یوم اقبال پر قوم کو تقسیم کرنا شرمناک حکومتی اقدام

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
٭۹ نومبر کو ہر سال اہلیان پاکستان شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں لیکن گذشتہ سال کی طرح امسال بھی وفاقی ،پنجاب اور کے پی کے کی حکومتوں نے سرکاری سطح پر عام تعطیل کا اعلان نہ کرکے قوم کو تقسیم کردیا ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں نے عام تعطیل کا اعلان کیااکثر تعلیمی ادارے بند رہے ۔سرکاری اداروں میں حاضری انتہائی قلیل رہی ۔حکومت کیلئے سوال یہ ہے علامہ اقبال ؒ جیسے غیر متنازعہ عالمی شخصیت کے یوم پیدائش پر قوم کو تقسیم کیوں کیا؟ اور کس کو خوش کرنے کیلئے ایسا کیا گیا؟چھٹیوں کی طویل فہرست میں اگر یوم اقبال ؒ کی تعطیل بھی ہو جاتی تو کیا فرق پڑتا ؟ہماری اس سلسلے میں رائے ہے جو گذشتہ سال بھی یوم اقبال ؒ پر چھٹی نہ دینے پر دی گئی کہ حکومت اگر قائداعظم کے فرمان کام، کام اور کام پر زیادہ ہی عاشق ہوگئی ہے تو پھر تمام چھٹیاں منسوخ کرکے فرمان قائد پر عمل کیا جائے اصول یہ ہو کہ جس دن کوئی اہم تہوار ہو اس دن نصف دن کام ہو گا اور نصف دن اس دن کی مناسبت سے ہر ادارہ تقریب کا اہتمام کریگا اور کسی ملازم کو اس روز بلا وجہ چھٹی کرنے پر نصف ماہ کی تنخواہ سرکاری کے خزانے میں جمع کروائی جائے گی، اس طرح کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن حکومت اگر مقامی اور ملکی تہواروں پر چھٹیاں سارا سال دے اور یوم اقبال پر تعطیل ختم کردے تو اسے اقبال ؒ دشمنی سے ہی کہا جائے گا۔قوم کو اقبال ؒ دشمنی کسی صورت قبول نہیں کیونکہ پاکستانی قوم اقبال ؒ کو اپنا محسن دل وجان سے مانتی ہے اور حکومت کی ایسی حرکت کو اقبالؒ سے دور کرنے کی سازش قرار دیتی ہے ۔ادبی وعلمی حلقے یوم اقبال پر چھٹی ختم کرنے پر حکومت سے سخت نالاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یوم اقبال پر سرکاری سطح پر تعطیل نہ کرنا پاکستان کو لادین ریاست بنانے کی خواہش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا حکومت چند ڈالر کے عوض پاکستان کے اسلامی تشخص کو درجہ بدرجہ منہدم کر رہی ہے علامہ اقبال ؒ کے یوم پر تعطیل نہ کرنا قوم کیلئے ایک ٹیسٹ ہے اگر قوم نے ردعمل نہ دیا تو مزید سیکولر اقدام ہوں جس سے ملک سیکولر ازم کی طرف برق رفتاری سے سفر کرے گا ۔ نصاب تعلیم کی صورت حال سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ نسل نو کو سیکولر بنانے کیلئے نصاب سے نظریاتی اسلامی نصاب کی تقریباً90 فیصد چھٹی کروا دی گئی ہے علامہ اقبال ؒ کے کلام پر نشتر چلایا گیاپہلے شکوہ جواب شکوہ ،علامہ اقبال ؒ کا پیغام جیسی نظریاتی نظمیں نصاب کا حصہ تھیں اب جو شاعری نصاب کا حصہ ہے وہ لڑکی لڑکے کے عشق پر مبنی ہے غیر روایتی عشقیہ نظیمیں غزلیں پڑھ کر نسل نو کس طرف جائے گی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے علامہ اقبال ؒ کی نظریاتی شاعری کو نصاب سے رخصت کیا جو نونہالان کیلئے ایک قیمتی سرمایہ تھی اب یوم اقبال پر چھٹی ختم کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ قوم کو افکار اقبال ؒ سے دور کیا جائے ۔اسلامی تحریک طلبہ نے اقبال کی نظریاتی شاعری کو دوبارہ نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے یوم اقبال پر طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر تعلیم حاصل کی ۔طلبہ تنظیموں کی طرف سے یہ ردعمل بتا رہا ہے کہ نوجوان نسل اسلام اور مشاہیر اسلام سے حد درجہ محبت کرتی ہے انھیں اپنا آئیڈیل ،رہبر ورہنماء سمجھتی ہے ان کی شخصیت کو سمجھنا ان کے افکار کو نسل جدید تک پہنچانا اولین فریضہ سمجھتی ہے ۔حکومت اسلام اور مشاہیرے اسلام کے افکار کو دیوار سے لگانے کی غلطی ہر گز نہ کرے بصورت دیگر قوم انھیں معاف نہیں کرے گی۔٭٭

٭ شاہ نورانی دربار پر حملہ بدترین دہشت گردی:حب میں شاہ نورانی ؒکے دربار پر خوکش حملہ ہو ہے ا جس میں 62 کے قریب زائرین جاں بحق اور 100 شدید زخمی ہوگئے زخمیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔اولیاء اﷲ کے دربار پر متعدد بار حملے ہو چکے ،سیکورٹی نہ ہونے کے باعث انسانیت دشمن عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو کہ حکومتی اورسیکورٹی اداروں کے اقدامات پر سوالیہ نشان ہے ۔اگر یہ کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ حکومت امن قائم کرنے دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ہر طرف انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے ۔قتل وغارت گری کی اس لہر میں ہر طبقہ متاثر ہوا ہے حفاظت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔اہل دین نے پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے رکھا ،سب دینی طبقات اس فتوے کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں پھر ایسی کاروائیاں کون کر رہا ہے ؟ مسلمانان پاکستان کا کامل یقین ہے کہ ان کاروائیوں میں کوئی مسلمان ملوث نہیں ہو سکتا ۔لہٰذا یہ اسلام دشمن عناصر کی کاروائی ہے جو اسلام اور پاکستان دشمن سرانجام دے رہے ہیں انسانیت سوز ایسی کاروائیوں کا حل قرآن میں پیش کیا گیا ہے جس میں ایک سزا یہ ہے کہ ان کی مخالف سمت سے ٹانگیں اور بازو کاٹ کر نشان عبرت بنا دیا جائے۔حکومت اگر حدود اﷲ کا نفاذکرے تو ایسی کاروائیوں کا تدارک ممکن ہے ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم قرآن وسنت کو اپنے لئے حکومتی سطح پر عملی طور پر سپریم لاء نہیں سمجھتے جس کے باعث مسائل کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں ،ان حملوں میں معروف دشمنوں امریکا ،اسرائیل،بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اگر حکومت کلبھوشن پر قرآن کے مطابق حد جاری کرے تو پھر ایسا نیٹ ورک دوبارہ مسلمانوں کے خلاف کوئی چلانے کی جرأت نہیں کرے گا۔دینی حلقوں کا کہنا ہے کہ اولیاء اﷲ کے مزاروں پر حملہ کرنے والے اﷲ ورسولﷺ اور اولیاء اﷲ ،اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ،اولیاء کے مزار امن کے مراکز ہیں وہاں بے گناہ انسانوں کا قتل عام انسانیت کی توہین ہے ،اسلام کے نام پر کفریہ کا طاقتیں فسطائیت پر اتر آئی ہیں مسلمانوں کے مرکز ایمان مکہ پر ایرانی حمایتی حوثی باغیوں کا ناکام حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،مکہ پر حملہ ،سعودی عرب میں خود کش حملے کفر کی طرف سے اعلان جنگ ہے،مسلمان ریاستیں کفر کی مکروہ سازشوں کا خاتمہ کرنے کیلئے اسلامی نظام خلافت قائم کرکے امیر المومنین کا تقرر کریں تاکہ امت کی قوت اﷲ ورسولﷺ کے نمائندے شریعت کے مطابق استعما ل کرکے کفر کو شکست فاش دے سکے ، حالیہ حملوں میں بھارت ،اسرائیل اور امریکہ ملوث ہیں ،امریکہ اور اسرائیل مل کر بھارت کو استعمال کرکے پاکستان کو ناکام ریاست بنانا چاہتے ہیں لیکن دمشن کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا (انشاء اﷲ تعالیٰ) اور دشمن کی تمام چالیں ناکام بنا کر عالم اسلام کی قیادت وسیادت اور دفاع کرتا رہے گا ۔ اولیاء اﷲ کے مزراروں پر کوئی مسلمان حملہ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا ،یہ اسلام دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ جنگ ہے مسلمان متحد ہوکر ان سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ اہل ایمان اولیاء اﷲ کے مزاروں پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے ہیں حکومت آخری حد تک ان عناصر کا تعاقب کرے قوم افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہے ، حکومت کی طرف سے بھارت شخصیات کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کرنا قابل صد تحسین ہے اس جرات مندانہ عمل سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا ۔٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159111 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2016 Views: 308

Comments

آپ کی رائے