پڑوسی کا حق

(Faisal Shahzad, Karachi)

انسان کا اپنے گھر والوں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق اپنے پڑوسیوں سے ہوتا ہے، حتیٰ کہ رشتہ داروں سے بھی زیادہ ۔اس لیے اس کے چین و سکون کا دارومدار بڑی حد تک ہمسایوں سے بھی ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات و ہدایات میں ہمسائیگی کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترام و رعایت کی بے حد تاکید فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ ارشاد فرمایاکہ جبریل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کی رعایت و امداد کی اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسیوں کو بھی رشتہ داروں کی طرح وراثت میں شریک کردیا جائے گا۔ (بخاری)

عموماً مندرجہ بالا حدیث مبارکہ اور دوسری احادیث کی بنا پر لوگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، ان کی راحت کا خیال اور ان کے برے اخلاق پر صبر کرنے کو ہی ضروری خیال کرتے ہیں، مگر صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے!

ہمارے پڑوسیوں میں سے اگر کوئی دین سے دور ہے یا احکام دینیہ سے غافل ہے تو ہم بس سرد آہیں بھرتے ہیں،پڑوسی ہمیں ستائے تو ہم صبر کر کے اپنے آپ کو ماجور من اﷲ سمجھ لیتے ہیں یا دل میں ان کی حرکتوں کو برا سمجھتے ہوئے اپنی دانست میں نہی عن المنکر کے سب سے نچلے درجے پر قناعت کر لیتے ہیں……بے شک یہ سب بھی پڑوسیوں کے حقوق ہیں، مگر دین کا مطلوب آپ سے کچھ اور بھی ہے۔
وہ یہ کہ پڑوسی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ دین کا علم رکھنے والے ، دین کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے والے اپنے پڑوسیوں کو بھی دینی علم سے بہرورہ کریں۔ وہ پڑوسی جو دینی علم سے محروم ہیں یا وہ احکام دینیہ کی پابندی نہیں کرتے تو صاحب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ احسن طریقے سے انہیں دعوتِ دین دے اور ان پر دینی محنت کرے۔

علقمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے ذریعے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا:
’’کیا ہوگیا ہے ان لوگوں کو اور کیا حال ہے ان کا (جنہیں اﷲ نے علم و تفقہ کی دولت سے نوازا ہے) وہ اپنے ان پڑوسیوں کو دین سکھانے اور ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ نہ ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں، نہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور کیا ہوگیا ہے، ان (بے علم اور پسماندہ) لوگوں کو کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھنے اور دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی فکر نہیں کرتے، نہ ان سے نصیحت لیتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کی قسم! (دین کا علم رکھنے والے) لوگوں کا فرض ہے کہ وہ (اپنے بے علم اور ناواقف) پڑوسیوں کو دین سکھانے اور ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور وعظ و نصیحت کریں اور انہیں نیک کاموں کی تاکید اور برے کاموں سے منع کریں اور اسی طرح ان کے ناواقف اور پسماندہ پڑوسیوں کو چاہیے کہ وہ خود طالب بن کر اپنے پڑوسیوں سے دین کا علم و فہم حاصل کریں اور ان سے نصیحت لیں، یا پھر (یعنی اگر یہ دونوں طبقے اپنا اپنا فرض ادانہیں کرتے تو) میں ان کو دنیا ہی میں سخت سزا دلواؤں گا۔ [مسند اسحق بن راہویہ]

یاد رکھیے، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو حکم ار شاد فرمایا، وہ صرف ’عالم‘کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دین کی ایک بھی بات ہو۔ اسی طرح نا واقفِ دین کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں موجود دین کا علم رکھنے والوں سے بے اعتنائی اور استغنا نہ برتے بلکہ اپنے حالات و وسعت کے مطابق عالم کی موجودگی سے فائدہ ضرور اٹھائے۔ یعنی یہ صرف یک طرفہ ذمہ داری نہیں بلکہ دو طرفہ ذمہ داری ہے۔

اس نقطہ نظر سے ہم اپنے گلی محلے کا جائزہ لیں تو نہایت ابتر صورت حال نظر آئے گی۔ آج اکثر لوگوں کو دینی فرائض وہ واجبات کا علم نہیں، وہ تقاضائے دین سے واقف نہیں۔ ہمارے گلی محلوں میں چلنے پھرنے والے نوجوان مسلم معاشرے کے فرد نظر نہیں آتے بلکہ ان کے چال چلن اور نشست و برخواست سے آزاد روی اور آوارگی جھلکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اکثر دین کا علم جاننے والے محض ذاتی نماز، روزے اور عبادات تک محدود ہوگئے ہیں، وہ اہل محلہ کی اصلاح احوال تو کجا اپنی اولاد کی دینی تربیت کی فکر نہیں کررہے۔ دوسری طرف عامۃ الناس نے علماء کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان سے فیض حاصل کرنے کو ترک کردیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی دینی ذمہ داری کو پہچان کر کماحقہ ادا کرنے کی فکر کرے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس حدیث مبارکہ کا سچا مصداق بننے کی توفیق عطا فرمائیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Faisal shahzad

Read More Articles by Muhammad Faisal shahzad: 115 Articles with 112008 views »
Editor of monthly jahan e sehat (a mag of ICSP), Coloumist of daily Express and daily islam.. View More
23 Nov, 2016 Views: 480

Comments

آپ کی رائے