انسانیت کی بھلائی کے اجتماعات کا پر امن اختتام

(Sohail Aazmi, )
رائے ونڈ کے دونوں اجتماعات کا خاتمہ اﷲ کی مدد و نصرت کیساتھ خیر و عافیت ہوگیا پہلے مرحلے میں جو مورخہ 4سے لیکر 7نومبر تک جاری رہا کوئٹہ، پشاور، بنوں، لاہور کے حلقوں کے شرکاء نے شرکت کی جبکہ دوسرا مرحلہ جو مورخہ 10نومبر کی شام سے شروع ہوا اور 13نومبر کی صبح دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ کراچی، سوات، فیصل آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لاکھوں مبلغین دین نے شرکت کی اور دعا کے بعد لاکھوں کی تعداد میں دین حق کے پیغام کو لیکر پاکستان اور دنیا بھر کیلئے اپنی جان اپنا مال اپنا وقت لیکر روانہ ہوگئے۔ رائے ونڈ کا اجتماع پہلے ملک بھر کے شرکاء کیلئے ایک ہی ہوتا تھا لیکن بعد ازاں عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا لیکن چند سالوں کے بعد دو حصو ں کے چار حصے کردئے گئے۔ اب اس سال پاکستان کے جن حلقوں کا اجتماع دو مرحلوں میں منعقد ہوا اسے انکا اگلے سال نہیں ہوگا ۔ اﷲ کے فضل و کرم اور اس کام کو کرنے والوں کے اخلاص کے باعث اﷲ نے اس انبیاء والے کام کو قبول کرکے اسکی محبت کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بٹھادی ہے۔ مسلمانوں کو تو چھوڑیں اب غیر مسلم بھی اس کام کی قدر کرتے ہیں کیوں کہ اس کی بدولت بھائی چارہ، محبت، اخوت کی فضاء پیدا ہورہی ہے اور اسلام کا اصل چہرہ لوگوں کو دیکھنے کو مل رہاہے۔ بصورت دیگر ہم نے تو اپنی بداعمالیوں کے باعث اسلام جیسے پر امن مذہب کی غلط تصویر لوگوں کے سامنے پیش کی ہے ۔ موجودہ اجتماع کی خاص بات بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کی شرکت ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان خصوصا نو مسلم اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دعوت الی اﷲ کے کام کو لیکر دنیا میں جانے کیلئے پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لئے ویزوں کا حصول بہت مشکل بنادیاگیاہے۔ ایسا مسلمان ملک پاکستان میں ہورہاہے جو اسلام کا قلعہ کہلاتاہے اور جو دنیا کی دوسری بڑی ریاست مدینہ شریف کے بعد ہے۔ جو اسلام اور کلمے کے نام پر معرض وجود میں آئی خیر اﷲ تعالی نے اس کام کی راہ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کا ذمہ خود لیاہے۔ ایک دن میرے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق محمد ؐ کا لایا ہوا دین دعوت و تبلیغ کی محنت کی بدولت دنیا کے ہر کچے پکے مکان تک پہنچ کر رہیگا۔ اب اس میں کون کون اپنا حصہ ڈال کر آخرت کے دن اپنے نبی کریم ؐ کے سامنے اور اﷲ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتاہے ۔اسکا فیصلہ ہر مسلمان نے خود کرناہے ۔ اﷲ تعالی کی ذات ہر مسلمان کو اس کام کی سمجھ بوجھ عطا کرکے اس کو کرنے والا بنائے موجودہ اجتماع میں تقریبا 8سے 10ہزار بیرون ممالک سے مسلمانوں نے شرکت کی جن میں چلہ، چار ماہ کیلئے اندرون ملک تشکیل کرکے روانہ کردیا گیا ہے ان جماعتوں کے ساتھ خصوصی طورپر ان ساتھیوں کی تشکیل کی جاتی ہے جو کام کو سمجھتے ہیں اور جنہوں نے پہلے 4ماہ اﷲ کے راستے میں لگائے ہوئے ہوتے ہیں اس سلسلے میں سارا سال پاکستان کے 20بڑے مراکز جن میں ڈیرہ اسماعیل خان کا مرکز بھی تسلسل سے تقاضے چلاتے جاتے ہیں جبکہ حاضرین کی کل تعداد محتاط اندازے کے مطابق 6سے 8لاکھ کے قریب ہوگی۔ماہ نومبر کے دونوں مرحلوں کے اجتماعات کی خاص بات مولانا طارق جمیل صاحب کے دو بیانات تھے جن کی پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ جنہیں ہر طبقہ اور فرقے کے لوگ سنتے ہیں۔ ویسے تو اس کام سے منسلک ہر داعی، فرقہ بازی، گروپ بندی اور مذہبی منافرت سے ہٹ کر بات کرتا ہے لیکن مولانا طارق جمیل آپس میں محبت، بھائی چارے اور محبت کی بات پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں ۔ وہ ممبر پر بیٹھے ہوئے حضرات سے اکثر بیانات میں یہ کہتے ہیں کہ امت اس وقت جن مسائل کا شکا ہے اس میں ان کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ نہ کہ یہ کافر وہ کافر کے فتووں کی۔ مولانا کے علاوہ بیانات میں ہر عالم ، مقررین نے جن میں حاجی عبدالوہاب صاحب، مولانا احمد لاڑ، مولانا ابراہیم، مولانا فہیم، مولانا ضیاء الحق، مولانا حضرت نذر الرحمن ، مولانا عبدالرحمن، مولانا ظہیرالحسن صاحب و دیگر نے معاملات پر زور دیا۔ انہوں نے امت محمدیہ کو یہ باور کروایا کہ مسلمانوں کی کامیابی اتباع رسول ؐ ہی میں مضمر ہے۔ جب تک امت حضورؐ کے دین پر چلتی رہی کامیابیاں سمیٹتی رہی لیکن جب اس نے اپنے نبی ؐ کے اسوہ حسنہ او ران کی طرف سے سونپے گئے امربالمعروف و نہی عن المنکر کے کام کو چھوڑا وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور جب تک امت اپنی سمت کو درست نہیں کرتی اپنے رخ کو صراط مستقیم کے رستے کی طرف نہیں موڑتی دھکتے کھاتی رہے گی۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو اقوام عالم کی رہنمائی کیلئے بھیجا گیا ہے لیکن ہم ان کے پیچھے لگ گئے ۔ مادیت پرستی کی ایک نہ رکنے والی دوڑ ہے جس نے ہمیں نہ گھر کا چھوڑا نہ گھاٹ کا۔ اس دوڑ نے ہمیں اپنے دین ، والدین، اولاد، بیوی، معاملات، تبلیغ سے غافل کردیا جس کے باعث آج ہماری پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ امت اگر چاہتی ہے کہ وہ ایسی کامیابیاں دوبارہ حاصل کرے جو کامیابیاں ہمیں خلفاء راشدین اور ان کے بعد آنے والے مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں ملیں تو ہمیں اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا۔ اعمال درست ہونگے دین کی محنت سے اسی محنت سے جو ہمارے نبی کریم ؐ نے اہل مکہ پر کی جس کے باعث انکا ایمان ایسی سطح پر پہنچ گیاجب انہیں کسی مدد کی ضرورت ماسوائے اﷲ کی ذات کے نہ رہی انہیں جو ضرورت پیش آتی وہ دو رکعت نفل پڑھ کر اﷲ سے مانگ لیتے جو مصیبت آتی اسے دور کروالیتے۔ انہوں نے اپنا تعلق اﷲ کی ذات اور اسکے پھیلائے گئے نبی کریم ؐ کے طریقوں سے جو ڑلیا جسکے بعد انہیں کسی سپر پاور کی ضرورت نہ رہی کیونکہ سپر پاور صرف اﷲ کی ذات ہے وہ ہی ہمارا رب خالق ، مالک اور رازق ہے۔ اگر ہمارا کامل یقین زبانی نہیں اپنے عمل کے ساتھ اس پر ہوگیا تو امت مسلمہ کے آج تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ لیکن اس کیلئے ہمیں در در جانا ہوگا۔ دھکے کھانے ہوں گے ، لوگوں کو نماز ، روزہ، حج، زکوۃ کی طرف راغب کرکے مسجدوں کو آباد کرنے کی محنت کرنی ہوگی۔ اجتماع کے اختتام پر امیر دعوت و تبلیغ حاجی عبدالوہاب نے تمام مسلمانوں سے استدعا کی کہ وہ دعا مانگیں کہ ہمیں اتباع رسول پر چلنے والا بنائے آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 72098 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2016 Views: 408

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ