ہے ۔منشیات کی جو اقسام سب سے زیادہ خطرناک ہیں ان میں ہیروئین ، چرس، افیون، کوکین اور شراب کا نشہ ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر راقم نے خود دیکھا ہے کہ مختلف علاقوں میں لوگ پٹرول اور صمد بانڈ کا نشہ بھی کرتے ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ پریشان حال، نارمل، خوش باش اور ہر قسم کے لوگ نشہ کرتے ہیں۔ نشے کا آغاز عام طورپر تفریح، رواج یا علاج کے طور پر کیا جاتا ہے ۔ بے سکونی، نشے کا ماحول اور اس کی آسان دستیابی اس کو ہموار کرتے ہیں۔ مضمرات سے بے فکر ہو کر لوگ نشے کا استعمال پھولوں کی طرح خوشی اور غمی دونوں موقعوں پر کرتے ہیں۔ آپ نے خبروں میں سنا ہو گا کہ گزشتہ سال ملتان میں خوشی کے موقع پر کچی شراب پینے سے ایک ہی قبیلے کے 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح کے واقعات لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے شہریوں کی تعداد کتنی ہے ، اس بارے میں وفاقی یا صوبائی حکومتیں سالانہ اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے کوئی ریسرچ نہیں کرواتیں لیکن مختلف اداروں کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق عادی افراد کی تعداد سات ملین سے ایک کروڑ کے درمیان ہے اور نشے کی یہ عادت ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ہلاکتوں کی وجہ بنتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بااعتماد ذریعہ اقوام متحدہ کا منشیات اور جرائم کی روک تھام کا دفتر ہے ، جو یو این او ڈی سی کہلاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کا یہ دفتر بین الاقوامی سطح پر منشیات کے استعمال اور ان کی تجارت سے متعلق حقائق جمع کرتا ہے ۔ UNODC کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں منشیات اور نشہ آور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والے افراد کی تعداد سڑسٹھ لاکھ ہے ، اور ان میں بھی سب سے بڑی تعداد پچیس سے لے کر انتالیس برس تک کی عمر کے افراد کی ہے ۔ دوسرا سب سے بڑا گروپ پندرہ سال سے لے کر چوبیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا ہے ۔ ان میں سے قریب سات ملین افراد میں سے بیالیس لاکھ ایسے ہیں، جو مکمل طور پر نشے کے عادی ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اس سال جون تک آٹھ سو ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر چکی ہے ۔

مشہور امریکی جریدے فارن پالیسی کی دنیا بھر میں منشیات کے استعمال سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی لاکھ افراد منشیات کے استعمال کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں منشیات کا استعمال کتنا بڑا مسئلہ ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے دس سال میں دہشت گردی کے نتیجے میں ساٹھ ہزار افراد مارے گئے لیکن ہر سال اس سے چار گنا زیادہ تعداد میں منشیات کی وجہ سے انسانی ہلاکتیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ تعلیم اور شعور کی کمی یا جہالت، بے روزگاری، گھریلو مسائل اوربری صحبت کہ وجہ سے لوگ نشہ کی لعنت کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

اس لعنت کا کیسے سدِباب کیا جا سکتا ہے؟ صوبائی و وفاقی دارالحکومتوں اور چند دیگر بڑے شہروں میں منشیا ت کے عادی افراد کے لئے بحالی مراکز قائم ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مراکز چھوٹے شہروں میں بھی قائم کئے جائیں۔ منیشات بارے آگاہی کے لئے دیہی سطح پر سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔ ہمارا میڈیا جو ہر وقت جگت بازی، سنسنی خیزی ، ناچ گانوں اور انتشار پھیلانے کے واحیات پروگرام نشر کرتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس میڈیا کو لگام دے اور منشیات سمیت دیگر معاشرتی مسائل بارے عوامی آگاہی کے لئے استعمال کرے۔ اس کے علاوہ منشیات کے عادی افراد کی نشاندہی کی جائے اور انہیں بحالی مراکز تک پہنچایا جائے۔ پاکستان اپنے معیشت کو بہتر بنا کر منشیات کی محرکات وہ وجوہات جن کا تعلق غربت اور بے روزگاری سے ہے اس لعنت کو کنٹرول سکتا ہے۔ نشہ آوار اشیاء کا سرعام دستیاب ہونا بھی اس کے پھیلاؤ کی اہم وجہ ہے۔ صوبائی و وفاقی حکومتوں کی اس مسئلہ پر گرفت بھی انتہائی کمزور ہے۔ منشیات کا کاروبارکرنے والے مافیہ کو اسی طرح چن چن کر پکڑنے اور سزائیں دینے کی ضرورت ہے جس طرح پاک آرمی نے دہشت گردوں کو چن چن کر مارا ہے۔ ہمارے اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کو بھی زبانی جمع تفریق کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں منشیات کی سمگلنگ افغانستان سے ہوتی ہے۔ اب پاک آرمی نے افغان سرحد پر کافی حد تک آمد و رفت کنٹرول کر لی ہے اس لئے امید ہے کہ منشیات کی سمگلنگ بھی بہت حد تک کم ہو جائے گی۔ پاکستان ایک عظیم قوم ہے لیکن اس کے دشمن بے شمار ہیں اور مکار بھی۔ یہ دشمن مل کر مختلف منصوبوں سے اس قوم کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ اس قوم میں منشیات کا زہر پھیلا دیا جائے۔ پاکستان کو دشمن کے ان تمام عزائم کو شکست دینا ہوگی۔ منشیات کی لعنت کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ اس جنگ میں قوم کے ہر شہری کو حصہ لینا ہوگا۔اپنے ارد گرد منشیات کے عادی لوگوں کی رہنمائی کریں۔ ان کی زندگی بچائیں اور اگر ممکن ہو تو انہیں بحالی مراکزتک پہنچائیں۔ آئیں ہم سب مل منشیات کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nouman Wadera

Read More Articles by Nouman Wadera: 7 Articles with 6176 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 412

Comments

آپ کی رائے