طلبہ خوف کا ہرگز غم نہ کریں

(Farooq Tahir, Hyderabad)
’’طلبہ کے تین دشمن ‘‘ عنوان کے تحت گزشتہ مضمون میں طلبہ کی شخصیت کو تباہ کرنے والے تین عناصر کا مختصر تعارف پیش کیا گیا تھا ۔اس مضمون میں طلبہ کے تین دشمنوں میں سے پہلے دشمن ’’فطری(جبلتی ) دشمن جن میں خوف ،تناؤ اور مایوسی جیسے عناصرشامل ہیں ۔ اس مضمون میں صرف خوف والے عنصر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

خوف انسان میں پائے جانے والی صفات میں سے ایک اہم صفت ہے۔ہر انسان میں خوف کسی قدر زیادہ یا کم پایا جاتا ہے۔خوف انسان کی حفاظت اور تحفظ کے لئے نا گزیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خطرناک حالات اور حادثات سے اپنا تحفظ یقینی بناتا ہے۔اسی بناء انسان کو اﷲ تعالی کی عطاکر دہ عظیم نعمتوں میں سے خوف کو ایک بیش بہا ء نعمت قراردیا گیا ہے۔ انسان کی سرشت میں خوف کے عنصر کو ودیعت کرنے میں مشیت خداوندی کی کئی مصلحتیں اور حکمتیں پنہاں ہیں۔خوف بیک وقت فائدہ مند اور نقصان دہ ہوتا ہے۔انسان عام نعمتوں کی طرح جب خوف کو بھی مناسب اور موزوں طور پر استعمال کرتا ہے تب وہ فائدہ مند ہوتا ہے ورنہ انسان خوف کو اگر مناسب طور پر استعمال کرنے میں ناکام ہوجائے تب یہ مضر اورنقصان دہ ثابت ہوگا۔خو ف کسی بھی انسان کے لئے یک ناگوار جذبہ ہوتا ہے جو کسی خطرے درد و تکلیف اور خراب حالات کے پیش نظر وجود میں آتا ہے۔ اکثر موجودہ صورتحال کی ابتری اور مستقبل کی فکر مندی خوف کی پیدائش کا منبع و مرکز ہوتی ہے۔خوف کی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔خوف کی پہلی قسم نفسیاتی نوعیت جوکہ خیالی،بے موقع غیر عقلی مفروضات پر مبنی ہوتی ہے جب کہ دوسری قسم جسمانی (طبعی قسم ) جیسے معقول ،درست اور بجاخوف پر مشتمل ہوتی ہے۔انسانوں میں خاص طور پر طلبہ میں غیر عاقلانہ خوف جیسے جن بھوت سے ڈرنا ،تاریکی ،حیوانات بلی،چوہے،اونٹ،گھوڑے وغیرہ سے ڈرنا ،چورسے ڈرنا ،موت کا خوف ،قبر اور قبرستان کا خوف ،ڈاکٹر دوا اور انجکشن کا خوف ،بادل کی گرج ،ریل کی سٹی ،بجلی کی کڑک ،اکیلے سونا،سبق سنانے اور امتحان کا سامنا کرنے کا ڈرعمومی طور پر پایا جاتا ہے۔مذکورہ خوف بالکل بیجا اور بے موقع ہوتے ہیں جن کی کوئی عقلی بنیاد بھی نہیں ہوتی ہے۔طلبہ کو ایسے خو ف کو یکسر نظر انداز کردینا چاہیئے ورنہ دائمی رنج و غم ان کا مقدر بن جاتے ہیں۔بیجا خوف و اضطراب ایک نفسیاتی بیماری ہے جس سے طلبہ کے مستقبل کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔خوف کی وجہ سے بچے ڈرپوک بن جاتے ہیں۔ڈرپوک آدمی میں بڑے کام انجام دینے کی جرات اور ہمت نہیں پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ اضطراب کے عالم میں پائے جاتے ہیں۔عام زندگی سے گھبراتے ہیں لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں۔پریشان افسردہ اور اپنے آپ میں گم صم رہتے ہیں۔اگر والدین اور اساتذہ بچوں کو ڈرپوک نہیں دیکھنا چاہتے ہیں تب وہ پہلے اپنے خوف کا علاج کریں اور اپنے اعمال کے ذریعہ غیر عقلی عوامل سے برات کا اعلان کریں۔غیر معقول افعال پر اظہار خوف اور جزع وفزع نہ کریں تاکہ بچے بھی ڈرپو ک نہ بن پائیں۔

انسان جب خوف کا شکار ہوتا ہے تب اس میں adrenalin(ایڈرنلین) کا اخراج وافر مقدر میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے و ہ خطرے کی جگہ سے فرار ہونے کی ہمت اور طاقت جٹا پاتا ہے۔جب کسی آدمی کا پیر سانپ یا کسی خطرناک شئے پر پڑجاتا ہے تب وہ فی الفور اپنا پیر اس پر سے ہٹالیتا ہے۔یہ ایک لمحاتی ردعمل ہوتا ہے۔لیکن جب خوف ،اضطراب اور گھبراہٹ وقتی اور لمحاتی دائرے سے نکل کر طویل مدت تک کسی کو اپنے خول میں قید کرلیتے ہیں تب ایسی صورتحال دباؤ کی پیدائش کا سبب بن جاتی ہے۔ زندگی کے وہ واقعات جو ابھی پردہ اخفاء میں ہیں کا سوچ کر نہ صرف طلبہ بلکہ ہر انسان پریشان اور متفکر رہتا ہے۔اگر کوئی آدمی ریل سے سفر کر رہا ہو اور آدھی رات کو ایک زور دار آواز اسے سنائی دے ۔یقینا وہ اسے ڈرانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ڈرنے کے اسی عمل کو خوف کہا جاتا ہے۔آدمی کے ڈرنے کے بعد امکانی حادثات و اندیشوں کی وجہ سے جو کیفیت وجود میں آتی ہے اس کو تناؤ یا اضطراب کہا جاتاہے۔ کوئی آدمی جب پہلی بار نوکری کے لئے کسی انٹرویو کا یا پھر ایک طالب علم جب اپنے سالانہ امتحان کا سامنا کرتا ہے ۔انٹرویو والا شخص انٹرویو کے خراب نتائچ کے بارے میں اور طالب علم امتحان میں ناکامی کے خوف میں مبتلا دیکھے جاسکتے ہیں۔تناؤ ،دہشت ،اضطراب ،بے چینی ،ڈر یہ تمام خوف کے مبدا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔خوف کے مضمرات میں(1)بہت زیادہ خوف کی وجہ سے متعد د صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔(2)غیر معقول و فضول خوف کے نتیجے میں آدمی دباؤ کے زیر اثر رہتاہے۔(3)بیکار خوف انسان سے حالات کا سامنا کرنے کی جرات کو چھین لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر مشکل میں راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔(4)غیر معقول خوف اکثر الجھنوں کی پیدائش کا سبب ہوتا ہے۔(5)فضول خوف کی وجہ سے طلبہ معاشرے میں گھل مل کر رہنے سے اجتناب کر تے ہیں اور گوشہء گمنامی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔(6)خوف طلبہ کو کامیابی سے بہت دور کر دیتا ہے وغیر ہ شامل ہیں۔جب خوف اس درجہ نقصان دہ ہے پھر کیوں لوگ خوفناک فلمیں،ناولس اور واقعات کا مشاہدہ کرنے میں کیف و سرور پاتے ہیں۔خوف سے کیف و سرور پانے کی کیفیت سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ خوف صرف ایک منفی جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنے میں کئی مثبت پہلو بھی لئیے ہوئے ہے۔خوفناک واقعات ،فلمیں اور ناولس کے مطالعہ اور مشاہدے سے طلبہ خوف کا سامنا کرنے اور اسے کامیاب طور پر نبردآزمائی کا اور اپنی حفاظت کا ہنر سیکھتے ہیں۔

خوف کی وجوہات:اساتذہ اور والدین کا غیر مناسب رویہ طلبہ میں خوف پیداکرنے کا اہم سبب بتایا گیا ہے۔طلبہ خوف کی وجہ سے اپنی تعلیمی ترقی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں احقر کو ہی مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔اپنی اسکولی تعلیم کے زمانے میں جب استاد محترم نے پانی (water)کا ضابطہ2H2O …… 2H2+O2بتا یا تب احقر نے پوچھا کہ یہ H2+O=H2Oکیوں نہیں ہوسکتا ۔تب استاد نے میرے گال پر ایک زوردار چپت لگائی اور کہا کہ نامعقول بے وقوف تم کبھی کیمیا(Chemistry)کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھ پاؤ گے۔اس دن سے مجھے مضمون کیمیاء بہت ہی مشکل محسوس ہونے لگا۔ لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ جب میر ے شعور میں بھی اضافہ ہوا تب میں نے Issac Asimov اورArthur Clarkکی کیمیاء سے متعلق تصانیف کا مطالعہ کیا تب مجھے اس مضمون کی دلکشی اور خوبصورتی کا اندازہ ہو ا۔ایک طویل مدت کے لئے ایسے دلکش مضمون سے دور رہنے پر مجھے بے حد افسوس بھی ہوا۔اساتذہ اور والدین کی ذراسی غفلت طلبہ میں خوف کی کیفیت کو جنم دے سکتی ہے۔اسی لئے اساتذہ اور والدین کو بہت محتاط ہونا چاہیئے۔خوف ،ڈر کے متعلق کہ یہ کب ،کیسے اور کیوں پیدا ہوتا ہے کہنا بہت ہی مشکل ہے۔کسی بھی سبق کے آغا ز پر اساتذہ کا طلبہ سے یہ کہنا کہ یہ بہت ہی مشکل سبق ہے بچوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔اس ضمن میں میر ا ایک مشاہدہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔طلباء اور طالبات کو میں نے دو علیحدہ کمروں میں بیٹھاکر سوالات کا پرچہ دیا ۔لڑکوں سے کہا کہ یہ پرچہ بہت ہی مشکل پرچہ ہے اس کو اساتذہ بھی مشکل سے ہی حل کریں گے۔اسی سوالات کے پرچے کو میں نے طالبات کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرچہ اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی چٹکی بجا کر اس کو حل کر سکتا ہے۔امتحان کا وقت جب ختم ہوا تب میں نے طلباء سے پوچھا کہ پرچہ کیسا تھا انھوں نے کہا کہ پرچہ تو بہت ہی مشکل تھا اسی لئے وہ اسے حل نہیں کر پائے اور جب طالبات سے پوچھا گیا کہ پرچہ کیساتھا انھوں نے کہا کہ پرچہ انتہائی آسان تھا ۔اس تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب طلبہ میں خوف کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تب ان کی کارکردگی پربھی اس کے بہت ہی خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لئے اساتذہ اور والدین بچوں میں منفی جذبات جیسے خوف کو ابھر نے نہ دیں تاکہ وہ بہترین کامیابیوں کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔مثبت فکر پوشیدہ خوف کے لئے ایک بہترین ہتھیار ہوتا ہے۔خوف کے انسداد اور تدارک کے لئے اساتذہ ، اور والدین کا طلبہ میں خوف پیدا کرنے والے اسباب و علل کراہت ،ناگواری،بوریت اورمایوسی جیسے اسباب کا منطقی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔لیکن ان امور کا جائزہ بولنے اور لکھنے میں جس قدر آسان نظر آرہا ہے یہ عمل اسی قدر مشکل ہوتا ہے۔والدین اور اساتذہ تحمل سے کام لیتے ہوئے خوف کو ابھارنے والے عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے طلبہ کی زندگیوں کو خوشیوں اور کامیابیوں سے معمورکرسکتے ہیں۔امتحان کی تیاری کے وقت طلبہ اضطراب بے چینی اور خوف کا اس لئے شکار ہوتے ہیں کہ وہ فی الفور اپنے تمام مسائل اور اضطراب کو دور کرنا چاہتے ہیں جب کہ یہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔کیونکہ امتحان کے نتائج اپنے مقرر ہ وقت پر ہی منظر عام پر آئیں گے اور امتحان بھی اپنے مقررہ تاریخ پر لکھے جاسکتے ہیں اس قبل یا بعد کسی بھی فکر اور اضطراب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔طلبہ کو مکمل اور فوری نجات کی خواہش ہی خوف زدہ کردیتی ہے۔طلبہ کو اس بات سے واقف کیا جائے کہ ان کے خوف کے اصل وجہ خود ان کا اپنی صلاحیتوں پر عدم یقین ہے۔(Your incapacity to believ your own ability)۔ایک کیڑا جب کسی کمرے میں داخل ہوتا ہے واپسی کے تمام راستے وا ہونے کے باوجود اہ اپنے خوف کی وجہ سے انسانوں، در و دیوار اور دیگر اشیاء سے ٹکراتا ہے۔خوف کی وجہ سے وہ اپنی سدھ بدھ کھو دیتا ہے۔اکثر مشکل حالات میں طلبہ بھی اسی طرح کا ردعمل پیش کر تے ہیں۔طلبہ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ ایک حقیر کیڑا نہیں ہے بلکہ اشرف المخلوقات ہیں۔پریشان کن حالات میں بھی اﷲ نے انسانوں کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔طلبہ کو مشکل حالات اور مشکل وقت کا سامنا کرتے وقت اپنی ذات اور صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہیئے تب ہی وہ ان حالات کا سامنا کرسکتے ہیں۔طلبہ کا یہ حوصلہ اور جذبہ ان کو خوف سے آزادی فراہم کرتے ہوئے کامیابیوں کی عظیم بلندیوں تک پہنچا دے گا۔طلبہ کو خوف کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لئے بتا یا جائے کہ اﷲ رب العزت ہی ہر شئے پر قادر ہے اس کی مرضی کے بغیر کوئی فرد اور شئے نقصان و نفع پہچانے پر قدرت نہیں رکھتی ہے۔طلبہ کے ذہنوں میں اگر یہ بات مستحضر کردی جائے تب وہ ہر قسم کے خوف کا باآسانی مقابلہ کرسکتے ہیں۔طلبہ مسائل سے متعلق حقائق،اسباب و علل اس کے برے اثرات اور حل کے بارے میں آگہی حاصل کرتے ہوئے کسی بھی درجے کے خوف سے باہر آسکتے ہیں۔یہ امر معالج کی تشخیص سے مماثلت رکھتا ہے جیسے ایک معالج معائنے کے ذریعے بیماری کی تشخیص ،اور علاج کے لئے دوائیاں تجویز کرتا ہے ۔ طلبہ بھی اس طریقے کار کے ذریعہ کہ وہ کس سے اور کیوں خوف زدہ ہیں کا منطقی طور پر جواب دے سکتے ہیں۔طلبہ کی عدم اعتمادی کی کیفیت ہی خوف کی وجہ پیدائش ہوتی ہے۔جب طلبہ کا یقین متزلزل ہوتا ہے وہ خوف ذدہ ہوجاتے ہیں۔اساتذہ اور والدین اسی لئے طلباء میں یقین اور اعتماد کی فضاء کو بحال کریں تاکہ وہ کسی بھی خوف سے مقابلہ کر سکیں۔کسی بھی انجان اور نا معلوم کام کی انجام دہی اور اس کے نتائج کے لئے سب سے پہلے طلبہ اپنی ذات پر بھروسہ کریں۔خدانخوستہ اگر طلبہ امتحان میں ناکام بھی ہوجائیں تب ان کا ردعمل کیا ہوگا۔وہ اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں گے یا دیگر متبادلات جیسے اگلے امتحان تک اشک شوئی سے کام لیں گے کہ ا چھی تیاری کے بعد بھی وہ ناکام ہوگئے ،مختلف پیر باباؤں سے روحانی طاقتیں حاصل کریں گے یا پھر ہاتھ میں دھاگہ ،کڑاپہن لیں گے کہ نحوست اور خرابی کا تدارک ممکن ہو۔طلبہ فرض کریں کہ ان کے مطالعہ کے کمرے میں ایک شیر گھس گیا ہے تب ان کا ردعمل کیا اور کیسا ہوگا۔وہ اچانک اچھل کر کھڑے ہوجائیں گے اور مدد کے لئے پکاریں گے یا اپنی کتاب اٹھاکر شیر پر دے ماریں گے،ٹیبل پر چھلانگ لگاتے ہوئے سیلنگ فین پر چڑھ جائیں گے،یا پھر کمرے کے محل ووقوع کو نحس قرار دیں گے، یا پھر حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کمرے سے نکل کر دروازہ باہر سے بند کردیں گے یا پھر کمرے میں خود کو بے یار و مددگار پا کر اﷲ کو یاد کرنے لگ جائیں گے یا پھر ڈر کے مارے ہاتھ پاؤ ں شل ہوجائیں گے یا پھر یہ کہ کر خو د کو تسلی دیں گے کہ شیر نے تو ابھی کھانا کھایا ہے وہ کیوں کر دوسرا شکار کرے گا یہ سوچ کر اپنے کام میں مگن ہوجائیں گے اور شیر کے اگلے کھانے تک اپنی تمام کوششوں کو موخر کردیں گے،یا پھر شیر کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہی آپ خودکشی کر لیں گے۔جی ہا ں آپ نے صحیح اندازہ لگا یا ہے کہ یہ تما م مفروضات بالکل بچکانہ معلوم ہوتے ہیں ۔اگر طلبہ امتحان میں ناکامی کے خوف کو شیر سے اور اپنے کمرے کو زندگی سے تشبیہ دیں تب معلوم ہوتا ہے کہ شیر کی طرح جب کوئی مسئلہ ہماری زندگی میں داخل ہوتا ہے تب آپ کا خوف زدہ ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن کیا آپ بھی خوف اور دباؤ کی حالت میں مذکو رہ بالا بچکانہ حرکات کا اظہار کرنے لگیں گے یا اس کا منطقی اور درست حل تلاش کریں گے۔مشکل حالات میں بھی مناسب ردعمل کے لئے جرات اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے تب ہی انسان مشکل حالات سے باہر نکل پاتا ہے۔خوف، شک ،شبہ اور خدشات کا مرکب ہوتا ہے۔شبہات ایک وائرس کی طرح ہوتے ہیں اور جب ہم ان کو نمو و افزائش کی اجازت دے دیتے ہیں تب یہ ہمارے یقین اور اعتماد کے قد سے بھی اونچے ہوجاتے ہیں اور ہماری کامیابی کے امکانات پر قد غن لگا دیتے ہیں۔خوف دراصل ایک دھند یا کہر کی طرح ہوتا ہے جب ہم اس کے قریب سے گزرتے ہیں درحقیقت وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔خوف سے مقابلہ کرنے میں جن عناصر کو اہم گردانا گیا ہے ان میں چوکسی(Wakefulness)،سخت محنت(Hard work)،اختراعیت ،تخلیقیت(Innovation)،اور مستقل مزاجی(Persistence)۔ان چار انگریزی کے الفاظ کے ابتدائی حروف کا مخفف (Whip)بنتا ہے جس کے معنی درہ یا کوڑا ہوتا ہے۔طلبہ جب تک کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہیں جب تک وہ خوف کو کوڑے مارمار کر نو دو گیار ہ نہ کر دیں۔

طلبہ جن امور اور اشیاء سے بہت زیادہ خوف کھاتے ہوں پہلے ان کو تحریر کرلیں جو ان کے لئے اضطراب اور بے چینی کا باعث ہوتے ہیں پھر اسی طرح ترجیحا ایک بہ دیگرے تمام امور کو ضبط تحریر میں لائیں۔تیار کردہ فہرست پر نیچے سے عمل کریں کیونکہ معمولی معمولی قضیوں کو سرانجام دینا آسان ہوتا ہے اس طر ح طلبہنقصان رساں خوف کا آسانی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے اعتماد کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔مثلا بعض بچے اجنبی لوگوں ،بھیڑ اور مجموعے کے سامنے گفتگو کرنے یا تقریر کرنے میں تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں ایسی وجہ کو سب سے اوپر رکھیئے اور بے جا نرم دلی یا بے جا جذبہ خدمت (Good Samaritan Syndrome)سے آغاز کیجیئے۔بے جا خدمت یا بے جا نرم دلی سے مراد ’’ اپنی کمزوری کی وجہ سے اچھا بننے کی کوشش کرنا‘‘ہے۔ہر بات پر جی ہا ں کرنا یعنی جی حضوری سے کام لیناجہاں نہ کہنا ہو وہاں بھی ہاں کہنا،خود کو تکلیف میں ڈال کر دوسروں کو آرام فراہم کرنا،دوسروں کا بے جا خیال کرتے ہوئے معاہدات یا ایسے دیگر دستاویزات پر دستخط کردیناوغیر ہ ایک کمزورشخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔طلبہ صرف ہاں کہنے کی عادت ہی نہ ڈالیں بلکہ نہیں کہنا بھی سیکھ لیں تاکہ بے جا تکلفات اور پریشانیوں سے خود کو محفوظ رکھا جاسکے ۔نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں کے بے جا مطالبات اور خواہشات کا بھرم رکھنا یہ الفت اور محبت کی نہیں بلکہ کمزور شخصیت کی علامت ہے۔مثال کے طور پر آپ اپنی پڑھائی یا کام کو اپنے مقررہ وقت پر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن درمیان میں آپ کا کوئی دوست بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وارد ہوجاتا ہے ۔تب آپ فکر مند ہوجاتے ہیں کہ اگر آپ اپنی پڑھائی جاری رکھیں تب آپ کا دوست رشتہ دار جو بغیر کسی اطلاع کے حاضر ہوا ہے وہ آپ کے بارے میں غلط فہمی کا شکا ر ہوجائے گا ۔آپ اس سے معذرت نہ چاہتے ہوئے اپنے معلنہ دیگر مصروفیات کو تبا ہ کردیتے ہیں جو مستقبل میں ایک بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔بے جا شرافت رحمدلی اور مروت کو ہی انگریزی میں (Good Samaritan Syndrome)کہاجاتا ہے ۔اور یہ جذبہ شرافت رحمدلی یا مروت کی وجہ سے فروغ نہیں پاتا ہے بلکہ یہ احساس کمتری یا مسترد کردیئے جانے کے خوف کی ایک ضمنی پیداوار(Bye Product)ہے۔آپ اپنے دوست سے معذرت خواہی کو غیر ضروری طور پر رعونت سے تعبیر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آ پ کے اس طرز عمل کی وجہ سے آ پ کی دوستی ،رشتہ داری خطرے میں پڑجائے گی۔اگر آپ اس صورت حال کا ایک اور انداز سے جائز لیں کہ آپ اپنے دوست سے ملاقات کے لئے بغیر کسی پیشگی اطلاع اور اپائٹمنٹ کے بغیر پہنچ گئے ہیں اور وہ بڑی ہی نرمی سے آپ سے معذرت کر لیتا ہے کہ یہ اس کی پڑھائی کا وقت ہے اور وہ اس میں حرج نہیں کر سکتا ۔کیا آپ اپنے دوست کے اس عمل کو رعونت اور بدتمیزی پر محمول کر یں گے ۔یقینا نہیں بلکہ آپ اس امر پر اس کی تعریف و توصیف کریں گے ۔ آپ خوش دلی سے اس کے عذر کو تسلیم اور پھر کبھی ملاقات کا وعدہ کرتے ہوئے رخصت لیں گے۔ جب آپ اپنے دوست کے نقطہ نظر کا احترام کرسکتے ہیں پھر وہ کیسے آپ کے نظریہ کا احترام نہیں کرے گا۔بالفرض اگر وہ آپ کے عذر یانظریہ کو سمجھنے سے عاری ہو تو اس سے آپ کا کیا نقصان ہوگاسوائے اس کے آپ ایک ایسے شخص سے گلوخلاصی حاصل کر لیں گے جس کے پاس آپ کی رائے اور نظریات کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے۔ خوف زدہ ہونے کے برخلاف اگر آپ لوگوں کو اپنی رائے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تب بہت جلد وہ آپ کے کلچر ، اقدار،اخلاق کے معترف ہوجائیں گے اور آپ کی تعریف و توصیف کرنے لگیں گے۔طلبہ اپنے آپ کو بے جا اندیشوں اور خوف سے پاک رکھیں تاکہ ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔اسلام انسانوں کو بے جا خوف اور مایوسی سے ہر دم بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ ایک مسلمان طالب علم کا بے جا اندیشوں اور خوف کے دلدل میں گرفتار ہوجانا بعید از قیاس ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farooq tahir

Read More Articles by farooq tahir: 114 Articles with 104941 views »
I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More
17 Oct, 2016 Views: 1174

Comments

آپ کی رائے