بھارت یاترا.... ٹیکنالوجی کی زیادتی ور پانی کی کمی

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
چنائی کا موسم کچھ عجیب سا ہے ، رات کو بارش ہوتی ہے تو دن کو چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی پڑتی ہیں چونکہ نزدیک ہی ساحل سمندر بھی ہے اس لئے لوگ زیادہ تر مستی ، موسم کو انجوائے کرنے کیلئے چنائی کے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں جہاں خواتین بیٹھی مچھلیاں فروخت کرتی/ پکاتی نظر آتی ہیں -یہاں کے مسلمان کرتہ اور دھوتی باندھے نظرآتے ہیں تو ہندو ٹی شرٹ ، اور دھوتی باندھتے ہیں تاہم ان کی دھوتی پنڈلیوں سے اوپر ہوتی ہیں- چونکہ یہاں پر پانی کی کمی ہے چنائی کے ہزاروں لوگ آج بھی سڑک کنارے "فطری ضرورت "پوری کرتے نظر آتے ہیں چونکہ بارش زیادہ ہوتی ہے اس لئے گندگی سڑک کنارے کم ہی آتی ہے- لیکن یہ نظارہ صبح سویرے ہی سب کو نظر آتا ہے کہ خواتین ہاتھوں میں بوتل اٹھائے نظر آتی ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی دیکھے جو کسی کو دیکھے بغیر ہی دھوتی اونچا کرکے سڑک کنارے چھوٹا بڑا کرتے نظر آتے ہیں- جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ترقی کا عمل بھارت کا تیز ہی سہی لیکن ساتھ میں پانی کی عدم دستیابی بھی ان کیلئے اب بھی اور مستقبل میں بھی بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے-
پتہ نہیں کیسا ہوگا ، لگتا تو ٹھیک ہی ہے ، خیر کلاسز میں پتہ چل جائیگا ، یہ وہ کھسر پھسر تھی جو راقم کو کالج کے مین گیٹ پر داخل ہونے کے بعد لان سے گزرتے ہوئے سننے کو ملی تھی چنائی ائیرپورٹ پر رات ساڑھے آٹھ بجے پہنچنے کے بعد ائیرپورٹ کے باہر ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے پک کیا اور آدھ گھنٹے میں مجھے کالج پہنچا دیا - رات کا وقت ہونے کی وجہ سے کالج کی سیکورٹی گیٹ پر تعینات اہلکار جس کا بعد میں پتہ چلا کہ وہ بہار کا رہائشی مسلمان ہے اور اس کا نام معظم ہے نے مجھے بٹھائے رکھا اور بعد میں وارڈن سے فون پر معلومات لینے کے بعد مجھے ہاسٹل کے اندر پہنچانے خود روانہ ہوگیا- نام تو اس کا معظم تھا لیکن وہ اپنے آپ کو معجم بولتا تھا وہ لفظ " ظ" بول نہیں سکتا تھا اس لئے " ج "بولتا تھا-یہی صاحب بعد میں راقم کے آنے جانے کی اطلاعات بھی خفیہ والوں کو دیتے تھے-خیر ہاسٹل گراونڈ سے گزرتے ہوئے احساس ہوا کہ یہاں تو طلباء و طالبات جوڑوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں چونکہ بھارت کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ان طلباء و طالبات کیلئے میں اجنبی تھا اور ساتھ میں پاکستانی بھی اس لئے میرے بارے میں باتیں کررہے تھے-وارڈن نے میرا نام پوچھا اور ہاسٹل کے اس کمرے میں بھیج دیا جو اس کے کمرے کے سامنے تھا لیکن حفاظتی نکتہ نظر سے محفوظ نہیں تھا کیونکہ جس کمرے میں مجھے دیگر دو طلباء کیساتھ رکھا گیا تھا اس کا دروازہ باہر کی طرف تھا -آغاز میں مجھے اندازہ تو نہیں ہوا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کمرے میں رکھنے کا مقصد میرے اوپر نظر رکھنا اور میری چیزوں کی تلاشی لینا تھا اسی کے ساتھ ساتھ میری سرگرمیوں پر نظر رکھنا بھی شامل تھا-

جو دو طلباء میرے ہاسٹل کے کمرے میں میرے ساتھ تھے ان میں ایک وزارت دفاع کا ایک اعلی افسر کا بیٹا جبکہ دوسرے بزنس مین کا بیٹا تھا- پہلے دو دن تو پولیس کمشنر کے دفتر میں حاضری میں لگ گئے تیسرے دن کلاسز اٹینڈ کرنی شروع کردی تو اندازہ ہوا کہ بھارتی طلباء پاکستان کے بارے میں جاننے کے خواہشمند ہیں-اتنے سوالات مجھ سے کئے گئے کیسے ہو ، کیا کرتے ہو ،پاکستان کے لوگ کیسے ہیں ، کیا وہ بھی بھارت کو ناپسند کرتے ہیں-بھارت کی کونسی اداکارہ پسند ہے ، ہمیں تو پاکستانی اداکار پسند ہیں جیسے سوالات کا سامنا کرنا پڑا- ٹی وی سٹریم کے پروفیسر بیشتر ہندو تھے اور اپنے شعبے کے ماہر تھے صرف ایک پروفیسر تھے جو مسلمان تھے تاہم اساتذہ کا رویہ سب کیساتھ یکساں تھا- نہ کوئی ہندو ، نہ کوئی سکھ نہ کوئی مسلمان ، - کلاسز کے دوران پتہ چلا کہ بھارت پاکستان سے صحافت کے شعبے میں بہت حد تک آگے ہیں- ٹیکنالوجی کے استعمال سے لیکر رپورٹنگ کے انداز اور سوچ میں پاکستانیوں سے بہت آگے ہے- لیکن ساتھ میں یہ اندازہ بھی ہوا کہ یہاں پر میڈیا بہت حد تک کنٹرول ہیں-ہمارے پاکستان کی طرح نہیں کہ جس کے منہ میں جو آئے لکھ دے ، آن ائیر کرے یا شائع کرے-خاص طور پر کشمیر اور ماؤ سٹ تنظیموں اور افراد کے بارے میں لکھتے ہوئے بڑے بڑے بھارتی صحافی ڈرتے ہیں-

کلاسز کے دوران اندازہ ہوگیا کہ جس طرح ہمارے ہاں صحافت کے شعبے میں مردوں کی اجارہ داری ہے بھارت میں خواتین اس شعبے میں بہت آگے ہیں- کلاسز لینے والے دو سو سے زائد طلباء وطالبات میں 150 کے قریب طالبات تھیں- جن میں بیشتر انگلش میں ماسٹر سمیت فزکس اور دیگر شعبوں سے آنیوالے افراد بھی شامل تھے ایسے افراد بھی کلاسز میں دیکھے جنہوں نے دبئی میں وقت گزارا تھا اور پیسہ کمانے کے بعد اب نام کمانے کیلئے شعبہ صحافت میں ڈگری لینے کیلئے آئے تھے-کلاسز کے دوران طلباء و طالبات نیکر اور ٹی شرٹ پہن کر کلاسز لیتے کبھی پروفیسر نے یہ سوال نہیں کیا کہ یہ کس طرح کے کپڑے پہن کر آگئے ہو- نہ ہی کبھی کسی یہ کہہ کر ڈانٹا کہ تم تو کلاسز نہیں لیتے ہاں مہینے کے آخر میں جب حاضریوں کے حوالے سے طلباء و طالبات کی شیٹ لگتی تو 100 فیصد والے تو آرام سے رہتے لیکن 70 فیصد سے کم حاضری والے طلباء و طالبات ذہنی تناؤ کا شکار رہتے- کچھ اساتذہ نے یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ اساتذہ ہیں- ایک کلاس کے دوران ہمارے ایک ساتھی نے پروفیسر سے سوال کیا کہ کیا آپ فلاں شخص کو جانتے ہیں تو وہ پروفیسر جو پہلے کبھی صحافی رہ چکے تھے نے جواب دیا کہ بھائی تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمھارا ٹیچر ہوں تو مجھے ہر چیز کا پتہ ہوگا- میں بھی آپ کی طرح کا بندہ ہوں - ہاں تجربہ زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر چیز کے بارے میں جانتا ہوں میری معلومات بھی آپ ہی کی طرح ہیں-اور میں اس پروفیسر کو دیکھتا ہی رہ گیا -ان کے مقابلے میں ہمارے پاکستان میں ہمارے ہاں تو ہر شعبے کے علامہ ہیں اگر جواب نہیں دیتے تو پھر تھوبڑا سجا لینا تو اپنا قانونی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں-
راقم کو چونکہ الیکرانک اور پرنٹ کا تجربہ تھا اس لئے کورس کے دوران کچھ جگہوں پر مجھے " اندھوں میں کانا راجہ"بننے کا موقع ملگیا اور کالج میں میرے ساتھ پڑھنے والے طلباء و طالبات میرے تجربے سے کافی مرعوب نظر آئے- بھارت کی انتیس مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کا رویہ کافی دوستانہ تھا- ساتھ میں یہ اندازہ بھی ہوا کہ ان کی جنرل نالج ہمارے ہاں کے طلباء وطالبات کے مقابلے میں انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں- انکی انگریزی زبان اگر اچھی ہے تو ہندی زبان نہ ہونے کے برابر ، یعنی کسی کو قومی زبان ہندی ہی نہیں آتی اور اگر کسی کو سمجھ آتی ہے تو لکھ نہیں سکتا -شعر و شاعری کے شوقین بہت سارے ہیں اور کچھ تو غالب کے شعر کلاس میں لڑکی کو دیکھ کر سنانے لگتے-کبھی کبھار اگر کسی سے سوال کرتے کہ فلاں جگہ کہاں پر ہیں تو جلدی سے جواب دیتے کہ بھائی " گوگل سرچ "کرو سب کچھ پتہ چل جائیگا- راستے کے بارے میں معلومات سے لیکر کسی بھی چیز کے بارے میں معلومات کیلئے بھارتی نوجوان نسل گوگل کا استعمال کرتے ہیں-سمارٹ فون کا استعمال بہت زیادہ ہے سب لوگوں نے موبائل فون میں مخصوص ایپس انسٹال کئے ہوئے ہیں جس میں جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تو کسی جگہ پہنچنے کیلئے ایک مخصوص ایپ انسٹال کرتے ہیں-

چنائی کی سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیاں بہت کم نظر آتی ہیں اگر نظر آتی ہیں تو زیادہ تر سکوٹی جس پر خواتین بیٹھی نظر آتی ہیں لیکن سب سے اچھی بات کہ سب قوانین کی پاسداری کرتی ہیں کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کوئی خاتون بغیر ہیلمٹ پہنے سکوٹی چلا رہی ہو ، بوڑھی، نوجوان سب ایک ہی لائن میں سکوٹی چلاتی نظر آتی ہیں ، ہارن کی آواز سننے کو نہیں ملتی نہ ہی ہمارے پاکستان کی طرح ڈرائیونگ کہ جس طرح سے دل چاہے اسی طرح سے آگے گاڑی بھگا کر لے جاؤ-چنائی کی سڑکوں پر سب سے زیادہ جی ٹی ایس ہی نظر آتی ہیں جو کسی زمانے میں ہمارے ہاں ہوتی تھی یہ سرکار کی گاڑیاں ہوتی ہیں اور مخصوص رقم کے عوض شہری اس سروس سے فائدہ اٹھاتے ہیں- شہر کے مختلف چوراہوں پرخاتون وزیراعلی جو کہ اب بیمار بھی ہیں کی تصویر نظر آتی ہیں-اگر کسی کو ذاتی گاڑی استعمال کرنی ہیں تو مخصوص ایپس انسٹال کرکے دو سیٹوں والی گاڑی سے لیکر لینڈ کروزر کرائے پر مل جاتی ہیں جو مسافروں کو ان کے گھر کے دروازے سے اٹھا کر متعلقہ سٹیشن پر پہنچا دیتی ہیں -

چنائی کا موسم کچھ عجیب سا ہے ، رات کو بارش ہوتی ہے تو دن کو چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی پڑتی ہیں چونکہ نزدیک ہی ساحل سمندر بھی ہے اس لئے لوگ زیادہ تر مستی ، موسم کو انجوائے کرنے کیلئے چنائی کے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں جہاں خواتین بیٹھی مچھلیاں فروخت کرتی/ پکاتی نظر آتی ہیں -یہاں کے مسلمان کرتہ اور دھوتی باندھے نظرآتے ہیں تو ہندو ٹی شرٹ ، اور دھوتی باندھتے ہیں تاہم ان کی دھوتی پنڈلیوں سے اوپر ہوتی ہیں- چونکہ یہاں پر پانی کی کمی ہے چنائی کے ہزاروں لوگ آج بھی سڑک کنارے "فطری ضرورت "پوری کرتے نظر آتے ہیں چونکہ بارش زیادہ ہوتی ہے اس لئے گندگی سڑک کنارے کم ہی آتی ہے- لیکن یہ نظارہ صبح سویرے ہی سب کو نظر آتا ہے کہ خواتین ہاتھوں میں بوتل اٹھائے نظر آتی ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی دیکھے جو کسی کو دیکھے بغیر ہی دھوتی اونچا کرکے سڑک کنارے چھوٹا بڑا کرتے نظر آتے ہیں- جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ترقی کا عمل بھارت کا تیز ہی سہی لیکن ساتھ میں پانی کی عدم دستیابی بھی ان کیلئے اب بھی اور مستقبل میں بھی بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 346 Articles with 183040 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
15 Nov, 2016 Views: 363

Comments

آپ کی رائے