کس قدر بے مقصد

(Tanvir Sadiq, Lahore)
شاہ صاحب درویش آدمی ہیں۔ سرکاری ملازم، مگر خدمت خلق کااُن کا شعار، دفتر میں لوگوں کی خدمت اپنی جگہ، مگر رات تک کسی نہ کسی کے کام آنا اُن کی عادت ہے۔ دفتر والے، محلے والے اور تمام دوست احباب اسی سبب ان کا حد درجہ احترام کرتے ہیں۔ اس دن عشا کی نماز پڑھ کر شاہ صاحب گھر لوٹے تو بیگم نے بتایا کہ ساتھ والی ہمسائی آئی تھی، اس کا بھائی فوت ہو گیا ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے، آپ کو بلا رہی تھی۔

فوت ہونے والے چوہدری صاحب ، شاہ صاحب کے ہمسائے تھے۔ شاندار اور قیمتی بہت بڑا گھر مگر مکین فقط دوبہن بھائی۔ دونوں بوڑھے، پوری دنیا سے بے نیازاور بیزار، فقط اپنے حال میں مگن اس گھر میں رہتے تھے۔ چوہدری صاحب تمام عمر لندن میں رہے۔ کسی فرم کے سینئر ایگزیکٹیو تھے، ریٹائر ہونے کے بعد جب بیگم فوت ہو گئی تو پاکستان شفٹ ہو گئے۔ ایک غیر شادی شدہ بہن ،شاید اُن سے بھی ایک دو سال بڑی ہوگی، وہ ساتھ رہتی تھی۔ عجیب مزاج تھا، خالص انگریز طرز زندگی۔ میل جول میں انتہائی روکھے پھیکے، محلے داروں کو غیر مہذب جانتے اور کسی سے بات کرنا انہیں پسند نہ تھا۔ محلے میں واحد شخصیت شاہ صاحب تھے جن سے کبھی کبھار گزرتے ان کی علیک سلیک ہو جاتی تھی اور وہ بھی شاہ صاحب کی ملنساری کاکمال تھا ورنہ وہ کسی کو کیا سمجھتے تھے۔ غلطی سے کسی نے گاڑی ان کے گھر کی دیوار کے نزدیک کھڑی کر دی تو واپسی پر ایک سخت قسم کا نوٹس گاڑی پر آویزاں ہوتا تھا جس میں آئندہ گاڑی کھڑی کرنے پر کاروائی کی باقاعدہ دھمکی ہوتی تھی۔

چوہدری صاحب کی وفات کا سن کر شاہ صاحب بھاگم بھاگ ان کے گھر پہنچے۔ گھر اپنی چمک دمک کے باوجود چوہدری صاحب کی زندگی میں ہی بہت سوگوار دکھائی دیتا تھا اور وہاں ہر وقت سکوت مرگ ہوتا تھا۔ آج وہاں واقعی ایسا تھا۔ فقط ایک تبدیلی تھی کہ ان کی بوڑھی بہن کی سسکیاں ماحول کو مزید سوگوار کر رہی تھیں۔ شاہ صاحب نے پوچھا کہ چوہدری صاحب کب اور کہاں فوت ہوئے؟ پتہ چلا کہ ایک گھنٹہ پہلے ہسپتال میں چل بسے تھے۔ بہن کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے، میت کو کیسے دفن کرے، کہاں دفن کرے، گھر کیسے لائے۔اس لئے شاہ صاحب سے مدد کاکہا تھا۔ شاہ صاحب نے پوچھا کہ آپ کا کوئی عزیز؟ـ جواب ملا، لاہور میں چند ہیں، مگر کہاں رہتے ہیں کوئی رابطہ نہیں۔ کراچی میں جو رہتے ہیں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر ابھی تک رابطہ نہیں ہو سکا۔ شاہ صاحب نے پوچھا ان کے بچے کہاں ہیں؟ پتہ چلا دو بیٹے ہیں ایک ڈاکٹر ہے اور امریکہ میں رہتا ہے، دوسرا انجینئر ہے اور کینیڈا میں مقیم ہے۔ ایک سے بات ہوئی ہے ، ایک تو وہ بہت مصروف ہیں، دوسرا ان ملکوں سے یہاں تک آنے میں کچھ دن درکار ہیں۔ چھٹی لینی، ٹکٹ لینی اور پھر ایک دن کا سفر۔ بچے کہتے ہیں انہیں دفنا دیں۔ ہم پہلی فرصت میں پاکستان کا چکر لگا لیں گے، مگر آج نہیں آسکتے۔ پتہ چلا ایک ڈرائیور ملازم ہے۔ وہ گھر گیا ہوا ہے اس کا فون بند ہے۔ اس کے گھر کا پتہ لکھا ہوا تھا۔ محلے کے ایک لڑکے کو موٹر سائیکل پر ڈرائیور کے گھر بھیجا۔ محلے کے دو بچوں کو، سوسائٹی جس میں وہ رہتے تھے، کے قبرستان میں قبر کا انتظام کرنے بھیجا۔ شاہ صاحب خود ہسپتال گئے۔ لاش وصول کی اور ان کے گھر پہنچے۔ آدھی رات کو کفن کا انتظام کیا اور صبح فجر کی نماز کے وقت مسجد سے ملحق پارک میں جنازہ موجود تھا۔ بیس پچیس آدمی صبح کی نماز میں موجود تھے ان تمام نے نماز جنازہ پڑھی اور میت ایمبولینس میں ڈال کر قبرستان لے گئے۔ قبرستان میں صرف شاہ صاحب اور مرحوم کا ڈرائیور موجود تھا۔ چوہدری صاحب کو دفنانے کے بعد شاہ صاحب واپس آئے اور ان کی بہن کو اطلاع دی کہ دفنا آئے ہیں۔ چند لمحے افسوس کیا اور گھر واپس آگئے۔ گھر کا دروازہ بند ہو گیا۔ اندر ایک اکیلی عورت موجود تھی جس کی خبرگیری کو اب کوئی دوسرا موجود نہیں۔ کل اس کے ساتھ کیا ہو، یہ اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

فوت ہونے والے چوہدری صاحب درحقیقت ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ تھوڑا پڑھ گئے اور پھر انگلینڈ چلے گئے۔ پہلے انہوں نے پیسے کی شکل بھی نہ دیکھی تھی، مگر اب پیسے کی ریل پیل تھی۔ مگر اب پیسہ ہونے کے باوجود اسے خرچ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ دوسرے رشتہ دار سرمائے کی اس دوڑ میں ان سے بہت پیچھے رہ گئے اسلئے چوہدری صاحب کو وہ کیڑے مکوڑے محسوس ہوتے تھے۔ انہیں ہمیشہ ڈر ہوتا کہ کوئی عزیز یا رشتہ دار ان سے کچھ مانگ نہ لے اس لئے کسی سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ بیوی کے فوت ہونے کے بعد وطن کی مٹی کی محبت انہیں واپس لے آئی۔ مگر بیٹے جو پاکستان کے ماحول سے مکمل نا واقف تھے ،انگلینڈ سے پاکستان آنے کی بجائے کینیڈا اور امریکہ چلے گئے۔ چوہدری صاحب کو بچوں سے زیادہ سرمایہ عزیز تھا اس لئے بچوں سے بھی کوئی خاص اُنس نہیں تھا۔ بچے بھی ان سے خاص پیار نہیں کرتے تھے۔ ان کے فوت ہونے پر کوئی بیٹا فوراً پاکستان آنے کو تیار نہیں تھا۔

کس قدر افسوس ناک انجام ہے۔ ہم ساری عمر پیسے کماتے ہیں، بڑے بڑے گھر تعمیر کرتے ہیں، لمبی لمبی آرام دہ گاڑیاں خریدتے ہیں کہ سکون اور آرام سے رہ سکیں، مگر یہ نہیں ہوتا، فطرت کے اپنے انداز ہیں۔ حقیقی مسرت اور حقیقی سکون خدمت خلق میں ہے۔ کسی عالم سے کسی نے پوچھا قرآن کا پیغام کیا ہے؟ جواب ملا، اﷲ پر ایمان، رسولﷺ کی اطاعت اور خلق کی خدمت۔کاش چوہدری صاحب نے یہ جان لیا ہوتا۔ اتنا پیسہ جو اَب ان کی موت کے بعد ان کے کسی کام کا ہے اور نہ کسی اور کے۔ اگر اپنی زندگی میں تھوڑا بہت بھی ضرورت مندوں کی نذر کر دیتے، حاجت مندوں کی حاجت پر صَرف کر دیتے، گھر میں اکیلے بیٹھنے کی بجائے باہر نکلتے اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تو آج ان کی موت پر یہ سکوت مرگ نہ ہوتا، کوئی دو چار انجان لوگ ہی اُن کے لئے آنسو بہا لیتے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219630 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
16 Oct, 2016 Views: 396

Comments

آپ کی رائے