اولاد کی تربیت کیسے کی جائے

(Muhammad Zahid Aziz, )
اولاد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کی گئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔جس کودیکھنے سے انسان کو راحت اور فرحت حاصل ہوتی ہے۔دن بھر کا تھکا ہارا آدمی جب شام کو گھر پہنچتا ہے تو دروازے پر اپنے ننے منے بچوں کو پا کر دن بھر کی تھکاوٹ بھول جا تا ہے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے۔اولاد گھر کی رونق اور چراغ ہے جس گھر اور گود میں اولاد کی نعمت ہوتی ہے ان کے لئے خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی اور جو گھر اور جن کی گود اس نعمت سے خالی ہو وہ مال و جائیدادکے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو تنہا،پریشان اور مال و زر سے خالی محسوس کرتے ہیں۔اور اولاد کی نعمت کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں۔

یہ ایسی نعمت ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا وی زندگی کی رونق کہا ہے۔ سورت الکہف آیت ۴۶ میں بڑے احسن انداز میں بیان فرمایا ہے۔’’ مال اور اولاد دنیا وی زندگی میں رونق ہیں‘‘

ظاہری بات ہے جب انسان کے پاس مال و دولت کی نعمت آتی ہے تو وہ اس کے استعمال اور اس کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے ۔

ا ﷲ رب العزت نے انسان کو اولاد کی صورت میں جو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے اب بندے پر ہے کہ وہ اس کی حفاظت کے لئے کیاانتظامات کرتا ہے۔اس کو چوری ڈکیتی ،شراب نوشی ،حرام خوری،دہشت گردی،خود کشی ،شرانگیزی،قتل وغارت،جہالت،غلط سوسائٹی ، بد اخلاقی ، غلط رسوم ،بے حیائی اور فحاشی کی دلدل میں پھنسنے سے بچانے کے لئے کس طرح بند باندھتاہے تا کہ ہماری یہ عظیم نعمت ہماری حفاطت اور کنٹرول میں رہے اور اس کو کوئی شر یر اور مغرب کا بے حیا معاشرہ اخلاقی تربیت کے حوالے سے گزند نہ پہنچا سکے۔ اﷲ تعالیٰ نے بھی ایمان والوں کو شرور اور برائیوں سے اپنی اولاد کو بچانے کا حکم فرمایا ہے۔ سورت تحر یم آیت ۶میں ارشاد فرما دیا ’’اے ا یمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں‘‘ہمیں چاہیے کہ اپنے اہل و عیال کو ان برائیوں سے بچا کر رکھیں اگر نہ بچایا تو دنیا میں ذلت اور آخرت میں سخت خسارے کااندیشہ ہے۔

حضرت علی ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کو تعلیم دو اور انہیں ادب سکھاؤ۔امام فخرالدین رازی ؒ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے جن چیزوں سے اﷲ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہے ان سے باز آجاؤ۔

امام غزالی ؒاپنے رسالہ ’’ا یھاالولد‘‘ میں تربیت اولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تربیت کا مفہوم اس کاشتکار کے کام سے مشابہت رکھتا ہے جو زمین سے کانٹے نکالتا ہے اور کھیت میں سے ناموزوں گھاس وغیرہ اکھاڑ ڈالتا ہے تاکہ اس کی پیداوار اچھی بھی ہو اور مکمل طور پر حاصل بھی ہو۔

بچہ کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اسی لیے اگر اولاد کی تربیت میں کوئی کسر رہ جائے تو پھر وہ زندگی کی تمام بہاریں اسی طرح گزار دیتی ہے۔ اولاد کی تربیت اور پرورش میں اہم کردار ماں کا ہوتا ہے نیک اور صالح ماں اولاد کو کھانے کے ساتھ ایمان کی غذا بھی فراہم کرتی رہتی ہے۔اوردودھ پلانے کے ساتھ ساتھ اس میں اچھی صفات بھی پیدا کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے بچوں کی عملی تربیت اور شوہر کی خدمت عورت کو کمال تک پہنچا دیتی ہے۔آپ ﷺ نے اس کا یہ عمل جہاد کے برابر قرار دیا ہے۔اگر والداپنا سارا وقت کلبوں اور سینما ؤں میں گزارتا ہو اور ماں سارا سار دن شاپنگ سنٹروں اور سہیلیوں کے ساتھ گپوں میں گزار دیتی ہو تو یاد رکھنا ان کی لاپرواہی کی صورت میں اولاد کی تربیت میں کمی کے باعث جو ان کے اندر بد اخلاقی کے جراثیم پروان چڑ ھیں گے وہ سب گنا ہ اور وبال ا ن کے والدین کے ذمہ ہو گا۔

والدین کو اپنی اولاد کی تربیت میں سب سے زیادہ اس کی تعلیم اوراسکے اخلاق کی بہتری پر زور دیناچاہئے۔ابن قیمؒ فرماتے ہیں جو شخص اپنی اولاد کو تعلیم دینے سے غفلت برتتا اور انہیں بے کار چھوڑ ے رکھتا ہے وہ بہت برا کام سر انجام دیتا ہے اور عمومابچوں کا بگاڑ ان کے والدین کی غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں دین کے فرائض اور سنت کی تعلیم نہیں دلاتے وہ بچپن میں انہیں برباد کرتے ہیں پھر وہ خود بھی نفع نہیں اٹھا تے اور بڑے ہو کر بھی اپنے ماں باپ کے لئے مفیدثابت نہیں ہوتے۔والدین چونکہ اولاد کی پرورش کرتے ہیں اس لئے بچوں کے ذہن پر ان کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لئے والدین کا تقویٰ پرہیز گاری اور دینداری کی صفت سے متصف ہونا ایک ایسا وصف ہے کہ اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے تو وہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ لئے پروان چڑ ھ سکتے ہیں۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں اپنے بچوں کو تین چیزیں سکھاؤ۔۱۔اپنے نبی کی محبت،۲۔آل بیت کی محبت۳۔ اور تلاوت قرآن پاک اس طریقے سے تربیت کرنے سے بچوں کی ذہنی ،فکری قوتیں اجاگر اور کشادہ ہو ں گی اور نور ایمانی ان کے ذہنوں میں روشن ہو گا۔

بچوں کی تربیت کے حوالے سے ضروری ہے کہ صاحب اولاد کے اندر بھی کچھ خوبیاں موجودہونی چاہئے جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے وہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کر سکے۔

ایک کامیاب مربی کو چاہئے کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرے اور مفت کا رعب جمانے اور سختی سے اجتناب کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ نرمی کرنے والے ہیں اور تمام کاموں میں نرمی کو پسند کرتے ہیں۔یہ ایسا وصف ہے جو خیر کا ذریعہ بنتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو نرم روی سے محروم رہا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔اس کا عملی نمونہ آپ ﷺ کی سیرت سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے نواسوں تمام اصحاب اور غیر مسلموں کے بچوں سے بھی کس قدر نرمی کا سلوک کیا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔بچوں کے ساتھ نرم مزاجی سے پیش آنا چاہئے غصے اور ڈانٹ ڈپٹ سے ہت الامکان بچنا چاہئے بچوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنے سے وہ والدین کے دوست بن جاتے ہیں۔اگر بلا وجہ کی سختی کی جائے تو اس کے بہت سارے الٹ نتائج بھی سامنے آتے ہیں والدین کو والدین ہی بن کر رہنا چاہیے نہ کہ تپتیشی اور تھانیداربن کر۔والدین بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھیں ہر گھڑی اور ہر آن ان پر نگاہ رکھے رکھیں بد اخلاق اور برے بچوں سے دور رکھیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی بد اخلاقی کے زہریلے جراثیم آپ کے بچوں میں منتقل کر کے ان کو بھی جرائم کا مرتکب بنا ڈالیں۔

بچوں کا دل خوش کرنے کی کاشش کی جائے اس سے ان کے ذہنوں پر بڑا ا چھا اثر پڑتا ہے اولاد کے اندر مقابلے کی فضا پیدا کی جائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ان کو انعامات دیے جائیں۔ان کے درمیان باہم افراط و تفریط اور غیر منصفانہ رویہ اپنانے سے بچا جائے بلکہ عدل و انصاف اور برابری والامعاملہ کیا جائے۔ یہ چیز بچوں کو نفسیاتی طور پر بہت مضبوط کردیتی ہے۔جب بچے نفسیاتی طور پر قوی ہونگے تو وہ والدین کے لئے بھی سکون کا باعث بنیں گے ۔

اولاد کی تربیت میں اس چیز کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ان کو اچھے اچھے پروگرامات میں لے کر جایا جائے ان کو اصلاحی مجالس میں لے جانے کا اہتمام کیا جائے۔سنت کا پابند بنایا جائے ان کوصحیح عقائد کے بارے میں بتایا جائے قرآن کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔والدین بچوں کے سامنے کوئی ناشائستہ فعل نہ کریں جس سے وہ غلط اثر لیں ۔اگربچوں کو تربیت کے لئے تادیباسزا دینی بھی ہو تو کم سے کم سزا دی جائے۔نماز اسلام کا اہم اور بنیادی رکن ہے اگر اس میں بچوں کے لئے اﷲ رب العزت نے کنسکشن رکھی ہے تو پھر والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں پر پکڑ اور گرفت نہیں کرنی چاہیے۔ان کو ڈنڈے سے نہیں پیار سے سمجھانے کی کوشش کی جائے ۔مار پیٹ سے بچے ٹھیک ہونے کے بجائے اور خراب ہوتے ہیں۔اگر مارنا بھی ہو تو غصہ میں اور زیادہ زور سے نہ مارا جائے بلکہ آہستہ سے ضرب لگائی جائے جس سے ان کو زخم نہ آئے۔چہرے اور سر پر کبھی نہیں مارنا چاہئے۔والدین اکثر غصہ میں آکر جہاں بچوں کی سرزنش کرتے ہیں وہاں ان کو بہت برا بھلا بھی کہتے ہیں بعض اجہل قسم کے تو بے ہودہ گالیوں اور بددعاؤں سے بھی گریز نہیں کرتے یہ چیز اولاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں اس سے بچوں پر بہت غلط اثر پڑتا ہے بچے والدین کے نافرمان اورباغی بن جاتے ہیں۔

اولادکو اچھی اچھی نصیحتیں کرنی چاہییں اﷲ کے بر گزیدہ نبیوں نے بھی اپنی اولاد کو نصیحتیں کی ہیں کچھ کا ذکرتوقرآن میں بھی کیاگیا ہے۔سورت البقرہ آیت ۱۳۳ ’’ابراہیم نے اپنی اولاد کو وصیت کی اور یعقوب نے بھی اے میرے بیٹو!بے شک اﷲ نے تمھارے لیے دین کو منتخب فرمایا ہے پس تم ہر گزنہ مرو مگر مسلمان ہونے کی حالت میں‘‘۔امام بخاری ؒنے’’ الادب المفرد‘‘ میں بچوں کی تربیت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے ’’اپنے بچوں پر اپنی وسعت کی بقدر خرچ کیاکرو،لاٹھی کو ان کے اوپر سے مت ہٹاؤاور اﷲ تعالیٰ کے معاملہ میں ان کو ڈراتے رہا کرو‘‘

والدین کو اولاد کی تربیت اورپرورش کے حوالے سے کبھی کبھی بہت مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پرتا ہے ان مصائب پر گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ تمام مصائب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور وہ ان مصائب پر اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتابلکہ وہ ان مشکلات اور پریشانیوں کے عوض اپنے بندوں کوخوب خوب نوازتارہتا ہے ۔رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رنج وغم کی حالت میں وفات پاتا ہے تو اس کامرتبہ اﷲ کے ہاں جہاد فی سبیل اﷲ میں ہزار بار شمشیر زنی سے زیادہ افضل ہے۔ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جس کے عیال زیادہ ہوں اور وہ ان کی روزی کے بارے میں پریشان ہو۔

حضور ﷺ نے فرمایا جب والد اپنی اولاد کو دیکھ کر خوش ہوتواولاد کو ایک جان آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔ نیک اولاد والدین کے مرنے کے بعد بھی ان کے لئے صدقہ جاریہ بنی رہتی ہے۔جب مرنے کے بعد میت کا درجہ بلند کیا جاتا ہے تو میت کہتی ہے اے میرے رب ! یہ کیا چیز ہے رب تعالیٰ اس سے فرماتے ہیں کہ تیری اولاد نے تیرے لئے استغفار کیا ہے۔قربان جائیے کس قدر مہربان ہے اﷲ تعالیٰ کی ذا ت ہرآن اپنے بندوں کی بخشش اوردرجات کی بلندی کے بہانے ڈھونڈتارہتا ہے لیکن دیر اور سستی بندوں کی طرف سے ہے۔یااﷲ تمام امت مسلمہ پر رحم فرمااور سب کو اپنی اولادوں کی صحیح معنوں میں تربیت کی توفیق عطا فرما۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Zahid Aziz

Read More Articles by Muhammad Zahid Aziz: 6 Articles with 3282 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Oct, 2016 Views: 652

Comments

آپ کی رائے