سعودی عرب کی معاشی اصلاحات اور نئی ویزہ پالیسی

(Ghulam Nabi Madni, Madina)

سعودی عرب مںا ماہ محرام الحرام اور ہجری سال 1438ء کے شروع ہوتے ہی مقامی اور غر ملکی شہریوں کے معمولات زندگییکسر تبدیل ہو گئےہیں۔ یہ تبدییل سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کی پالیات کے حوالے سے منظور کردہ بعض نئے قواننئ اور اقدامات پرعمل درآمد کا نقطہ آغاز ہے جس کی شروعات 2 اکتوبر 2016 بہ مطابق یکم محرم الحرام 1438ھ کو ہوا۔مارچ 2016 میں سعودی عرب نے وزن 2030 کے نام سے معاشی اصلاحات کا ایک ہدف متعارف کروایا۔جس کے تحت ویزہ پالیسی اور دیگر سرکاری اداروں اور ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ کے بارے نئے قوانین متعارف کروائے گئے۔

نئی ویزہ پالیسی کے مطابق پہلی بار سعودی عرب مںئ داخل ہونے کی فسا 2000 ریال ہے مگر پہلی بار حج یا عمرہ کرنے والے غرہملکی مسلمان شہری کییہ فسر سعودی حکومت ادا کرے گی۔ دوسری بار حج یا عمرہ ادا کرنے پر 2000 ریال فسل ادا کرنا ہوگی۔جب کہ اس سے پہلے حج اور عمرہ کے ویزے کی علامتی فیس ہوتی تھی۔وزٹ ویزہ کی فسو پہلے تین سو تھی ، اب چھ ماہ کے وزٹ ویز ہ کی فیس 0300 ریال،ایک سال کے لیے پانچ ہزار اور دوسال کے لیے 8000ریال مقرر کی گئی ہے۔سعودی عرب میں مقیم لوگوں کے لیے خروج اور دوبارہ سعودیہ مںی واپسی کی فیسکچھ اس طرح ہوگی کہ کم سے کم دو ماہ کی چھٹی پر جانے کے لےا 200 ریال فسد ہوگی۔ اس کے بعد ہرمہینے کی فیس ویزے کی مدت تک 100 ریالرکھی گئی ہے،یہ اس صورت میں ہے جب کہ سعودیہ میں مقیم شہری کے اقامے کی مدت باقی ہو۔تنو ماہ کےد وران مسلسل سفر پر جانے والے کے لےم واپسی فسو 500 ریال اور ہرمہینے کی اضافی فیس200 ریال ویزہ کی مدت تک وصول کی جائے گی۔یاد رہے اس سے پہلے مقیم لوگوں کے لیے صرف 200 روپیے فیس تھی چاہے جتنی بار وہ سفر کریں۔

سعودی عرب کی نئی معاشی اصلاحات میں ایک بڑا قدم سرکاری محکموں کے ملازمنف کی سالانہ تعطیلات اور تنخواہوں میں کمی ہے۔جس کے مطابق ملازمنق36یوم مں استحقاقی تعطیلات کر سکتے ہںت۔ مگر اس کے بعد وہ چھٹی کے لےج درخواست نہںد دے سکتے۔ ملازمنی کو تعطیلات کے دوران آمد ورفت کے لے دی گئی مالی مراعات واپس لے لی گئی ہںخ۔تعطیلات ، تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے منظور کردہ مذکورہ ضوابط کا اطلاق مقامی سعودی باشندوں اور غربمقامی افراد پر بھی ہو گا۔اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے بونس اور الاؤنسز میں تبدیلی کی گئی ہے۔چنانچہ 21 کے قریب بونس اور الاؤنس ختم کردیے گئے ہیں۔ حکومتی شوری کے 160 ارکان اور دیگر مشیروں کی تنخواہوں میں بھی 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ الیکٹرونکس کاروبار بالخصوص ٹیلی کمیونیکیشن،موبائل مارکیٹس میں صرف سعودیوں کے حوالے کرنے کا عزم کیا گیا،چناچہ فی الحال موبائل مارکیٹس میں سعودیوں کو لایا گیا ہے،اس سے پہلے خارجی یعنی سعودیوں کے علاوہ ہی عموما موبائل مارکیٹیں چلاتے تھے۔

سعودی حکومت نئی معاشی اصلاحات سے کافی پرامیدنظرآتی ہے کہ وہ آمدنی کا انحصار بہت جلد پٹرول سے دیگر خدمات پر منتقل کرلی گی۔اس سلسلے میں عوام کی طرف سے بھی تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔یہی وجہ ہے پچھلے سال پٹرول میں 25 حلالے اضافے پر عوام کی طرف سے زیادہ رد عمل نہیں آیا۔پھر سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تجارت اور دیگر اداروں میں مشغول کرنا یقینا ایک اچھا اقدا م ہے ۔اس سے پہلے عام طور پر سعودی حکومتی تنخواہوں یا خارجی لوگوں کی طرف سے دی جانے والے کفالت کی فیس پر انحصار کرتے تھے ۔حقیقت یہ ہے کہ سعودی حکومت عوام کی فلاح وبہبود پر بہت خرچ کرتی ہے۔عوام سے ضروریات زندگی پر ٹیکس نہیں لیا جاتا،کاروباری معاملات میں برائے نام فیسیں لی جاتی ہیں،تعلیم اور صحت کی سہولیات فری ہیں۔امن وامان اور انفراسٹرکچر کا نظام بہت اعلی مہیا کیا جارہاہے۔اس وجہ سے عوام کی اکثریت حکومت کے ساتھ اب تک بخوشی تعاون کررہی ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی طرف سرحدی جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کو مالی طور بہت خسارہ ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے اب دفاعی اخراجات 20 ارب ریا ل تک جاپہنچے ہیں اور سعودی عرب دنیا میں سب سے بڑا اسلحے کا خریدار بن گیا ہے۔اس کے ساتھ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور ایران اور دیگر دہشت گردوں کی طرف سے تیل کی بلیک مارکیٹ نے بھی سعودی معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔اسی وجہ سے اس سال کنسٹرکشن کے کام میں بہت کمی آئی اور کئی ایک کمپنیاں بھی بند ہوئیں۔لیکن سعودی حکومت جدید معاشی اصلاحات سے پر امیدہے کہ وہ بہت جلد ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرلی گی۔جب کہ نئی ویزہ پالیسی بالخصوص حج وعمرہ کے ویزے کی فیس 2000 ریال مقررکرنے پر فی الحال کسی اسلامی ملک کی طرف سے کوئی تنقید سامنے نہیں آئی ، اگر چہ بہت سے مسلمان اس پر تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔لیکن سعودی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ حج اور عمرے پر دی جانے والی سہولیات پر بہت بڑی رقم خرچ کرتی ہے اس وجہ سے اتنی فیس مقررکرنا ان کی مجبوری ہے ،پھر پہلی بار عمرہ اور حج کی سہولت اب بھی فری دی رہی ہے۔جب کہ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ کہاجارہاہے کہ حرمین شریفین سب مسلمانوں کے مشترکہ دینی اثاثے ہیں جس سے ہرمسلمان مستفید ہوسکتاہے،اس کی زیارت پر کسی قسم کی فیس لینا زیادتی ہے۔مسلمان پہلے ہی عمرے اور حج کے سفری اخراجات پر بہت خرچ کرتے ہیں اس لیے ویزے کی مدمیں بڑھائے جانی والی فیس سے عمرہ اورحج کی عبادت ان کے لیے مشکل ترین ہوجائی گی۔پھربعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسال لاکھوں کی تعداد میں آنے والے عمرہ وحج کے زائرین سعودی اکانومی میں پہلے ہی اضافہ کاسبب بنتے ہیں اس لیے 2000 ریال کی نئی فیس سمجھ سے بالا تر ہے۔

بہرحال حرمین شریفین سب مسلمانوں کا مشترکہ دینی اثاثہ ہیں ان کی خدمت اوران کی حفاظت سب کا فرض ہے۔سعودی حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی توسیعی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں پہلے حرمین شریفین میں چند ہزار لوگ عبادات اداکرسکتے تھے اب وہاں بیک وقت لاکھوں لوگ عبادات ادا کرسکتے ہیں۔اس لیے سعودی حکومت کی حرمین شریفین کی خدمات کو نہ سراہنا زیادتی ہے۔لیکن دوسری طرف سعودی انتظامیہ کو عام مسلمانوں کی مشکلات کا اندازہ کرکے ان سے نرمی اور رعایت کے پہلو پر غور کرنا چاہیے کیوں کہ اس وقت مسلمان سعودی عرب سے حرمین شریفین کی وجہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور ان کے دکھ درد اور مشکلات میں کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہوتے ہیں،جس کا اندازہ اس سال بنائے جانے والے21اسلامی ملکوں کے اتحاد سے لگایاجاسکتاہے۔اس کے ساتھ عام مسلمانوں کو بھی سعودی انتظامیہ کے لیے دعاگو رہنا چاہیے اور اپنی حکومتوں کو سعودی عرب کے خلاف کی گئی سازشوں کے خلاف تعاون کے لیے تیار کرناچاہیے،کیوں کہ سعودی عرب میں انتشار اور انارکی کا سب سے بڑا نقصان حرمین شریفین کے تقدس کو ہوگا،جس کے لیے دشمن مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ فرمان باری انماالمومنون اخوۃ (مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں)کا تقاضا بھی یہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Nabi Madni

Read More Articles by Ghulam Nabi Madni: 43 Articles with 21654 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2016 Views: 1015

Comments

آپ کی رائے
جزاک اللہ
By: عبدالسلام, لاہور on Oct, 17 2016
Reply Reply
0 Like