ڈاک کا نظام اور ان کے مسائل

(Aqeel Khan, Jambir)
ڈاک کا نظام ایک تاریخی اور عالمی نظام ہے اس نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا تاریخی حوالہ فرعون مصر کے ابتدائی دور سے ملتا ہے۔ بابلی دور میں تازہ دم اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے سرکاری اور نجی ڈاک ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے کا کام انجام دیا جاتاتھا۔ اس نظام میں خطوط اور دوسرے اجرام لکھی دستاویزات، عموماً لفافے میں بند، کارڈ، پارسل اور منی آرڈر کوایک شہر سے دوسرے شہر پہنچایا جاتا ہے۔ ڈاک نظام کے ذریعہ بھیجی چیزوں کو ڈاک کہا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ شہر شہر ، گاؤں گاؤں میں ڈاک خانے کے ذریعے ڈاک بھیجی جاتی تھی۔

پاکستان میں بڑے شہروں میں بڑے بڑے ڈاکخانے بنائے گئے تھے جبکہ گاؤں اور دیہاتوں میں برانچ آفس قائم کی گئیں۔ جہاں مین شہروں میں کئی کئی افراد ملازمت کیا کرتے تھے وہاں گاؤں میں ایک پوسٹ ماسٹر اور پوسٹ مین سے کام لیا جاتا ہے۔پچھلے ادوار میں جب حکومت کے پاس مالی وسائل کم تھے تو وہ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت کسی ماسٹر یا کم تعلیم یافتہ کو اس کی ذمہ داری بھی سونپ دیا کرتی تھی۔

ایک وقت تھا ڈاک کی ترسیل بڑے شہروں میں ٹرین کے ذریعے کی جاتی تھی اور پھر ان سے ملحقہ شہراور دیہاتوں میں پوسٹ مین میلوں سفر طے کرکے خود جاکر ڈاک لاتے تھے او رپھر گھر گھر تقسیم کیا کرتے تھے۔ پھر وقت تبدیل ہوا اور ڈاک کو بذریعہ ہوائی جہاز بڑے شہروں میں پہچانے لگے۔

جہاں پوسٹ کارڈ اور لفافے کے ذریعے خط وکتابت کی جاتی تھی وہاں بیرنگ (یعنی پیسوں والا خط) بھی استعمال ہوتا تھا ۔ اگر کسی کے پاس کارڈ یا لفافہ خریدنے کی سکت نہ ہوتی تو ہو بیرنگ بھیج دیا کرتا تھا۔ جو وصول کرنے والا اس کی قیمت ادا کرکے لیتا تھا۔لوگ خوشیوں میں ایک دوسرے کو شریک کرنے کے لیے کارڈ بھیجا کرتے تھے۔ عید پر لاکھوں روپے کے عید کارڈ بذریعہ ڈاک بھیجا کرتے تھے۔ وقت تبدیل ہوتا گیاڈاک خانوں میں جدت آتی گئی۔ ارجنٹ میل سروس(UMS) شروع کی گئی۔ رات کو بھی ڈاکخانے کام کرنے لگے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاک کا عالمی دن9 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔1974میں22 ملکوں میں ڈاک کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ڈاک کا پہلا عالمی دن1980 میں منایا گیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد عوام میں ڈاک کی افادیت کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔بے شک اس وقت دنیا بھر میں ڈاک خانوں کی وہ حیثیت نہیں رہی جو پہلے تھی کیونکہ انٹرنیٹ کی دریافت نے ہزاروں میلوں کو چند سیکنڈوں میں قید کرلیا ہے۔ انٹرنیٹ، ای میلز اسمارٹ فونز اور ایس ایم ایس نے گھنٹوں کے فاصلے لمحوں میں کردیئے ہیں اور خط بھیجنے کے نظام کی چھٹی کرادی ہے تاہم ڈاک کی اہمیت اب بھی برقرار ہے ۔رقم منی آرڈر کرنا ہو یا سامان کی ترسیل کے لئے ڈاک کا نظام ایک مضبوط ذریعہ تصور کیا جاتا ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ڈاک کے ذریعے رابطے کا رجحان تقریبا ختم ہوگیا ہے۔ اب ٹیکنالوجی اتنی جدید ہوگئی ہے کہ بنک کے نظام سے لیکر انڈسٹری تک، گاڑیوں سے لیکر ڈرون تک سب ایک بٹن کے اشارے کے منتظر ہوتے ہیں۔

ڈاکخانے کا نظام بے شک بہت پیچھے چلا گیا مگر آج بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں۔ وہ گاؤں اور دیہات جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی وہ آج بھی ان ڈاکخانوں کے ذریعے اپنوں سے رابطے کاانحصار کرتے ہیں۔آج بھی ڈاک خانے کاملازم ڈاکیا پیدل یا سائیکل پر گھر گھر ڈاک پہنچاتا ہوا ملتا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم آئے دن کسی نہ کسی کے نام سے منسوب کرکے دن مناتے رہتے ہیں مگر ان دنوں کے پیچھے کبھی جھانک کر دیکھاہے کسی نے؟ ڈاک خانے کا عالمی دن تو ہم منا رہے ہیں مگر کبھی ڈاکخانے میں کام کرنے والے ملازموں کے مسائل پر توجہ دی کسی نے؟ آج بھی ایک پوسٹ مین سارا دن گھر گھر دھکے کھانے کے بعد بڑی مشکل سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ کیا کبھی حکومت نے ان کے لیے کوئی اقدام اٹھایا؟ کیا سہولت دی ہیں ان لوگوں کو؟ جتنا پرانا یہ نظام ہے اتناہی برا سلوک اس محکمے سے کیا ہوا ہے؟ آج بھی چھوٹے ڈاکخانے میں منتھلی اسٹیٹ منٹ ہاتھ سے تیار کی جارہی ہے۔ رجسٹری تقسیم کرکے ان کی رسیدیں آج بھی سلپ پر گوند سے چسپاں کی جارہی ہیں۔

کیا ان کے لیے کوئی لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر ، پرنٹرنہیں جو وہ بھی گھنٹوں کا کام منٹوں میں کرسکیں۔ کیا دیہات میں رہنے والوں کا جرم اتنا بڑا ہے کہ ان دیہاتوں میں پڑھے لکھے لوگوں کو بھی چکی میں پیسا جائے۔ دیہاتوں میں ڈاکخانہ ہویا ہسپتال یہاں پر ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ کوئی سہولت نہیں دی جاتیں۔

آج ڈاک کا عالمی دن جہاں دنیا بھر میں منایا جارہا ہے وہاں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہیں مگر آج حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکخانے کے ملازمین کے لیے بھی پولیس کی طرح کوئی اچھا سے پیکج دے۔ ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے ہر ڈاکخانے میں انٹرنیٹ اور کمپویٹر فراہم کرے۔ پوسٹ مین کے لیے موٹرسائیکل اور پٹرول مہیاکرے تاکہ برق رفتاری سے شہریوں کی ڈاک ان کے گھر پہنچ سکے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqeel Khan

Read More Articles by Aqeel Khan: 276 Articles with 130447 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2016 Views: 250

Comments

آپ کی رائے