وفا ۔۔۔۔۔

(Dur Re Sadaf Eemaan, Karachi)
ڈاکٹرمحمد اسمٰعیل بدایونی
وہ بچہ کئی دنوں تک سویا نہیں
چیخیں ابھی تک اس کا تعاقب کررہی تھیں ۔۔۔۔۔
وہ بہت ظالم لوگ تھے بابا !
تم نے کیا دیکھا ؟ بابا جان نے اپنے کمسن بیٹے سے پوچھا
میں نے دیکھا کہ جس شخص کو بھی وہ یہ نعرہ لگاتے سُنتے ’’پاکستان کامطلب کیا ؟ لاالہ الاللہ ‘‘ اس کے ہاتھ پیر کاٹ کر اس کو قبر میں ڈال دیتے اور قبرسے آنے والی چیخوں کو سن کر وہ درندے قہقہے لگاتے ۔۔۔۔
حیدرآباد دکن کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے تھے ۔۔۔بابا جان نے اپنے کمسن بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے کہا اب یہ شہر چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا ہوگی ،کسی خوف کے سبب نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست میں زندگی گزارنے کی خواہش جہاں نظام ،نظامِ مصطفےٰ ﷺ ہو گا ۔۔۔۔۔ کمسن بچے کی پاکستان آمد ہوئی وقت گزرتا رہا لیکن سقوطِ حیدرآبا دکن کے واقعات اس کے ذہن سے مٹ نہیں پائے ۔۔۔۔۔
گو کہ زمانے کے کٹھن شب و روز نے وقتی طور پر سقوطِ حیدرآباد دکن کے نقوش کو کچھ دھندلا ضرور دیا تھا دوسری طرف وہ کمسن بچہ اب بچہ نہیں ایک نوجوان تھا ۔۔۔۔’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ ‘‘ کی صدائیں اب بھی اس سے دور نہیں ہوئیں تھی ۔
وقت نے کروٹ لی حالات و واقعات میں ایک نیا تغیر رونما ہو نے لگا ،بھیڑئیے غرانے لگے ،منافقین کی ریشہ دوانیاں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔۔۔۔نادان دوستوں کی بھی کمی نہیں اور مکار دشمن نہ جانے کب سے گھات لگائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔نوجوان کی آنکھوں میں ماضی کی یادیں تھی تیرہ سال کا نوجوان شاید اپنے لا شعور میں ایک طاقتور شخص بن کر ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہتا تھا
یہ تمہاری منز ل نہیں شفیق خالو جان کی آواز نے نوجوان کو چونکا دیا
پھر! نوجوان نے ادب سے پوچھا
خالوجان نے ہاتھ تھا ما اور پھر جب آنکھوں نے دیکھا تو ایک عجیب منظر سامنے موجود تھا۔۔۔۔۔۔۔
دو ہولناک قوتیں پاکستان کو کھوکھلا کرنے کے لیے اپنے نوکیلے پنجے اور خونی دانت گاڑے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔
دو طاقتیں ایسی تھی جو پاکستان بنتا تو دیکھنا چاہتی تھی پر وہ اس بات کی خواہش مند تھیں کہ اس ملک کا طرزِ معاشرت ’’سیکولر جمہوری سرمایہ دار انہ معیشت پر مبنی طرزِمعاشرت‘‘ ہو
تو دوسری طاقت’’مزدور کی آمریت پر مبنی کمونسٹ کا معاشی نظام ‘‘ اس ملک میں نافذ کرنا چاہتی تھی ۔
یہ دونوں طاقتیں اس بات کی آرزو مند تھیں کہ پاکستان پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں گر جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جب ایسا نہ ہواتو ان لوگوں نے سازشیں شروع کر دیں ۔۔۔۔۔ان تمام سازشوں کو تحریک ختمِ نبوت ۔۔۔۔ تحریک نظام مصطفےٰﷺ ۔۔۔۔تحریک ناموسِ رسالتﷺ کے پس منظر میں سطحی نظر کے ساتھ بھی آپ تلاش کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان کی آنکھوں میں ایک مرتبہ پھر سقوطِ حیدرآباد دکن کا واقعہ تازہ ہو گیا ۔۔۔۔خون کے بہتے ہوئے فوارے ۔۔۔۔اذیت ناک چیخیں ۔۔۔۔آنسوؤں اور بے بسی کا ہر منظر انتقام انتقام کی صدا بلند کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
ان صداؤں کے ساتھ ہی نوجوان نے وطن کے شہداء سے عہد کیا کہ وہ اس وطن پر آنچ نہیں آنے دے گا ۔۔۔۔۔۔نظریاتی سرحدوں پر اگر اسے تنہا بھی لڑنا پڑا تو وہ لڑے گا ۔۔۔۔۔اس دن سے بسترِ وصال تک نہ دن کو دن سمجھا نہ رات کو رات ۔۔۔۔شہر شہر ، قریہ قریہ ، بستی بستی اور گاؤں گاؤں اللہ کے نبی ﷺ کے ناموس اور وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کادفاع کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر جب پیارے مصطفے کریم ﷺ پر سلام پر پاپندی کا مطالبہ ہو ا تو نو جوان نے نہیں دیکھا کہ یہ پارلیمنٹ کی کر سیاں ہیں یا کھارا در کی گلیاں ۔۔۔۔۔امریکہ کے دوڑتی اور چیختی چنگھاڑتی زندگی ہو یا گاؤں کی خاموش اور پر سکون پگڈنڈیاں ۔۔۔بس ایک آواز سُنائی دی ہر سمت سے
مصطفےٰ جانِ رحمت پر لاکھوں سلام
دونوں قوتیں اپنے اپنے داؤ پیچ لڑاتی رہیں کسی طرح اس مملکت خدادا پاکستانی کی نظریاتی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں مگر رسول اللہ ﷺ کا یہ شیر ہر جگہ پاکستان بنانے میں علمائے اہلسنت کا کردار لوگوں کو بتاتا رہا ۔۔۔سُناتا رہا۔
جب دین کے نام پر لوگ دینار و رہم بنا رہے دین کی سر بلندی کے لیے اس نے مدارس کی سرپرستی کی ۔۔۔۔۔جب مساجد پر بد مذہبوں نے قبضے شروع کیے اس نے آگے بڑھ کر دفاع کیا مسا جد کا ۔۔۔۔۔کیا ملک اور بیرونِ ملک مساجد و مدارس کی تعمیر میں لازوال کردار ادا کیا
یہ وطن تمہارے بزرگوں نے بنایا ہے اس کی حفاظت کرنا اس کی تعمیر کرنا تمہارا فرض ہے
شہداء کے خواب کی تعبیر ’’کہو بنام مصطفےٰ فقط نظام مصطفےٰﷺ‘‘تم پر قرض ہے۔
جوانی نے بزرگی کی جانب کا سفر شروع کر دیا ۔۔۔۔اپنو ں کے ستم ۔۔۔۔غیروں کے تیر سینے کو چھلنی کرتے رہے ۔۔۔۔مگر خونِ مسلم اور اسلام سے کہیں بھی بے وفائی نہیں کی
تحریک ناموسِ رسالت ﷺ پر سمجھوتہ کبھی نہیں کیا ۔۔۔۔اسمبلی کی کرسی یا حکومت کا کوئی عہدہ کبھی حق گوئی سے باز نہ رکھ سکا ۔۔۔
اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں ۔۔۔۔۔ یہود و نصاریٰ کے تنخواہ دار کہتے رہے پاکستان لبرل ملک ہے سیکولر ہونا چاہیے مگر مردِ حق اسلام کی خدمت کرتا رہا ۔۔۔۔دشمنانان اسلام کو للکارتا رہا ۔۔۔۔۔۔اپنے نانا جان ﷺ کے دین، دینِ اسلام سے وفا کرتا رہا ۔
یہ کون تھا ؟
یہ کوئی اور نہیں مردِ مومن مرد حق شاہ تراب الحق ہی کی ذات تھی .
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 49 Articles with 26325 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2016 Views: 333

Comments

آپ کی رائے