بے مراد رہ جائیں گے

(Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور), Karachi)
فرمان الہی ہے
ترجمہ
”زمانے کی قسم ، انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے“

بالا ترجمہ قرآن پڑھنے والے جانتے ہی ہونگے کہ سورت عصر کا ہے، اور قرآن پڑھنے والا کلمہ گو اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ اٹل ہے اور اس میں نہ کبھی ترمیم کئی گئی ہے اور نہ کی جاسکتی ہے۔۔۔ کہ اس کی حفاظت کا ذمہ رب تعالی نے اٹھایا ہے۔ تو یہ بات طے ہے کہ قرآن پڑھنے والا جو صاحب ایمان ہو اس کا اس بات پر مکمل یقین ہے کہ قرآن کے لکھے کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور جو یہ کرے گا وہ اپنے ایمان کو رخصت کرے گا۔جب یہ بات طے ہے تو فی الحال فقیر بالا ترجمعہ کے صرف آخری حصے پر بات کرنا چاہے گا جس میں کہا گیا ہے صاحب ایما ن صالح انسان ۔۔۔ دوسروں کو حق بات کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتا ہے ۔۔۔۔ مگر جناب دجالی نظام حکومت اور شیطانی سلیکشن کے سبب پاکستانی عوام کے سروں پر اپنا راج قائم کرنے والے کتاب الہی کو یہ کہہ کر نہیں پڑھتے کہ ہمارے پاس جب مقدس و محترم آئین موجود ہے تو ہم قرآن کی جانب کیوں جائیں ۔۔۔ نعوذ باللہ۔جی ہاں قارئیں یہ ہی حق اور سچ ہے، اقتدار کے نشے میں ڈوبے افراد اپنے آپ کو کسی فرعون سے کم نہیں سمجھتے، اور کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے خرافات اگلنے کا۔۔۔اور اس بات کا عملی مظاہرہ پچھلے دنوں ہمارے ووٹ ڈالنے کے نیک عمل کے سبب ہمارے سروں پر موجود ایک باوقار اور بڑے رعب دار نام محترم ” سید مراد علی شاہ“ نے کیا۔

جناب نے اپنی چاہت کو آئین کا مقدس پہناوا پہنا کر جو کچھ فرمایااس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے معماروں کو رقص و موسیقی کی تعلیم فراہم کرنے سے روکنا مقدس آئین سے روگردانی کرنے کے مترادف ہے۔آپ عزت مآب سید صاحب ۔۔۔۔ ایسے کہنے سے پہلے اتنا ہی سوچ لیتے کہ آپ کس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ پر تو سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔۔۔ مگر افسوس آپ بھول گئے، اگر بھول گئے تو کوئی بات نہیں ، مگر التجا ہے کہ آپ اپنے نام کا وہ حصہ جو آپ کی حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک گھرانے سے نسبت ظاہر کرتا ہے ، اس کو ظاہر نہ کیا کریں تاکہ آل رسول کی بابت کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دیکھو آج آل رسول ہی کیا کہہ رہی ہے، امید ہے آپ آئندہ اپنی چاہت کے اظہار سے قبل اس بات کا خیال رکھیں گے۔ ایسی باتیں کہنے والے ، ایسی چاہتوں کا اظہار کرنے والے پاکستان کے آئین کے پیچھے جا کھڑے ہوتے ہیں ،وہ ناصرف اپنے آپ کو ، اپنے نام کو بدنام کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے آئین کو بھی بد نام کرتے ہیں۔

اسلام کے منافی اعمال کی حمایت میں آواز اٹھانے والوں کی اکثریت میں جو کلمہ گو ہیں ۔۔۔وہ درحقیقت ایمان لانے کی روحانی خوشی اور لگن سے محروم ہیں، ان کو ایمان ، کلمہ اپنےبزرگوں کی گود سے ملا ہے اس لئے وہ اس کی حرمت، اس کی قدر سے ناواقف ہیں۔اسی سبب یہ حمایتی اپنے اعمال کو بھی احتساب کی کسوٹی میں نہیں پرکھتے۔ وہ اپنے ہر عمل کو نیک سمجھتے ہیں ۔ اللہ کا احسان مانیں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا جانیںکہ آپ سید مراد علی شاہ صاحب ۔۔۔ کلمہ پڑھے ہوئے ہیں۔ آپ نیک اعمال کریں یا نہ کریں یہ آپ کا ذاتی عمل ہے، آپ دوسروں کو حق بات کی نصیحت کریں یا نہ کریں یہ آپ کا ذاتی عمل ہے، آپ لوگوں کو صبر کی تلقین کریں یا نہ کریں یہ آپ کا ذاتی عمل ہے۔۔۔ مگر صاحب اقتدار ہو کر اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو یہ آپ کا ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی عمل بن جائے گا۔ بحیثیت مسلمان آپ کا آئین ۔۔۔قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہونا چاہیئیے۔۔۔ آپ اپنے ملک کے آئین کو اپنی زبان سے ادا کئے گئے الفاظ کے مطابق قرآن و سنت سے متصادم ظاہر کر چکے ہیں۔ در حقیقت آپ آئین کو اپنے الفاظ سے پامال کر چکے ہیں۔۔۔۔۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ آئین کے تحت اتنے عرصے تک کافی کچھ تبدیلیاں کے سبب رقص و موسیقی پر پابندی لگانا درست نہیں رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اور دیگر پاکستانی اپنی منزل کا تعین کرلیں کہ ان کے نزدیک وہ آئین مقدم ہے جو رقص و موسیقی کو عام کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا وہ آئین مقدم ہے جس کو آفاق نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہم تک پہنچایا ہے۔ قرآن کریم ۔۔۔۔ ہر مسلمان کو مقدم ہوگا، اپنی جان و مال سے کہیں زیادہ ، پھر ایسا دوغلہ پن کیوں۔۔۔ محترم سید مراد علی شاہ صاحب ۔۔۔ جب کوئی آپ سے پوچھے گا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟؟ تو یقینا آپ فرمائیں گے۔۔۔ ” الحمداللہ۔۔ میں مسلمان ہوں“ پھر جناب کوئی مسلمان جب صاحب اقتدار ہو گا تو وہ اپنی چاہت کو اکثریت پر غالب کرنے کے لئے قرآن کا سہارا لے گا یا پھر آئین کا؟؟؟ آپ کو موسیقی اور رقص پاکستان کے اسکولوں میں عام کرنا ہے تو برائے مہربانی یہ کہہ دیں کہ نہ آپ سید ہیں اور نہ مسلمان، نہ آپ کو قرآن مقدم ہے، نہ سنت اور نہ ہی اس وطن پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے بلکہ یہاں غیر مسلم بستے ہیں ۔۔۔ ہاں جی ان تمام باتوں کا اعتراف فرمائیں۔۔۔۔ آپ بھی اور آپ کے حمایتی بھی اور پھر اپنی چاہت کو عملی جامہ پہنا لیں۔

جب میرے رب نے فرما دیا کہ انسان خسارے میں ہے بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے ۔۔ اللہ کے فرمان کو فراموش کرکے دنیا میں موجود مختلف غیر مسلم ترقی یافتہ اقوام کی ظاہری خوشحالی کو دیکھ کر یہ سمجھنا اور یہ تصور کر لینا کہ یہ نفع پانے والوں میں سے ہیں تو سراسر حماقت پر مبنی سوچ ہے۔۔۔۔ اور ایمان والوں کا ان کی نقالی کرکے اپنی دنیا کے معاملات طے کرنے کی سعی کرنا کسی جہالت سے کم نہیں ۔ یہ اس بات کا جواب ہے جو جواز وہ احمق پیش کرتے ہیںجو غیر مسلم ممالک کی مثال پیش کرتے ہیں کہ دیکھو ان کی یہاں بھی انسانی آزادی ہے۔۔۔ ان کے آئین میں بھی رقص وموسیقی کی اجازت ہے اور وہ دیکھو کتنے خوشحال ہیں ، ہمیں ان کی صف میں کھڑے ہونے کے لئے ان کے قوانین کو ضرور اپنانا پڑے گا۔ اگر ایسا ہی ہے تو اپنا ماضی کھرچ لیں، اپنے نام کے معتبر حصے کو کھرچ ڈالیں ۔۔ اور کہہ دیں کہ آپ اللہ کے حضور بھی ان ہی لوگوں کی صف میں کھڑے ہونا پسند کریں گے جو آج شریعت کے اعتبار سے غیر مسلم ، بے ایمان کہلائے جاتے ہیں۔سید صاحب ۔۔۔ ہم مسلمان ہیں ، ہمارے بزرگوں کی مثالیں ہی ہمارے لئے کافی ہیں۔ کسی غیر مذہب کے پیروکار کے اعمال کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کی ہمیں ضرورت نہیں۔یاد رہے نفع پانے کے لئے ایمان لاناپہلا قدم ہے ۔۔۔ اور الحمداللہ اپنے بزرگوں کی گود سے شاہ صاحب آپ کو کلمہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔۔۔ اس ایمان کو جو آپ کو ملا ہے آلودہ نہ کریں ، دنیا والوں کے لئے، محض بے ثبات مفاد کی خاطر۔

فقیر پھر کہتا ہے کہ نیک اعمال کرنا، حق بات کی تلقین کرنا اور صبر کی تاکید کرنا ۔۔۔ یہ اہل ایمان کا انفرادی عمل ہے جو اس وقت اجتماعی بن جاتا ہے جب اہل ایمان اس پر عمل کریں ۔۔ اور پھر ایسا مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو ہمیں اپنے بذرگوں کی یاد دلا دیتا ہے ۔۔۔۔ مگر شاہ صاحب اگر آپ ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکتے تو خدارا اس کے مخالف بھی کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ مثالی اسلامی معاشرے کے لئے تمام افراد کے انفرادی عمل کی ضرورت ہے۔۔۔ فقیر آپ سے اس بابت کچھ نہیں کہتا مگر جس مقام پر آپ فائز کئے گئے ہیں جو مقام، جو عہدہ آپ کو حاصل ہوا ہے۔۔۔ اس پر رہتے ہوئے آپ کی باتیں ، آپ کی چاہت جب قانون کا روپ دھار لے گی توآپ کا انفرادی عمل ۔۔۔ لوگوں کے لئے اجتماعی بن جائے گا۔اور
وبال آپ ہی کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ آپ لوگوں کو صبر اور نیک اعمال کی تلقین ناں کریں مگر ان کو مجبور تو نہ کریں کہ وہ ایسا عمل قبول کریں جس کو اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسندیدہ قرار فرمایا ہے۔سید صاحب قرآن پاک کی سورت کا ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔ ایسے اعمال سے اجتناب فرمائیں ۔۔۔ ورنہ یاد رکھیں

” بے مراد رہ جائیں گے“

اے اللہ !! تو گواہ رہنا ۔۔۔ فقیر نے صدا لگا دی ہے۔۔۔ اب اس کو مقبول و منظور و عام کرنا تیری مشیت ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور)

Read More Articles by Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور): 5 Articles with 2451 views »
قرطاس میرا منتظر ہے اور میں اپنا یعنی کہ تمھارا منتظر ہوں.. View More
06 Nov, 2016 Views: 327

Comments

آپ کی رائے