پاکستان کا مستقبل صوفیا کی نظر میں

(Muhammad Abdul Munem, )
عام طور پر ہم لوگ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے بارے بات کرتے ہیں مگر اللہ والوں کو خدا الہام کی وہ دولت عطا کرتا ہے جس سے وہ مستقبل کی ایسی ایسی باتیں بیان کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں- در اصل یہ اسی علم کا ایک حصہ ہے جس کو قرآن میں علمِ لدنی فرمایا گیا ہے اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کے کرپٹ سیاستدانوں اور موجودہ ابتر حالات کو دیکھ کر تو ایک عام انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا لیکن یہ صوفیا تو پاکستان کے مستقبل کے متعلق ایسے ہوش ربا انکشافات کرتے نظر آتے ہیں کہ وقت ہی ان کا یقین دلا سکتا ہے۔ ذیل میں چند صوفیا کے کچھ انکشافات پیش کیے جاتے ہیں۔۔۔

حضرت شاہ نعمت اللہ ولی رحمتہ اللہ علیہ
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک بہت بڑی جنگ ہو گی جس میں کافر قوم کو ایسی شکست ہو گی جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گی
آگ کا سیلاب چاروں طرف رواں ہو گا
دین اور ایمان کے بدخواہ لوگ جان سے مارے جائیں گے
ہند اور سندھ میں ایک زلزلہ قیامت کے زلزلوں کی طرح نمودار ہو گا
ہندوستان سے تمام ہندووانہ رسوم ختم ہو جائیں گی
تیسری عالمگیر جنگ شروع ہو جائے گی
دو الف(امریکہ یا انگلستان) میں سے ایک بالکل ختم ہو جائے گا کہ بس صرف اس کا نام تاریخ میں رہ جائے گا
اسلام کا غلبہ ہندوستان میں چالیس سال تک رہے گا

حضرت امام بری رحمتہ اللہ علیہ (اسلام آباد)
یہاں ایک شہر آباد ہو گا جس کا نام اسلام کے نام پر رکھا جائے گا اور وہ اسلام کا قلعہ ہو گا

حضرت پیر مقصود علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ
ایک ایسا جرنیل آئے گا جو سینکڑوں کرپٹ سیاستدانواں کو قتل کر کے صفایا کرے گا
اس کے زمانے میں پاک بھارت جنگ ہو گی
پہلے یوں محسوس ہوگا جیسے پاکستان شکست کھا رہا ہے لیکن پھر ایسا دھارا بدلے گا کہ پاکستان دہلی پر قبضہ کر لے گا اور سارا ہندوستان پاکستان بن جائے گا
درائے اٹک خون سے بہے گا
دہلی پر پاک فوج تیس سال تک حکومت کرے گی
امریکہ پانی میں ڈوب جائے گا

حضرت صوفی برکت علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ
یہ قول ہم اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے کہہ رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی ہاں اور ناں پر اقوامِ عالم کے فیصلے ہوا کریں گے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 11711 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2016 Views: 320

Comments

آپ کی رائے