برا وہ نہیں ہوتا جو برائی کرتا ہے

(Muhammad Abdul Munem, )
برا وہ نہیں ہوتا جو برائی کرتا ہے۔اچھا وہ نہیں ہوتا جو اچھائی کرتا ہے۔برا وہ ہوتا ہے جو نیکی کرنے کے باوجود قبولیت سے محروم رہ جائے اور نیک وہ ہوتا ہے جو برا ہونے کے باوجود اللہ کے ہاں بخشا جائے۔ ہم کسی کے بارے کبھی مثبت نہیں سوچتے۔برے کی برائی ہمیں نظر آتی ہے لیکن اپنے رب کے سامنے تنہائی میں نکلنے والااس کا ایک آنسو ہم نہیں دیکھ پاتے جو تمام برائیوں کو دھو ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ہم برے کو دیکھ کر یہ سوچیں کہ اگر ہم پر وہ آزمائشیں آتیں جن میں ناکام ہو کر یہ برائی سے باہر نہیں نکل پا رہا تو شاید ہم اس سے زیادہ برے ہوتے تو ہم کسی کو نفرت سے نہیں دیکھیں گے۔ ایک انسان کسی کے نزدیک بہت برا ہوتا ہے تو وہی انسان کسی کے نزدیک فرشتہ ہوتا ہے کیونکہ ہر انسان اچھائی اور برائی دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے ہمیں جس انسان کے اچھائی والے پہلو سے واسطہ پڑتا ہے وہ انسان ہمارے نزدیک بہت اچھا ہوتا ہے لیکن جس کو اسی انسان کے برائی والے پہلو سے واسطہ پڑتا ہے اب وہی انسان اس کے نزدیک برا کہلا رہا ہوتا ہے۔کون اچھا ہے کون برا ہے یہ فیصلہ ہم اللہ پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔ ہم ہر انسان سے پیار کیوں نہیں کرتے۔ ہم دوسروں کے بارے نفرت کا اظہار تو ایسے کرتے ہیں جیسے ہمیں اپنے خاتمے کا بہت پکا یقین ہے کہ بہت صحیح خاتمہ ہو گا۔ عیسائیوں کو ہم چُوڑے کہہ کر پکارنا ثواب سمجھتے ہیں ایک بزرگ کا جب وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کہ فلاں شہر میں فلاں جگہ ایک عیسائی رہتا ہے میں اس کو اپنا خلیفہ بنانے کا اعلان کرتا ہوں اس کو جا کر میری خلافت کی نوید سنا دینا۔سب حیران تھے کہ ہم مسلمان دن رات اللہ اللہ کر کے بھی اس نعمت سے محروم اور وہ عیسائی ہو کر بھی آپ کی خلافت کا حقدار۔۔۔۔۔۔۔جیسے ہی اس عیسائی کو آپ کی خلافت کی خبر سنائی گئی اسی وقت اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تمام منازل طے ہو گئیں۔۔۔۔اسی لیے کہتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کون کس چیز کا حقدار ہے۔اپنے آپ پر غرور اور دوسرے کسی سے بھی نفرت نہ کرو نہ جانےکس کا خاتمہ کیسے ہونا ہے۔حُر نے عین وقت پر اپنی لائن بدل لی اور بلعم بن باعورا مقبول الدعا ہو کر بھی عین وقت پر ایمان کی دولت سے محروم ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب روزانہ شراب خانے جاتے اور شراب کی بوتلیں خریدتے۔لوگ اس کو شراب خانے میں آتا جاتا دیکھ کر بہت بُرا کہتے۔ماہ و سال یونہی گزرتے رہے لوگ اس کو بہت منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتا۔ایک دن جب اس کا انتقال ہو گیا تو کوئی اسے شرابی کہہ رہا تھا تو کوئی بہت برا بھلا کہہ رہا تھا لیکن اس کی بیوی بولی بے شک میرا خاوند ولی اللہ ہے۔۔۔۔۔۔لوگوں نے حیرانی سے پوچھا آپ اس شرابی کو ولی کیوں کہہ رہی ہیں۔۔۔۔وہ بولی۔۔۔۔میرا خاوند روزانہ شراب خانے سے شراب کی بوتلیں خرید کر لاتا اور گھر آ کر ضائع کر دیتا اور کہتا آج پھر اتنے لوگ شراب پینے سے بچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم صرف فتوے لگانا جانتے ہیں صاحب۔ہم وجوہات اور حالات و واقعات کی تہہ تک پہنچنے کا شعور نہیں رکھتے اور نہ ہی اس کے قابل ہیں۔یہ تو علمِ لدُنّی ہوتا ہے انہی کو ملتا ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں۔ہم طوائف کو بدنام کرتے ہیں مگر ان کے پاس جانے والے شرفا پر شرافت کی چادریں چڑھاتے نہیں تھکتے۔۔ہمارا غصہ ہماری نفرت ہمیں کسی کے اندر تک جا کر سمجھنے کے قابل نہیں رہنے دیتا۔جب ہم نفرت اور غصے پر مکمل قابو پا کر ہر اک سے پیار کرنے لگتے ہیں تب ہمیں سمجھ آنے لگتی ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔۔۔۔کون کیوں اچھا ہے اور کون کیوں برا ہے سب سمجھ آنے لگتی ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 11647 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2016 Views: 508

Comments

آپ کی رائے