بھارت یاترا-- زمینی فرشتے-- اور تتلیاں

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
ویسے یہ بات سنی تو بہت ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے اور یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ کیونکہ جتنے نالائق ہم صحافی ہوتے ہیں اتنے ہی نالائق فرشتے یعنی خفیہ والے ہماری روزمرہ کی کارروائی پر نظر رکھے ہوتے ہیں- پریس کلبوں کے باہر سے لیکر اہم جگہوں پران فرشتوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ان میں بیشتر لائق بھی ہوتے ہیں لیکن اپنے ملک کا نظام اتنا نرالہ ہے کہ یہاں پراس نظام میں شامل ہو کر ہر کوئی پھر " اتنا کام کرو کہ تنخواہ زیادہ لگے" والی روٹین پر آجاتا ہے
فرشتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے عموما بہت خیال کیا جاتا ہے یہ وہ نوری مخلوق ہے جن کا کام اللہ کی عبادت کرنا اور ہم جیسے گناہ گاروں پر نظر رکھنا بھی ہے اور قیامت کے دن ہمارے اعمال کو اللہ کے سامنے یہی فرشتے ہی پیش کرینگے- فرشتوں کے حوالے سے بحیثیت مسلمان ہمارا تصور یہی ہے- لیکن صحافت کے شعبے میں فرشتے ان لوگوں کو کہا اور سمجھا جاتا ہے جو خفیہ اداروں سے وابستہ ہوں عام طور پر یہ خفیہ لوگ خفیہ اداروں میں ہوتے ہیں -کچھ لوگ انہیں غیر مرئی مخلوق بھی کہتے ہیں -پاکستان میں شعبہ صحافت سے منسلک ہونے کی بناء پر ان فرشتوں یعنی خفیہ اداروں والوں سے ہیلو ہائے ہوتی رہتی ہیں اور ہم ان سے بغیر ڈرے ملتے جلتے رہتے ہیں ورنہ حقیقت تویہ ہے کہ ہمارا بھی عام لوگوں کی طرح ان فرشتوں سے ڈرنا بنتا ہے۔

ویسے یہ بات سنی تو بہت ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے اور یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ کیونکہ جتنے نالائق ہم صحافی ہوتے ہیں اتنے ہی نالائق فرشتے یعنی خفیہ والے ہماری روزمرہ کی کارروائی پر نظر رکھے ہوتے ہیں- پریس کلبوں کے باہر سے لیکر اہم جگہوں پران فرشتوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ان میں بیشتر لائق بھی ہوتے ہیں لیکن اپنے ملک کا نظام اتنا نرالہ ہے کہ یہاں پراس نظام میں شامل ہو کر ہر کوئی پھر " اتنا کام کرو کہ تنخواہ زیادہ لگے" والی روٹین پر آجاتا ہے -

اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد چنائی میں بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو ہماری مانیٹرنگ کے بارے میں بتانا یعنی جس طرح ہمارے ملک کے فرشتے ہیں اسی طرح بھارت کے خفیہ اداروں کے اہلکار بھی ہیں (کہا تو ان کو بھی فرشتے جاسکتا ہے کیوں کہ سنا ہے شیطان بھی پہلے فرشتہ ہوا کرتا تھا) یہ الگ بات کہ وہ کچھ آرگنائز ہیں ورنہ ہمارے ملک کے فرشتوں کی طرح کالج کے چوکیدار سے پوچھتے ہیں کہ کدھر گیاہے وہ پاکستانی جو یہاں پر سکالرشپ پر آیا ہے اور راقم کے بارے میں تمام معلومات معظم نامی مسلمان سیکورٹی گارڈ جو اپنے آپ کو معجم بولتا تھا میرے سارے دن کی کارکردگی بیان کرتا-

ایک دفہ چنائی میں برٹش کونسل میں انگلش کی کلاسز کیلئے ساؤتھ ایشن ممالک کے تمام طلباء و طالبات گئے راقم سمیت وہا ں پر تمام طلباء لائبریری میں کتابیں دیکھ رہے تھے کہ ایک صاحب ہمارا پیچھا کرتے ہوئے آئے- ہوائی چپل پہنے وہ صاحب ہماری سرگرمی کو مانیٹر کرنے آئے تھے یہ الگ بات کہ اس کے حلیے کو دیکھ کر وہاں پر تعینات پرائیویٹ سیکورٹی اہلکاروں نے بڑی بدتمیزی سے اسے نکال دیا- کیونکہ اس کے چہرے پر لگی دھول او ر موٹے پیٹ اور بالوں سے فارغ سر سے پتہ چل رہا تھا کہ یہ سرکاری اہلکار ہے وہ کہیں سے بھی طالب علم نہیں لگ رہا تھا سو مشکوک جان کر اسے زبردستی نکال دیا گیا-
ایک دفعہ کالج میں کچھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ راقم نے دل کی بھڑاس انتظامیہ پر نکال دی اور غصے میں کالج سے نکل آیا ، راقم کے ساتھ اس وقت بنگلہ دیش، افغانستان اور بھوٹان کے مرد صحافی اور افغانستان اور نیپال کی خواتین صحافی بھی موجود تھیں -کالج سے باہر نکلنے کے بعد غصے میں کالج کے باہر سٹال پر جوس پینے کھڑے ہوگئے ۔سٹال ہولڈر کی بیوی چائے بنا رہی تھی کہ یکدم سٹال کے مالک کے شرٹ سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور ہمیں دیکھ کر اس نے ٹی شرٹ سے وائرلیس نکال دیا اور پھر باتیں تامل زبان میں شروع ہوگئی کچھ الفاظ جو سمجھ میں آنے والے تھے صرف پاکستان تھا اس کے بعد سمجھ نہیں آرہی کیونکہ تامل زبان ہماری سمجھ سے بالاتر تھی لیکن اس کے اس حرکت سے راقم سمیت تمام کو ا ندازہ ہوگیا کہ سڑک کنارے سٹال ہولڈر جن کی تعداد کافی تھی میں بیشتر فرشتے ہیں جو ہماری مانیٹرنگ کرتے ہیں- پتہ نہیں پھر کیا ہوا لیکن ان کے فرشتے پھر تبدیل ہوگئے اور پھر اڑنے والے فرشتوں کی باری آگئی جو مانیٹرنگ کیلئے استعمال کئے جاتے رہے خیر وہ الگ داستان ہے-

چنائی یعنی سابقہ مدراس کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں پر تتلیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں یہ رنگ برنگی تتلیاں ہر وقت درختوں پر اڑتی پھرتی نظر آتی ہیں اتنی تتلیاں شائد راقم نے اپنی زندگی میں پہلے نہیں دیکھی نہ ہی پاکستان میں - چنائی میں تتلیاں تھی شائد یہ پودوں کا کمال تھا شائد درختوں کا یا پھولوں کا یا اس کے ساتھ موسم کا ، لیکن انہیں دیکھ کر عجیب سا لگتا تھا خوبصورتی کا عجیب سا احساس ، ان تتلیوں کو دیکھ کر ان کے پیچھے بھاگنے کو دل کرتا -بہ نسبت بھارت کے ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ ہم نے اپنے زرعی زمینوں پر کیمیکل کا اتنا استعمال کردیا ہے کہ اب یقیناًہماری آنیوالی نسلیں تتلیوں کو صرف تصاویر میں دیکھ سکیں گی-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 329 Articles with 176330 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
04 Dec, 2016 Views: 307

Comments

آپ کی رائے