مسیحائی بخشتے پرائیویٹ ہسپتال یا قصاب خانے!!!

(Shahid Mushtaq, Sialkot)
کچھ عرصہ قبل میرے ایک دوست بچے کی پیدائش کے سلسلے میں اپنی بیگم کو سیالکوٹ کے مشہور پرائیویٹ ہسپتال میں لے کر پہنچے - دونوں میاں بیوی بڑے مطمین تھے کہ ہرطرح سے یہ ایک نارمل ڈ یلیوری لگتی تھی- دوران پیدائش زچہ بچہ کی جان کو خطرہ قرار دیکر ڈاکٹرز نے فوراََ اس نارمل پیدائش کو ،،بڑے آپریشن،، میں بدل دیا --جبکہ پیدائش سے قبل ٹیسٹ رپورٹس اور ماں کی صحت ایک واضح نارمل ڈیلیوری کی طرف اشارہ کررہی تھیں -میرے عقلمند دوست کو یہ سمجھنےمیں ذیادہ دیرنہیں لگی کہ یہ سب صرف ذیادہ پیسے اینٹھنے کے چکرمیں کیا گیاہے- انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف ذوردار احتجاج کیا اورانکے خلاف کیس دائر کرنے کی دھمکی دی - جس سے ہسپتال انتظامیہ فوری حرکت میں آئی اور بالآخربات معافی تلافی پہ ختم ہوئی - ہمارے ارد گرد بیشمار صحت مند بچیاں لالچی ڈاکٹرز کے ہاتھوں ناکارہ ہوچکی ہیں -پرانے وقتوں میں اکثربزرگوں سے سناکرتے تھے کہ خدا کچہری اور ہسپتال کے چکروں سے دشمن کو بھی بچائے- گویاان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی پھنسنا انسان کے لیے بہت تکلیف دہ اور اذیت ناک معاملہ ہے- جدید دور میں ہمارے ارد گرد ایسے بیشمار گھرانے موجودہیں جنکے گھرکا اگرایک فرد بیمار ہواتو پورے گھرکاسارانظام درہم برہم ہوگیا-ساری جمع پونجی علاج پہ لٹادی گھرتک بک گیا - نتیجةََ بچےتعلیم سےمحروم بیوی پریشان حال کئی کئی دن کے فاقوں کے بعد انسان کو قبرکاپیٹ زندگی کے جہنم سے بہتر نظر آنا شروع ہوجاتا ہے - کہنے کوتو ہم ایک ایسے اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں ان گنت فلاحی تنظیمیں بےشمار مالدار حاجی صاحبان اور مخیر کاروباری حضرات بےلوث دن رات غریب نادار لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں - ہمارے معاشرے میں ایدھی ،جیسی عظیم خدمت خلق کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی فلاح کے لئیے وقف کئے رکھی- اسلام میں عشر زکواة اور صدقات کا نظام بھی اسی لیے ہے کہ کمزور مستحق اور بیمار افراد کی مددکی جائےتاکہ ایک بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکے- پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی ناقص صورتحال کام چور نکمےعملےکےغیر ذمےداران طرزعمل کے باعث پرائیویٹ ہسپتالوں کاکاروبار بام عروج پہ ہے- انسانیت کی خدمت کے دعویدار یہ ہسپتال دن رات بیماروں کو بےدریغ لوٹنےمیں مصروف ہیں- بظاہر ان کا عملہ بڑا پڑھا لکھا ملنسار اور خوش اخلاقی کے سارے ہتھیاروں سے لیس ہوتاہے- لیکن جب انکے شکنجے میں جکڑے مریض کے ورثاء کیشئر کےکاونٹر پہ بل ادا کرنے پہنچتےہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے شائد ہسپتال نے ڈاکٹرز اور انکے معاونین کی خوش اخلاقی اور مسکراہٹوں کا بل بھی وصول کرلیاہے - چندروپوں کی خاطر علاج کو طول دینا ، ٹیسٹ پہ ٹیسٹ کیے چلے جانا ،اور مخصوص میڈیکل سٹورز سے ہی ادویات لانے کااصرار تو بہت معمولی باتیں ہیں - بعض اوقات تو کچھ پیسوں کے لیے ڈیڈ باڈیز تک کئی کئی گھنٹوں تک روک لی گئیں - سب سے بڑا ظلم تو یہ مہذب درندے بچے کی پیدائش کے وقت عورتوں کےساتھ کرتے ہیں- جب ایک ,, نارمل ڈیلیوری ،،کو غیرفطری طریقے سے سرانجام دیتے ہیں- ابتداء سے لیکر آخرتک سب کچھ نارمل اور اچھا جارہاہوتاہے ہرطرح کی مثبت ٹیسٹ رپوٹس اطمینان میں مزیداضافے کا باعث ہوتی ہیں -ماں باپ دونوں بڑے خوش اور مسرور آنےوالے خوش کن لمحات کے شدت سے منتظرہوتے ہیں - کہ اچانک پرائیویٹ ڈاکٹرز مافیاء اپنے تیس سے چالیس ہزار کے بل کے لئے اچھی بھلی صحت مندپیدائش کو ،بڑے آپریشن ، میں بدل کر ورثاء کے لئے نہ صرف پریشانی کا باعث بنتے ہیں -بلکہ خوبصورت بچیوں کی بلاوجہ چیرپھاڑ کرکہ انہیں آئندہ کےلیے ناکارہ بنادیتے ہیں- میری محتاط تحقیق کے مطابق جوکیسز پرائیویٹ ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں ہر سو میں سے پینسٹھ ماوں کے ہاں بچہ بڑے آپریشن کے ذریعے پیداہوتاہے- اور اس میں بہت ہی کم تعداد ہوتی ہے، جنکی نازک صورتحال کی بناء پر آپریشن ناگزیر ہوتا ہے- امید و بیم کی کیفیت میں لٹکے ورثاء آج کل کی کمزور بچیوں کی حالت کےپیش نظر دردزہ شروع ہونے پہ فوراََ نجی ہسپتالوں کی طرف رخ کرتے ہیں- جبکہ پرانی تجربہ کار دائیاں بھی یہ کام بڑے ہمدردانہ اورماہرانہ طریقے سے بہ احسن پورا کرسکتی ہیں - ڈیلیوری کیس کرنے والے ڈاکٹرز کی اکثریت فی میل ہونے کے باوجود اپنے جیسی دوسری عورتوں پہ کیسے یہ ظلم روا رکھتی ہیں ؟ پاکستان میں گذشتہ دس سالوں کے اعدادوشمارکیمطابق لاکھوں عورتوں کے ہاں بچے کی پیدائش بزریعہ چیرپھاڑ ہوئی- قارئین سے معزرت میں نےیہاں لفظ چیر پھاڑ دانستہ استعمال کیا ہے جن لوگوں کا ان قصاب نماء ڈاکٹرز سے واسطہ کبھی پڑھا ہو وہ شائد میرے الفاظ کی تلخی کی وجہ سمجھتے ہونگے- نجی ہسپتالوں کے لالچ و ہوس نےغریب آدمی کی خوشی کاذایقہ بھی کرکرا کردیاہے-نہ صرف حکومت کو ایسےڈاکٹرز کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے بلکہ عام آدمی کو بھی ایسے قصاب خانوں کے خلاف سوشل میڈیاء اور ہرممکن دیگر زرایع سے آواز بلند کرکہ انہیں مستقل بندکرنےکامطالبہ کرنا چاہیے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mushtaq

Read More Articles by Shahid Mushtaq: 106 Articles with 38675 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2016 Views: 305

Comments

آپ کی رائے