کالا رنگ اور کالے لوگ

(Sheeedi Yaqoob Qambrani, Karachi)
 انسانی سماج کی موجودہ تشکیل کی تشریح اور وضاحت کے لیے تاریخ ایک آئینے کی مثل ہے ۔ قوموں کے مزاج کی علیحدہ علیحدہ صفتیں ہیں جن سے اُن کی خاص پہچان ظاہر ہوتی ہے ۔ امپیریل ازم کے آنے سے جو سماجی خدو خال بدلے ہیں وہ انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں جن سے استحصال کے لیے نئے رستے ظاہر ہوئے اور اس کے متاثرین میں کالی نسل کے لوگ سرِفھرست ہیں ۔ اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔ اس کی حوصلہ افزائی نسل پرست رویے کی وکالت کرنے والے مؤرخ بھی ہیں جنہوں نے اصل حقائق کی پردہ پوشی کر کے اسے تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے ئی سفید اقوام کی برتری کو کالی نسل کی اقوام پر مُسلط کرائی جس سے نسل پرستی کے نظریے کو فروغ حاصل ہوا ۔ دنیا میں کالے رنگ کو لیکر بہت سی علامات منسوب ہیں ، لیکن زیادہ تر اس رنگ سے نفرت کا ملا جُلا انداز عام ہے اور ایسا کیوں ہے یہ ایک پیچیدہ سوال ہے ۔ اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے کالے رنگ کو وہ پزیرائی حاصل نہیں ؟ آئیے ا س کا جائزہ لیں ، سیاہ و سفید کی حقیقت اٹل ہے اور یہ سب بخوبی جانتے ہیں ۔ مختلف رنگ کے لوگ ہیں جن کی پہچان ان کے قد کاٹھ اور حُلیے سے ظاہر ہے ان میں سیاہ فام بھی آجاتے ہیں ، لیکن بحثیت انسان سب برابر ہیں تو یہ نسلی تفاوت کیسا ۔ کہیں یہ ایک دوسرے پر غالب ھونے کی تق و دو تو نہیں ، جب بھی کالے لوگوں کے بارے میں کوئی ذکر ہوتا ہے تو ذھن میں سیاہ فام نسل کا خیال آتا ہے جو کہ لاشعوری عمل ہے ۔ ظاہر ہے کہ سیاہ فام اس تناصر میں فٹ آتے ہیں سو کالا رنگ ہماری واضیح پہچان بھی ہے ۔ یہ نسل پرستی کے رجحانات کبھی کم تو کبھی زیادہ اُبھریں ہیں اور اس سے نقصانات کا اندازہ لگانا بڑا مشکل ہے ۔

کہتے ہیں کہ پورا یورپ نسل پرستی کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ مگر خاص طور پر امریکہ میں نسل پرستی کے رُجحانات بڑی حد تک خطرناک صورت اختیار کر گئے ہیں ۔ امریکا غلاموں کی خرید و فروخت کے حوالے سے انتہائی بدنام ملک ثابت ہوا ہے ، جہاں انسانیت سوز مظالم کی داستانیں کئی گنا زیادہ عام ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی انسانی حقوق کے بڑے علمبردار بھی بنے بیٹھے ہیں ، لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ان کی ترقی میں سیاہ فاموں کا کردار ایک مسلمہ دلیل ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اُنیس سو چالیس میں دنیا کا پہلا بلڈ بینک سیاہ فام ڈاکٹر چارلس ڈریو نے قائم کیا ، اس سے پہلے ایڈورڈ بوکے پہلا سیاہ فام امریکی تھا جس نے اٹھارہ سو چہتر میں پی ۔ ایچ ۔ ڈی کی ڈگری یبیل یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ اٹھارہ سو ترانوے میں ایک سیاہ فام ڈاکٹر پانیئر ولیمز نے ہارٹ سرجری کا پہلا آپریشن کیا ، انیس سو پچاس میں امریکی سفارتکار رالف بنچی کو پہلا نوبل انعام ملا اور دوسرا مارٹن لوتھر کنگ کو دیا گیا ۔ سیاہ فام ادیب ٹونی موریسن کو ادب کا نوبل انعام انیس سو ترا نوے میں دیا گیا ۔ ریاست ورجینا کا پہلا سیاہ فام گورنر ڈگلس ولڈ انیس سو نوے میں بنا بارک اوبامہ سمیت صرف پانچ سیاہ فام ہی امریکی سینٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ صرف دو سیاہ فام جج سپریم کورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو پائے ہیں ۔ اس کے علاوہ امریکہ کی تاریخ میں جہاں جہاں بھی سیاہ فاموں کو موقع ملا وہاں انہوں نے نسلی برتری کے اس نظریے کو خاک میں ملایا ہے ۔ محمد علی کلے وہ باکسنگ کے بادشاہ ہیں جسے دنیا کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی ، جن کے جانے سے رنگ کی راعنائی ماند پڑ گئی ہے ۔ وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ راج کرتے رہینگے ۔ ریون جیکسن وہ سیاہ فام ہے جس نے انیس سو چوراسی میں صدارتی اُمیدوار کی دوڑ میں حصہ لیا ، کچھ عرصے پہلے ایک انٹرویو کے دوران کہتے ہیں کہ آج بھی امریکہ میں لاشعوری تعصبات کی جڑیں مضبوط ہیں ۔ اب بھی دنیا کے سیاہ فاموں کو بہت دور تک جانا ہے ۔ کالوں کو دنیا میں حقارت اور نفرت انگیز رویے سے جانا جاتا ہے جس کی بنیاد سفید فام نسل کی برتری کا جواز پیدا کرنا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheeedi Yaqoob Qambrani

Read More Articles by Sheeedi Yaqoob Qambrani: 14 Articles with 8230 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2016 Views: 617

Comments

آپ کی رائے